عالمی کُتب میلہ ۔۔۔

جب مجھے کُتب میلہ کے بارے میں پتہ چلا اسی وقت سے سوچ کی پرواز اڑانا شروع کی کہ کسی کتاب کا نام یاد آجائے جو مجھے لینی تھی ، یا کسی نے کہا ہو کہ یہ کتاب ضرور پڑھنا ۔۔۔ بلندی پہ پہنچ کے یاد آیا ہی تھا کہ مجھے “ انجم انصار “ کی “ جلترنگ “ لینا ہے ۔۔۔ اسی وقت سوچ کا پیچا اس سوچ سے لگ گیا کہ میری جمع پونجی کتنی ہے ۔۔۔ اور اگر میں کتابیں لوں تو بعد میں کرائے پہ دینی پڑے گی ۔۔۔ ہمارے گھر میں پانچ گھنٹے کے بیس روپے میں کتاب ایک دوسرے کو پڑھنے کے لیئے دی جاتی ہے ۔۔۔ اگر خریدتے ہوئے پیسے ففٹی ففٹی نہ ہوں تو 😛
مشکل سے کبھی 40 روپے ہی ملے ہونگے اس لیئے کہ ہم اکثر ایک دوسرے کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کتاب پڑھ کے جہاں اور جیسے تھی رکھ دیا کرتے ہیں ۔۔ یہ بے ایمانی میں نے ہی شروع کی تھی جو اب مجھ پہ ہی آزمائی جاتی ہے ۔۔۔
خیر جناب کچن کانفرنس میں طے پایا کہ آنے جانے کا کرایہ اور کتابوں کی قیمت سب ففٹی ففٹی ۔۔۔ ساتھ یہ کہ جو کتابیں میں لاؤں گی اس پہ اعتراض کی گنجائش نہیں ہوگی ۔۔۔
ایکسپو پہنچ کر سب سے پہلے “ اشتیاق احمد “ کا اسٹال تلاش کیا ۔۔۔ تصویریں تو دیکھی تھیں اور فون پر بات بھی ہوئی تھی لیکن روبرو ملاقات اور نئے ناول پہ آٹوگراف لے کر خوشی ہوئی ۔۔۔

Photo0198

اب مرحلہ تھا ان کتابوں کی تلاش کا جس پہ نظر پڑتے ہی دل کہے ہاں یہی تو لینا تھی ۔۔۔ ہر اسٹال پہ نئے لکھاریوں کی بھرمار ۔۔۔ مجھے تلاش تھی “ عصمت چغتائی “ کی ۔۔۔ عصمت کی کلیات مل گئی لیکن اس میں وہ افسانہ نہیں جس کی مجھے تلاش تھی ۔۔۔
ہر اسٹال پہ یہی دل چاہتا کہ یہ بھی لے لوں وہ بھی اور وہ بھی ۔۔۔ دل کی باتیں سنی ان سنی کرتے ہوئے بھی “ قمر اجنالوی “ کی “ چاہِ بابل “ ایک اسٹال پہ چھوڑ کے دوسری جگہ سے لے لی ۔۔۔ بعد میں پچھلے سال کی بلاگ پوسٹ دیکھ کر یاد آیا کہ جاوید گوندل صاحب نے کہا تھا ضرور پڑھیں ۔۔۔
جعفر نے فیس بک پہ “ اداس نسلیں “ سے اتنے اقتباسات پوسٹ کیے ہیں کہ دل چاہا پڑھ کے دیکھوں ذرا ۔۔۔ “ اشفاق احمد “ پہ نظر پڑی تو “ بابا صاحبا “ اٹھا کے سرسری نظر ڈالی ، بانو قدسیہ کا لکھا گیا تعارف پڑھ کے بابا جی کو جاننے کی خواہش ہوئی ۔۔۔
سنجیدہ کتابوں کے بعد “ نذیر انبالوی “ کی “ طنز و مزاح کا انسائیکلوپیڈیا “ بھی ضروری لگا ۔۔۔ “ مستنصر حسین تارڑ “ کو کیسے نظر انداز کرتی ۔۔۔ “ برفیلی بلندیاں “ اور “ ہنزہ داستان “ بھی لے لی گئی ۔۔۔
دل اب بھی بیقرار تھا مزید کتابوں کے لیئے لیکن اچھے خاصے ڈسکاؤنٹ کے باوجود جمع پونجی ختم ہوچکی تھی ۔۔۔ ساتھ یہ بھی سُننے کو ملا تم نے بھلا کب پڑھنی ہیں کتابیں ۔۔۔ سرہانے رکھ کر دیکھ کے خوش ہوتی رہو گی چلو اب ۔۔۔۔ مزید چلنے کی ہمت واقعی نہیں تھی اس لیئے واپسی کی راہ لی ۔۔۔

4 تبصرے »

  1. یہ ساری کتابیں مجھے ارسالیں ۔

  2. زینب بٹ Said:

    چاہ بابل مجھے بھی ارسال کرنا

  3. بہت خوب۔ ماشاءاللہ کتابوں کا اچھا شوق اچھے لوگوں کو ہی ہوتا ہے لیکن کوشش کر کے ایسی کُتب لی جائیں جنہیں کتب کہا بھی جا سکے۔ آجکل ہر دوسرے شخص کا جو جی میں آئے لکھ مارتا ہے۔ لہٰذا احتیاط سے کتب لی جائیں۔

    اشتیاق احمد کے بارے میں کیا کہوں🙂 بس جب نام یا شکل دیکھنے کو ملے تو عجب سی مُسکراہٹ چہرے پر آتی ہے۔ خط وغیرہ کا سلسہ، آٹو گراف اور فون پر بات تو میری بھی ہوچکی لیکن کبھی مُلاقات کا شرف نہیں ملا۔

  4. چاہ بابل اور اداس نسلیں میں وہی فرق ہے جو کھوتی ریڑھی اور رینج روور میں ہوتا ہے۔ نو آفینس۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: