Archive for حجاب کی باتیں

کتابوں کا جائزہ ۔۔۔۔۔۔

کتابوں سے اپنی دوستی پرانی ہے گو کہ اب وقت نکالنا پڑتا ہے کبھی کوئی کتاب اٹھائی پڑھی اور پھر دوسری یعنی ہر کتاب میری قسمت پہ رو رہی ہوتی ہے کہ میں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔ لیکن کتابیں خریدنے کا شوق کم نہیں ہوتا ۔۔۔۔
پچھلے سال کتب میلہ گئی تھی اور بہت ساری کتابوں کے ساتھ 2 کتابیں ایسی لے آئی جو میرے ساتھ شئرنگ کرکے کتابیں خریدنے والے فسادی بھائی کو پسند نہیں آئیں ۔۔۔۔ سال بھر یہ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے کہ تم نے پیسے ضائع کیئے ، کہا بھی کسی کو گفٹ کردو لیکن وہی بک بک ۔۔۔۔ اس بار کہا خود جاؤ لیکن میری مطلوبہ کتابیں لے آنا ۔۔۔ تو بس پھر جمع پونجی لٹا دی لیکن دل مطمئن کہ پیسے ضائع نہیں ہوئے ۔۔۔۔
مظہر السلام کی “ محبت مردہ پھولوں کی سِمفنی “ کا ابتدائی جائزہ لیا مصنف نے حرف حرف میں موتی پرو دیئے ہیں “ محبت کی روٹی روز تازہ پکانی پڑتی ہے “ والی لائن ہو یا “ محبت کی ایک نہیں کئی زندگیاں ہوتی ہیں “ ہر جملے پہ فدا ہونے کو دل چاہ گیا ۔۔۔
سرفراز شاہ کی “ فقیر نگری “ کا اب تک جتنا مطالعہ کیا یوں لگااب تک کی زندگی میں جتنی باتیں سُنی اور کیں وقت ضائع کیا ۔۔۔۔ روحانی گفتگو پڑھ کے اندازہ ہوا کہ زندگی میں سب کچھ ہی تو ہے اگر کچھ نہ ہونے کا غم ہے تو اپنے اِرد گِرد ایک نظر ڈالنا کافی ہے اس کے بعد شُکر ہی شُکر ادا ہونا چاہیئے لیکن ایسا کچھ دیر ہی ہوتا ہے پھر وہی نا شُکرا پن ۔۔۔۔
قمر اجنالوی کی “ دھرتی کے رنگ “ کا سرسری جائزہ لیا لگتا ہے اچھا ناول ہوگا ۔۔۔
مستنصر کی “ رتی گلی “ کے بارے میں بہت تعریف سُنی تھی ہے کیسی یہ پڑھ کے پتہ چلے گا ۔۔۔۔
“ فلسفہء محبت “ مصنف کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنا تعارف ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ہے اب آپ کی مرضی اس ڈیش میں بہار سے ملتا جلتا کوئی لفظ فٹ کرلیں ۔۔۔۔ اس کتاب کو لینے کا مقصد صرف اتنا کہ 50 روپے میں مل رہی تھی ۔۔۔ جائزہ لینے کا اتفاق شائد کبھی نہ ہوتا اگر فیس بک پہ اس حوالے سے تبصرے نہ پڑھے ہوتے ۔۔۔ انور مقصود کے “ فن پارے “ پہ غور کرتے ہوئے آگے بڑھی تو “ حسن نثار “ کہتے نظر آئے کہ وہ بابائے قوم کے بعد مصنف سے متاثر ہیں ۔۔۔
“ محمود شام“ کا کہنا ہے محبت کرنے والے مصنف کے ممنون رہیں گے کہ انہیں محبت کا ایسا فلسفہ پڑھنے کو ملا ۔۔۔
اجمل دہلوی کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والے کبھی صراطِ مستقیم سے نہیں بھٹکیں گے 😯
تمام لوگوں کی آراء پڑھنے کے بعد مختلف ابواب سے ہوتے ہوئے جب آپ “ خونی رشتوں میں جسمانی کشش “ پہ جائین تو توبہ استغفار کے بعد صفحہ 47 پہ چلے جائیں ۔۔۔ استاد اور شاگرد کی محبت پرانی پاکستانی فلم “ نہیں ابھی نہیں “ سے متاثر لگے گی ۔۔۔ صفحہ 48 سے 78 تک “ تباہ کُن “ اور “ جینیٹک “ پہ زور ہے ۔۔۔
جائزے میں پندرہ تباہ کن منٹ لگے اور برباد ہوگئے وقت کی قدر کرنا سیکھیں 😛

Advertisements

پڑیئے گر بیمار ۔۔۔۔

ہیلو کیسی ہو ۔۔۔ کہاں غائب ہو نہ فون نہ میسج ۔۔۔ عید کیسی گزری ۔۔۔ عید بس میں تو عید کی صبح ۔۔۔۔۔۔ ہاں مصروف ہوگی بہاری کباب بنا کے کھا لیا ہوگا یاد تو نہیں آئی ناں ہماری ۔۔۔۔۔ مجھے کب کھلا رہی ہو ۔۔۔۔ میں کچھ کہوں اگر اجازت ہو ؟؟ ہی ہی ہی ہاں بولو ناں ۔۔۔ میرا پاؤں پھسل گیا تھا عید کی صبح تو بس ایویں گزری عید ۔۔۔ او ہو سب خیر تو ہے مہرہ وہرہ تو نہیں ہٹ گیا جگہ سے ۔۔۔ اس موسم کی چوٹ کا اثر تو اب رہے گا دیر تک ۔۔۔ فلاں کو ایسا ہوا تھا سالوں گزر گئے اب تک پوری طرح نہیں ٹھیک ۔۔۔ علاج کرو یونہی چھوڑ دیا تو مشکل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ کوئی نہ ہو ایسا تیمار دار جو تسّلی دینے کی بجائے ننّھا سا دل دہلا دے 🙄
جب سے پیر پھسلا بار بار یہ گانا یاد آیا “ آج پھسل جائیں تو ہمیں نا اٹھئیو “ ہم پھسلیں تو تختے پہ سوئیں اور اس گانے میں 😛 سوچنے کی بات ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔

میں اداس ہوں ۔۔۔

وقت اتنی تیز رفتاری سے گزر رہا ہے جیسے بلائیں پیچھے لگی ہوں ۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو عید کی تھکن اتری تھی اور اب بقرعید آکے چلی گئی لیکن پھر وہی مہمانوں کا جمِّ غفیر اور میں ۔۔۔۔۔۔
مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ موسم چاہے جتنی کروٹ لے دل و نظر کو تسکین تو ملتی ہے مگر مدّح سرائی میں کوئی تحریر نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خزاں کا ذکر نہ ہو یہ ہونہیں سکتا ، خزاں کا حسین موسم درختوں پہ دستک دے چکا ہے ۔۔۔ آنگن میں جابجا بادام کے سرخ رنگ پتے بکھرے ہوئے ہیں لیکن خشک پتوں کا وہ مدھُر حسین ساز جسے سن کر روح سرشار ہوا کرتی تھی کہیں کھو گیا ہے ، یا شائد میں اداس ہوں کہ بادام کا درخت اپنی زندگی کے آخری ایّام گزار رہا ہے ۔۔۔۔۔ اگلے سال یہ منظر نہیں ہوگا ۔۔۔ بہت چاہا کہ گھر کی تعمیر میں درخت نہ کٹے لیکن 😦
خیر زندگی میں تبدیلیاں تو آتی رہتی ہیں ، درخت لگانے والے نہیں رہے تو درخت کی کیا اہمیت ۔۔۔ بادام کے پتے تو میں ڈائری میں جمع کرلوں گی مگر غم تو اس بات کا ہے کہ کُھلا آنگن ۔۔۔ دھوپ ۔۔۔ بارش ۔۔ چاند اور چاندنی میرے بِنا اداس ہوجائیں گے 😛 😦 ویسے اب تک ہار نہیں مانی میں نے درخت کو بچانے کی کوشش آخری وقت تک جاری رہے گی ۔۔۔۔

اولڈ از گولڈ ….

مجھے گولڈ پسند نہیں ۔۔۔ وُڈ ، اسٹون ، پرل ، پرانی چیزیں اور روایات کی عاشق ہوں لیکن تھوڑی بہت جدّت بھی ساتھ ہوتی ہے کہ زمانے کے ساتھ بھی چلنا ہے ۔۔۔ لیکن دوستی میں جدّت ناقابلِ معافی جرم لگتی ہے ۔۔۔ کسی پرانی سہیلی سے اچانک ملنے پہ اس کے انداز میں ازلی گھٹیا پن اور سلام دعا کے بغیر بے ساختہ جملے بازی سے دل میں ٹھنڈ پڑ کر یوں محسوس ہوتا ہے یہی زندگی ہے ۔۔۔
رواں ہفتے کا ایک دن میرے لیئے بھی ایسا ہی تھا ۔۔۔ سویرے سویرے کسی کی آمد پہ مکمل تفتیش کے بعد دروازہ جو کھولا تو ! ارے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر شروع ہوئے اسکول کے قصّے ۔۔۔ ناکام محبت کی کہانیاں ۔۔۔ کون کس ٹیچر پہ مرتی تھی ، ویسے سندھی کے اقبال سر تھے بھی تو شاندار ۔۔۔ اس پہ ان کا چشمہ اور غصّہ ۔۔۔ بے چاری معصوم لڑکیاں 😛
سب کچھ بلاگ از بام نہیں کیا جاسکتا اتنا کافی ہے کہ ہنستے مسکراتے اس وعدے پر دن تمام ہوا کہ
لوگ کہتے ہیں زندہ رہے تو ملتے رہیں گے
ہم کہتے ہیں ملتے رہے تو زندہ رہیں گے ۔۔۔

بارش کا ہے موسم ۔۔۔

واہ کیا خوبصورت موسم ہے ۔۔۔ رم جھم پڑتی پھوار سے پھول پودے پرندے سب خوش ہیں لیکن سامنے شاپ والے سے شاید کوئی ناراض ہے “ بھری برسات میں پی لینے دو “ صبح سے یہی ایک گانا لگایا ہوا اس نے ۔۔۔ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے ۔۔۔ انڈا پراٹھا چائے کا ناشتہ کرنے کے باوجود بھوک لگنے لگی ہے ۔۔۔ مہمانوں کے لیئے کیک منگوا کر رکھا تھا اب بارش میں کون آئے گا بھلا ۔۔۔۔ کیک پہ کب سے نیت خراب تھی کھا ہی لوں ۔۔۔۔

تیز رو زندگی ۔۔۔

آخری بلاگ کب لکھا تھا تاریخ یاد نہیں ، نہ جانے کتنی پوسٹس کا خیال ہی رہا کہ یہ بھی لکھنا ہے وہ بھی لکھنا ہے ۔۔۔ لیکن دن گزرتے گئے اور بلاگ لکھنے کا وقت نہیں ملا یا یوں کہنا بہتر کہ وقت ملا لیکن “ پھر سہی “ پہ ٹالنا اچھا لگا ۔۔۔ یہ اور وہ تو اب یاد نہیں مگر ایک پوسٹ مرد حضرات کے بارے میں تھی ، لگائی بجھائی میں کم نہیں ہوتی یہ صنف خواہ مخواہ نام خواتین کا بدنام کیا ہوا ہے ۔۔۔ اس پہ رمضان کے بعد لکھوں گی ابھی لکھ کر جنگ کرنی پڑے گی سارے حضرات آ جائیں گے معصوم بن کر 😛 اور فی الحال ٹائم نِشتہ ۔۔۔۔
رمضان شروع ہونے والے تھے تو گرمی کی شدت سے بارہا یہ سوچا کہ یا اللہ اس بار روزے کیسے گزریں گے ۔۔۔ 2 روزے بے حال گزرے پھر اللہ نے کرم کردیا اور آج انیس روزے ہوگئے ۔۔۔
مجھے روزے میں بھوک نہیں ستاتی لیکن افطار تو بنانی ہوتی ہے اسی بارے سوچتے ہوئے آج دوپہر اخبار پہ سرسری سی نظر ڈال کر جیسے اخبار رکھا ایک اشتہار پہ نظر پڑی “ افطار دلچسپی “ ہوش میں آگئی میں کہ یہ کیا پھر سے دیکھا تو “ اظہارِ دلچسپی “ لکھا تھا 😳 پھر جو ریکارڈ لگا بھوکی ندیدی روزہ لگ گیا کا وہ تفصیل سے لکھنے کی کیا ضرورت 😛
یہ لفظوں کے ہیر پھیر تو اکثر ہوتے رہتے ہیں اس میں پبلشر کا قصور ہوتا ہے جلد بازی کا نہیں ، حروف فاصلے سے ٹائپ کیئے گئے ہوں تو یہی ہوگا ناں جیسے کتابچہ میں فاصلہ ہو تو “ کتا “ “ بچہ “ ہی پڑھا جائے گا اور بھی بہت سے لفظ ہیں یاد نہیں آرہے ۔۔ دعا اور دغا ، محرم اور مجرم والا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہوگا ۔۔۔
آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہوگا ایسا ؟؟ تو بتایئے اور معلومات میں اضافہ کیجیئے ۔۔۔

فیس بک اور ہم ۔۔۔

5 مئی سنڈے میگزین میں شائع ہونے والا یہ مضمون

جو فیس بک کے حوالے سے ہے اسے پڑھ کے سوچا کیا میرا شمار بھی اس میں ہوتا ہے ۔۔۔ جواب نفی میں ملا کہ نہیں نہیں تمہاری اوقات تو دو یا تین گھنٹے روزآنہ ہے ۔۔۔ کچھ لائیکیاں مار لیں اور کبھی جب ” بکواسی گروپ “ مل جائیں تو بکواس کرلی ۔۔۔ اسٹیٹس کبھی لکھا کبھی نہیں ۔۔۔ اس بات پہ کوئی اعتراض نہ کرے پورے 4 دن بعد کل لکھا تھا اسٹیٹس میں نے 😛
اس مضمون کے حساب کتاب سے ” ڈفر “ کا شمار خطرناک پاگلوں میں ہوتا ہے ، پتہ نہیں کیوں آزاد چھوڑا ہوا ہے بچ کے رہنا لوگو ۔۔۔۔
زینب جب ٹھیک ہوتی ہے تو اردو میں تبصرے لکھتی ہے ورنہ تو دونوں پھپھی بھتیجا مل کے میرے خلاف پنجابی لکھتے ہیں جو مجھے سمجھ نہیں آتی ۔۔۔ 🙄
ضیاءالحسن اب ہر تبصرے کے آخر میں بتیسی کم نکالتے ہیں ، اتنی بڑی تبدیلی کی وجہ کا فی الحال اندازہ نہیں ہوسکا تحقیق جاری رہے گی ۔۔۔
جعفر کو غرور ہے کہ وہ بڑے ہوگئے ہیں فیس بک بچوں کا کھیل ہے ۔۔۔ یاسر جاپانی بھی جعفر کے ساتھی ہیں اب کم نظر آتے ہیں ۔۔۔
ناسٹلجیا کی ماری میں بھی ہوں لیکن ” علی حسان “ پہ ناسٹلجیا ختم ہے ۔۔
“ سعد مالک “ زینب کا جوڑی دار کھانے پینے کے اسٹیٹس اور تصویریں پوسٹ کے خود کو تسلی دینے کا ماہر ۔۔۔
شبیہ دن میں ایک بار آکے دعا کروا جاتی ہے سب آمین کہہ کے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں فرق کوئی نہیں پڑتا ۔۔۔۔
تانیہ رحمان کو ادھورے گانے کی پہیلی بوجھ کر خوش ہونا اچھا لگتا ہے ۔۔۔
سارہ کو “ جون ایلیا “ ہوگیا ہے اور تبصرے میں پان کھائی زبان دکھانے کی عادت ۔۔۔۔
بقول زینب کچھ ڈنگر بھی ہیں فیس بک پہ جن میں ایک حضرت ہیں دوسری خاتون ، دونوں ایک جیسے ہیں ۔۔ نام لکھ دیا تو نقصِ امن کا خطرہ ہے ویسے میں متفق ہوں زینب سے ۔۔۔
سائرہ ملک عرف پتہ خود پسندی کی انتہا پہ ہوتی ہے ۔۔۔
واصف خر دماغ کبھی جو ایک بات میں بات سمجھ لے نتیجہ لڑائی ۔۔۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں فیس بک پہ جو صرف لائک کرتے ہیں ( بھاؤ کے علاوہ ) بھاؤ تو معصوم بندہ 🙂 جو صرف لائک کرتے ہیں ان کو چاہیئے کہ لکھیں ہم ہیں ناں اسٹیٹس تباہ کرنے کے لیئے ۔۔۔
مونا محموود ہمیشہ الزام کی زد میں رہ کے صفائیاں پیش کرتی ہیں لیکن بے اثر ۔۔۔
عمران اقبال ہمیشہ پریشان حال 😛
اور کون کون رہ گیا ذکرِ خیر سے یہاں آکے حاضری لگوائیں تاکہ تعریف کی جائے ۔۔۔ میں نے اپنے رشتہ داروں کا ذکر نہیں کیا اس لیئے ” چاند پوتے “ ” سمید “ اور ” حمیرا شہزاد “ شکوہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
دنیا آپ کے ساتھ اچھا کرے یا برا سب کچھ فیس بک پہ اگل دینا ہے ناں پاگل پن ، فیس بک نہ ہوئی دوست کا شولڈر ہوگیا کہ کندھے پہ سر رکھ کے کہہ سن کر جی ہلکا ہوجائے ۔۔۔ سارے فیس بکی میگزین کے مضمون پہ فٹ ہیں 😳 اور میں 😉

ہفتہء شرمندگی ۔۔۔

گھر لشکارے مار رہا ہو ہر چیز اپنی جگہ قرینے سے رکھی ہو ۔۔۔۔ فریج میں مہمانوں کی خاطر داری کے لوازمات موجود ہوں ، ایسے میں منڈیر پہ کاگا بول بول کے تھک جائے لیکن کسی مہمان کے مبارک قدم گھر کی دہلیز تک نہیں آتے ۔۔۔۔۔ یہاں تک کے کوئی محلّے سے بھی نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جب کبھی گھر کی سیٹنگ بدلنی ہو یا تجاوزات کے خاتمے کے لیئے اسٹور روم کی صفائی کی جارہی ہو ایسے میں گلی محلّے اور روز مرّہ کے آنے والوں کے ساتھ وہ مہمان بھی تشریف لاتے ہیں جو کافی عرصے بعد پاکستان آئے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ میں جھاڑو لیئے بھنگن والا حلیہ دروازہ کھولنے پہ امریکہ پلٹ مہمان کی صورت نظر آئے تو شرمندگی کے ساتھ ڈائجسٹ کی کہانیاں یاد آتی ہیں ، جس میں امریکہ پلٹ موصوف جھاڑو ہاتھ میں لیئے شپا شپ پانی پھینکتی بھنگن ہیروئن کی جھاڑوآنہ اداؤں میں الھجتے ہیں تو واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ سب ہوتا ہے کہانیوں میں ، اصل زندگی میں تو رشتہ داروں کی صورت نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر چاہے اپنے ڈوپٹے سے کرسی صاف کرکے پیش کردو تسلّی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔ جب سے پاکستان چھوڑا ڈسٹ الرجی ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں کچھ اچھا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ دیارِ غیر میں رہ کر اپنے وطن کی مٹی کو یاد کرنے والے جب واپس آتے ہیں یونہی نخرے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ میں بلاوجہ امریکہ کے رعب میں آگئی ڈوپٹے سے صفائی کرڈالی ۔۔۔۔ لیکن کچھ دیر کا رعب تھا پاکستان پہ طنز کے نشتر برداشت نہ ہوسکے پھر جو بحث شروع ہوئی تو نہ انہوں نے ہار مانی نہ میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات ختم میرے یہ کہنے پہ ہوئی کہ اس بار واپس جائیں تو پاکستانی سوغاتوں سے بھرے ہوئے باکس مت لے جایئے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے تیوری کے بل مزید گہرے ہونے سے پہلے ٹھنڈا ٹھار شربت روح افزاء مشروبِ مشرق پیش کردیا ۔۔۔۔۔
ہفتہء شرمندگی کیا منایا وطن کی محبت جاگ اٹھی ۔۔۔۔ ارضِ پاک میں لاکھ مسئلے مسائل برائیاں سہی لیکن ہے تو اپنا ۔۔ اے ارضِ پاک ۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے جنگل جزیرے مہکتے رہیں ، تیرے مرجان موتی چمکتے رہیں
تیرے سبزے کی چادر پہ بادِ صبا، رقص کرتی رہے پھول کھلتے رہیں
جنگ ہو ،امن ہو ، یا کوئی دَور ہو، سرحدوں کا تری رنگ ہی اور ہو
طبل کی دھن پہ بھی فاختہ کی نوا، رقص کرتی رہے پھول کھلتے رہیں ۔۔۔۔۔

کمینی خوشیاں ۔۔۔

پاکستان خاص طور پر کراچی کے جو حالات ہیں اس وجہ سے ہر کوئی نفسیاتی ہوچکا ہے بے شک میں بھی ۔۔۔۔ بقول غالب مشکلیں اتنی پڑیں ہم پہ کہ آساں ہوگئیں ، یہی حال کراچی میں بسنے والوں کا ہے ۔۔۔ مسئلے اتنے ہیں کہ اب مسئلے ختم اور انجوائے منٹ شروع ہوگئی ہے ، اسے حالات سے فرار کہنا مناسب ہوگا ، لیکن کیا کیا جائے کہ جسمانی صحت تیزابی پانی سے پیدا کردہ سبزیاں اور مصنوعی غذائیں کھا کر تو داؤ پہ لگ چکی ذہنی صحت بچانے کے لیئے جتن تو کرنا ہی پڑیں گے ورنہ اتنے پاگل خانے کہاں سے آئیں گے ۔۔۔۔
اس کا حل اب یہ ہے کہ ہنگامے ہوں یا پانی بجلی نایاب پرواہ نِشتہ جلنا ُکڑھنا پرانی بات ہوئی اب ان میں خوشیاں تلاش کیجیئے کمینی خوشیاں ہی سہی ۔۔۔
آپ کے ہاں لائٹ ہو پڑوس میں اندھیرا ۔۔۔ اُففف سکون ہی سکون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جب ہماری نہیں تھی تو انہوں نے کُنڈا لگانے نہیں دیا تھا ۔۔۔ مہینے بھر سے پانی نہ آیا ہو دوسرے کو بولیں آیا تو تھا ٹینشن دیں ٹینشن اور رات کو چپکے سے ٹینکر ڈلوالیں ۔۔۔ یہی کرتے ہیں ہمارے محلے کے فسادی لوگ ۔۔۔ اور مجھے یہ سننے کو ملتا ہے کہ تم دیر سے سو کے اٹھی ہوگی پانی آیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ بے یقین دنیا 🙄
کسی کی کوئی بات بری لگے صبر سے اس کے خوش ہونے کا انتظار کریں پھر اتنا تپائیں کہ جل بُھن کے پھیکے شلجم جیسا منہ بن جائے ، یہ خوشی تادیر یاد رہے گی 😛
حسد ۔۔ جلن ۔۔ دوسروں کی مشکل پہ خوش ہونا ۔۔۔ تمہارے ساتھ ایسا ہوا چلو کوئی بات نہیں میرے ساتھ بھی تو ہوا تھا جیسی باتیں کہہ کر دل جلا کے خوشی محسوس کرنا ، یہ سب پہلے بھی ہوتا تھا لیکن آج کل فیشن میں ہے بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہے کہ
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
یہی چلن ہے آج کے زمانے کا پتہ نہیں کیسے دل دُکھا کے اور دوسروں کی مشکل پہ خوش ہوتے ہیں لوگ ۔۔۔۔ میں صرف سوچتی ہوں ایسی کی تیسی دنیا کی اب میں نے بھی یہی کرنا ہے ۔۔۔۔۔ اور پھر صرف برا سوچنے پر کچھ کرنے سے پہلے میرے ساتھ ہی ایسی کی تیسی ہو جاتی ہے 😦
کمینی خوشیاں میں بھی انجوائے کرتی ہوں لیکن بہت چھوٹی چھوٹی بے ضرر باتوں پہ جس میں کسی کا نقصان نہ ہوا ہو ۔۔۔ اور آپ کو کب یہ خوشی محسوس ہوتی ہے ؟؟؟

ذکر ایک محفل کا ۔۔۔۔

جب کبھی کسی تقریب کا بلاوا آئے کارڈ ہاتھ میں پکڑتے ہی خیال جاتا ہے الماری کی طرف ۔۔۔ کون سا سوٹ بہتر رہے گا اس تقریب کے لیئے ۔۔۔ وہ والا ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں وہ ابھی تو پہنا تھا ۔۔۔ پھر دوسرا کون سا ۔۔۔ خیالوں میں سارے سوٹ آگئے لیکن وہ نظر نہیں آسکا جو اچھا لگے ۔۔۔ اور آئے بھی کیسے منحوس فیشن آج کل کے ۔۔۔ میں لاکھ اس محاورے کو غلط ثابت کروں کہ کھاؤ من بھاتا پہنو جگ بھاتا ۔۔۔ میں کھاتی بھی من بھاتا ہوں اور پہنتی بھی لیکن کب تک اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے کہ پینڈو آؤٹ آف فیشن نہ لگوں ۔۔۔ اور اِن رہنے کے لیئے مشقت کرنی پڑتی ہے وہ بھی ایسی کہ سوچ سوچ کے برا حال ہوجائے کہ پرانے فیشن کی چھوٹی قمیض کو کیسے بڑا کیا جائے ۔۔۔ قمیض سے اچھے تو بچے ہیں نیڈو پی کے بڑے تو ہوجاتے ہیں ۔۔ بہرحال کچھ نہ کچھ کر ہی لیا گیا اور ہم پہنچے تقریب میں وہ بھی خاندانی تقریب ۔۔۔ بڑے دنوں بعد آج خبطیوں ، خبیثوں ، اور پاگلوں سے پاگل کی ملاقات ہوئی ۔۔۔ کہیں ہاتھ پہ ہاتھ مار کے ہنسنا تو کہیں دانت پیس کے دوسرے کی برائی کرنا ۔۔۔ سرخ بالوں والی چڑیل پہ فقرے کسنا اور میک اپ کے غلط استعمال پہ مفید مشورے ۔۔۔ بڑھتی عمر کے ساتھ لوگ بڑے ہوتے ہیں لیکن اکثر پچپن سے بجپن کی طرف لوٹتے نظر آئے ۔۔۔ اکّا دکّا ناگن ہیئر اسٹائل بھی نظر آئے یوں لگتا ہے دیکھ کے جیسے ڈسنے کو تیار ہوں ۔۔۔ کچھ نئی پریم اسٹوریاں کچھ دشمنیاں پتہ چلنے کے بعد جب کھانے کی باری آئی تو ہر کوئی یوں جدا ہوا جیسے کبھی جان پہچان نہ تھی ۔۔۔ ہاتھ میں چمچہ نظر آگیا تو ، او تم یہاں ہو ذرا میری پلیٹ میں ڈالنا ۔۔ پلیٹ بوٹیوں سے بھری ہوگی لیکن بڑی بوٹی وہ بھی اچھی والی کی ڈیمانڈ کم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔میں بھی ایسے موقع پر انجان نظروں سے تکتے ہوئے بہری بننے کی قائل ہوں 😳
کھا پی کے پھر سب ایک دوسرے کو پہچاننے لگے اور پھر جو سُر سے سُر ملا کے نامور گلوکاروں کی روح تڑپائی گئی اللہ جانے کیسے قرار آیا ہوگا سب کو لیکن ہال والے شاید بیزار ہوچکے تھے کچھ دیر بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ٹائم اوور ہوچکا تھا ہال کی لائٹس آف کردی گئیں اور ہم گھر لوٹ آئے کچھ ہنستے مسکراتے کچھ جلتے جلاتے ظاہر ہے خاندانی تقریب تھی 😛 </p

Next entries » · « Previous entries