شکریہ لفنگے ۔۔

عالمی یومِ حجاب کے موقع پہ عبایا اور برقعہ بیچنے والوں کی طرف سے تمام لفنگوں کا شکریہ ۔۔۔۔ ان کی وجہ سے عبایا اور برقعے کا بزنس ٹاپ پہ جا رہا ہے ۔۔۔ آج کل جدھر دیکھو نت نئے ڈیزائن کے برقعے اور ان کی قیمت آسمان سے ذرا اوپر ۔۔۔۔ کہیں برقعہ خود کو چھپانے کے لیئے پہنا جارہا ہے اور کہیں چھپنے کے لیئے ۔۔۔ کہیں رخ سے نقاب نہیں ہٹتا اور کہیں پردے کی آڑ میں ڈیٹ ماری جارہی ہوتی ہے ۔۔۔۔ سمجھ سے باہر ہے کہ زمانے کے ساتھ چلنے والے کم ہمت کیوں ہوتے ہیں ۔۔۔ محبوب سے ملنے کی خاطر پہناوا مشرق کا اور مشرقیت کو برا کہتے ہیں ۔۔۔ کرتے رہیں جو کرنا ہے ، مجھے تو شکریہ ادا کرنا ہے اس لفنگے کا جو مجھے کالج سے گھر تک چھوڑنے آتا تھا ۔۔۔ اس کی وجہ سے میں نے عبایا اور اسکارف پہننا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔ شکریہ لفنگے 😛

Advertisements

11 تبصرے »

  1. اری حجاب ۔۔۔
    شکریہ ادا کر کے لفنگے کو شرمندہ نا کریں،
    وہ تو لفنگتا ہی ہے
    لڑکیوں کو حجاب پہنانے کیلئے

  2. حجاب سے خواتین باوقار سمجھی جاتی ہیں اور لفنگوں کی چھیڑ خانی سے محفوظ ہوجاتی ہیں۔ اسکا مشاہدہ عام ہے۔۔۔

  3. Duffer Dee Said:

    شکریہ کی کیا بات ھے
    یہ تو میرے اخلاقی فرائض میں سے ایک ھے

  4. لفنگا Said:

    اوہ وہ تم تھی۔۔۔۔ 🙂 جسے میں گھر چھوڑا کرتا تھا

  5. محب علوی Said:

    دلچسپ شکریہ ادا کیا ہے حجاب اور پڑھ کر لطف آیا کہ کسی لفنگے کی بدولت اچھا کام بھی ہو سکتا ہے

  6. hijabeshab Said:

    یاسر اچھے کام کروانے پہ شکریہ تو کہنا چاہیئے ناں ۔۔۔

    ڈاکٹر جواد کافی عرصے بعد نظر آئے آپ خیریت رہی ؟؟؟

    ڈفر کتنی لڑکیوں کو برقعہ پہنانے کا اعزاز ہے آپ کے پاس ؟؟؟

    لفنگا بہت خوب ، آپ کا تبصرہ پڑھ کے ہنسی آگئی مجھے 🙂 بلاگ پہ خوش آمدید ۔۔

    محب ، کافی عرصے بعد آپ کا تبصرہ پڑھ کے اچھا لگا آتے جاتے رہا کریں ۔۔

  7. زینب بٹ Said:

    یہ بتاؤ وہ کان میں کیا کہتا تھا زیادہ ماشاءاللہ یا سلام ٹھوکتا تھا؟
    🙂

  8. hijabeshab Said:

    زینب اتنی ہمت نہیں ہوئی اس کی نا میں پاگل کہ کان تک اس کا منہ آتا ۔۔ پہلے ہی گھما دیتی ۔۔۔ وہ بہت فاصلے سے چلتا تھا پیچھے پیچھے ۔۔

  9. شکریہ۔۔۔ میری بات پے ہنسنے کا۔۔۔ :ڈ میں تو سمجھا بس لوگ ڈفر پہ ہی ہنستے ہیں ۔۔

  10. seeeroze Said:

    nazar ayeeen jo kal bay parda kuch bibyaan,
    Akbar ghairat e komi say gar gaya
    pocha jo kay aap ka parda kya howa
    kahnay lageen kay akal peh mardoon ki par gaya


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: