علامہ وائرس ۔۔۔

وائرس کوئی بھی ہو خطرناک ہوتا ہے ، اس لیئے میری کوشش ہوتی ہے ہر ممکن کوشش کروں کہ کوئی وائرس مجھ پر حملہ آور نہ ہو ۔۔۔ لیکن ایک وائرس ایسا ہے جس سے فرار ممکن نہیں وہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ وائرس ۔۔۔۔
ہاں ہاں مجھے پتہ ہے ۔۔۔۔ جو بات تم کہہ رہی ہو مجھے پہلے سے معلوم ہے ۔۔۔۔ ایسے نہیں ایسے ٹھیک ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا تھا نا ایسا ہوگا ۔۔۔۔ تم نے سنا فلاں علاقے میں ہنگامہ ہوا ہے ابھی نیوز دیکھی میں نے ۔۔۔۔ ہاں میں نے صبح نیوز دیکھی تھی پتہ ہے ۔۔۔۔ ارے بھئی ، ہنگامہ ابھی ہوا ہے صبح کیسے دیکھی 😕
یہ ذکر ہے خود کو علامہ سمجھنے والے لوگوں کا جن کو سب کچھ پتہ ہوتا ہے بلکہ کوئی ایسا واقع جو وقوع پذیر نہ ہوا ہو یہ عالم فاضل گیانی لوگ اُس سے بھی واقف ہوتے ہیں ۔۔۔۔ میرے اطراف زیادہ تر لوگ اور گھر میں ایک بندہ اس وائرس میں مبتلا ہیں ۔۔۔۔
کوئی چھوٹی سی بات کی جائے جس کا مطلب واضح ہو اس میں بھی نقص نکال کے میں میں کرنا ، بات چاہے غلط کی گئی ہو لیکن ہر حال میں خود کو ٹھیک سمجھنا ۔۔۔۔۔ یہ سب اس وائرس سے متاثر ہونے کی علامات ہیں ۔۔
“ سب پتہ ہے “ کا عملی نمونہ پچھلے ہفتے پیش آیا ۔۔۔۔ مجھے کہیں جانا تھا میری چچی جان نے کہا میں بھی چلوں گی ، میں نے کہا آپ کی طرف ٹیکسی جلدی مل جاتی ہے آپ لے کر آجائیں ۔۔۔۔ میں ان کو بتانے لگی کہ کہاں جانا ہے ٹیکسی والے کو ٹھیک سے بتا دیجیئے گا انہوں نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا ہاں ہاں مجھے پتہ ہے تم تیار رہو میں آتی ہوں ۔۔۔۔ ٹیکسی آئی سفر شروع ہوا کچھ دیر چچی سے بات کرنے کے بعد باہر کی طرف دیکھا تو راستہ انجانا ۔۔۔۔ ٹیکسی والے سے پوچھا کدھر سے جارہے ہو ، اس نے کہا جہاں ان خاتون نے بتایا وہیں جا رہا ہوں ۔۔۔ پوچھا کہاں ، اس نے جو جگہ بتائی وہاں تو جانا ہی نہیں تھا 🙄
چچی بضد کہ میں نے تو ٹھیک بتایا تھا ۔۔ ڈرائیور کی چخ چخ شروع کہ اب کرایہ زیادہ ہوگا ، منزل پہ پہنچ کے میں نے اضافی کرایہ دینے سے انکار کردیا اور چچی نے سب پتہ ہے کا جرمانہ ادا کیا😛
ان عالم فاضل لوگوں سے بچنا بھی مشکل ہے کچھ قریبی رشتے ہیں تو کچھ دوستیاں ، لیکن کب تک “ میں ٹھیک “ میں یہ “ میں وہ “ سن کے اپنی صحیح بات کو منوانے کے لیئے بحث کرکے خون جلایا جائے ۔۔۔۔ کیوں نہ وائرس کے خاتمے کا طریقہ تلاش کیا جائے ۔۔۔۔
ایک طریقہ سمجھ آیا کہ ہر بات پہ اچھا اچھا کہا جائے تو بیزاری کا تاثر ملے گا اور بات جلدی ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔۔ مگر نہیں جناب اس کا اثر الٹا ہوتا ہے خوشی سے گردن مزید اکڑ جاتی ہے کہ بات مان لی گئی ۔۔۔۔۔ اب میں اتنی اچھی بھی نہیں کہ “ میں میں “ کو خوش کروں ۔۔۔۔۔ پھر کیا کروں ۔۔۔۔۔ ہے کوئی طریقہ اس وائرس کے خاتمے کا 😕

16 تبصرے »

  1. مجھے پہلے ہی پتا تھا آپ یہ لکھی گی!!! توبہ ہے دیکھے پھر کمال ہے ناں مان گئی نا ہمیں!!!
    ویسے اللہ بچائے اس وائرس سے!!!

  2. اس وائرس کا علاج ہے نا….اس اینٹی وائرس ( اینٹی کو آنٹی نا پڑھا جائے ) کا نام ہے سالڈ بول بچن مائیسین….اس سے پہلے کے سامنے والا علامہ بنے آپ اس سے پہلے علامہ بن جاؤ….نا صرف علامہ بنو بلکہ ایسا علامہ بنو کے سامنے والا آپ کا منہ ہی دیکھتا رہ جائے کہ یار یہ تو مجھہ سے بھی بڑا چھوڑو ہے.

  3. بالکل ہے طریقہ
    فُل بے مروتی اور بد لحاظی

  4. باقی بہت ہی اچھا ہوتا ہے انکے ساتھ جنکے دماغ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہوں نا کا وائرس ہوتا ہے :ڈ

  5. syaserjapani Said:

    آپ اپنی کتنی ہی کر لو۔
    لیکن جو چاچی کو ہر جانہ کیا ہے نا
    اس سے ہمیں سب پتہ چلا گیا۔
    آپ ایویں ہی ہو۔

  6. یہ وائرس تقریبا ہم سب میں موجود ہے کسی میں ذیادہ فعال ہے اور کسی میں کم اور کسی میں کرسٹل بن کر سو رہا ہے۔جیسے منفرد نظر آنے کے لیے اوٹ پٹانگ فیشن کئے جاتے ہیں ایسے ہی دوسروں سے وکھری ٹائپ کی رائے دے کر اور دوسرے سے پہلے پتہ ہونے کا ایوارڈ دکھا کر خوش ہوا جاتا ہے۔ دوسروں(خاص کر قریبی دوستوں) کی پراگرس کوئی صوفی ہی ہضم کر سکتا ہے ورنہ ہم اپر اپر سے شاباش بھی دیں تو اندر جلن تو ہوتی ہے نا اور بعض اوقات یہ جلن بھی اس وائرس کو فعال کر دیتی ہے۔اور ہم کہتے ہاں کہا تو اس نے ٹھیک ہے پر یہ یہ باتیں مجھے پہلے سے پتہ تھیں۔۔۔

  7. حجاب جب کوئی حل ملا یا کوئی اینٹی وائرس تو مجھے بھی ضرور بتانا۔۔۔۔

  8. ویسے ہم تو ایسے لوگوں کو یا تو ڈاکٹر کہتے ہیں یا پرفیسر۔ جو اپنے آپ کو کابل سمجھتے ہیں۔ لیکن ہوتے نہیں ہیں۔ میرے خیال سے ڈاکٹر جواد احمد صاحب والا مشور ٹھیک ہے

  9. کبھی کبھی ہمارا بھی اس وائرس علامہ سے سامنا ہوجاتا ہے لیکن میں تو آرام سے یا ان صاحب سے منہ پھیر لیتا ہوں یا بس موبائل نکال کر گیم کھیلنے لگ جاتا ہوں۔ اور یہ صاحب بس سٹارٹ ہی رہ جاتا ہے۔پھر خود ہی خاموش ہوجاتا رہے۔
    میرے خیال میں ایسے لوگوں سے توجہ دوسری طرف کرنا ہی انکا اصل علاج ہے۔ خود ہی یا تو چھپ ہو جائیں گے اور یا کسی جھوٹے ضروری کام کا کہہ کر چلے جائیں گے۔

  10. اگر تو کسی سے چڑ نہ ہو کہ سے مفت میں علامہ وائرس بنا ڈالا جائے اور درحقیقت علامہ وائرس سے واسطہ پڑ جائے ۔ ۔ ۔ تو اسے بے وقوف اور عقل سے معزور سمجھتے ہوئے اس پہ رحم کھایا جائے۔ اگر ایک انسان کے پاس آنکھیں ہی نہیں تو اس سے بینا لوگوں کی طرح دیکھنے کی ضد کرنا درست نہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ باشعور و بے شعور لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسلئیے بے شعور اور بے وقوف کی بات کا اثر نہیں لینا چاہیے۔ اسے معذور سمجھ کر اس سے خصوصی سلوک کیا جانا چاہئیے۔

    البتہ اس “سلوک” کی بہت سی قسمیں ہیں۔ اور وقت ماحول اور صورتحال کی مناسبت سے یہ “سلوک” کی نوعیت اور اسکا طریقہ کار بدلتا رہتا ہے۔

    اردو بلاگستان پہ بھی ایک آدھ کردار ایسا ہے جس نے سب کو زچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ تو ظاہر ہر ایک سے ایک جیسا سلوک نہیں کیا جاسکتا🙂

    حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔ ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا۔ منتظمین کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ یار لوگوں کو آواری میں گپ شپ کا اچھا موقع ملا۔ . . . . . . . . . . . .

  11. hijabeshab Said:

    شعیب صفدر ، اس کا مطلب آپ کو گیان دھیان والا مان لیا جائے 🙂

    ڈاکٹر جواد ، چھوڑو بننا آتا تو مسئلہ ہی نہیں ہوتا پھر ۔۔۔

    ڈفر ، اپنے بڑوں سے بدلحاظی کیسے کروں ، بے مروتی کرکے تجربہ کروں گی ۔۔۔

    ضیاء ، ٹھیک لکھا پ نے ڈفر کا پیلا منہ ہی ٹھیک ہے 😛

    یاسر ایویں تو ہوں ہی میں 🙄

    بلاگ پر خوش آمدید غلام عباس مرزا ، آپ کا تبصرہ بہت اچھا لگا مجھے بلکل ٹھیک لکھا آپ نے ۔۔

    عادل جی ضرور میں بتاؤں گی آپ فیس تیار رکھیں ۔۔

    خرم اور درویش خراسانی تبصرے کا شکریہ ۔۔۔

    جاوید گوندل صاحب ،اگر ہر وقت تنقید کی جائے اور غلطی نکالی جائے تو چڑ تو ہو ہی جاتی ہے ۔۔

  12. shahidaakram Said:

    حِجاب میں ایسے لوگوں سے اِتنی تنگ ہُوں کہ بتا نہیں سکتی ،،میں اور انا کے مارے ایسے بکواسیوں کا دِل چاہتا پے سر توڑ دُوں جو اپنے سامنے کِسی کو بھی گردانتے نہیں بس نہیں چلتا توپ کی ساتھ باندھ کر آرڈر دُوں،،،فائرررررررررررررررررررررررررررر

  13. hijabeshab Said:

    شاہدہ آپی بہت خوب ، آپ تو کچھ زیادہ ہی جلی بھنی ہوئی ہیں ایسے لوگوں سے ۔۔۔ آپ کا فائر پسند آیا🙂


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: