یادِ پروین شاکر ۔۔۔

تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
ہوائے صبح میں
یا شام کے پہلے ستارے میں
جھجھکتی بوندا باندی میں
کہ بے حد تیز بارش میں
رو پہلی چاندنی میں
یا کہ پھر تپتی دوپہروں میں
بہت گہرے خیالوں میں
کہ بے حد سرسری دُھن میں
تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
ہجومِ کار سے گھبرا کے
ساحل کے کنارے پر
کِسی ویک اینڈ کا وقفہ
کہ سگرٹ کے تسلسل میں
تمہاری انگلیوں کے بیچ
کوئی بے ارادہ ریشمیں فرصت؟
کہ جامِ سُرخ سے
یکسر تہی
اور پھر سے
بھر جانے کا خوش آداب لمحہ
کہ اِک خوابِ محبت ٹوٹنے
اور دُوسرا آغاز ہونے کے
کہیں مابین اک بے نام لمحے کی فراغت؟
تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
یہ نظم میں نے نیٹ سے کاپی کرکے یہاں پیسٹ کی ہے ، لگ رہا ہے کہ غلطیاں ہیں اور نام بھی نہیں لکھا ہوا نظم کا ۔۔۔ میں نے وضاحتی نوٹ اس لیئے لکھا کہ میرا دل نہیں چاہ رہا تنقید پڑھنے کا :)

آج کی محبت ۔۔۔

نئے زمانے کے عاشقوں کے نام جون ایلیا کا پیغام ۔۔۔۔
اے جانِ عہد و پیماں
ہم گھر بسائیں گے
ہاں !! تو اپنے گھر میں ہوگا
ہم اپنے گھر میں ہونگے ۔۔۔
لیکن محبت اور جنگ میں سب جائز ہے کل کے لیئے آج کیوں برباد کریں ڈیٹ پہ چلو مزے کریں گے :P

رنگوں بھرا موسم ۔۔۔

رخصت ہوتی سردیوں کا بہت خوبصورت رنگوں بھرا موسم ہے آج کل ۔۔۔ مٹیالی فضا ۔۔۔ ٹنڈ منڈ خاکی ٹہنیوں پہ زندگی کی نوید دیتی ننھی سبز کونپلیں ۔۔۔ آنگن میں بچھی سرخ پتوں کی چادر پہ کبھی چمکیلی کبھی زرد دھوپ کی شعاعوں کا خوش رنگ منظر ۔۔۔ کبھی کبھار کوئی بھٹکا ہوا بادل کا ٹکڑا بھی نظر آجاتا ہے ۔۔۔ پودوں پہ منڈلاتے بھنورے ۔۔۔ کوئل کی شوخ ہوتی کوک اور رخ بدلتی ہوا کے انداز بتا رہے ہیں بہار آ چکی ہے ۔۔۔
اس وقت شفاف نیلے آسمان پہ چمکتے چاند ستارے اور چاندنی اس قدر دلفریب و حسین ہے کہ اگر میرے ارد گرد شور نہ ہوتا تو میں آنگن میں رکھی اپنی آرام دہ کرسی پہ بیٹھی چاند کی سیر کر آتی مگر ۔۔۔ اِرد گِرد سے بےنیاز ہونے کا گُر بھی آنا چاہیئے ۔۔۔۔

2013 in review

The WordPress.com stats helper monkeys prepared a 2013 annual report for this blog.

Here’s an excerpt:

The concert hall at the Sydney Opera House holds 2,700 people. This blog was viewed about 9,900 times in 2013. If it were a concert at Sydney Opera House, it would take about 4 sold-out performances for that many people to see it.

Click here to see the complete report.

جانے کہاں گئے وہ دن ۔۔۔۔۔۔

آج دوپہر ہونے والی بھابی جی کا میسج آیا میرا نیو ائیر کا تحفہ کیا ہوگا سرپرائز ہے یا بتا رہی ہیں ۔۔۔ لو بھئی ایک اور خرچہ وہ بھی زبردستی کا ۔۔۔۔ کلینڈر پر نظر ڈالی 28 دن گزر گئے دسمبر کے اور پتہ بھی نہیں چلا ۔۔۔ ایک وہ وقت تھا جب دن گنے جاتے تھے کونسے کارڈز لوں جو منفرد سے ہوں تحفہ کیا لیا جائے پہلی وش میری ہو ۔۔۔ پھر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ اب دسمبر سال کا بارہواں مہینہ اور بس ۔۔۔ بہت شکوے تھے اہلیانِ کراچی کو سردی سے آئی تو ایسی شوخ رنگ کے سارے شکوے ٹھٹھرے پڑے ہیں ۔۔۔ وہی مٹیالی گرد آلود خاموش فضا ۔۔۔ خشک پتّوں سے بھرے آنگن میں زرد دھوپ ۔۔۔ حسین چاندنی راتیں ۔۔۔ رومینٹک رات کی رانی ۔۔۔ بھاپ اڑاتی چائے کی خوشبو ہے مگر میں وہ نہیں ہوں ۔۔۔ اب دسمبر کی دھوپ میں بیٹھ کر “ ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں “ والا شعر یاد نہیں آتا چائے کی خوشبو کوئی اچھوتا خیال نہیں لاتی گویا صرف چکّی کی مشقت ہے مشقِ سخن وقت کی نظر ہوگئی ۔۔۔
سردیوں میں جیسے پرانے درد لوٹ آتے ہیں اسی طرح جانے والے کسی بھی موسم میں گئے ہوں سرد موسم ان کی یادوں کی کسک دو آتشہ کردیتا ہے ۔۔۔ پھر کیسی چاندنی راتیں اور رات کی رانی ۔۔۔۔
شائد اس سال شکستہ ہوں مصائب کی سِلیں
شائد اس سال ہی صحراؤں میں کچھ پھول کھلیں
شائد اس سال جو سوچا تھا وہ پورا ہو جائے
شائد اس سال مرادیں بر آئیں
یہ نیا سال مبارک ہو تمہیں ۔۔۔۔

سگھڑ بمقابلہ پھوہڑ …..

کل ہم ایک دعوت میں مدعو تھے ۔۔۔ دعوت کا اہتمام گھر میں تھا اور مہمانوں کی تواضع کا انتظام ہوٹل کے ذمّے اس لیئے اہلِ خانہ لشکارے مارتے ڈریسز پہنے خوشی سے سرشار اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے ۔۔۔۔ سب سے ملنے کے بعد میں نے آتے جاتے ہوئے لوگوں اور گھر پہ نظر ڈالی تو دل چاہا اسی وقت دو سطری بلاگ لکھ کے قلم توڑ دوں ۔۔۔۔
میزبان خواتین نے صرف خود پہ توجہ دی تھی ۔۔۔ گھر کی حالتِ زار بتا رہی تھی کہ اگر سارے مہمانوں کو لگاؤں تو بھی آج صفائی مکمل نہیں ہونی ۔۔۔ میری بک بک کا مقصد اتنا سا ہے کہ “ پھوہڑ خواتین “ کی قسمت اعلٰی ہوتی ہے ۔۔۔۔ ناز و انداز اور اداؤں سے آنکھوں پہ پٹی باندھی جا سکتی ہے ۔۔۔ پھر کچھ نظر نہیں آتا اداؤں کے ماروں کو :roll:
اس لیئے سُگھڑ بیبیو اب اصغری کے زمانے والے فیشن تو اِن ہوسکتے ہیں اصغری نہیں ۔۔۔۔ اب فیوی کول کے استعمال سے سیّاں کا دل بگاوت کرتا ہے یہ گھر میرا گلشن ہے کہہ کر نہیں ۔۔۔ چلو بھئی کبھی کام بھی کر لیا کرو تعریف کی آس میں پوری پوسٹ پڑھ لی ناں ویسے کیا خیال ہے بادل کے بغیر بجلیاں گِرانا اچھا ہے یا دیگچیاں چمکانا :P

کتابوں کا جائزہ ۔۔۔۔۔۔

کتابوں سے اپنی دوستی پرانی ہے گو کہ اب وقت نکالنا پڑتا ہے کبھی کوئی کتاب اٹھائی پڑھی اور پھر دوسری یعنی ہر کتاب میری قسمت پہ رو رہی ہوتی ہے کہ میں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔ لیکن کتابیں خریدنے کا شوق کم نہیں ہوتا ۔۔۔۔
پچھلے سال کتب میلہ گئی تھی اور بہت ساری کتابوں کے ساتھ 2 کتابیں ایسی لے آئی جو میرے ساتھ شئرنگ کرکے کتابیں خریدنے والے فسادی بھائی کو پسند نہیں آئیں ۔۔۔۔ سال بھر یہ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے کہ تم نے پیسے ضائع کیئے ، کہا بھی کسی کو گفٹ کردو لیکن وہی بک بک ۔۔۔۔ اس بار کہا خود جاؤ لیکن میری مطلوبہ کتابیں لے آنا ۔۔۔ تو بس پھر جمع پونجی لٹا دی لیکن دل مطمئن کہ پیسے ضائع نہیں ہوئے ۔۔۔۔
مظہر السلام کی “ محبت مردہ پھولوں کی سِمفنی “ کا ابتدائی جائزہ لیا مصنف نے حرف حرف میں موتی پرو دیئے ہیں “ محبت کی روٹی روز تازہ پکانی پڑتی ہے “ والی لائن ہو یا “ محبت کی ایک نہیں کئی زندگیاں ہوتی ہیں “ ہر جملے پہ فدا ہونے کو دل چاہ گیا ۔۔۔
سرفراز شاہ کی “ فقیر نگری “ کا اب تک جتنا مطالعہ کیا یوں لگااب تک کی زندگی میں جتنی باتیں سُنی اور کیں وقت ضائع کیا ۔۔۔۔ روحانی گفتگو پڑھ کے اندازہ ہوا کہ زندگی میں سب کچھ ہی تو ہے اگر کچھ نہ ہونے کا غم ہے تو اپنے اِرد گِرد ایک نظر ڈالنا کافی ہے اس کے بعد شُکر ہی شُکر ادا ہونا چاہیئے لیکن ایسا کچھ دیر ہی ہوتا ہے پھر وہی نا شُکرا پن ۔۔۔۔
قمر اجنالوی کی “ دھرتی کے رنگ “ کا سرسری جائزہ لیا لگتا ہے اچھا ناول ہوگا ۔۔۔
مستنصر کی “ رتی گلی “ کے بارے میں بہت تعریف سُنی تھی ہے کیسی یہ پڑھ کے پتہ چلے گا ۔۔۔۔
“ فلسفہء محبت “ مصنف کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنا تعارف ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ہے اب آپ کی مرضی اس ڈیش میں بہار سے ملتا جلتا کوئی لفظ فٹ کرلیں ۔۔۔۔ اس کتاب کو لینے کا مقصد صرف اتنا کہ 50 روپے میں مل رہی تھی ۔۔۔ جائزہ لینے کا اتفاق شائد کبھی نہ ہوتا اگر فیس بک پہ اس حوالے سے تبصرے نہ پڑھے ہوتے ۔۔۔ انور مقصود کے “ فن پارے “ پہ غور کرتے ہوئے آگے بڑھی تو “ حسن نثار “ کہتے نظر آئے کہ وہ بابائے قوم کے بعد مصنف سے متاثر ہیں ۔۔۔
“ محمود شام“ کا کہنا ہے محبت کرنے والے مصنف کے ممنون رہیں گے کہ انہیں محبت کا ایسا فلسفہ پڑھنے کو ملا ۔۔۔
اجمل دہلوی کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والے کبھی صراطِ مستقیم سے نہیں بھٹکیں گے :shock:
تمام لوگوں کی آراء پڑھنے کے بعد مختلف ابواب سے ہوتے ہوئے جب آپ “ خونی رشتوں میں جسمانی کشش “ پہ جائین تو توبہ استغفار کے بعد صفحہ 47 پہ چلے جائیں ۔۔۔ استاد اور شاگرد کی محبت پرانی پاکستانی فلم “ نہیں ابھی نہیں “ سے متاثر لگے گی ۔۔۔ صفحہ 48 سے 78 تک “ تباہ کُن “ اور “ جینیٹک “ پہ زور ہے ۔۔۔
جائزے میں پندرہ تباہ کن منٹ لگے اور برباد ہوگئے وقت کی قدر کرنا سیکھیں :P

لوگ آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں کا رزلٹ ۔۔۔

ماہرِ نفسیات کے مطابق آپ کے جواب نیچے لکھے “ ہاں “ اور “ نہیں “ سے ملنے چاہیئے تھے یعنی اس سوالنامے کا اعلیٰ ترین اسکور 25 ہے ۔۔ 17 نمبر اسکور کرنے والے قابلِ قبول کہ وہ اپنے حلقہء احباب میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں ۔۔ اور اس سے کم والے سارے سڑیل ہیں :P
میں بھی لٹل لٹل سڑیل :(
1 ۔ نہیں ۔۔
2 – نہیں ۔۔
3 – نہیں ۔۔
4 – ہاں ۔۔
5 – ہاں ۔۔
6 – ہاں ۔۔
7 – نہیں ۔۔
8 – نہیں ۔۔
9 – نہیں ۔۔
10 ۔ ہاں ۔۔
11 – نہیں ۔۔
12 – نہیں ۔۔
13 – ہاں ۔۔
14 – نہیں ۔۔
15 – نہیں ۔۔
16 ۔ نہیں ۔۔
17 – نہیں ۔۔
18 – ہاں ۔۔
19 – نہیں ۔۔
20 – نہیں ۔۔
21 – نہیں ۔۔
22 – نہیں ۔۔
23 – نہیں ۔۔
24 – ہاں ۔۔
25 – ہاں ۔۔

لوگ آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں ؟؟؟

بہت دن گزرے کوئی امتحان نہیں لیا میں نے اس لیئے حاضر ہے ایک سوالنامہ ۔۔۔ ویسے بھی اب سارے بلاگرز مصروف ہوگئے ہیں جواب ملنے کی امید کم ہی نظر آتی ہے پھر بھی کوشش کرنے میں کیا ہرج ۔۔۔ اپنے بارے میں جاننے کا شوق تو ہر کسی کو ہوتا ہے کہ وہ دوستوں اور جاننے والوں میں کتنا مشہور یا پسند کیا جاتا ہے ۔۔۔ نیچے لکھے ہوئے سوال میرے نہیں کسی ماہرِ نفسیات کے ہیں ۔۔۔ آپ “ ہاں “ اور “ نہیں “ میں جواب دے کر اندازہ لگائیں کہ آپ اپنے حلقہء احباب میں کتنے مقبول ہیں ۔۔۔
سوال : 1 – کیا آپ اپنے دوستوں کے سامنے برملا اور بلا جھجھک اپنی رائے کا اظہار کرتے / کرتی ہیں ؟؟
سوال : 2 – کیا آپ اپنے بہترین دوستوں کے مقابلے میں خود کو ان سے برتر سمجھتے ہیں ؟؟
سوال : 3 – کیا آپ اکیلے کھانا کھانا پسند کرتے ہیں ؟؟
سوال : 4 – کیا آپ اخبار کے پہلے صفحے پہ شائع ہونے والی قتل و غارت پر مشتمل کہانیاں پڑھتے ہیں ؟؟
سوال :5 – کیا آپ عموماً اس طرح کے سوالناموں مین دلچسپی لیتے ہیں ؟؟
سوال :6 – کیا آپ اکثر و بیشتر دوستوں سے ادھار لیتے ہیں ؟؟
سوال :7 – جب آپ کسی واقعہ کی تفصیل بیان کریں تو اس کی چھوٹی چھوٹی جزئیات بھی بتائیں گے ؟؟
سوال : 8 – کیا آپ اپنی خوش اخلاقی پہ فخر کرتے ہیں ؟؟
سوال : 9 – جب کسی دوست کو ملنے کا وقت دیتے ہیں تو اسے انتظار کرواتے ہیں ؟؟
سوال : 10 – کیا آپ کو بچے اچھے لگتے ہیں ؟؟ ( اپنے بچوں کے علاوہ )
سوال : 11 – کیا آپ لوگوں کے ساتھ عملی قسم کے مذاق کرتے ہیں ؟؟
سوال :12 – کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادھیڑ عمری کے دور میں محبت میں مبتلا ہونا حماقت کے سوا کچھ نہیں ؟؟
سوال : 13 – کیا آپ کو سات افراد سے زیادہ کا مجمع گھبراہٹ مین مبتلا کردیتا ہے ؟؟
سوال : 14 – کیا آپ باتیں دل میں رکھنے کے عادی ہیں ؟؟
سوال : 15 – کیا آپ اکثر و بیشتر “ کیا مصیبت ہے “ اور مجھے تو سخت گھبراہٹ ہورہی ہے جیسے جملے ادا کرنے کے عادی ہیں ؟؟
سوال : 16 – کیا سیلز مین اور سیلز وومین ٹائپ کے لوگ آپ کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کردیتے ہیں ؟؟
سوال : 17 – کیا آپ ایسے لوگوں کو غیر دلچسپ اور احمق تصور کرتے ہیں جنہیں آپ کی طرح میوزک ، کتابوں اور کھیلوں سے دلچسپی نہیں ہوتی ؟؟
سوال : 18 – کیا آپ اکثر و بیشتر اپنے وعدے توڑ دیا کرتے ہیں ؟؟
سوال : 19 – کیا آپ لوگوں کے سامنے ان پہ تنقید کرتے ہیں ؟؟
سوال : 20 – جب قسمت آپ کا ساتھ نہ دے رہی ہو تب اپنے دوستوں کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتے ہیں ؟؟
سوال : 21 – کیا دوستوں کے سامنے اپنی توقعات ، مسائل اور ناکامیوں پر بات کرتے ہیں ؟؟
سوال : 22 – کیا چھوٹی موٹی تفریحات پہ پیسے خرچ کرنے کے قائل ہیں ؟؟
سوال : 23 – جب آپ کے کام بگڑ رہے ہوں تو مایوس ہوکر ہمت ہار بیٹھتے ہیں ؟؟
سوال : 24 – کیا اپ نے کبھی کسی دلچسپ قسم کی گپ شپ میں حصہ لیا ؟؟
سوال ؛ 25 – دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھاتے ہوئے اپنا اپنا بل ادا کرنے پہ یقین رکھتے ہیں ؟؟
ہر وہ سوال جس کا جواب “ ہاں “ میں ہوگا اس کا ایک پوائنٹ ہے یعنی ایک نمبر ۔۔۔ اپنے پوائنٹس لکھیں پھر میں رزلٹ لکھوں گی ۔۔۔

پڑیئے گر بیمار ۔۔۔۔

ہیلو کیسی ہو ۔۔۔ کہاں غائب ہو نہ فون نہ میسج ۔۔۔ عید کیسی گزری ۔۔۔ عید بس میں تو عید کی صبح ۔۔۔۔۔۔ ہاں مصروف ہوگی بہاری کباب بنا کے کھا لیا ہوگا یاد تو نہیں آئی ناں ہماری ۔۔۔۔۔ مجھے کب کھلا رہی ہو ۔۔۔۔ میں کچھ کہوں اگر اجازت ہو ؟؟ ہی ہی ہی ہاں بولو ناں ۔۔۔ میرا پاؤں پھسل گیا تھا عید کی صبح تو بس ایویں گزری عید ۔۔۔ او ہو سب خیر تو ہے مہرہ وہرہ تو نہیں ہٹ گیا جگہ سے ۔۔۔ اس موسم کی چوٹ کا اثر تو اب رہے گا دیر تک ۔۔۔ فلاں کو ایسا ہوا تھا سالوں گزر گئے اب تک پوری طرح نہیں ٹھیک ۔۔۔ علاج کرو یونہی چھوڑ دیا تو مشکل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ کوئی نہ ہو ایسا تیمار دار جو تسّلی دینے کی بجائے ننّھا سا دل دہلا دے :roll:
جب سے پیر پھسلا بار بار یہ گانا یاد آیا “ آج پھسل جائیں تو ہمیں نا اٹھئیو “ ہم پھسلیں تو تختے پہ سوئیں اور اس گانے میں :P سوچنے کی بات ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔

« Older entries
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 36 other followers