مرد حضرات کا عالمی دن ۔۔۔۔

صنفِ نازک کی تعریف اور حُسن کے قصیدے شعراء تمام عمر لکھتے رہتے ہیں مطمئن نہیں ہوتے ۔۔۔۔ اخبارات میں عورتوں کے مظلومیت کی داستان ہو یا عالمی دن ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کچھ ایسا لکھے کہ بازی لے جائے ۔۔۔۔ لیکن مرد کے لیئے اس وقت لکھا جاتا ہے جب اس نے عورت پہ ظلم کیا ہو ۔۔۔ کبھی کوئی مردوں سے ان پہ ہونے والے ظلم کی داستان تو پوچھے ۔۔۔ شاپنگ سینٹرز میں بچوں کو گود میں اٹھائے شاپنگ بیگ سنبھالے بیویوں کے پیچھے چلتے چلے جاتے ہیں ، آخر میں ایک رومال ملتا ہے پسینہ پوچھنے کے لیئے ۔۔۔
بائیک پہ سُکڑ سمٹ کے بچوں کی فوج کو چمگادڑ کی طرح خود سے چپکا کے بٹھاتے ہیں اور محترمہ طمطراق سے پھیل کے بیٹھی ہوتی ہیں ۔۔۔ فُل ٹائم جاب کے بعد گھر آ کے کپڑے استری کرنا ۔۔ کھانا پکانا ۔۔ بچوں کو نہلانا ، اس طرح کی ذمہ داریاں بھی اکثر گھروں میں حضرات کے ذمے ہوتی ہیں ۔۔۔ مرد کہیں ظالم ہے تو کہیں مظلوم لیکن ساتھ حاکم بھی ہے ، اس لیئے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پہ حکمرانی دی ہے ۔۔۔
تو جناب حضرات صاحبان ! آج آپ کا دن ہے ۔۔۔ 19 نومبر 1999 کو یہ دن پہلی بار منایا گیا ۔۔۔ اس کا مقصد مردوں کے حقوق کی بات کرنا نہیں بلکہ صرف یہ تھا کہ صنفِ کرخت اپنی صحت کی طرف توجہ دیں ۔۔۔۔ تو پھر ذرا جلدی سے تیار شیار ہوکے یہ سوچیں کہ آپ کی صحت کیسی ہے ساتھ یہ بھی کہ آپ ایک بہتر مرد کیسے بن سکتے ہیں تاکہ آپ کے لیئے بھی لکھا جائے تعریف کی جائے 🙂
مرد حضرات بارعب لہجہ ، نشست و برخاست کے طریقے اور موقعے کی مناسبت سے ہنسی مذاق کے آداب جانتے ہوں تو ان سے بات کرنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ جو لوگ بلاوجہ خواتین کے سامنے ہنس رہے ہوتے ہیں ان کی بتیسی توڑ کے ان کو تھما دینی چاہیئے ۔۔۔ سب سے اہم ترین بات کہ مُچھ نئیں تے کچھ نئیں ، مونچھوں کے بغیر اچھا بھلا بندہ چِھلا ہوا مرغا لگتا ہے 😛
شیکسپیئر نے کہا تھا کہ “ دنیا کہ اسٹیج پر سب سے خوبصورت کردار عورت کا ہے “ اتنا بڑا اعزاز عورت کو دینے والا مرد ہی تو ہے ۔۔۔۔ مرد چاہے باپ ، بھائی ، بیٹا شوہر یا کوئی بھی رشتہ رکھتا ہو اپنے گھر کے اس مضبوط سائبان کی قدر کیجئے ۔۔۔

Advertisements

10 تبصرے »

  1. بی بی ۔ آپ نے ہمیں سائبان بنا دیا ۔ آندھی آئی تو پھٹ جائیں گے ۔ تابعدار مرد بنا دیتیں تو اچھا تھا ۔
    مرد کی جو خصوصیات آپ نے بیان کیں ہیں انہیں پڑھ کے تو لگتا ہے کہ ہم ساری عمر غلط فہمی میں رہے کہ ہم مرد ہیں ۔ مردوں کے سامنے مزاح اور عورتوں کے سامنے جیسے کبھی ہنسے ہی نہیں ۔ بہنیں ۔ بیوی اور بیٹی اس میں شامل نہیں ۔
    بقول میری بیگم باورچی خانہ میں میرا کوئی کام نہیں اور گھر کے اندر سارے کام میری ذمہ داری نہیں ۔ سامان یا بچہ اُٹھا کر بیگم کے پیچھے کبھی نہیں چلا ۔ ڈیڑھ سال سے یعنی جب سے بیگم کی طبیعت ٹھیک نہیں تو کچھ رعائت ملی ہے لیکن باورچی خانہ کی نہیں ۔ اسی لئے میں پھوہڑ ہوں یعنی کھانا پکانا نہیں آتا ۔
    میری ذمہ داری پیسہ مہیاء کرنا اور گوشت پھل سبزی آٹا چاول دالیں وغیرہ لانا ہے ۔
    یومِ مرداں کے حوالے سے بھی میرے پاس نہ چربی ہے کہ پگھلاؤں اور نہ توند ہے کہ کم کروں ۔ اللہ کے کرم سے خون کا دباؤ حدود میں ہے اور شوگر 90 سے اوپر کبھی نہیں گئی ۔
    شیکسپیئر نے درست کہا تھا ۔ واقعی دنیا کے سٹیج پر خوبصورت کردار عورت کا ہے لیکن شیکسپیئے کے علاقے کی عورتوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور وہ مرد کے ہاتھ میں کھلونا بن کر سمجھتی ہین کے ازاد ہو گئی ہیں
    اور ہاں یہ وردپریس والا بھی کوئی ظالم مرد ہی ہو گا جس نے ورڈپرس کو پردہ کرا دیا ہے کہ صرف ہم جنس ہی یعنی ورڈپریس والا ہی ا سکتا ہے ۔ لیکن میرے جیسے مرد ہیرا پھیر کر کے اپنے انگریزی بلاگ کے راستے آ جاتے ہیں
    http://www.theajmals.com

  2. شکر ہے کوئی تو ہے ہماری خیریت پوچھنے والی۔

    ویسے کوئی کام وام تو نہیں لینا مردوں سے ،کہ تعریف کرکے پہلے خوش کردو پھر کہو کہ بھائی را باار سے فلاں چیزز تو لے آو۔دیکھو کتنے اچھے ہو،لولولو

    اور بس پھر چھوتا بھائی بیچارہ ان باتوں میں آکر پھر بے گار میں جُت جاتا ہے۔

    بہر حال ہمیں مبارک ہو مردوں کا عالمی دن

  3. احمر Said:

    ۔۔۔
    ۔۔ کہ صنفِ کرخت اپنی صحت کی طرف توجہ دیں ۔۔۔۔ تو پھر ذرا جلدی سے تیار شیار ہوکے یہ سوچیں کہ آپ کی صحت کیسی ہے
    ۔۔۔

    بجا ارشاد فرمایا
    اپنی مرد جاتی کی توجہ کے لیے ایک چھوٹا سا واقعہ سنا دوں

    جس کی راوی ہماری اہلیہ ہیں فرماتی ہیں کہ ایک کورس کے دوران ایک خاتون نے ہماری ٹیچر کے بارے میں جو بہت خوبصورت تھیں بتایا کہ میں ان کے گھر گی تھی اور ان کے شوہر نامدارکے بھی دیدار ہوے، سب نے اشتیاق سے پوچھا کہ وہ کیسے تھے ، خاتون نے نہایت مزاحیہ قسم کی سنجیدگی سے جواب دیا کہ "جیسا کہ تمام شوہر ہوتے ہیں”- اس پر ایک اجتماعی قہقہہ بلند ہوا

    پھر ہماری مرد جاتی کا کیا ارادہ ہے، ہم "ایک شوہر ہیں” کا چلتے پھرتے اشتہار بنے رہنا ہے یا پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. عجب تحریر لکھی۔۔۔ آغاز ’’صنفِ نازک‘‘ سے اور اختتام اِس صنفِ نازک کی قدر پر۔۔۔۔ لیکن تحریر کا عنوان۔۔۔ مرد حضرات کا عالمی دِن :-s

  5. بہت عمدہ۔۔۔۔۔
    اب مردوں کو بھی اپنی اہمیت کا احساس ہوجائے گا اور حقوق مرداں کی تنظیمیں قائم ہونا شروع ہوجائیں گی جہاں مردوں کو عورتوں کے خلاف بغاوت سکھائی جائے گی۔

  6. زینب بٹ Said:

    اگر مردوں کو بھی بغاوت سکھائ گئ تو اس راہ کا پہلا غازی میرا شوہر ہوگا
    🙂

  7. امن ایمان Said:

    بیٹا جی، جب تک خود ایک عدد بندہ نہیں بھگتیں گی نا۔۔۔تب تک یہ صنف آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: