ماسٹر جی ….

“ خدا جس کو زمین پر عاجز کرنا چاہتا ہے ، اس سے عاجزی چھین لیتا ہے “
ماسٹر جی نے اپنی بات کا آغاز ایک حقیر اور غیر معمولی بات سے کیا ۔ مجھ سمیت چالیس کے قریب نٹ کھٹ اور بلا کے شرارتی لڑکے ہمیشہ کی طرح دم سادھے بیٹھے تھے ، یہ ہمارے ہائی اسکول کے وہ واحد استاد تھے جن کے بارے میں طالب علم تو درکنار ان کے کسی اپنے ساتھی کو بھی کبھی کوئی شکایت کرتے نہیں سنا گیا ، جس نے اور جب بھی یاد کیا اچھے اور عمدہ الفاظ سے ہی یاد کیا ۔۔
ماسٹر جی نے بولنا شروع کیا “ کسی غریب کا اپنی غربت پر ندامت اختیار کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا کسی امیر کا اپنی امارت پر غرور کرنا ، جو شخص اپنی قسمت پر راضی نہیں ہوتا ، وہ خدا کی ناراضی مول لیتا ہے کیونکہ اس طرح وہ خدا کی تقسیم سے بغاوت کرتا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان جدوجہد اور محنت کا راستہ ترک کردے ۔ جو ہے اس پر قناعت کرنا ، خدا کا شُکر بجالانے کے مترادف ہے اور جو نہیں ہے اس کے لیئے جدوجہد کرنا خدا کی خواہش کی تکمیل کا نام ہے “
“ تم پوچھو گے وہ کیسے ، خدا کی مرضی اس میں کہاں سے آگئی ؟ “ ماسٹر جی نے ہمارے پر تجسس چہروں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
“ انسان کی ساخت پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ انسان بنا ہی محنت کے لیئے ہے ، اس کے ہاتھ پاؤں ، جسمانی طاقت اور اسے بخشی ہوئی بے بہا دماغی قوتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ قدرت اسے محنت کرتے دیکھنے کی متمنّی ہے ۔ جس طرح کسی مشین کے موجد کو اس وقت تک حقیقی خوشی اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا جب تک اس کی بنائی ہوئی مشین پوری طرح سے کام نہ کرنا شروع کردے ، اسی طرح خدا اس شخص سے کبھی خوش نہیں ہوسکتا جس نے اس کے بنائے ہوئے وجود کو ناکارہ بنا دیا ہو یا اس سے کام لینے کی بجائے اسے دوسروں کے سہارے پر چھوڑ دیا ہو “
ماسٹر جی نے ہلکے سے گلا کھنکارا اور اپنی بات جاری رکھی ۔ “ تمہیں پتہ ہے کہ لوگ دولت اور شہرت کے معاملے میں اکثر ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقت ور ذہن صرف تدبیر کا سوچتے ہیں ، میرے خیال میں سب سے برا حسد کسی کے ساتھ اپنا مقدر تبدیل کرنے کی خواہش کرنا ہے ۔ “
ماسٹر جی ذرا سی دیر کے لیئے ٹھہرے تو ایک لڑکے نے ان سے سوال کی اجازت لی اور بولا “ سر ہم انسان ہیں ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ حسد درست نہیں ہم ایسا کر بیٹھتے ہیں کوئی ایسا آسان طریقہ بتائیے کہ ہم اپنا دامن اس برائی سے بچا سکیں “
ماسٹر جی مسکرائے اور پھر بولے “ یہ بہت سادہ سا سوال ہے اور اس کا جواب اس سے بھی زیادہ سادہ ہے ، دیکھو جس سے حسد ہورہا ہو ، اگر اسے دعا دے دی جائے تو حسد جاتا رہتا ہے “ تمام لڑکے ماسٹر جی کے جواب پر حیرت زدہ رہ گئے ۔
کیا تمہیں پتہ ہے کہ ایک مضبوط انسان کی تعریف کیا ہے ؟ ماسٹر جی نے ہماری طرف دیکھا ۔ ہم جو انہیں بڑی عقیدت اور محبت سے دیکھ رہے تھے چپ رہے ۔ شائد اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم جانتے تھے کہ کوشش کے باوجود بھی ہم اس “ منطقی جواب “ تک نہیں پہنچ سکیں گے جو ان کے شایانِ شان ہو ۔
میں تمہیں بتاتا ہوں ماسٹر جی نے کہا ، “ مضبوط انسان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ غریب جو دولت مندوں کی دولت دیکھ کر حسد نہیں کرتے اور نہ دولت کی حرص انہیں بےچین کرتی ہے ۔ اور دوسرے وہ امراء جو اپنے مال پر غرور نہیں کرتے اور نہ اپنی دولت سے دوسروں کو خوفزدہ کرتے ہیں “
ماسٹر جی نے لڑکوں پر ایک نگاہ ڈالی اور بولے “ میرے خیال میں امیروں سے نفرت کرنے والا غریب اور غریبوں سے نفرت کرنے والا امیر دونوں یکساں درجے کے مجرم ہیں کیونکہ دونوں کے نزدیک ایک دوسرے سے نفرت کی وجہ “ دولت “ ہے ، دولت پر تکبر نہ کرنے والے جانتے ہیں کہ “ المتکبر “ اللہ کی وہ صفت ہے جس میں کسی طرح کی شرکت شرک ہے ، اور شرک خدا کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم ہے “
“ لیکن سر کیا انسان دنیاوی کامیابیوں پر فخر نہیں کرسکتا ؟ کیا یہ بھی شرک کے زمرے میں آئے گا ؟ “
میں نے سوال کیا تو ماسٹر جی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ “ فخر اگر اپنی حدود میں رہے تو برا نہیں لیکن اگر حدود سے باہر نکل جائے تو پھر غرور اور فخر میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا ۔
دیکھو اور میری بات پر غور کرو ! فخر یہ ہے کہ میں بھی ہوں “ اور “ غرور یہ ہے کہ بس میں ہی ہوں ۔ جب تم کسی شخص کو غرور کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ بے خبری اور غلط فہمی کا شکار ہے ، تم ایسے شخص سے دور رہنا ، وہ دنیا سے ستائش چاہتا ہے ، اور ستائش اپنے اوپر عدم اعتماد کی علامت ہوتی ہے ۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے والوں کے قریب سے گزریں تو شائد وہ بہت چھوٹے نظر آئیں ۔ “
ہم ہمہ تن گوش تھے ، معرفت اور علم کے خزانوں سے اپنا دامن بھرتے جارہے تھے ، آپ مانیں یا نا مانیں یہ واحد پیریڈ ہوتا تھا جس میں استاد کو “ خاموش پلیز خاموش “ کے الفاظ کہنے کی کبھی نوبت نہ آئی ۔
ماسٹر جی بولے ۔ “ مجھے صرف ڈر لگتا ہے تو اس بات سے کہ ہمارا معاشرہ مغرب کی اندھی تقلید میں ایسی شکل اختیار نہ کر جائے جہاں پیسہ تہذیب ونسب اور غربت محض احساسِ شرمندگی بن کر رہ جائے ، کیونکہ جدید دور کا المیہ یہ ہے کہ اس نے معاشرے میں “ عزت اور مرتبہ “ حاصل کرنے کے لیئے بنیادی اور حقیقی فلسفے پر کاری ضرب لگائی ہے ۔
پتہ نہیں مین کس حد تک غلط ہوں یا درست لیکن مجھے لگتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت ، خاندانی شرافت ، تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار جیسے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔
اور معاشرے میں “ عزت کا معیار “ محض دولت ہی رہ گئی ہے ۔ انہوں نے اپنا جملہ پورا کیا ہی تھا کہ پیریڈ کے خاتمے کی گھنٹی بج اٹھی ۔
اس بات کو برس ہا برس گزر گئے لیکن ماسٹر جی کی باتیں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں ، میں سوچ رہا ہوں کہ وہ درویش کیسا دانا اور عقلمند تھا ، آنے والے دور کے بارے میں اس کے خیالات اور خدشات کتنے درست تھے ۔ میں زندگی کے بہت سے معاملات میں آج بھی ان کے فلسفے سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں ، اور میرا یقین ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مستفید ہوسکتا ہے جو اپنے احتساب کا قائل ہے ۔
( ماہنامہ دسترخوان کے ایڈیٹر “ ریاض احمد منصوری “ کی تحریر )

9 تبصرے »

  1. گڈ ۔۔۔ بیت اچھا ہے ۔۔۔۔ اور مصنف کی تو بات ہی اور ہے :ڈ

  2. کہنا پڑے گا اچھا انتخاب تھا پڑھ کر مزا آیا۔

  3. کيا غضب کا فقرہ ہے ” خدا جس کو زمین پر عاجز کرنا چاہتا ہے ، اس سے عاجزی چھین لیتا ہے“۔ ساری تحرير ہی بلند پايہ عقل کی غماز ہے ۔ اللہ ہميں حقائق کو سمجھنے کی توفيق عطا فرمائے

  4. ایمانداری کی بات ہے، مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ اتنی گہری تحریر۔۔۔ وہ بھی کسی نوجوان لڑکی کے قلم سے۔۔۔ بہرحال اختتام پر اصلی مصنف کا نام دیکھ کر دِل کو سکون ہو گیا کہ نہیں بھئی ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔
    اچھا اقتباس شیئر کیا آپ نے۔۔۔ بلاشبہ فخر جب حد سے باہر نکل جائے تو غرور کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔۔۔

  5. hijabeshab Said:

    ضیاءالحسن ، شعیب صفدر اور اجمل انکل شکریہ ۔۔

    نعیم اکرم ملک شکریہ ، اور اگر پوسٹ کے آخر میں میرا نام ہوتا تو کیا سکون برباد ہوجاتا ؟؟؟ لکھ تو کوئی بھی سکتا ہے نوجوان اور بچہ بھی ، کسی گہری تحریر کو لکھنے کے لیئے زیادہ عمر ضروری نہیں ہوتی ۔۔

  6. شازل Said:

    اچھی تحریر ہے اور متاثر کن بھی۔

  7. ” خدا جس کو زمین پر عاجز کرنا چاہتا ہے ، اس سے عاجزی چھین لیتا ہے“
    ایک جملے میں بہت بڑی بات کر دی ہے.بہت شاندار انتخاب ہے.

  8. پوسٹ دیکھتے ہی زہن میں ایا کہ ضیاء کے بلاگ پر بھی یہ تحریر دیکھی تھی جب اسنے بلکل بلاگنگ شروع ہی کی تھی اور وہاں جاتے ہی اس کی پوسٹ میں مل گئی
    http://zhasankhan.blogspot.com/2010/06/blog-post_16.html
    لیکن ضیاء نے مصنف کا نام نہیں لکھا تھا اور میں اس کو ضیاء کی تحریر سمجھتا رہا اب تک۔

  9. hijabeshab Said:

    شازل ، ڈاکٹر جواد تبصرے کا شکریہ ۔۔

    بلا امتیاز ، جی مجھے ضیاء الحسن نے بتایا تھا کہ یہ ان کے بلاگ پر موجود ہے شکریہ ۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: