اُففف یہ عورتیں ۔۔۔۔

سجاد حیدر یلدرم نے لکھا تھا مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی میری / میرے فرینڈز بہت اچھے ہیں میں ان سے فرار نہیں چاہتی ۔۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاوجہ سوال کرتی ہوئی ۔۔۔۔ مشورے دیتی ہوئی ۔۔۔۔ کھوجی عورتوں کو برداشت کرنا دل گردے کا نہیں بڑے جگرے کا کام ہے اور فرار ناممکن 😦
اُجڑے ہوئے گھر کے مکینوں سے سوال کیا جائے ، پریشان تو نہیں ہو ناں ۔۔۔۔۔ بہت رقم لگی ہوگی علاج میں اور پھر آنا جانا کرایہ الگ ۔۔۔۔ کیسے کیا سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔ اکیلی کام کاج کرتی ہو کیسا لگتا ہے ۔۔۔۔۔ ایسے ایسے سوال کہ آنسو رکنے کا نام نہ لیں اور پھر نہ رونے کی تلقین بھی ۔۔۔۔ دن بھر ہلکی آنچ پہ پکایا جانے والا میرا بھیجہ پک کر شام ہونے کا انتظار کرتا ہے کہ کب اس پہ ہرے مصالحے کی گارنش ہو اور بھڑاس نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کو “ آج کون کون آیا “ کہ سوال پہ میری باتوں کی ریل گاڑی جو چلتی ہے تو اکثر پٹری سے اُتر جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ خود سنبھال لیں مجھے نہیں ملنا کسی سے روزآنہ یہی کہتی ہوں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔
شکستہ دل ہے مگر ملتے ہیں ہر ایک سے ہنس کر
یہی ایک فن سیکھا ہے بہت کچھ کھو جانے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پڑھی لکھی جاہل عورتیں صرف جیو نہیں جینے دو پہ بھی عمل کریں تو کون سا ٹیکس لگ جائے گا بھلا لیکن دل و دماغ سکون میں تو رہیں گے ناں ۔۔۔۔۔۔ کوئی کیا کر رہا ہے کیوں اور کیسے کر رہا ہے اس سے دوسروں کو دلچسپی کیوں ہوتی ہے اللہ جانے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح کی عادت و مزاج رکھنے والی عورتیں کبھی سُدھریں گی کہ نہیں میرا خیال ہے کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کا شُکر ہے مجھ میں ایسی عادت نہیں نہ ہی مستقبل میں عادتوں کے بدلنے کا اندیشہ ہے اس لیے کہ عادات اور اصولوں کے معاملے میں میں لکیر کی فقیر ہوں ۔۔۔۔۔۔

Advertisements

9 تبصرے »

  1. بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ آپ نے خود کو سنبھال لیا۔
    اللہ تعالیِٰ آپ کو باقی زندگی میں صدمات اور غموں سے بہت دور رکھے۔آمین

    • hijabeshab Said:

      جی ظاہری طور پر ۔۔۔۔۔۔۔ باقی زندگی کی اب کوئی پرواہ نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      • ایک سائل Said:

        ایسا نہ کہیں۔ انشااللہ خوشیاں ذیادہ دور نہیں۔

  2. حِجاب کیا کہُوں اب اِس سب کے جواب میں؟؟؟

  3. واقعی بڑا جگرا ہے آپ کا ۔ اللہ آپ کو سدا صراطِ مستقیم پر اور خوش و خُرم رکھے ۔ عرصہ دراز ہوا کہ میں عورتوں کی محفل میں جاتا ہی نہیں اور کہیں بیٹھنا پڑ جائے تو میں اُن کی باتوں کی طرف کان بند رکھتا ہوں ۔ جوانی اور بچپن میں اُن کی باتیں سُن کر ہلکان ہو جایا کرتا تھا ۔ محترمہ آئی ہیں کسی کے گھر مزاج پُرسی کیلئے اور کہتی ہیں ۔ "اللہ بچائے فلاں کی بیٹی اس طرح بیمار ہوئی ۔ اُنہوں نے کوئی ڈاکٹر نہ چھوڑا ۔ سب دولت لگا دی مگر وہ پھڑک کے مر گئی”۔ غضب یہ کہ مریضہ سب سُن رہی ہے

    مجبوری ہے کہ ورڈ پریس پر لاگ اِن ہونا پڑتا ہے سو اپنے انگریزی کے بلاگ کو استعمال کیا ہے
    http://www.theajmals.com

  4. دو کان اسی لیے ہوتے ہیں کہ ایک سے سن کر دوسرے سے نکال دی جائیں ایسی خرافات۔
    آپ ترنت پے منٹ کا وعدہ کریں تو آپ کو ایسے سوالات کی فہرست ارسال کرسکتا ہوں جن سے ایسی خواتین کی بولتی بند ہوجائے گی، شرطیہ۔

  5. khushboo Said:

    اَففففف یہ کھوجی لوگ شایئد عادت سے مجبور ہیں۔۔۔۔۔۔

  6. السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    اللہ آپکو اپنی خصوصی رحمت، سکون و اطمینان اور ان گنت خوشیاں عطا فرمائے

  7. کاشفین Said:

    مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ کونسی حس کی تسکین ہوتی ہے اس طرح کے سوالات سے۔۔۔ ۔
    اللہ پاک آپ کو صبر و استقامت سے نوازے۔آمین۔
    اور ایسے نہ کہیں کہ زندگی کی پرواہ نہیں رہی۔وہ کہتے ہیں نا کہ کسی چیز کی آخیر نہیں دیکھنی چاہیے۔ ۔ ۔
    تو ایسے جملے اور لفظوں کی پکڑ جلدی ہو جاتی ہے۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: