جانے کہاں گئے وہ دن ۔۔۔۔۔۔

آج دوپہر ہونے والی بھابی جی کا میسج آیا میرا نیو ائیر کا تحفہ کیا ہوگا سرپرائز ہے یا بتا رہی ہیں ۔۔۔ لو بھئی ایک اور خرچہ وہ بھی زبردستی کا ۔۔۔۔ کلینڈر پر نظر ڈالی 28 دن گزر گئے دسمبر کے اور پتہ بھی نہیں چلا ۔۔۔ ایک وہ وقت تھا جب دن گنے جاتے تھے کونسے کارڈز لوں جو منفرد سے ہوں تحفہ کیا لیا جائے پہلی وش میری ہو ۔۔۔ پھر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ اب دسمبر سال کا بارہواں مہینہ اور بس ۔۔۔ بہت شکوے تھے اہلیانِ کراچی کو سردی سے آئی تو ایسی شوخ رنگ کے سارے شکوے ٹھٹھرے پڑے ہیں ۔۔۔ وہی مٹیالی گرد آلود خاموش فضا ۔۔۔ خشک پتّوں سے بھرے آنگن میں زرد دھوپ ۔۔۔ حسین چاندنی راتیں ۔۔۔ رومینٹک رات کی رانی ۔۔۔ بھاپ اڑاتی چائے کی خوشبو ہے مگر میں وہ نہیں ہوں ۔۔۔ اب دسمبر کی دھوپ میں بیٹھ کر “ ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں “ والا شعر یاد نہیں آتا چائے کی خوشبو کوئی اچھوتا خیال نہیں لاتی گویا صرف چکّی کی مشقت ہے مشقِ سخن وقت کی نظر ہوگئی ۔۔۔
سردیوں میں جیسے پرانے درد لوٹ آتے ہیں اسی طرح جانے والے کسی بھی موسم میں گئے ہوں سرد موسم ان کی یادوں کی کسک دو آتشہ کردیتا ہے ۔۔۔ پھر کیسی چاندنی راتیں اور رات کی رانی ۔۔۔۔
شائد اس سال شکستہ ہوں مصائب کی سِلیں
شائد اس سال ہی صحراؤں میں کچھ پھول کھلیں
شائد اس سال جو سوچا تھا وہ پورا ہو جائے
شائد اس سال مرادیں بر آئیں
یہ نیا سال مبارک ہو تمہیں ۔۔۔۔

Advertisements

سگھڑ بمقابلہ پھوہڑ …..

کل ہم ایک دعوت میں مدعو تھے ۔۔۔ دعوت کا اہتمام گھر میں تھا اور مہمانوں کی تواضع کا انتظام ہوٹل کے ذمّے اس لیئے اہلِ خانہ لشکارے مارتے ڈریسز پہنے خوشی سے سرشار اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے ۔۔۔۔ سب سے ملنے کے بعد میں نے آتے جاتے ہوئے لوگوں اور گھر پہ نظر ڈالی تو دل چاہا اسی وقت دو سطری بلاگ لکھ کے قلم توڑ دوں ۔۔۔۔
میزبان خواتین نے صرف خود پہ توجہ دی تھی ۔۔۔ گھر کی حالتِ زار بتا رہی تھی کہ اگر سارے مہمانوں کو لگاؤں تو بھی آج صفائی مکمل نہیں ہونی ۔۔۔ میری بک بک کا مقصد اتنا سا ہے کہ “ پھوہڑ خواتین “ کی قسمت اعلٰی ہوتی ہے ۔۔۔۔ ناز و انداز اور اداؤں سے آنکھوں پہ پٹی باندھی جا سکتی ہے ۔۔۔ پھر کچھ نظر نہیں آتا اداؤں کے ماروں کو 🙄
اس لیئے سُگھڑ بیبیو اب اصغری کے زمانے والے فیشن تو اِن ہوسکتے ہیں اصغری نہیں ۔۔۔۔ اب فیوی کول کے استعمال سے سیّاں کا دل بگاوت کرتا ہے یہ گھر میرا گلشن ہے کہہ کر نہیں ۔۔۔ چلو بھئی کبھی کام بھی کر لیا کرو تعریف کی آس میں پوری پوسٹ پڑھ لی ناں ویسے کیا خیال ہے بادل کے بغیر بجلیاں گِرانا اچھا ہے یا دیگچیاں چمکانا 😛

کتابوں کا جائزہ ۔۔۔۔۔۔

کتابوں سے اپنی دوستی پرانی ہے گو کہ اب وقت نکالنا پڑتا ہے کبھی کوئی کتاب اٹھائی پڑھی اور پھر دوسری یعنی ہر کتاب میری قسمت پہ رو رہی ہوتی ہے کہ میں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔ لیکن کتابیں خریدنے کا شوق کم نہیں ہوتا ۔۔۔۔
پچھلے سال کتب میلہ گئی تھی اور بہت ساری کتابوں کے ساتھ 2 کتابیں ایسی لے آئی جو میرے ساتھ شئرنگ کرکے کتابیں خریدنے والے فسادی بھائی کو پسند نہیں آئیں ۔۔۔۔ سال بھر یہ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے کہ تم نے پیسے ضائع کیئے ، کہا بھی کسی کو گفٹ کردو لیکن وہی بک بک ۔۔۔۔ اس بار کہا خود جاؤ لیکن میری مطلوبہ کتابیں لے آنا ۔۔۔ تو بس پھر جمع پونجی لٹا دی لیکن دل مطمئن کہ پیسے ضائع نہیں ہوئے ۔۔۔۔
مظہر السلام کی “ محبت مردہ پھولوں کی سِمفنی “ کا ابتدائی جائزہ لیا مصنف نے حرف حرف میں موتی پرو دیئے ہیں “ محبت کی روٹی روز تازہ پکانی پڑتی ہے “ والی لائن ہو یا “ محبت کی ایک نہیں کئی زندگیاں ہوتی ہیں “ ہر جملے پہ فدا ہونے کو دل چاہ گیا ۔۔۔
سرفراز شاہ کی “ فقیر نگری “ کا اب تک جتنا مطالعہ کیا یوں لگااب تک کی زندگی میں جتنی باتیں سُنی اور کیں وقت ضائع کیا ۔۔۔۔ روحانی گفتگو پڑھ کے اندازہ ہوا کہ زندگی میں سب کچھ ہی تو ہے اگر کچھ نہ ہونے کا غم ہے تو اپنے اِرد گِرد ایک نظر ڈالنا کافی ہے اس کے بعد شُکر ہی شُکر ادا ہونا چاہیئے لیکن ایسا کچھ دیر ہی ہوتا ہے پھر وہی نا شُکرا پن ۔۔۔۔
قمر اجنالوی کی “ دھرتی کے رنگ “ کا سرسری جائزہ لیا لگتا ہے اچھا ناول ہوگا ۔۔۔
مستنصر کی “ رتی گلی “ کے بارے میں بہت تعریف سُنی تھی ہے کیسی یہ پڑھ کے پتہ چلے گا ۔۔۔۔
“ فلسفہء محبت “ مصنف کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنا تعارف ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ہے اب آپ کی مرضی اس ڈیش میں بہار سے ملتا جلتا کوئی لفظ فٹ کرلیں ۔۔۔۔ اس کتاب کو لینے کا مقصد صرف اتنا کہ 50 روپے میں مل رہی تھی ۔۔۔ جائزہ لینے کا اتفاق شائد کبھی نہ ہوتا اگر فیس بک پہ اس حوالے سے تبصرے نہ پڑھے ہوتے ۔۔۔ انور مقصود کے “ فن پارے “ پہ غور کرتے ہوئے آگے بڑھی تو “ حسن نثار “ کہتے نظر آئے کہ وہ بابائے قوم کے بعد مصنف سے متاثر ہیں ۔۔۔
“ محمود شام“ کا کہنا ہے محبت کرنے والے مصنف کے ممنون رہیں گے کہ انہیں محبت کا ایسا فلسفہ پڑھنے کو ملا ۔۔۔
اجمل دہلوی کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والے کبھی صراطِ مستقیم سے نہیں بھٹکیں گے 😯
تمام لوگوں کی آراء پڑھنے کے بعد مختلف ابواب سے ہوتے ہوئے جب آپ “ خونی رشتوں میں جسمانی کشش “ پہ جائین تو توبہ استغفار کے بعد صفحہ 47 پہ چلے جائیں ۔۔۔ استاد اور شاگرد کی محبت پرانی پاکستانی فلم “ نہیں ابھی نہیں “ سے متاثر لگے گی ۔۔۔ صفحہ 48 سے 78 تک “ تباہ کُن “ اور “ جینیٹک “ پہ زور ہے ۔۔۔
جائزے میں پندرہ تباہ کن منٹ لگے اور برباد ہوگئے وقت کی قدر کرنا سیکھیں 😛

لوگ آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں کا رزلٹ ۔۔۔

ماہرِ نفسیات کے مطابق آپ کے جواب نیچے لکھے “ ہاں “ اور “ نہیں “ سے ملنے چاہیئے تھے یعنی اس سوالنامے کا اعلیٰ ترین اسکور 25 ہے ۔۔ 17 نمبر اسکور کرنے والے قابلِ قبول کہ وہ اپنے حلقہء احباب میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں ۔۔ اور اس سے کم والے سارے سڑیل ہیں 😛
میں بھی لٹل لٹل سڑیل 😦
1 ۔ نہیں ۔۔
2 – نہیں ۔۔
3 – نہیں ۔۔
4 – ہاں ۔۔
5 – ہاں ۔۔
6 – ہاں ۔۔
7 – نہیں ۔۔
8 – نہیں ۔۔
9 – نہیں ۔۔
10 ۔ ہاں ۔۔
11 – نہیں ۔۔
12 – نہیں ۔۔
13 – ہاں ۔۔
14 – نہیں ۔۔
15 – نہیں ۔۔
16 ۔ نہیں ۔۔
17 – نہیں ۔۔
18 – ہاں ۔۔
19 – نہیں ۔۔
20 – نہیں ۔۔
21 – نہیں ۔۔
22 – نہیں ۔۔
23 – نہیں ۔۔
24 – ہاں ۔۔
25 – ہاں ۔۔

لوگ آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں ؟؟؟

بہت دن گزرے کوئی امتحان نہیں لیا میں نے اس لیئے حاضر ہے ایک سوالنامہ ۔۔۔ ویسے بھی اب سارے بلاگرز مصروف ہوگئے ہیں جواب ملنے کی امید کم ہی نظر آتی ہے پھر بھی کوشش کرنے میں کیا ہرج ۔۔۔ اپنے بارے میں جاننے کا شوق تو ہر کسی کو ہوتا ہے کہ وہ دوستوں اور جاننے والوں میں کتنا مشہور یا پسند کیا جاتا ہے ۔۔۔ نیچے لکھے ہوئے سوال میرے نہیں کسی ماہرِ نفسیات کے ہیں ۔۔۔ آپ “ ہاں “ اور “ نہیں “ میں جواب دے کر اندازہ لگائیں کہ آپ اپنے حلقہء احباب میں کتنے مقبول ہیں ۔۔۔
سوال : 1 – کیا آپ اپنے دوستوں کے سامنے برملا اور بلا جھجھک اپنی رائے کا اظہار کرتے / کرتی ہیں ؟؟
سوال : 2 – کیا آپ اپنے بہترین دوستوں کے مقابلے میں خود کو ان سے برتر سمجھتے ہیں ؟؟
سوال : 3 – کیا آپ اکیلے کھانا کھانا پسند کرتے ہیں ؟؟
سوال : 4 – کیا آپ اخبار کے پہلے صفحے پہ شائع ہونے والی قتل و غارت پر مشتمل کہانیاں پڑھتے ہیں ؟؟
سوال :5 – کیا آپ عموماً اس طرح کے سوالناموں مین دلچسپی لیتے ہیں ؟؟
سوال :6 – کیا آپ اکثر و بیشتر دوستوں سے ادھار لیتے ہیں ؟؟
سوال :7 – جب آپ کسی واقعہ کی تفصیل بیان کریں تو اس کی چھوٹی چھوٹی جزئیات بھی بتائیں گے ؟؟
سوال : 8 – کیا آپ اپنی خوش اخلاقی پہ فخر کرتے ہیں ؟؟
سوال : 9 – جب کسی دوست کو ملنے کا وقت دیتے ہیں تو اسے انتظار کرواتے ہیں ؟؟
سوال : 10 – کیا آپ کو بچے اچھے لگتے ہیں ؟؟ ( اپنے بچوں کے علاوہ )
سوال : 11 – کیا آپ لوگوں کے ساتھ عملی قسم کے مذاق کرتے ہیں ؟؟
سوال :12 – کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادھیڑ عمری کے دور میں محبت میں مبتلا ہونا حماقت کے سوا کچھ نہیں ؟؟
سوال : 13 – کیا آپ کو سات افراد سے زیادہ کا مجمع گھبراہٹ مین مبتلا کردیتا ہے ؟؟
سوال : 14 – کیا آپ باتیں دل میں رکھنے کے عادی ہیں ؟؟
سوال : 15 – کیا آپ اکثر و بیشتر “ کیا مصیبت ہے “ اور مجھے تو سخت گھبراہٹ ہورہی ہے جیسے جملے ادا کرنے کے عادی ہیں ؟؟
سوال : 16 – کیا سیلز مین اور سیلز وومین ٹائپ کے لوگ آپ کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کردیتے ہیں ؟؟
سوال : 17 – کیا آپ ایسے لوگوں کو غیر دلچسپ اور احمق تصور کرتے ہیں جنہیں آپ کی طرح میوزک ، کتابوں اور کھیلوں سے دلچسپی نہیں ہوتی ؟؟
سوال : 18 – کیا آپ اکثر و بیشتر اپنے وعدے توڑ دیا کرتے ہیں ؟؟
سوال : 19 – کیا آپ لوگوں کے سامنے ان پہ تنقید کرتے ہیں ؟؟
سوال : 20 – جب قسمت آپ کا ساتھ نہ دے رہی ہو تب اپنے دوستوں کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتے ہیں ؟؟
سوال : 21 – کیا دوستوں کے سامنے اپنی توقعات ، مسائل اور ناکامیوں پر بات کرتے ہیں ؟؟
سوال : 22 – کیا چھوٹی موٹی تفریحات پہ پیسے خرچ کرنے کے قائل ہیں ؟؟
سوال : 23 – جب آپ کے کام بگڑ رہے ہوں تو مایوس ہوکر ہمت ہار بیٹھتے ہیں ؟؟
سوال : 24 – کیا اپ نے کبھی کسی دلچسپ قسم کی گپ شپ میں حصہ لیا ؟؟
سوال ؛ 25 – دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھاتے ہوئے اپنا اپنا بل ادا کرنے پہ یقین رکھتے ہیں ؟؟
ہر وہ سوال جس کا جواب “ ہاں “ میں ہوگا اس کا ایک پوائنٹ ہے یعنی ایک نمبر ۔۔۔ اپنے پوائنٹس لکھیں پھر میں رزلٹ لکھوں گی ۔۔۔

پڑیئے گر بیمار ۔۔۔۔

ہیلو کیسی ہو ۔۔۔ کہاں غائب ہو نہ فون نہ میسج ۔۔۔ عید کیسی گزری ۔۔۔ عید بس میں تو عید کی صبح ۔۔۔۔۔۔ ہاں مصروف ہوگی بہاری کباب بنا کے کھا لیا ہوگا یاد تو نہیں آئی ناں ہماری ۔۔۔۔۔ مجھے کب کھلا رہی ہو ۔۔۔۔ میں کچھ کہوں اگر اجازت ہو ؟؟ ہی ہی ہی ہاں بولو ناں ۔۔۔ میرا پاؤں پھسل گیا تھا عید کی صبح تو بس ایویں گزری عید ۔۔۔ او ہو سب خیر تو ہے مہرہ وہرہ تو نہیں ہٹ گیا جگہ سے ۔۔۔ اس موسم کی چوٹ کا اثر تو اب رہے گا دیر تک ۔۔۔ فلاں کو ایسا ہوا تھا سالوں گزر گئے اب تک پوری طرح نہیں ٹھیک ۔۔۔ علاج کرو یونہی چھوڑ دیا تو مشکل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ کوئی نہ ہو ایسا تیمار دار جو تسّلی دینے کی بجائے ننّھا سا دل دہلا دے 🙄
جب سے پیر پھسلا بار بار یہ گانا یاد آیا “ آج پھسل جائیں تو ہمیں نا اٹھئیو “ ہم پھسلیں تو تختے پہ سوئیں اور اس گانے میں 😛 سوچنے کی بات ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔

میں اداس ہوں ۔۔۔

وقت اتنی تیز رفتاری سے گزر رہا ہے جیسے بلائیں پیچھے لگی ہوں ۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو عید کی تھکن اتری تھی اور اب بقرعید آکے چلی گئی لیکن پھر وہی مہمانوں کا جمِّ غفیر اور میں ۔۔۔۔۔۔
مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ موسم چاہے جتنی کروٹ لے دل و نظر کو تسکین تو ملتی ہے مگر مدّح سرائی میں کوئی تحریر نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خزاں کا ذکر نہ ہو یہ ہونہیں سکتا ، خزاں کا حسین موسم درختوں پہ دستک دے چکا ہے ۔۔۔ آنگن میں جابجا بادام کے سرخ رنگ پتے بکھرے ہوئے ہیں لیکن خشک پتوں کا وہ مدھُر حسین ساز جسے سن کر روح سرشار ہوا کرتی تھی کہیں کھو گیا ہے ، یا شائد میں اداس ہوں کہ بادام کا درخت اپنی زندگی کے آخری ایّام گزار رہا ہے ۔۔۔۔۔ اگلے سال یہ منظر نہیں ہوگا ۔۔۔ بہت چاہا کہ گھر کی تعمیر میں درخت نہ کٹے لیکن 😦
خیر زندگی میں تبدیلیاں تو آتی رہتی ہیں ، درخت لگانے والے نہیں رہے تو درخت کی کیا اہمیت ۔۔۔ بادام کے پتے تو میں ڈائری میں جمع کرلوں گی مگر غم تو اس بات کا ہے کہ کُھلا آنگن ۔۔۔ دھوپ ۔۔۔ بارش ۔۔ چاند اور چاندنی میرے بِنا اداس ہوجائیں گے 😛 😦 ویسے اب تک ہار نہیں مانی میں نے درخت کو بچانے کی کوشش آخری وقت تک جاری رہے گی ۔۔۔۔

اولڈ از گولڈ ….

مجھے گولڈ پسند نہیں ۔۔۔ وُڈ ، اسٹون ، پرل ، پرانی چیزیں اور روایات کی عاشق ہوں لیکن تھوڑی بہت جدّت بھی ساتھ ہوتی ہے کہ زمانے کے ساتھ بھی چلنا ہے ۔۔۔ لیکن دوستی میں جدّت ناقابلِ معافی جرم لگتی ہے ۔۔۔ کسی پرانی سہیلی سے اچانک ملنے پہ اس کے انداز میں ازلی گھٹیا پن اور سلام دعا کے بغیر بے ساختہ جملے بازی سے دل میں ٹھنڈ پڑ کر یوں محسوس ہوتا ہے یہی زندگی ہے ۔۔۔
رواں ہفتے کا ایک دن میرے لیئے بھی ایسا ہی تھا ۔۔۔ سویرے سویرے کسی کی آمد پہ مکمل تفتیش کے بعد دروازہ جو کھولا تو ! ارے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر شروع ہوئے اسکول کے قصّے ۔۔۔ ناکام محبت کی کہانیاں ۔۔۔ کون کس ٹیچر پہ مرتی تھی ، ویسے سندھی کے اقبال سر تھے بھی تو شاندار ۔۔۔ اس پہ ان کا چشمہ اور غصّہ ۔۔۔ بے چاری معصوم لڑکیاں 😛
سب کچھ بلاگ از بام نہیں کیا جاسکتا اتنا کافی ہے کہ ہنستے مسکراتے اس وعدے پر دن تمام ہوا کہ
لوگ کہتے ہیں زندہ رہے تو ملتے رہیں گے
ہم کہتے ہیں ملتے رہے تو زندہ رہیں گے ۔۔۔

بارش کا ہے موسم ۔۔۔

واہ کیا خوبصورت موسم ہے ۔۔۔ رم جھم پڑتی پھوار سے پھول پودے پرندے سب خوش ہیں لیکن سامنے شاپ والے سے شاید کوئی ناراض ہے “ بھری برسات میں پی لینے دو “ صبح سے یہی ایک گانا لگایا ہوا اس نے ۔۔۔ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے ۔۔۔ انڈا پراٹھا چائے کا ناشتہ کرنے کے باوجود بھوک لگنے لگی ہے ۔۔۔ مہمانوں کے لیئے کیک منگوا کر رکھا تھا اب بارش میں کون آئے گا بھلا ۔۔۔۔ کیک پہ کب سے نیت خراب تھی کھا ہی لوں ۔۔۔۔

تیز رو زندگی ۔۔۔

آخری بلاگ کب لکھا تھا تاریخ یاد نہیں ، نہ جانے کتنی پوسٹس کا خیال ہی رہا کہ یہ بھی لکھنا ہے وہ بھی لکھنا ہے ۔۔۔ لیکن دن گزرتے گئے اور بلاگ لکھنے کا وقت نہیں ملا یا یوں کہنا بہتر کہ وقت ملا لیکن “ پھر سہی “ پہ ٹالنا اچھا لگا ۔۔۔ یہ اور وہ تو اب یاد نہیں مگر ایک پوسٹ مرد حضرات کے بارے میں تھی ، لگائی بجھائی میں کم نہیں ہوتی یہ صنف خواہ مخواہ نام خواتین کا بدنام کیا ہوا ہے ۔۔۔ اس پہ رمضان کے بعد لکھوں گی ابھی لکھ کر جنگ کرنی پڑے گی سارے حضرات آ جائیں گے معصوم بن کر 😛 اور فی الحال ٹائم نِشتہ ۔۔۔۔
رمضان شروع ہونے والے تھے تو گرمی کی شدت سے بارہا یہ سوچا کہ یا اللہ اس بار روزے کیسے گزریں گے ۔۔۔ 2 روزے بے حال گزرے پھر اللہ نے کرم کردیا اور آج انیس روزے ہوگئے ۔۔۔
مجھے روزے میں بھوک نہیں ستاتی لیکن افطار تو بنانی ہوتی ہے اسی بارے سوچتے ہوئے آج دوپہر اخبار پہ سرسری سی نظر ڈال کر جیسے اخبار رکھا ایک اشتہار پہ نظر پڑی “ افطار دلچسپی “ ہوش میں آگئی میں کہ یہ کیا پھر سے دیکھا تو “ اظہارِ دلچسپی “ لکھا تھا 😳 پھر جو ریکارڈ لگا بھوکی ندیدی روزہ لگ گیا کا وہ تفصیل سے لکھنے کی کیا ضرورت 😛
یہ لفظوں کے ہیر پھیر تو اکثر ہوتے رہتے ہیں اس میں پبلشر کا قصور ہوتا ہے جلد بازی کا نہیں ، حروف فاصلے سے ٹائپ کیئے گئے ہوں تو یہی ہوگا ناں جیسے کتابچہ میں فاصلہ ہو تو “ کتا “ “ بچہ “ ہی پڑھا جائے گا اور بھی بہت سے لفظ ہیں یاد نہیں آرہے ۔۔ دعا اور دغا ، محرم اور مجرم والا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہوگا ۔۔۔
آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہوگا ایسا ؟؟ تو بتایئے اور معلومات میں اضافہ کیجیئے ۔۔۔

Newer entries » · « Older entries