پڑیئے گر بیمار ۔۔۔۔

ہیلو کیسی ہو ۔۔۔ کہاں غائب ہو نہ فون نہ میسج ۔۔۔ عید کیسی گزری ۔۔۔ عید بس میں تو عید کی صبح ۔۔۔۔۔۔ ہاں مصروف ہوگی بہاری کباب بنا کے کھا لیا ہوگا یاد تو نہیں آئی ناں ہماری ۔۔۔۔۔ مجھے کب کھلا رہی ہو ۔۔۔۔ میں کچھ کہوں اگر اجازت ہو ؟؟ ہی ہی ہی ہاں بولو ناں ۔۔۔ میرا پاؤں پھسل گیا تھا عید کی صبح تو بس ایویں گزری عید ۔۔۔ او ہو سب خیر تو ہے مہرہ وہرہ تو نہیں ہٹ گیا جگہ سے ۔۔۔ اس موسم کی چوٹ کا اثر تو اب رہے گا دیر تک ۔۔۔ فلاں کو ایسا ہوا تھا سالوں گزر گئے اب تک پوری طرح نہیں ٹھیک ۔۔۔ علاج کرو یونہی چھوڑ دیا تو مشکل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ کوئی نہ ہو ایسا تیمار دار جو تسّلی دینے کی بجائے ننّھا سا دل دہلا دے 🙄
جب سے پیر پھسلا بار بار یہ گانا یاد آیا “ آج پھسل جائیں تو ہمیں نا اٹھئیو “ ہم پھسلیں تو تختے پہ سوئیں اور اس گانے میں 😛 سوچنے کی بات ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: