ادب آداب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزیدار سا بسکٹ چائے میں ڈبو کے کھاتے ہوئے آدھا بسکٹ خود کشی کرلے ۔۔۔۔۔۔ یا کسی دعوت میں بوٹی کے ساتھ کُرکُری سی ہڈی ہو ۔۔۔۔۔ کھانے کا دل چاہے مگر کھائی نا جا سکے تو اُن ادب و آداب کو برا کہنے کا دل چاہنے لگتا ہے جو خود کو مہذب ثابت کرنے کے لیئے دنیا والوں کے سامنے نبھانے پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے ہڈی کھانا بری بات تو نہیں لیکن کیا کیجئے جناب ہماری نخریلی قوم کا جو اچھی خاصی بوٹی کا ایک ٹکڑا کھانے کے بعد دوسری کی طرف ہاتھ بڑھاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں میں پوری بوٹی ختم کرکے ہڈی کا صفایا کیسے کروں ۔۔۔۔۔۔۔ بدتمیز لوگ سمجھیں گے بھوکی ندیدی ہے یا کبھی کھانے کو نہیں ملا ۔۔۔۔۔
دو دن پہلے ایک دعوت میں کانٹے سے گوشت کاٹنے کے چکر میں ایک بچّے نے پلیٹ ہی توڑ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کانٹے اور چمچے کا نخرہ بھی سمجھ نہیں آتا ۔۔۔۔۔ روٹی ہر حال میں ہاتھ سے توڑی جاتی ہے ۔۔۔ چکن تکّہ یا چکن سجّی کو دونوں ہاتھوں سے بھنبوڑ کے کھاتے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن چاول اور کباب کے لیئے چمچہ اور کانٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کباب میں دال زیادہ ہو تو منہ تک جاتے جاتے گر بھی سکتا ہے بے عزتی الگ ۔۔۔۔۔۔۔ چاول کے ساتھ ہڈی چلی جائے دیدے باہر اُبل پڑیں ڈر سے کہ اب کیا ہوگا لیکن ہاتھ سے کھانا جرم ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک طرف وہ بچّے جن کے اماں ابا نے تمیز نا سکھائی ہو ۔۔۔ چائے پینے کے بعد کپ میں جمع غیر حل شدہ چینی بھی کھا جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کتنے ظالم ہیں یہ آداب , محفل میں بیٹھ کے دانت میں پھنسا ریشہ نکالنا بھی معیوب ٹھہرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
میں سارے آداب نبھاتی ہوں سوائے ایک کے ۔۔۔۔۔۔۔ کسی تقریب میں جا کے میک اپ درست کرنے کے لیئے کوئی خفیہ کونا تلاش نہیں کرتی ۔۔۔۔۔ کسی کی پرواہ کیئے بغیر سب کے سامنے یہ کام کر گزرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھتے تو سب ہیں مگر مجھے پرواہ نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

18 تبصرے »

  1. کچھ دن پہلے ایک دوست کے ساتھ ریسٹورانٹ میں پیٹ پوجا کرنے گیا ۔ وہاں ایک فیملی کی طرف اچانک نظر پڑی وہ صاحب چھری کانٹے سے بوٹی کاٹ کر پھر ہاتھ کی مدد سے چمچ پر رکھتے اور پھر اسکو چھری سے کاٹی ہوئے نان کے ٹکڑے پر رکھتے پھر ہاتھ سے اٹھا کر منہ میں ڈالتے ۔

    میں تو موڈ کے حساب سے کرتا ہوں ۔ اگر موڈ نہ ہو تو ریسٹورانٹ میں بھی ہاتھ سے چاول کھانا شروع کر دیتا ہوں ۔ لوگوں کے ادب و آداب سے میرے منورجھنن میں فرق پڑے مجھے برداشت نہیں ۔ دن میں تین دفعہ ہی تو کھانا ہوتا ہے اس میں بھی ادب و اداب کی وجہ سے مزے نہ لوٹے جائیں ۔

  2. hijabeshab Said:

    میں بھی ہاتھ سے کھاتی ہوں زیادہ تر ۔۔۔۔۔ اصل مسئلہ تو ہڈی کا ہے 😛

  3. مضحکہ خیز صورتحال ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ دیسی اور روایتی کھانے بھی کانٹوں اور چھریوں سے کھانے کی کوشش کریں۔۔
    حجاب،
    آپ حکیم ڈبلیو گیارہ کا پتھرتوڑ منجن استعمال کیا کریں جس کے بعد انسان کو سخت سے سخت ہڈی بھی چکن کا لیگ پیس لگنے لگتی ہے۔

  4. دیکھیں جی
    آپ لوگ چھری کانٹے یا ہاتھ سے کھانے کو ترجیع دیتے ہو۔
    ۔۔۔۔
    ۔۔
    میں تو منہ اور دانتوں سے کھاتا ہوں اور معدے سے ہضم کر لیتا۔
    نخرا تو ۔۔۔۔۔مجھ میں نظر آتا ہے آپ کو؟

  5. عثمان Said:

    یہ پوسٹ پڑھ کر ڈکار آرہے ہیں لیکن ادب آداب کی وجہ سے …. 😛

  6. دوست Said:

    میری عادت ساتھ رومال رکھنے کی ہے۔ جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق چھری کانٹے سے بھی کچھ کچھ کھانے کی پریکٹس ہے۔ ورنہ ہاتھ تو ہوتا ہی ہے۔ چکن بریانی کھاتے ہوئے اگر چکن چمچ کانٹے تلے نا آئے تو ہاتھ کو ہی زحمت دیتا ہوں۔

  7. hijabeshab Said:

    ڈاکٹر جواد ، دانت تو میرے مضبوط ہیں ہڈی کھا سکتی ہوں لیکن کھاؤں کیسے سب دیکھ رہے ہوتے ہیں نا ۔۔۔

    یاسر ، یعنی آپ ہاتھ کا استعمال کرتے ہیں نا چھری کانٹے کا ۔۔۔ منہ ڈال دیتے ہیں پلیٹ میں گڈ ۔۔۔

    عثمان ، کیا بہت زیادہ بدہضمی ہوگئی پوسٹ پڑھ کے جبھی ڈکار آرہی نہیں آرہے ہیں لکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔

    دوست ، میں بریانی چمچے سے کھاؤں تو چکن کی اچھی والی بوٹی تلاش کرتی ہوں 🙂

  8. ادب آداب کی حدود کی کم علمی هے جی پاک معاشرـے میں
    میرے نزدیک کھانے کے اداب هیں که
    کھانا گرنا بکھرنا نهیں چاهیے
    منه (هونٹوں ) کے گرد لگنا نهیں چاهیے ، لتھڑی هوئی انگلیوں سے گلاس نهیں پکڑنا چاهیے
    که گلاس گندا هو جائے
    باقی جی اپ میری حد سے بڑی هوئی خود اعتمادی سمجھ لیں
    مغروری
    میں محفل میں یه سوچ کر کھاتا هوں که
    کھانے کے آداب میں مقرر کروں گا
    پاک لوگاں میں
    اس لیے جو دیکھ رها هے دیکھ لے که خاور ایسے کھاتا هے اسلیے اپ لوگ بھی اسی طرح کھاؤ
    سالن روٹی کو هاتھ سے هی کھاؤں گا
    لیکن
    بریانی یا گوشت چاول چمچے سے اور کھانے دوران میں بوٹی کو هاتھ سے
    اپ نے جو مڑکنی ہڈی کا لکھا هے
    همارے کھر میں اس کو بہت پسند کیا جاتا هے
    اور دوسری ہڈی جو جوڑ کی گول ہڈی هوتی هے اس کو قصائی کو کہـ کر ٹڑوا کر خریدا جاتا هے
    که اس ہڈی کو چبا چبا کر اس میں سے ذائقه کھیچا جاتا هے اور برادے کو باهر
    بلکل گنے کی طرح چوس چوس کر
    اور اس دوران
    پونا(ایک صاف کپڑا) ساتھ میں رکھ لیتا هوں
    ریسٹورینٹ میں ٹشو سے کام چلا لیتے هیں
    انگلیان صاف رهیں ، گلاس پکڑنے کے لیے
    ایک بات بتاؤں اپ کو که
    کم هی پاکستایوں کو معلوم هو گا که
    فرانس میں چھری کانٹے سے کھانے کے دوران ان کو رکھنے گے انداز سے بیرے کو اشارے بھی کیے جاتے هیں که
    برتن اٹھا لو
    یا نهیں
    بعد والی ڈش کے کر آؤ یا نهیں وغیره وغیره
    مزے کی بات که فرانس میں رہنے والے پاکستانیوں میں بھی مجھے کوئی ایسا نهیں ملا جس کو ان آداب کا علم هو

  9. عثمان Said:

    مںحصر ہے یہ ڈکار کسے آرہے ہیں۔ خاتون ہے تو ڈکار آ رہی ہے ، مرد ہے تو آ رہا ہے۔ 😛
    ویسے میں عموما ڈکار کو مذکر ہی گردانتا ہوں۔

  10. hijabeshab Said:

    خاور ، کھانے کے آداب اور ہڈی پہ سیر حاصل تبصرہ پسند آیا ۔۔ وہ ہڈی جس کا ذکر آپ نے کیا مجھے بھی پسند ہے ۔۔۔

    عثمان میں تو ڈکار کو مونث سمجھتی ہوں ۔۔۔

  11. میرا ایک ملو کولیگ جابر ہمارے ڈائریکٹر کی طرف سے کی گئی دعوت میں جاتے ہوئے پوچھنے لگا ،
    ڈفر بھائی شڈ وی ایٹ ود سپون اینڈ فورک آنلی
    میرے سے پہلے سوڈانی کولیگ بولا، ناٹ ایٹ آل یا اخی دیٹ از آ فائیو سٹار ہوٹل
    میں نے کہا یار ایٹ ایز یو وش
    اب بڈے ہونے کے بعد سارے ادب آداب کو تیل لینے بھیج دیا ہے
    چمچ کے علاوہ کبھی کچھ استعمال نہیں کیا اور مندی شندی کبسہ شبسہ تو میں کسی بھی محفل میں ہاتھ سے ہی کھاتا ہوں
    ویسے میرے مشاہدے کے مطابق اکثر عرب لوگ آداب کی بجائے تمیز کو فوقیت دیتے ہیں جیسا کہ خاور نے بتایا

  12. حجاب ،
    بزرگ کوئی بات کر رہے ہوں تو مان لینا چاہیے، چاہے وہ کتنا ہی غلط کیوں نا ہوں۔۔۔آپ یہ نا دیکھیں کہ کیا بات کی جا رہی ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ بات کر کون رہا ہے۔
    اللہ معاف کرے میں نے کبھی بھی قبلہ عثمان صاحب کینیڈا والے کی بات کو رد نہیں کیا۔۔۔۔ شاید اسی وجہ سے اللہ مہربان ہے۔
    ڈکار مونث ہو یا مذکر فرق کیا پڑتا ہے۔ اگر قبلہ عثمان صاحب کو ڈکار آرہے ہیں تو اس سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ قبلہ کی باتوں کو مذاق میں نا اڑایا جائے ورنہ ڈکارآنی تو کیا ڈکار آنے کے لیے بھی آدمی ترس سکتا ہے۔

  13. adilbhaiya Said:

    مُجھے کچھ نیا، اچھا اور مختلف کرنے کو جی چاہتا ہے لہٰذا ریسٹورنٹ میں جہاں سب چھُری کانٹوں سے کھا رہے ہوں وہاں ہاتھ سے بریانی وغیرہ کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ آخری مرتبہ ریسٹورنٹ گیا تو وہاں بےدھیانی میں چھُری کانٹے سے ہی کھانے لگا۔ کھا چُکا تو خیال ٓیا کہ ہاتھ سے کھانا، اب پکا اِرادہ ہے کہ انشاءاللہ آئیندہ کبھی کسی بھی ریسٹورنٹ میں چھُری چمچے سے نہیں کھاؤں گا

    حجاب مزہ آیا پڑھ کر۔۔۔ بڑے دلچسپ عنوانات ڈھونڈ لیتی ہو آپ لکھنے کیلئے

  14. rubinaansari Said:

    حجاب آپکا ٹاپک پسند آیا، بہت اچھا لکھا ہے اور سب کے تبصرے بھی پسند آے۔
    ادب آداب ھماری زندگی کا حصہ ہیں اگر یہ نہ اپناے جایں تو اشراف لمخلوکات ھونے سے دستبردار ھوجانا چھایے،
    بحرحال آپ نے جو لکھا وہ بھی سھی ھے کو کبھی کبھی یہ آداب زحمت بن جاتے ھیں اور اتنی کھانے کی باتیں ھو رھی ھیں کے بھوک لگ گٰی ھے چوسنے والی ہڈی کی بریانی کھانے کی،
    حجاب بریانی بنا ٰو تو ایک پلیٹ یھاں بھی بھیج دو۔۔۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: