پُل صراط ۔۔۔۔

بچپن میں جو کہانیاں پڑھیں ان میں پہاڑوں سے گِھری وادی ، پہاڑ کے پیچھے بسنے والے بونوں ، جِن ، بھوت ، پریوں کا ذکر ہوتا تھا ۔۔۔۔۔ ساتھ یہ ہدایت بھی کہ اُن پہاڑوں کی طرف نہ جانا پریاں پرستان لے جائیں گی یا بونے اپنے دیس ۔۔۔۔۔
کہانیوں میں ذکر پڑھتے پڑھتے ہم حقیقت میں پہاڑوں سے گِھری وادی میں آ بسے ۔۔۔۔ جس کو اورنگی ٹاؤن کہتے ہیں ۔۔۔۔ پتہ نہیں کس نے کہا اور اس میں کتنی سچّائی ہے ، مگر میں نے سنا ہے کہ اس جگہ پہلے سمندر تھا ۔۔۔۔ پہاڑ سمندر کے اندر تھے ، اور یہاں پھر کسی زمانے میں پانی واپس آئے گا باقی اللہ جانے ۔۔۔۔۔
میں اور میری کزنز بونوں اور پریوں کی تلاش میں روزآنہ پہاڑ پہ جایا کرتے تھے ۔۔۔۔ پہاڑ کے اوپر بیٹھ کے دوسری جانب کا نظارہ ہوتا تھا ۔۔۔۔ ایک پہاڑ کا دہانہ غار نُما ہے ہم اس میں جھانکا کرتے تھے مگر سیاہی اور مکڑی کے جالوں کے سوا کبھی کچھ نظر نہیں آیا ، شائد کبھی اس میں سے لاوا نکلا ہو ۔۔۔۔ ہم پہاڑ کے اوپر کب تک سیر کرتے ، ایک دن ہمت کرکے دوسری طرف اتر گئے ۔۔۔۔۔ وہاں پریاں اور بونے تو نہیں ملے ۔۔۔۔ بکریاں چراتے بچّے ضرور ملے ۔۔۔۔۔ ہم بکری کے بچّے کو پکڑنا چاہتے تو وہ پتھر اُٹھا کے مارتے ۔۔۔۔ جب کالج جانے کے لیئے بنارس چورنگی سے آنا جانا ہوا تو سمجھ آئی کہ پتھر مارنا ان کی بچپن کی عادت ہے 🙄
ہم کزنز نے اورنگی کے ہر پہاڑ پر جہاں ہم جاسکتے تھے جاکر پکنک منائی ہے ۔۔۔۔ جاوداں سیمنٹ فیکٹری تک کے چکر لگائے ہیں ہم نے ۔۔۔۔ اس وقت پہاڑ پہ گھر بہت کم بنے ہوئے تھے ، اب تو پہاڑ پر گھر ہی گھر نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ اس وقت کوئی ڈر خوف نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اور اب نہ جانے کب سے ہم سب سوچ رہے ہیں کہ ایک پہاڑ جو دور سے ہلکا نیلا دھند میں لپٹا نظر آتا ہے وہ کبھی نہیں دیکھا ، اس کو قریب سے دیکھ لیں مگر جائے کون ۔۔۔۔۔۔۔ پہاڑ سے پہلے ان کا بسیرا ہے جو اہلیانِ اورنگی کو بنارس سے گزرنے نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بنارس کا پُل بنا اورنگی والوں نے شُکر ادا کیا کہ اب سکون ہوا ۔۔۔۔۔ نیچے کچھ ہورہا ہو پُل پہ آمدورفت جاری رہتی تھی ۔۔۔۔ اس کا سب زیادہ نقصان بنارس چورنگی پہ ٹھیلا لگانے ، اور دکان والوں کو ہوا ۔۔۔ چیزیں کم فروخت ہونے لگیں آمدنی کم ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔ کب تک برداشت کرتے ۔۔۔۔۔ پُل پر خون کی ہولی کھیل لی گئی 😦
میڈیا نے اپنا کام کیا عوام تک نیوز پہنچا دی ۔۔۔۔ لیکن حادثے کے کچھ دیر بعد جن لوگوں نے وہاں سے گزرنے کی ہمت کی انہوں نے وہاں صرف دہشت اور طاقت کا راج دیکھا ۔۔۔۔۔۔ عوام کے محافظ دور دور تک نظر نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف اسی خاص دن نہیں مہینے کے 30 دن بنارس سے گزرنے والے خطرے کی زد میں رہتے ہیں ، اور ایسا مہینے کی ابتدائی تاریخ میں زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ محنت سے کمائی گئی تنخواہیں لوٹ لی جاتی ہیں ۔۔۔۔ ہزار ہا ایسے واقعے کے بعد بھی پولیس وہاں نظر نہیں آتی ۔۔۔۔ شائد پولیس کو بھی حصّہ ملتا ہوگا جبھی پولیس سو رہی ہوتی ہے ۔۔۔
کل سے مسلسل کٹی پہاڑی ، قصبہ کالونی اور دوسرے علاقوں کا نام سنائی دے رہا ہے کہ رینجر نے کنٹرول سنبھال لیا ۔۔۔۔۔۔ مگر بنارس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ وہاں کیا اقدامات کیئے گئے ۔۔۔۔ آج پبلک ٹرانسپورٹ چلنے کے باوجود زیادہ تر لوگوں نے گھر پہ رہنا بہتر سمجھا ، مگر کب تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ سے یہی دعا ہے کہ جتنے دعوے سنے ہیں وہ سچ ہوجائیں ۔۔۔۔ بنارس ، کٹی پہاڑی کا سفر پُل صراط کا سفر نہ رہے ۔۔۔۔۔ کراچی میں امن قائم ہو ۔۔۔۔ رینجر واقعی حالات کنٹرول کرلے ہنگامے کے وقت منہ چھپا کے بھاگ نہ جائے ۔۔۔۔۔۔ جیسے سیاسی پارٹی کے لوگ بلند وبانگ دعوے کرکے کسی بھی ایسے موقعے پہ چوڑیاں پہن کے ڈوپٹے میں منہ چھپا کے پردہ کرلیتے ہیں ۔۔۔۔

Advertisements

8 تبصرے »

  1. عثمان Said:

    ہمم …
    تو پیارے بچو! پتا لگا کہ پریاں پہاڑوں پر سیر کرنے جایا کرتی تھیں۔ بونے پتھر مارتے تھے ، اور جن بھوت صرف ڈرانے کا کام کرتے تھے۔ پھر انسان آہستہ آہستہ ان پہاڑوں میں آباد ہونا شروع ہوگیا۔ پریاں تو اڑ گئیں ، جنوں بھوتوں اور بونوں کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
    ثابت ہوا کہ انسان ، جن بھوت اور بونوں سے کہیں ذیادہ خطرناک ہے! 😦

  2. نہائت اچھے طریقے سے آپ نے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی آپکو اور سارے کراچی اور تمام اہلیان کراچی کو محفوظ مامون رکھے۔ اور ان بد بخت سیاہ ستدانوں اور حکمرانوں سے عوام کو آزاد کرے۔ اور اچھی لوگوں کو موقع ملے۔

    ویسے اب کراچی کے عوام کو کوئی شہری تنظیم یا پارٹی بنا لینی چاہئیے جو کراچی کے تمام شہریوں کے لئیے کام کرے۔

    کوئی ادہر سے لٹے یا ادہر سے۔ نقصان کراچی کا ہے۔

  3. اللہ آپ کیلئے آسانی کرے اور خنزیروں کو نابود کرے۔۔آمین

  4. پہاڑوں والے جن اور بونے شائد بنارس پل پر اگئے ہیں ،

  5. بلاگستان میں ایک بڑی غلط فہمی ہے کہ کراچی میں صرف ایک ہی گروہ ہے جوبھتہ لیتا ہے ، غنڈہ گردی کرتا ہے اور بیگناہوں کو مارتا ہے. حقیقت صرف اتنی ہے کہ اگر کراچی میں دوسرے صوبوں سے محنت کشوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مجرمانہ ذہنیت والے لوگ نہ آئے ہوتے تو ایم کیو ایم کبھی وجود میں نہ آتی. جن علاقوں کا آپ نے ذکر کیا ان علاقوں میں بد قسمتی سے ڈاکوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد خیبر پختونخواہ اور اے این پی سے تعلق رکھتی ہے. یہی وہ جگہ ہے جہاں 1986 میں بلا کسی اشتعال انگیزی کے اردو بولنے والوں کا قتل عام کیا گیا اور ایم کیو ایم کو تمام اردو بولنے والی آبادیوں سے پاپولر سپورٹ ملی جو آج تک حاصل ہے. یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کی خلاف قانون سرگرمیاں لوگوں میں کسی بیزاری کا سبب نہیں بنتیں کیوں کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے ایم کیو ایم ہی کی طرف دیکھتے ہیں.

  6. موجودہ ڈی ايچ اے اور کلفٹن کا کا فی حصہ سمندر تھا ۔ يہ تو صرف آدھی صدی پہلے کی بات ہے ۔ سمندر واپس آنے والی بات کسی حد تک درست ہے ۔ پچھلے سال سيلاب سے جو بڑی تباہی ہوئی اس کی وجہ يہی تھی کہ دريا کے پاٹ ميں جسے کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے عمارات تعمير کر لی گئيں تھيں ۔ ہم نے سکول کے زمانہ ميں پڑا تھا کہ پانی کا راستہ کبھی نہيں روکنا چاہيئے

  7. khalidhameed Said:

    اللہ رحم کرے ۔

    اب تو حالات مزید خراب سے خراب تر ہونے کے آثار دکھلائی دیتے ہیں۔
    پی پی کا آفاق گروپ سے گٹھ جوڑ اور کراچی شہر میں الگ صوبے کی وال چاکنگ۔
    پی پی والوں کو تو آگ لگ جاتی ہے الگ صوبے کی بات کرنےپر۔
    نہ جانے کیا ہوگا۔
    اللہ ہمارے شہر پر رحم کرے۔

  8. hijabeshab Said:

    آپ سب کے تبصرہ کرنے کا شکریہ ۔۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: