کتابوں کا جائزہ ۔۔۔۔۔۔

کتابوں سے اپنی دوستی پرانی ہے گو کہ اب وقت نکالنا پڑتا ہے کبھی کوئی کتاب اٹھائی پڑھی اور پھر دوسری یعنی ہر کتاب میری قسمت پہ رو رہی ہوتی ہے کہ میں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔ لیکن کتابیں خریدنے کا شوق کم نہیں ہوتا ۔۔۔۔
پچھلے سال کتب میلہ گئی تھی اور بہت ساری کتابوں کے ساتھ 2 کتابیں ایسی لے آئی جو میرے ساتھ شئرنگ کرکے کتابیں خریدنے والے فسادی بھائی کو پسند نہیں آئیں ۔۔۔۔ سال بھر یہ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے کہ تم نے پیسے ضائع کیئے ، کہا بھی کسی کو گفٹ کردو لیکن وہی بک بک ۔۔۔۔ اس بار کہا خود جاؤ لیکن میری مطلوبہ کتابیں لے آنا ۔۔۔ تو بس پھر جمع پونجی لٹا دی لیکن دل مطمئن کہ پیسے ضائع نہیں ہوئے ۔۔۔۔
مظہر السلام کی “ محبت مردہ پھولوں کی سِمفنی “ کا ابتدائی جائزہ لیا مصنف نے حرف حرف میں موتی پرو دیئے ہیں “ محبت کی روٹی روز تازہ پکانی پڑتی ہے “ والی لائن ہو یا “ محبت کی ایک نہیں کئی زندگیاں ہوتی ہیں “ ہر جملے پہ فدا ہونے کو دل چاہ گیا ۔۔۔
سرفراز شاہ کی “ فقیر نگری “ کا اب تک جتنا مطالعہ کیا یوں لگااب تک کی زندگی میں جتنی باتیں سُنی اور کیں وقت ضائع کیا ۔۔۔۔ روحانی گفتگو پڑھ کے اندازہ ہوا کہ زندگی میں سب کچھ ہی تو ہے اگر کچھ نہ ہونے کا غم ہے تو اپنے اِرد گِرد ایک نظر ڈالنا کافی ہے اس کے بعد شُکر ہی شُکر ادا ہونا چاہیئے لیکن ایسا کچھ دیر ہی ہوتا ہے پھر وہی نا شُکرا پن ۔۔۔۔
قمر اجنالوی کی “ دھرتی کے رنگ “ کا سرسری جائزہ لیا لگتا ہے اچھا ناول ہوگا ۔۔۔
مستنصر کی “ رتی گلی “ کے بارے میں بہت تعریف سُنی تھی ہے کیسی یہ پڑھ کے پتہ چلے گا ۔۔۔۔
“ فلسفہء محبت “ مصنف کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنا تعارف ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ہے اب آپ کی مرضی اس ڈیش میں بہار سے ملتا جلتا کوئی لفظ فٹ کرلیں ۔۔۔۔ اس کتاب کو لینے کا مقصد صرف اتنا کہ 50 روپے میں مل رہی تھی ۔۔۔ جائزہ لینے کا اتفاق شائد کبھی نہ ہوتا اگر فیس بک پہ اس حوالے سے تبصرے نہ پڑھے ہوتے ۔۔۔ انور مقصود کے “ فن پارے “ پہ غور کرتے ہوئے آگے بڑھی تو “ حسن نثار “ کہتے نظر آئے کہ وہ بابائے قوم کے بعد مصنف سے متاثر ہیں ۔۔۔
“ محمود شام“ کا کہنا ہے محبت کرنے والے مصنف کے ممنون رہیں گے کہ انہیں محبت کا ایسا فلسفہ پڑھنے کو ملا ۔۔۔
اجمل دہلوی کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والے کبھی صراطِ مستقیم سے نہیں بھٹکیں گے 😯
تمام لوگوں کی آراء پڑھنے کے بعد مختلف ابواب سے ہوتے ہوئے جب آپ “ خونی رشتوں میں جسمانی کشش “ پہ جائین تو توبہ استغفار کے بعد صفحہ 47 پہ چلے جائیں ۔۔۔ استاد اور شاگرد کی محبت پرانی پاکستانی فلم “ نہیں ابھی نہیں “ سے متاثر لگے گی ۔۔۔ صفحہ 48 سے 78 تک “ تباہ کُن “ اور “ جینیٹک “ پہ زور ہے ۔۔۔
جائزے میں پندرہ تباہ کن منٹ لگے اور برباد ہوگئے وقت کی قدر کرنا سیکھیں 😛

Advertisements

3 تبصرے »

  1. کیا فلسفہءِ محبت کا تعلق سیاست کے ساتھ ہے یعنی مصنف کی سیاست میں اسقدر کامیابی کی وجہ کہ کس طرح ہزاروں پڑھے لکھے مرد و زن گھنٹوں اس کی لایعنی تقریر سُنتے ہیں یا شاید وہ کوڈِڈ تقریر ہوتی ہے جس کا مطلب صرف اُس کے محبوبین سمجھتے ہیں

  2. Sarwat AJ Said:

    Concise and interesting review


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: