میں اداس ہوں ۔۔۔

وقت اتنی تیز رفتاری سے گزر رہا ہے جیسے بلائیں پیچھے لگی ہوں ۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو عید کی تھکن اتری تھی اور اب بقرعید آکے چلی گئی لیکن پھر وہی مہمانوں کا جمِّ غفیر اور میں ۔۔۔۔۔۔
مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ موسم چاہے جتنی کروٹ لے دل و نظر کو تسکین تو ملتی ہے مگر مدّح سرائی میں کوئی تحریر نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خزاں کا ذکر نہ ہو یہ ہونہیں سکتا ، خزاں کا حسین موسم درختوں پہ دستک دے چکا ہے ۔۔۔ آنگن میں جابجا بادام کے سرخ رنگ پتے بکھرے ہوئے ہیں لیکن خشک پتوں کا وہ مدھُر حسین ساز جسے سن کر روح سرشار ہوا کرتی تھی کہیں کھو گیا ہے ، یا شائد میں اداس ہوں کہ بادام کا درخت اپنی زندگی کے آخری ایّام گزار رہا ہے ۔۔۔۔۔ اگلے سال یہ منظر نہیں ہوگا ۔۔۔ بہت چاہا کہ گھر کی تعمیر میں درخت نہ کٹے لیکن 😦
خیر زندگی میں تبدیلیاں تو آتی رہتی ہیں ، درخت لگانے والے نہیں رہے تو درخت کی کیا اہمیت ۔۔۔ بادام کے پتے تو میں ڈائری میں جمع کرلوں گی مگر غم تو اس بات کا ہے کہ کُھلا آنگن ۔۔۔ دھوپ ۔۔۔ بارش ۔۔ چاند اور چاندنی میرے بِنا اداس ہوجائیں گے 😛 😦 ویسے اب تک ہار نہیں مانی میں نے درخت کو بچانے کی کوشش آخری وقت تک جاری رہے گی ۔۔۔۔

Advertisements

8 تبصرے »

  1. بہت خوب لکها بہنا
    کهلا آنگن،دهوپ ، چاند اور چاندنی آپکے نہ ہونے سے ہماری طرح ضروراداس ہوجائنگے .انہیں بچانے کی کوئی تدبیر کرنے ہی چاہئے نہییں تو میرے انڈیا کے گهر کے بادام کے درخت کی طرح ہمیشہ کے لئے اس کے سایہ سے محروم ہو جائنگے.

  2. تو پھر کیا خیال ہے کہ ایک دھرنا ہوجائے ،بادام کے درخت کیلئے۔

  3. hijabeshab Said:

    تبصرے کا شکریہ کوثر بیگ صاحبہ ۔۔

    منصور مکرم واہ کیا آئیڈیا دیا آپ نے بہت خوب ، میرا خیال ہے دھرنا بادام کے درخت کے نیچے ٹھیک رہے گا 🙂

    • ارے درخت کے نیچے ڈفر کو بٹھا لیں ،اس کا پیلا سر بڑا ہے ،درخت گرے گا تو ہمارا تو کچومر بن جائے گا۔

  4. مستقبل سے ماضی کا نسٹالجیا؟۔
    کچھ چیزیں ناگزیر ہوتی ہیں۔ وقت بڑی تیزی سے انہیں اور ہمیں زائل کردیتا ھے۔
    زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔پیچھے مڑ کر دیکھنے والے پتھر کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔
    خیال ہوتی باتیں ۔ انہیں جمع کر کے رکھنے کی بجائے ۔انہیں جھٹک کر آگے بڑھ جانے میں عافیت ہوتی ہے۔ ورنہ کچھ خیال ہوئی باتیں پاؤن سے لیکر روح تک کو فگار کر دیتی ہیں۔
    بادام کے درخت اور آنگن میں چاند چاندنی برساتے بہت سےمناظر ملیں گے مگر ۔۔۔ جو مناظر ۔ جو آنگن دل میں بس جائیں ۔ محسوسات پہ چھا جاتے ہیں اور زندگی بھر ۔۔ کسک دیتے ہیں۔

    • hijabeshab Said:

      زندگی میں آگے بڑھنے کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کی یادیں بھولنا بہت مشکل ہے کسک تو رہے گی ہمیشہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. یہ بڑی عجیب کیفیت ہے۔ میں بھی اس کیفیت سے گزرا ہوں۔ ہمارے صحن میں امرود کا درخت تھا، خوب تھا۔۔۔! سارا بچپن اس کے ساتھ گزرا ۔ اس کا پھل بھی خوب کھایا اور جھولا بھی جھولا۔

    جب اُسے اسی مجبوری کی وجہ سے کاٹنا پڑا تو بہت دکھ ہوا۔ یہ درخت مرے والد کی یاد گار بھی تھا۔

    اپنی ایک غزل کا مقطع بھی میں نے اسی کے نام لکھا تھا:

    یہاں احمدؔ شجر اک تھا کسی کی یاد تھی اُس میں
    اگر وہ اب بھی ہوتا سونا یہ آنگن نہیں رہتا

    اچھی لگی آپ کی تحریر۔۔۔!

    • hijabeshab Said:

      بلاگ پہ خوش آمدید محمد احمد ، یہ درخت بھی میرے ابو نے لگایا تھا میں نے بھی جھولا ڈالا ہوا تھا اس پہ 😦
      آپ کا شعر بہت خوبصورت ہے ۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: