آمدِ عید ۔۔۔

رمضان کا مہینہ ہمیشہ جلدی گزرجاتا ہے ، 4 یا 5 روزے باقی ہیں ۔۔۔ خوف زدہ شہر کراچی کے ڈرے سہمے لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔۔۔۔ ہوٹل اور دکانوں پر رات دیر تک فل والیوم میں چیختے چنگھاڑتے گانے بجنا شروع ہوگئے ہیں ۔۔۔ گانے بھی وہ جو کوشش کے باوجود سمجھ نہیں آتے ۔۔۔۔ رات کے وقت مارکیٹ کے باہر سڑک کے اطراف جگہ جگہ چوڑیاں ، بچوں کے کپڑے اور چپّل کے اسٹالز لگائے گئے ہیں مگر پہلے جیسی رونق نہیں ۔۔۔ عید کارڈز جمع کرنے کا شوق اب خواب ہوا ، عید کارڈ کا اسٹال نظر نہیں آیا 😦
اتنی خوشی ہوتی تھی جب ڈاکیا عید کارڈز لے کے آتا تھا ۔۔۔۔ دو یا تین سال گزر گئے کسی سخی سہیلی نے عید کارڈ نہیں بھیجا ۔۔۔ لیکن عید کے دوسرے دن ڈاکیا عیدی لینے ضرور آتا ہے ۔۔۔۔۔ ڈاک ٹکٹ اتنے مہنگے ہوچکے ہیں کہ جو کارڈز میں نے لے کے رکھے تھے اپنی سہیلی کو بھیجنے کے لیئے وہ میں خود کو پوسٹ کرنا بہتر سمجھوں گی 😛
مہنگائی کی وجہ سے اب لوگ عید پر تحفے بھی نہیں دیتے ۔۔۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی سہی لیکن تحفہ تو دینا چاہیئے ناں ۔۔۔۔ کوئی مجھے دے تو میں بھی دوں 😛 اب خود کو تحفہ بھی دینا پڑے گا ۔۔۔۔۔
شُکر ہے عیدی دینے کا رواج اب تک چل رہا ہے ۔۔۔ لیکن عیدی کے “ ع “ جتنے پیسوں سے بچوں کا منہ بن جاتا ہے مگر جیب نہیں بھرتی ۔۔۔ بچپن اور اسکول لائف عید مرتے دم تک یاد رہے گی ۔۔۔۔ بچپن کی عیدیں تیار شیار ہوکے محلے کے ہر گھر سے سویّاں ٹھونس کے ۔۔۔۔ کزنز کے ساتھ دنگا فساد مار کُٹائی کرکے گزریں ۔۔۔۔ ویسے میں ظالم نہیں ہوں سچ مُچ ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہاتھ کا ذائقہ بدلنے کے لیئے تھپڑ مارنے میں ہرج نہیں سمجھتی😛
اسکول میں سب سہیلیاں ایک دوسرے کو عید کارڈز دیا کرتی تھیں اس پہ لکھے اشعار یاد کرکے ہنسی آتی ہے ۔۔۔ عید آئی ہے اٹک اٹک کے آپ ہمارے گھر آنا مٹک مٹک کے ۔۔۔۔۔۔۔ سویّاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں تم کیوں رو رہی ہو تمہارے لیئے بھی رکھی ہیں 🙂
ویسے اب عید پر روایتی میٹھی ڈشز بھی کم بننے لگی ہیں ۔۔۔۔ الا بلا چیزیں ڈال کے شیف اسپیشل ڈشز بنا کے بڑکیں مارنے میں جو مزہ ہے وہ سویّوں کے زردے میں کہاں ۔۔۔۔ میں مہمانوں کی خاطر کے لیئے کچھ بھی بناؤں امّی سے سویّاں ضرور پکواتی ہوں ۔۔۔
عید پر رشتے داروں کے گھر عید ملنے جانا سب سے مشکل کام ہے ۔۔۔۔ اوپر سے ظلم یہ کہ جس کے گھر جاؤ نمکو میں چناچور اور چھولے دہی بڑے پہ آفت ضرور آئی ہوتی ہے ۔۔۔ عید پہ چناچور کھلانے کی کون سی تُک بنتی ہے بھلا ۔۔۔۔ رمضان بھر چھولے کھا کے عید پر بھی کھانا پڑے تو بہانے ہی کرنے پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بچپن میں ایک بار عید کے دن میری دادی جان مجھے لے کر مارکیٹ گئیں کہ کدّو لانا ہے ، بہت غصّہ آیا تھا کہ عید پر کون کدّو پکاتا ہے ۔۔۔ دادی کو مارکیٹ میں چھوڑ کر میں واپس آگئی تھی ۔۔۔۔ دادی مل گئیں تھیں 2 گھنٹے بعد😳 بقول میری امّاں تم عید پہ کیا نہیں کھاتی ہو اور عید پہ کیا کیا کھانا چاہیئے اس کی لسٹ بنا کے رمضان سے پہلے سب کو بھجوا دیا کرو 🙂
عید ہو یا کوئی بھی تہوار ان لوگوں کی یادیں جو ہم میں نہیں ۔۔۔ وہ باتیں ، لمحے جو گزرچکے شدّت سے یاد آتے ہیں ۔۔۔۔ یادیں زندگی کا حسین سرمایہ ہیں جن سے فرار ممکن نہیں ۔۔۔۔

9 تبصرے »

  1. اگر کسی کو احساس ہو تو يہ کتنی بدقسمتی ہے کہ ” گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ” کے مصداق ہمارا وطن بھی جل رہا ہے اور نيرو ہی نہيں اس کے سارے چيلے بھی نہ صرف بِين بجا رہے ہيں بلکہ ترقی و سُکھ چين کے نغمے سُنا رہے ہيں

    يا اللہ ہم کو سيدھے راستے پر ڈال دے قبل اس کے کہ ہم نہ نکل سکنے والی کھڈ ميں جا گريں

  2. jafarhamza Said:

    آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہو زمانہ۔۔۔
    بڑھاپے میں بچپن کی اتنی یاد آتی ہے۔۔
    D:

  3. بہت مزے کی تحریر ہے حجاب۔۔۔ جی واقعی پُرانی یادیں بہت مزیدار تھی، اب ویسا مزہ بالکل بھی نہیں۔ سب بدل سا گیا ہے.

    اللہ اِس عید کو ہم سب کیلئے خوشیوں کا باعث بنائے

  4. Zero G Said:

    بیت اچھا لکھا، بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں ،

    آف دی بلاگ ، مجھے کچھ مدد کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ آ پ کے خوبصورت بلاگ کی طرح میں بھی اپنے مرتب کردہ بلاگ کا فونٹ نستعلیق میں چاھتا ہوں، آسان زبان میں مدد فرمائیے ، شکریہ

  5. بہت خوب
    یادیں کچھ عرصے بعد پرانی ہو جاتی ہیں۔ لیکن پیاری ہی رہتی ہیں۔
    آپ کو تو میں ابھی کم عمر ہی سمجھ رہا تھا۔
    چلیں کوئی بات نہیں
    اپنے آپ کو جوان ہی سمجھنا چاھئے

  6. hijabeshab Said:

    اجمل انکل تبصرے کا شکریہ اور آمین ۔۔

    جعفر ، جی جناب بچپن تو ہمیشہ یاد رہتا ہے ۔۔۔

    شکریہ عادل اور آمین ۔۔

    زیرو جی ، بلاگ پہ خوش آمدید اور شکریہ ۔۔ ورڈ پریس پر نستعلیق فونٹ کے لیئے لنک موجود ہے میرے بلاگ پر ابھی دیتی ہوں تلاش کرکے ۔۔

    یاسر ، یادوں کا عمر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، مبارکاں آپ کی خوش فہمی دور ہوئی میں کوئی کم عمر نہیں ۷۱ کی ہوگئی ہوں 😛

  7. hijabeshab Said:

    زیرو جی ، یہ لنک ہے دیکھ لیں ۔۔

    http://utemps.blogspot.com/2010/06/wordpresscom-urdu-blog.html

  8. Zero G Said:

    بہت بہت شکریہ

    آئی ایم ویری ہیپی ٹو ڈے
    p:

  9. میں نے چاہا اس عید پر
    اک ایسا تحفہ تیری نظر کروں
    اک ایسی دعا تیرے لئے مانگوں
    جو آج تک کسی نے کسی کے لئے نہ مانگی ہو
    جس دعا کو سوچ کر ہی
    دل خوشی سے بھر جائے
    جسے تو کبھی بھولا نہ سکے
    کہ کسی اپنے نےیہ دعا کی تھی
    کہ آنے والے دنوں میں
    غم تیری زندگی میں کبھی نہ آئے
    تیرا دامن خوشیوں سے
    ہمیشہ بھرا رہے
    پر چیز مانگنے سے پہلے
    تیری جھولی میں ہو
    ہر دل میں تیرے لیے پیار ہو
    ہر آنکھ میں تیرے لیے احترام ہو
    ہر کوئی بانہیں پھیلائے تجھے
    اپنے پاس بلاتا ہو
    ہر کوئی تجھے اپنانا چاہتا ہو
    تیری عید واقعی عید ہوجائے
    کیوں کہ کسی اپنے کی دعا تمہارے ساتھ ہے


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: