تو جو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا بھر کے لوگ اُس پُر رونق جگہ تفریح کی غرض سے آیا کرتے تھے ۔۔۔ ہنسی مذاق اٹکھیلیاں کرتے ٹائم گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا ۔۔۔۔ اس کا جب بھی وہاں جانا ہوا ہمیشہ یہ سوچا ، کتنے بے فکرے ہیں یہ سب شائد ان کو کوئی کام نہیں جبھی ہر وقت یہاں میلہ لگائے رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کے ساتھی نے کہا تم نے غلط سوچا میرے دوست ۔۔۔ سب زندگی میں مصروف لوگ ہیں مگر جب تک شیئرنگ نہ ہو باتوں سے بات نا چلے تو زندگی رک نہیں جائے گی کیا ۔۔۔۔۔۔ کبھی تم ان کا حصّہ بن کے تو دیکھو ۔۔۔۔
ایسا بھی کیا ہے چلو کبھی موڈ ہوا تو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ایک دن بوریت دور کرنے کی خاطر وہاں جانا کیا ہوا ، روزآنہ وہاں کے چکر لگنے لگے ۔۔۔۔ دلچسپی بڑھتی گئی ، بہت سے دوست بن گئے ۔۔۔۔۔۔۔ سب کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے منفرد ۔۔۔۔۔۔۔ کسی کی باتوں میں ادا تو کہیں شوخی و شرارت ۔۔۔۔ کوئی فسادی ، میسنا ، کمینہ ، چھچھورا ، طنز کا ماسٹر ۔۔۔۔۔ اور کبھی جو کوئی سنجیدہ بات ہوجائے تو جواب ایسے کہ لب خود مسکرا اٹھیں ۔۔۔۔۔
زندگی جیسی تھی سو تھی ۔۔۔۔۔ لیکن ان سب کے ساتھ گزرا وقت حسین تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک اداس شام تھی خزاں کا آغاز ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔ پتّے شاخوں سے جدا ہوکے قدموں تلے چُر مُرا کے خاک کا حصہ بن رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اس پہ بیزاریت طاری تھی وہ سست روی سے چلتا وہاں پہنچا ۔۔۔۔ سب کا جائزہ لیتی اس کی نظریں ایک جگہ ٹھہر گئیں ۔۔۔۔۔ وہ جو محفل کی رونق تھا الوداعی جملے کہتے اجازت چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ میں نے کسی سے پوچھا کدھر کا ارادہ ہے جناب کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب ملا پتہ نہیں ۔۔۔۔۔
اب بھی وہی جگہ اور دوست ہیں لیکن جس کے دم سے محفل آباد تھی وہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سب اس کے منتظر ہیں کبھی تو لوٹے گا وہ ۔۔۔۔۔ اور پھر بے رنگ محفل میں رنگ ہی رنگ ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

17 تبصرے »

  1. زندگی چلتی رہتی ہے،نۓ لوگ پرانوں کی جگہ لے لیتے ہیں،،لیکن انسیت پرانے لوگوں سے ہی ہوتی ہے

  2. آجائے گا آجائے گا ۔ اداس مت ہو

  3. جو نہیں آتا اس کا کیا انتظار کرنا۔
    اور ایسی تحریر لکھ کر ہمیں جلانا قطعی غیر انسانی ہے۔
    حاجی ساب شاید کوئی رشتہ وغیرہ دیکھنے میں مصروف ہیں۔

  4. Halley Said:

    جو نہیں آتا اس کا کیا انتظار کرنا۔
    اور ایسی تحریر لکھ کر ہمیں جلانا قطعی غیر انسانی ہے۔
    حاجی ساب شاید کوئی رشتہ وغیرہ دیکھنے میں مصروف ہیں۔

    +1

  5. جب سے ڈفر نے فیس بک چھوڑی ہے
    میرے بلکل یہی جزبات ہیں

  6. بی بی ۔ ہميں تو صرف ايک حقيقت کا علم ہے
    آج اس شہر ميں کل نئے شہر ميں
    سوکھے پتوں کے پيچھے اُڑاتا رہا
    شوقِ آوارگی ۔ شوقِ آوارگی
    جسے ڈھونڈنے نکلے تھے ہم
    وہ تو نہ مل سکے اے صنم
    ہميں ہواؤں ميں يونہی اُڑاتا رہا
    شوقِ آوارگی ۔ شوقِ آوارگی

    ايک لفظ ہے جو بہت سے لوگ بولتے ہيں مگر ميں اسلئے نہيں بولتا کيونکہ مجھے اس کے معنی معلوم نہيں ۔ لفط ہے ” بور "۔ کوئی ہے جو مجھے اس کا مطلب بتائے ؟

  7. جعفر Said:

    اف اللہ، ہماری اکھیوں میں آنسو آگئے اتنی درد بھری کتھا پڑھتے پڑھتے

  8. یہ جس کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے، وہ خوش نصیب ہے کہ لوگ اُس کی غیر موجودگی میں بھی اسے اتنا چاہتے ہیں۔ آپ کے توسط سے مین بھی اسے درخواست کرتا ہوں کہ جہاں بلایا جا رہا ہے آ جا ؤ کیوں کہ جان محفل کے جانے سے محفل محفل نہین رہتی، بس اک بے ہنگم سا ہُجوم بن جایا کرتا ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اس افراتفری کے دور مین جہاں خوشیوں کے اوقات پوروں پے گنے جا سکتے ہوں، آپ اس محفل میں پھر سے تشریف لے آیئں۔

    حجاب، آپ کی تحریر ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت ہے۔ اگر یہ کسی دوست کے لیۓ ہے تو اسے نام سے پکار کے بھی بلایا جا سکتا ہے تا کہ اس کا احساس دو چند ہو جاۓ 🙂

  9. hijabeshab Said:

    سب کے تبصروں کا شکریہ ۔۔۔

    علم کا متلاشی یہ تحریر ایک جانی پہچانی شخصیت کے لیے ہے تبصرہ کرنے والے سمجھ چکے ہیں اس لیے نام کیا لکھنا 🙂

  10. عثمان Said:

    ارے کس کے بارے میں تحریر ہے کچھ ہمیں بھی تو پتا چلے۔

  11. آپکا ایک کالم تھا،جس میں کوئی بندہ نام بدل کر تنگ کیا کرتا تھا لیکن آئی پی ایڈرس کی وجہ سے وہ معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ ایک ہی بندہ ہے۔
    ۔
    ۔
    اس کالم کو آپکی بلاگ پر بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔دراصل میرے کالم ( بلاگستان میں کمنٹس کا مسئلہ ) پر ایک کمنٹ کے جواب میں حوالے کے طور پر آپکا وہ والا کالم دینا چاہتا تھا لیکن۔۔۔۔۔۔ناکامی دیکھنی پڑی۔
    اگر کہیں اسکا پتہ مل جائے تو یا ای میل کردیں یا ادھر ہی پوسٹ کر دیں۔

    میرے اس کالم پر جوابی کمنٹ میں آپکے قلمی نام کے ساتھ لفظ بہنا لکھا تھا لیکن تلاش کے دوران آپکا یہ کالم ( منہ بولے رشتے ! ہونہہ ۔۔) نظر سے گذرا تو لفظ بہنا کاٹ دیا کہ مبادا ہم آپکے غصے کا شکار نہ ہوجائیں۔

  12. hijabeshab Said:

    بلا امتیاز بہت شکریہ ۔۔۔

    عثمان ، لکھا ہے نا ایک مشہور شخصیت ۔۔۔

    درویش خراسانی ، آپ مجھے بہنا لکھ سکتے ہیں مجھے غصہ کیوں آئے گا بھلا ، یہ تحریر ” منہ بولے رشتے ” صرف ایسے شخص کے لیئے لکھی گئی تھی جو بہن بہن کہنے کے ساتھ ذو معنی گفتگو کا عادی ہو ۔۔۔ میرے خیال میں آپ اس تحریر ” آئی پی اشتہار ” کا کہہ رہے ہیں ، نیچے لنک دے رہی ہوں ۔
    https://hijabeshab.wordpress.com/2011/05/10/ip/

    ای میل سے متعلق ایک یہ پوسٹ بھی تھی
    https://hijabeshab.wordpress.com/2011/06/13/420/

  13. 🙂

  14. mona Said:

    zindagi kabhi kisi k liye nahi rukti ….hum samjhte hain k jab apne chale jaye tu zindagi tham si jaye gi …magar esa hota nahi hyr…..waise buhat acha likha hye


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: