بھرم بازیاں ، نخرے ۔۔۔۔۔۔۔

بہت کم بولنا اور زیادہ بولنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں قابلِ قبول نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ زیادہ بولنے والے کو چپ کروایا جاسکتا ہے مگر جس کی عادت کم بولنا ، کسی بھی سوال کے جواب میں چپ رہنا یا بات کو نظرانداز کرنا ہو ۔۔۔ ڈھٹائ کی اضافی خوبی بھی ساتھ ہو اور سامع ہو مجھ جیسا ۔۔۔۔ جس کو بات چیت بند ہونے پہ بھی ہر سوال کا جواب چاہیئے تو منہ کُھلوانے کے لیئے چھترول مناسب لگتا ہے ۔۔۔۔۔ مگر افسوس چھترول صرف خیالی رہ جاتا ہے 😦
کم گو افراد میں کچھ لوگ اپنی عادت کے مطابق کم بولتے ہیں ، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کی بھرم بازیاں ہی ختم نہیں ہوتیں ۔۔۔۔ اس طرح کے نخرے کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی اہمیت بڑھا رہے ہیں لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے ۔۔۔۔ دوستوں ، قریبی رشتوں کے درمیان ایسی صورتِ حال ہو تو شکوہ ۔۔۔ غصّہ ۔۔۔ بڑھنے کے ساتھ بات ضد پہ آجاتی ہے اور جیسا کرو ویسا بھرو پہ عمل ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔
کبھی کبھی جب بولنا ضروری ہو لیکن خاموشی کو ترجیح دے کر خوبصورت رشتوں کو ٹوٹنے سے بچایا جاتا ہے ۔۔۔۔ اسی طرح بہت زیادہ کم بولنا ۔۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا ۔۔۔۔ لاتعلقی اور فاصلہ بڑھا دیتا ہے ۔۔
میرے جاننے والوں میں بھی خود کو ہیرو ہیروئین سمجھنے والے ایسے بھرم باز ہیں جن کے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔ میرے چھوٹے چھوٹے سوالوں کو نظر انداز کیا جائے یہ مجھے برداشت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر میں جب تک جواب نہ ملے پیچھا نہیں چھوڑتی ۔۔۔ اور جہاں نخرے ہوں وہاں اس کے لیئے بھی تیار رہتی ہوں کہ
اُس کے سب جھوٹ سچ سہی محسن
شرط اتنی ہی کہ وہ بولے تو سہی ۔۔۔
اس کے بعد بھی اثر نہ ہو تو جواب نہ دینے والے کی شامت اس وقت تک یقینی ہوتی ہے جب تک میں سوال نہ بھول جاؤں 😛
نیٹ پر ہر رویے اور بات کے لیئے تیار رہتی ہوں اس لیئے نیٹ فرینڈز سے کبھی اس طرح نہیں کرتی ۔۔۔ نیٹ پہ جواب نہ ملنے پہ عام معافی ہوتی ہے 🙂

Advertisements

15 تبصرے »

  1. آخری پیرا ہی کام کا ہے

  2. Zia Khan Said:

    Gee Kuch pocha hay kia ap nay 🙂

  3. کسی کو جلانے اور تپانے کے لئے خاموشی سے زیادہ موثر چیز کچھ بھی نہیں….آپ کوئی ضروری بات کر رہے ہوں اور سامنے والا سوچ میں گم ہو یا بات کو سنی ان سنی کر دے اور ایسے ظاہر کرے کہ اس جیسے عظیم مفکر اور مدبر سے آپ نے یہ سوال کر کے کوئی نہایت بچگانہ حرکت کی ہے اور وہ عظیم مفکر اور مدبر آپ کی اس حرکت کو نہایت متانت کے ساتھ نظر انداز کر رہا ہے. کبھی میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو میرے دماغ میں بروس لی اور اسکی کک گھومنے لگتی ہے. مگر چونکہ میں بزعم خود ایک مہذب انسان ہوں لہٰذا اپنے دلی جذبات کی خبر نہیں ہونے دیتا اور اسے اسی طرح نظر انداز کر دیتا ہوں جیسے دنیا میں اس کا وجود ہی نہیں ہے …..

  4. کیونکہ میرا شمار بول کر تولنے والے عقل کے دشمنوں میں ہوتا ہے۔۔۔ تو میں سب کو یہی مشورہ دیتا ہوں۔۔۔
    تول کر بولو۔۔۔ ورنہ بول کر بھگتو۔۔۔

  5. حجابِ شب سے جو تصور دماغ میں آتا ہے وہ سُناٹا، سکون، تاریکی، پردے اور خاموشی کا آتا ہے۔ اگر عنوان کا آپ یا آپکی تحاریر سے موازنہ کیا جائے تو عنوان کچھ اور ہونا چاہئیے :پ

  6. hijabeshab Said:

    ضیاء پوچھا نہیں بتایا ہے 🙂

    ڈاکٹر جواد اس طرح کی صورتِ حال میں نظر انداز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔۔۔۔ میں بھی خاموش رہ جاتی ہوں جواب نہ ملنے پر لیکن سائڈ افیکٹس دیرپا ہوتے ہیں اس کے میری طرف سے ۔۔

    نعیم اکرم ملک بہت غلط عادت ہے بول کر تولنا ۔۔۔

    عادل ، حجابِ شب کے یہ سارے تصور رات کے وقت سے مطابقت رکھتے ہیں ، آپ مجھے بھری دوپہر کا وقت سمجھ لیں 😛 ویسے میں زیادہ نہیں بولتی سچ مُچ 😳

  7. zainab Said:

    nai jawab dety to ap bi durr futtay kr k paran ho jaya karen.

  8. حجاب۔۔۔ بہت اچھا لکھا۔۔۔ آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے بھی کچھ اس سیچویشن پر ایک تحریر لکھی تھی۔۔۔ میں بھی بہت تکلیف محسوس کرتا ہوں جب مجھے ایویں کا سامع بنا دیا جائے۔۔۔۔ زیادہ بولنا تو ویسے ہی اچھا نہیں لگتا۔۔۔ اور زیادہ سننا تو اس سے بھی بھی برا لگتا ہے۔۔۔

  9. شگفتہ Said:

    میرے ساتھ کیا سلوک ہوتا ، مجھے تشویش ہو رہی ہے 🙂

  10. hijabeshab Said:

    تبصرے کا شکریہ زینب ۔۔

    عمران شکریہ مگر آپ نے تحریر ٹھیک سے نہیں پڑھی شائد 🙂

    شگفتہ ، آپ کے سوال کا جواب اس وقت ملے گا جب آپ یہ بتائیں کہ آپ کا شمار کس میں ہوتا ہے ؟؟ ہیروئین بنتی ہیں یا شرافت سے جواب دیتی ہیں 🙂

  11. جب عنوان حجابِ شب ہے تو بھری دوپہر کا وقت کیوں سمجھوں؟

    • hijabeshab Said:

      آپ کو حجابِ شب مجھ پہ فٹ نہیں لگتا نا اس لیئے بھری دوپہر لکھا تھا ۔۔ بھری دوپہر میں سکون نہیں ہوتا گرمی چین سے نہیں بیٹھنے دیتی 🙂


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: