افففففف یہ شور ۔۔۔۔۔۔۔۔

رات بھر نیند نہ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وجہ چاہے کوئی پریشانی ہو یا مچھروں نے ستایا ہو ۔۔۔۔۔ صبح کے وقت چڑیوں کی چہچہاہٹ سن کر طبعیت فریش زندگی خوبصورت لگنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے پرندوں کی آوازیں غائب ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوڑتی بھاگتی زندگی کا شور شروع ۔۔۔۔۔۔۔ رکشہ ۔۔۔ ٹیکسی ۔۔۔ بس کے پریشر ہارنز ۔۔۔ گلی گلی آواز لگا کر چیزیں فروخت کرنے کی آوازیں ۔۔۔۔۔ بچوں کی چیخ و پکار ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی پڑوسنوں کی لڑائی ۔۔۔۔۔۔۔ چیختا ہوا فون ۔۔۔۔۔ ہر منٹ بعد ایس ایم ایس آمد کی ٹون ۔۔۔۔۔ ٹی وی کی بلند آواز ۔۔۔۔۔۔۔ اختلاجِ دماغ و قلب میں مبتلا کرنے والے بے سُرے گانے ۔۔۔۔۔۔ اُففففف کتنا شور ہے ۔۔۔۔۔
شور کی تعریف کرنا مشکل کام ہے ۔۔۔۔ میں جن آوازوں اور میوزک کے شور کو ناپسند کرتی ہوں دوسرے اُس سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اِرد گِرد کے ماحول میں شور کی وجہ سے تیز آواز میں چیخ کر ایک دوسرے کو مخاطب کرکے بات کرنا ، اور آہستہ آہستہ آواز کا والیوم مزید بڑھاتے جانا سب کی عادت بن چکی ہے ۔۔۔۔۔۔ دھیمی آواز یا تو سُنی نہیں جاتی اور سُن لی جائے تو سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ہوتی ہے تو تو میں میں کہ کب سے آواز دی جارہی ہے بہری ہو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں پُر شور علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے مزاج جارحانہ اور وہاں جرائم کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ شور سے معدے کا نظام متاثر ۔۔۔۔۔ طبعیت میں گھبراہٹ اور بے چینی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی اس پُر شور ماحول سے گھبرا کر دل چاہتا ہے ایسی جگہ چلی جاؤں جہاں خاموشی اور سکون کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ۔۔۔۔۔ ہوا اور درخت سے گرتے ہوئے خشک پتوں کے شور کے سوا کچھ نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پہ پتّے گرتے رہیں اور میں سوکھے ہوئے پتّوں کا کچومر بناتی رہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک سر پر کچھ محسوس ہو ہاتھ پھیر کے پتہ کرنے پہ کوّے کی لیس دار بیٹ ہاتھ پہ لگے اور آنکھ کُھل جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے کمرے میں 😦

Advertisements

13 تبصرے »

  1. shahidaakram Said:

    حِجاب کی بچی،،،
    یعنی گندی بچی

  2. "کبھی کبھی پڑوسنوں کی لڑائی”

    کبھی خود کی لڑائی پڑوسنوں کیلئے!

  3. جعفر Said:

    اتنی افسانوی اور رومانوی سچویشن کا اختتام کوے کی بیٹ پر کرنے پر
    آپ کو ایک عدد در شاباش

  4. آپکا مضمون خاموشی اور سکون کی خواھش کا عمدہ ڈراپ سین ہے. پرندے مجھے بھی اچھے لگتے بشرطيكه سر کے اوپر پرواز نہ کر رہے ہوں . پتا نہیں اڑتے وقت پرندوں کا نظام ہضم اتنا خراب کیوں ہو جاتا ہے ؟

  5. شايد ميں اسی قسم کے شور سُن سُن کر اُونچا سُننے لگا ہوں ۔ ميں نے گھر سے باہر نکلنا بھی شايد اسی لئے کم کر ديا ہے کہ اردگرد کسی کار ميں دھماکوں کی طرح بجتی موسيقی ميرے پورے جسم کو دھن کے رکھ ديتی تھی ۔ ہو سکتا ہے ميری کار کے پرزے بھی ڈھيلے پڑ جاتے ہوں ۔ شکر ہے کہ موت سے ڈرنے والوں نے ہمارے گھر کے ساتھ سے گذرنے والی گلی کو سيمنٹ کے بلاک رکھ کر دونوں اطراف سے بند کر ديا ہوا اور اب آنے کا راست ہماری گلی کے صرف دوسرے سرے سے ہے جس کی وجہ سے صرف ہماری گلی والے لوگ ہی آتے ہين اور شور شرابے سے نجات ملی ہوئی ہے

  6. خالد حمید Said:

    اُ ف توبہ ۔۔۔۔۔
    گندی کہیں کی۔۔۔۔۔۔
    ایک بے ساختہ تبصرہ ۔۔۔ جملہِ اخیر پر

  7. App too Adeeba hoti jaa rahi hain …… Eik shear-e-Khamoshan bhi hota hay 🙂 kiya khayal hay

  8. hijabeshab Said:

    نئی باتیں نئی سوچ بلاگ پہ خوش آمدید ۔۔۔ مجھے گلی محلّے میں پڑوسنوں کا لڑنا نہیں پسند ، اس لیئے میں نے کبھی لڑائی نہیں کی کسی کے لیئے ، نا ہی اپنے لیئے ۔۔۔۔۔۔۔

    شکریہ جعفر 🙂

    ڈاکٹر جواد شُکر ہے گائے ، بھینس اور گھوڑے نہیں اڑتے ورنہ پتہ نہیں کیا ہوتا ۔۔۔ پرندوں کا نظامِ ہضم اڑتے ہوئے کیوں خراب ہوتا ہے اس جواب کے لیئے انتظار کریں اس وقت کا جب میں پرندہ بن کے اڑنے لگوں 😛

    اجمل انکل ٹھیک لکھا آپ نے یہی وجہ کہ اونچا بولنے اور سننے کی عادت ہوگئی ہے ۔۔۔

    ضیاء شہرِ خموشاں میں جا کے پتوں کا کچومر کیسے بناؤں گی 🙄

    شاہدہ آپی اور خالد حمید 😀 😛

  9. Jawwad Ahmad Said:

    Assalam Alaikum!
    Mai tu tanhayi pasand ho. Aur haamushi ko pasand krta ho.
    Magar zyada hamushi se b Dar lagta hai, aur phir shoor ko chaahta ho.
    Insaan kisi haal mai b hush nahi hota q???

  10. اب کچھ میری جانب سے:
    کبھی کبھی اس پُر شور ماحول سے گھبرا کر دل چاہتا ہے ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں خاموشی اور سکون کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ۔۔۔۔۔ ہوا اور درخت سے گرتے ہوئے خشک پتوں کے شور کے سوا کچھ نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پہ پتّے گرتے رہیں اور میں سوکھے ہوئے پتّوں کا کچومر بناتا رہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آخری فقرے اس لیے کاپی نہیں کیے کہ ایسے خوبصورت احساس کو کوے کی بیٹ سے شریک نہیں کرنا چاہتا۔۔۔

    ہاں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ منظر کو بہت عمدگی سے پیش کیا ہے آپ نے۔۔۔

  11. اف اللہ مجھے تو خاموشی میں ہول اٹھتے ہیں،،،،،،،،،،،
    کوئ اتفاق کرے نا کرے شور میں زندگی ہے
    🙂

  12. پڑھتے ہوئے میں بھی اڑنے لگا تھا، لیکن بیٹ نے سارا مزہ کچومر کردیا۔ لعسسس

  13. hijabeshab Said:

    جواد احمد بلاگ پہ خوش آمدید ۔۔۔ آپ کے سوال کا جواب میں کیسے دوں میں بھی انسان ہوں ۔۔۔

    شکریہ عمران ، کوّے کی بیٹ کے بارے میں یہ کہ جب آپ کسی کے گھر کے نیچے بیٹھے ہوں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔ اور درخت کوّے کا گھر 😛

    زینب ، تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔۔

    عطاء رفیع ، اسی کو کہتے ہیں ڈرامے کا برا انجام ہونا ۔۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: