Archive for پسندیدہ شاعری

یادِ پروین شاکر ۔۔۔

تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
ہوائے صبح میں
یا شام کے پہلے ستارے میں
جھجھکتی بوندا باندی میں
کہ بے حد تیز بارش میں
رو پہلی چاندنی میں
یا کہ پھر تپتی دوپہروں میں
بہت گہرے خیالوں میں
کہ بے حد سرسری دُھن میں
تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
ہجومِ کار سے گھبرا کے
ساحل کے کنارے پر
کِسی ویک اینڈ کا وقفہ
کہ سگرٹ کے تسلسل میں
تمہاری انگلیوں کے بیچ
کوئی بے ارادہ ریشمیں فرصت؟
کہ جامِ سُرخ سے
یکسر تہی
اور پھر سے
بھر جانے کا خوش آداب لمحہ
کہ اِک خوابِ محبت ٹوٹنے
اور دُوسرا آغاز ہونے کے
کہیں مابین اک بے نام لمحے کی فراغت؟
تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
یہ نظم میں نے نیٹ سے کاپی کرکے یہاں پیسٹ کی ہے ، لگ رہا ہے کہ غلطیاں ہیں اور نام بھی نہیں لکھا ہوا نظم کا ۔۔۔ میں نے وضاحتی نوٹ اس لیئے لکھا کہ میرا دل نہیں چاہ رہا تنقید پڑھنے کا 🙂

Advertisements

کتابیں جھانکتی ہیں ….

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں
جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں ، اب اکثر
گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر
بڑی بےچین رہتی ہیں
انھیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہوگئی ہے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
جو قدریں وہ سناتی تھیں
کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے
وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں
جو رشتے وہ سناتی تھیں
وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے
کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں
بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ
جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے
بہت سی اصطلاحیں ہیں
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں
گلاسوں نے انھیں متروک کر ڈالا
زباں پہ ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا
اب انگلی کلک کرنے سے
بس اک جھپکی گزرتی ہے
بہت کچھ تہہ بہ بہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے
کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے
کبھی گودی میں لیتے تھے
کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کر
نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے
چھوتے تھے جبیں سے
خدا نے چاہا تو وہ سارا علم ملتا رہے گا بعد میں بھی
مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول
کتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے
ان کا کیا ہوگا
وہ شاید اب نہیں ہوں گے……!!

محبت …..

محبت مشوروں پندو نصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی
محبت خود بتاتی ہے کہاں کس کا ٹھکانہ ہے
کسے آنکھوں میں رکھنا ہے کسے دل میں بسانا ہے
رہا کرنا ہے کس کو اور کسے زنجیر کرنا ہے
مٹانا ہے کسے دل سے کسے تحریر کرنا ہے
گھروندہ کب گِرانا کہاں تعمیر کرنا ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی
اُسے معلوم ہوتا ہے سفر دشوار کتنا ہے
کسی کی چشمِ گِریہ میں چھپا اقرار کتنا ہے
شجر جو گرنے والا ہے وہ سایہ دار کتنا ہے
سفر کی ہر صعوبت اور تمازت یاد رکھتی ہے
جسے سارے بھلا ڈالیں محبت یاد رکھتی ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی
کہ اِس کا رستہ ہرگز رضی ویراں نہیں ہوتا
وہیں امکان ہوتا ہے جہاں امکاں نہیں ہوتا
محبت راستوں میں ایک الگ رستہ بناتی ہے
جہاں کوئی نہیں سُنتا وہاں قصّہ سناتی ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع جو نہیں ہوتی
اُسے کیا راستوں میں پھول کتنے دھول کتنی ہے
کسی نازک سمے میں جو ہوئی تھی بھول کتنی ہے
اُسے کیا پھول سے ہاتھوں میں اب تک خار کتنے ہیں
کہ دشمن گھات میں بیٹھے پسِ دیوار کتنے ہیں
اُسے کیا شام کیسی تلخیء ایام کیسی ہے
اُسے کیا زندگی کس کی کسی کے نام کیسی ہے
اُسے کیا چاہتوں میں صورتِ آلام کیسی ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی ۔۔۔۔

او دیس سے آنے والے بتا !!!!!!

او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ہیں یارانِ وطن
آوارء غربت کو بھی سُنا
کس رنگ میں ہیں کنعانِ وطن
وہ باغِ وطن فردوسِ وطن
وہ سروِ وطن ریحانِ وطن
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی
سر مست نظارے ہوتے ہیں
کیا اب بھی سہانی راتوں کو
وہ چاند ستارے ہوتے ہیں
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے
کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
شاداب شگفتہ پھولوں سے
معمور ہیں گلزار اب کے نہیں
بازار میں مالن لاتی ہے
پھولوں کے گندھے ہار اب کے نہیں
اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں
نو عمر خریدار اب کے نہین
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں
اور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیں
کیا رات بھر اب بھی گیتوں کی
اور پیار کی باتیں ہوتی ہیں
وہ حسن کے جادو چلتے ہیں
وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر
پِنہاریاں پانی بھرتی ہیں
انگڑائی کا نقشہ بن بن کر
سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں
اور اپنے گھر کو جاتے ہوئے
ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں
گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں
ساحل کے گھنیرے پیروں میں
برکھا کی صدائیں گونجتی ہیں
جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں
موروں کی صدائیں گونجتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں میلوں میں وہی
برسات کا جوبن ہوتا ہے
پھیلے ہوئے بر کی شاخوں میں
جھولوں کا نشیمن ہوتا ہے
اُمڈے ہوئے بادل ہوتے ہیں
چھایا ہوا ساون ہوتا ہے
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں برسات کے دن
باغوں میں بہاریں آتی ہیں
معصوم و حسین دوشیزائیں
برکھا کے ترانے گاتی ہیں
اور تیتلیوں کی طرح سے رنگین
جھولوں پر لہراتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا پہلی س ہے معصوم ابھی
وہ مدرسے کی شاداب فِضا
کچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں
جس میں وہ مثالِ خواب فِضا
وہ کھیل ، وہ ہم سِن ،وہ میدان
وہ خواب گاہء مہتاب فِضا
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی کسی کے سینے میں
باقی ہے ہماری چاہ بتا ؟؟؟؟؟؟؟
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب
یاروں میں کوئی آہ بتا ؟؟؟؟؟
او دیس سے آنے والے بتا
للہ بتا للہ بتا
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی فجر دم چرواہے
ریوڑ کو چرانے جاتے ہیں
اور شام کے دھندلے سایوں کے ہمراہ
گھر کو آتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اور اپنی رسیلی بانسریوں میں
عشق کے نغمے گاتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا
وہ غارتِ ایمان کیسی ہے
بچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی
وہ آفتِ دوراں کیسی ہے
ہم دونوں تھے جس کے پروانے
وہ شمعء شبستان کیسی ہے
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
مرجانہ تھا جس کا نام بتا
وہ غنچہ دہن کس حال میں ہے
جس پر تھے فِدا طفلانِ وطن
وہ جانِ وطن کس حال میں ہے
وہ سروِ چمن وہ رشکِ وطن
وہ سیمیں بدن کس حال میں ہے
او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والے بتا
اب نامِ خدا ہوگی وہ جواں
میکے میں ہے یا سسرال گئی
گھر پر ہی رہی یا گھر سے گئی
خوشحال رہی ، خوشحال گئی
او دیس سے آنے والے بتا
او دیس سے آنے والے بتا ( اختر شیرانی )

یومِ خواتین ۔۔

اگر بزمِ ہستی میں عورت نہ ہوتی
خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی
ستاروں کے دلکش فسانے نہ ہوتے
بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی
جبینوں پہ نورِ مسرت نہ کھلتا
نگاہوں میں شانِ مروّت نہ ہوتی
گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے
فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی
فقیروں کو عرفانِ ہستی نہ ہوتا
عطا زاہدوں کو عبادت نہ ہوتی
مسافر سدا منزلوں پر بھٹکتے
سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی
ہر اِک پھول کا رنگ پھیکا سا رہتا
نسمِ بہاراں میں نکہت نہ ہوتی
خدائی کا انصاف خاموش رہتا
سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی ۔۔ ( ساغر صدیقی )

آخری چند دن دسمبر کے ۔۔۔۔

وہ آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے
کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنُما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
اُن کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا۔
××××××( امجد اسلام امجد )×××××

دسمبر بیت ہی جائے گا …

کہا تھا یہ دسمبر میں
ہمیں تم ملنے آؤ گے
دسمبر کتنے گذرے ہیں
تمہاری راہوں تکتے
نجانے کس دسمبر میں
تمہیں ملنے کو آنا ہے
ہماری تو دسمبر نے
بہت امیدیں توڑی ہیں
بڑے سپنے بکھیرے ہیں
ہماری راہ تکتی منتظر
پرنم نگاہوں میں
ساون کے جو ڈیرے ہیں
دسمبر کے ہی تحفے ہیں
دسمبر پھر سے آیا ہے
جو تم اب بھی نہ آئے تو
پھر تم دیکھنا خود ہی
تمہاری یاد میں اب کے
اکیلے ہم نہ روئیں گے
ہمارا ساتھ دینے کو
ساون کے بھرے بادل
گلے مل مل کے روئیں گے
پھر اتنا پانی برسے گا
سمندر سہہ نہ پائے گا
کرو نہ ضد چلے آؤ
رکھا ہے کیا دسمبر میں
دلوں میں پیار ہو تو پھر
مہینے سارے اچھے ہیں
کسی بھی پیارے موسم میں
چپکے سے چلے آؤ
سجن اب مان بھی جاؤ
دسمبر تو دسمبر ہے
دسمبر کا بھروسہ کیا
دسمبر بیت ہی جائے گا ( شاعر نامعلوم )
—————————–

بڑی پُرسکون تھی زندگی ۔۔

بڑی پُرسکون تھی زندگی
نیا درد کس نے جگا دیا
کسی بے نیاز نگاہ نے
میری وحشتوں کو بڑھا دیا
میرے کم سُخن کا یہ حکم تھا
کہ کلام اُس سے میں کم کروں
میرے ہونٹ ایسے سلے کے پھر
میری چپ نے اُس کو رلا دیا
اُسے شعر سننے کا ذوق تھا
اَسی ذوق و شوق میں اک دن
اُسے دل کا حال سُنا دیا
وہ نگاہ کیسی نگاہ تھی
یہ گریز کیسا گریز ہے
مجھے دیکھ کر بھی نہ دیکھنا
اس ادا نے راز بتا دیا۔۔۔۔۔۔
کسی نام سے کسی یاد سے
میرے دل کی بزم سجی رہی
کبھی یہ چراغ جلا دیا
کبھی وہ چراغ جلا دیا ۔۔۔ ( خلیل اللہ فاروقی )

ستمبر کی یاد میں …

اور تو کچھ یاد نہیں بس اتنا یاد ہے
اس سال بہار ستمبر کے مہینے تک آگئی تھی
اُس نے پوچھا
” افتخار ! یہ تم نظمیں ادھوری کیوں چھوڑ دیتے ہو”
اب اُسے کون بتاتا کہ ادھوری نظمیں اور ادھوری کہانیاں
اور ادھورے خواب
یہی تو شاعر کا سرمایہ ہوتے ہیں
پورے ہو جائیں تو دل اندر سے خالی ہوجاتا ہے
پھر دھوپ ہی دھوپ میں اتنی برف پڑی کہ بہت اونچا
اُڑنے والے پرندے کے پَر اس کا تابوت بن گئے
اور تو کچھ یاد نہیں بس اتنا یاد ہے
اس سال بہار ستمبر کے مہینے تک آگئی تھی ۔۔
افتخار عارف کی حرفِ باریاب سے انتخاب ۔۔

انجام —