موبائل یا عذاب ۔۔۔

بہت دنوں سے سوچ رہی ہوں کچھ لکھوں ۔۔۔۔ جب کام میں مصروف ہوں تو اتنی ساری باتیں عنوانات کی کھچڑی پک کے دماغ میں گڑ بڑ گھٹالا بن جاتا ہے ۔۔۔ فرصت ملتے ہی سب غائب ۔۔۔۔ اور وہ ڈائری بھی بھر چکی جس میں لکھتی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایسا شاندار حشر ہوا ہے اس کا جو کبھی کسی ڈائری کا نہیں ہوا ۔۔۔۔ ڈائری کے صفحے صحت مند ہوتے ہیں ، لکھنے کے بعد اس کی کُپّی بنا کے جنریٹر میں آئل ڈالنے کا کام لیا گیا ۔۔۔ اب دوسری ڈائری بربادی کے پہلے صفحے پہ 🙂
کل صفیہ کے خطوط پڑھے ۔۔۔۔۔ شدت سے دل نے چاہا خط لکھوں لیکن جس کو لکھنا ہے اس کا ایڈریس تو ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ ویسے بھی اب تو شاید ہی کوئی خط لکھتا ہو ، گلی محلّے کے پریمی بھی ایس ایم ایس سے کام چلاتے ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن جو مزہ کاغذ کے پرزے میں پتھر باندھ کے تاک کے نشانہ لے کے عرضی پہنچانے میں تھا وہ اب کہاں ۔۔۔۔۔ ( گلابو یاد آ گئی )
ایس ایم ایس پہ پابندی نہیں لگ سکتی کیا ڈاکیہ عید بقرعید پہ دس بیس عیدی ہی لے جایا کرے گا اور خط پڑھنے کے مزے الگ ۔۔۔۔ ایس ایم ایس سے یاد آیا مجھے دن بھر میں اگر 20 سے زیادہ میسیجز کرنے یا پڑھنے پڑیں تو رات تک خفقان ہونے لگتا ہے پھر ڈانٹ پھٹکار یقینی ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن وہ لوگ جو ہر لمحے ہاتھ میں موبائل تھامے میسیجز یا ہیڈ فون لگائے ہوتے ہیں ان کی ہمت کا جواب نہیں ۔۔۔۔ راہ چلتے کہیں بھی آتے جاتے زیادہ تر لڑکوں کو دیکھا ہے ہیڈ فون ہونٹوں پہ ہنسی اِرد گِرد سے بے نیاز چلتے چلے جارہے ہیں پاگل ۔۔۔۔۔ اکثر یہ منظر دیکھ کے دل چاہتا ہے 2 تھپڑ لگاؤں اور موبائل کچل دوں جوتی سے 😛 اللہ جانے دوسری طرف کون پاگل ہوتی ہے یا ہوتا ہے جس کے پاس بھی ٹائم ہی ٹائم ہے باتیں کر کر کے تھکتے نہیں لوگ 🙄
کسی اور کو کیا کہوں میرے گھر میں بھی ایک خبطی ہے میں تو تنگ آ کے پابندی لگا چکی ۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے آؤ تو ہاتھ میں موبائل نہ ہو ورنہ توڑ دوں گی ۔۔۔۔۔۔ جواب مین سننے کو ملا ۔۔۔۔۔۔۔ باجی تم ٹھیک ہو جاؤ پتہ نہیں کس زمانے کی بڈھی روح ہے تم میں 😯
جو بھی ہے لیکن ایک ہفتے سے مجھے سکون ہے دیکھیں کب تک رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

14 تبصرے »

  1. زینب Said:

    نا
    تمہیں کیا تکلیف ہے باجی جی استمالنے دیا کرو لوگوں کو چیزیں
    🙂

  2. اس دفعہ پاکستان آ کر عجیب منظر دیکھنے کو ملا لڑکیاں باپ بھائَی کے ساتھ بائیک پر جا رہی ہیں اور دونوں ہاتھ کھٹا کھٹ موبائل پر چل رہے ہیں ساتھ دانتوں کی نمائش الگ۔ کاش ملک میں پانی کے بجائے ایس ایم ایس سے ہی بجلی بن جائے تو کیا بات ہے۔

  3. ایک زمانہ تھا کہ سڑک یا گلی میں کوئی بولتا ہوا یا مسکراتا ہوا گذرے تو سمجھ لیتے تھے دماغ میں خللل ہے بیچارے کے ۔ آپس کی بات ہے ۔ اب بھی یہی صورتِ حال ہے صرف زمانہ جدید کہا جاتا ہے ۔ موبائل فون کا فائدہ تو ہے لیکن یہ ایک خطرناک بیماری بن گیا ہے

  4. ہاں۔۔۔ آپ کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ خط کا اپناہی ایک الگ مزہ ہے ۔۔۔۔۔۔ اور آج بھی کسی کو خط لکھو یا کوئی ہمیں خط لکھے تو اس کے ملنے پر انسان دل سے خوش ہو جاتا ہے۔۔۔۔

  5. hijabeshab Said:

    زینب ، مجھے تکلیف یہ ہے کہ میں اپنی بات کو دہرانا نہیں چاہتی اور موبائل ہاتھ میں ہو تو کیا کہا ۔۔ کیا سنا نہیں ، اس جیسے جملے خون کھولانے کو کافی ہوتے ہیں ۔۔
    بدتمیز ، جی جناب لڑکیاں کون سی کم ہیں جن لڑکوں کو میں نے دیکھا وہ بھی کسی لڑکی سے ہی محوِ گفتگو ہونگے ۔۔ پھر تو یہی ہونا ہے ناں جو آپ نے دیکھا ۔۔
    ٹھیک کہا اجمل انکل ۔۔۔
    بلاگ پہ خوش آمدید نور محمد اور تبصرے کا شکریہ ۔۔۔

  6. حجاب میرا خیال تھا کہ آپ بھی اِس بیماری کا بہت زیادہ شکار ہوگی۔ لیکن خوشی ہوئی کہ آپ میچور ہیں :ڈ میں تو اِس بیماری کو اَنمیچوریٹی کا شکار سمجھتا ہوں۔ ہاں اِن پیغامات کے فوائد بھی ہیں لیکن فقط ضرورت کے وقت۔۔۔

    موٹرسائیکل پر تو چلو میسیجز ہوسکتے ہیں۔۔ مُجھے تو عجیب تب لگتا جب تنہا لڑکی بھرے بازار میں اردگرد سے بےنیاز گزرتی ہوئی میسیجز کرتی مُسکرائے جارہی تھی۔۔۔

  7. Eman Arooj Said:

    حجاب میرا تعلق بھی شاید آپ کی کیٹیگری سے ہی ہے میں تو بغیر پڑھے ڈیلیٹ کر دیتی ہوں پھر اکثر کہیں نہ کہیں سے شکوہ ہوتا ہے کہ میسج کیا تھا فلاں بات کا تو یہی کہتی ہوں کہ میسج نہ کیا کریں میں دیکھتی ہی نہیں،اور یہ میسج ہوتے بھی تو رومن اردو میں ہیں سر میں درد ہو جاتا ہے۔

  8. Eman Arooj Said:

    حجاب نیم اور یو آر ایل والا آپشن بھی ان ایبل کر دیں کہ آسانی رہے

  9. ہارون Said:

    خطوط کا زمانہ بھی کیا زمانہ ہوا کرتا تھا ۔ ۔۔ بڑے اہتمام سے اور دل کی گہرائیوں سےکسی کے لیے وقت نکال کر خط لکھا جاتا، پھر ٹکٹ لگا کر پوسٹ کرنے کا "جھنجھٹ” پالا جاتا، پھر وصول شدہ خطوط کو سنبھال کر رکھا جاتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آجکل کون کسی کو دل کی گہرائیوں سے ایس ایم ایس بھیجتا ہے

  10. خیر سمجھا جائے تو ایس ایم ایس بھی خط کی جدید شکل ہے ۔ رہی بات محبت کی تو اس میں مبتلا ہونے والوں کو زمانہ قدیم سے سے یہ خوش فہمی رہی ہے کہ ان سے پہلے اتنی شدت اور خلوص سے نہ کسی نے محبت کی ہے اور نہ آئندہ کسی مائی کے لال میں یہ ہمت ہوگی ۔

  11. hijabeshab Said:

    ایمن بلاگ پہ خوش آمدید ، ایس ایم ایس دیکھنے ہی پڑتے ہیں ایمن ورنہ لڑائ کون کرے ۔۔۔ نیم اور یو ٓر ایل والا آپشن ان ایبل ہی ہے ورڈ پریس نے کیا ہوگا کوئی ڈرامہ ۔۔۔۔

    ہارون اور ریاض شاہد تبصرے کا شکریہ ۔۔

  12. urduandurdu Said:

    جناب بالکل ٹھیک بات کی ہے آپ نے ،مجھ سے تو اکثر لوگوں کو یہی شکایت رہتی ہے کہ ایس ایم ایس کا جواب نہیں دیتیں،،،،،ایک بات اور بھی ہے اس ایس ایم ایس کے چکر میں رومن رسم الخط عام ہو گیا ہے ۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: