جون میں دسمبر ۔۔۔

یا اللہ ! ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ رکھنا ۔۔۔ اس دنیا کی گرمی سے بچاؤ کے ہم ہزار جتن کرتے ہیں آخرت کی فکر نہیں کرتے ہمارے تھوڑے اعمال کو قبول کرنا، بس تو ہمیں جہنم کی آگ سے بچانا پروردگار ۔۔۔۔
اس نے نیم کے نیچے تخت پہ بیٹھی دادی اماں کا باآوازِ بلند کہا گیا یہ جملہ سنا جو وہ دن میں تین یا چار بار ضرور دہرایا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔۔ حبس زدہ گرم موسم ، بجلی بھی غائب تھی وہ چھت پہ ڈالے گئے کپڑے اٹھانے چلی آئی ۔۔۔ شام ڈھل رہی تھی لیکن دھوپ میں تپش اب بھی تھی ۔۔۔ امّاں نے پودوں کو پانی دیا تھا ایک ننھی سی چڑیا بھیگے ہوئے پتّوں پر خوشی سے ادھر اُدھر اڑتی پھر رہی تھی ۔۔۔ ہر حال میں مست موسم سے بے پرواہ بچّے گلی میں کھیل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ آہ بچپن اس نے ٹھنڈی سانس بھری ، بے فکری کے دن رات ، شرارتیں ، مٹی کے گھروندے بنانا توڑ دینا ۔۔۔۔ اور اب دنیا جہاں کی فکریں ، مصروفیات میں کبھی کسی بات پر بچپن کی کوئی یاد آ جائے تو ایک مسکراہٹ اور بس ۔۔۔
وہ چھت کے کونے میں پڑی کرسی پہ آ بیٹھی ، گرمی کی حبس زدہ راتیں ہوں یا سردیوں کی ٹھنڈی چاندنی راتیں یہاں بیٹھنا اسے بہت اچھا لگتا تھا ۔۔۔۔ اس نے سامنے والے گھر کی طرف دیکھا شکر ہے لوفروں کا ٹولہ وہاں موجود نہیں تھا ورنہ نیچے جا کے گرمی میں سڑنا پڑتا ، کتنی بار امّاں کو کہا کہ اے سی لگوا لیں مگر امّاں بھی ناں ہزار خرچے گنوانے لگتی ہیں ۔۔۔۔۔ سال بھر سردیاں رہیں تو کتنا اچھا ہو نہ بجلی کی فکر نہ ٹھنڈے پانی کی اور نہ ہی مزاج میں گرمی ، یہ سب سوچتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔۔۔
امّاں کب سے کہہ رہی ہوں پینڈیاں بنا دیں سردیاں گزر ہی نہ جائیں ۔۔۔۔ اور یہ دیکھیں یہ سوٹ کل تایا کے ہاں ہونے والی تقریب میں پہن لوں ۔۔۔۔۔ اتنا بھاری جوڑا اس موسم میں ؟؟؟؟ ارے امّاں ایسے سوٹ ان حسین موسموں کے لیئے ہی تو ہوتے ہیں ، رضائیاں بھی اب نکال لیں اور اپنے لاڈلے سے کہیں گیزر آن کردے صبح پانی ٹھنڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانی واہ بارش ۔۔۔۔ اس نے چہرے پہ پانی کے قطرے محسوس کیئے ۔۔۔ دور سے کسی کے تیز بولنے کی آواز آرہی تھی ۔۔۔۔ اتنے حسین موسم میں پتہ نہیں کون بدذوق لڑ رہا ہے ۔۔
اچھا !!! تو میں بدذوق ہوں ، تم چھت پہ کپڑے اٹھا کے تہہ کرنے آئی تھی یا کپڑے اوڑھ کر سونے ؟؟؟؟؟ سردی ہے ناں اور اب تو بارش بھی ہونے لگی ۔۔۔
ہائے میری بچّی ، دونوں وقت مل رہے تھے تو اوپر آئی تھی ۔۔۔ اب کیا اول فول بکے جارہی ہے کسی انجانی مخلوق کے اثر میں تو نہیں آگئی ۔۔۔۔ اٹھو بیٹا ہوش کرو ۔۔۔۔۔ ایک بار پھر پانی کے قطرے چہرے پر پڑتے ہی آنکھیں کُھل گئیں ۔۔۔۔۔۔ سامنے امّاں پریشان کھڑی تھیں اور وہ تہہ کیئے جانے والے کپڑوں کے ڈھیر میں گُھسی پسینے سے شرابور تپتے ہوئے جون میں دسمبر کا مزہ لے چکی تھی ۔۔۔

Advertisements

16 تبصرے »

  1. یہ کیا ؟؟ انقلاب اچھا ہے :9

  2. ماں کی دعا اے سی کی ہوا ……

  3. جب لاگ ان ہو کر کمنٹ کرنا ہے تو ماڈریشن کی کیا ضرورت 😦

  4. پاکیزہ اسکو چھاپے ای چھاپے
    شور شاٹ
    گرنٹڈ

  5. وہ آٹھ آنے والی کہانی جیسی کتاب ہی چھاپ دیں۔
    خوب بکے گی۔
    بہت خوب

  6. محمد سعید پالن پوری Said:

    ماشاء الله اور جزاك الله اس بات پہ کہ اب آپ بھی ایسی پوسٹ لکھنے لگی ہیں جو سمجھ میں نہیں آتی۔ استاد بننے کی یہ پہلی سیڑھی ہے

  7. سارہ Said:

    ھاھاھا زبردست حجاب۔۔ کے ای ایس سی کے جن کا اثر لگ رہا ہے :ڈ

  8. Shabih Fatima Pakistani Said:

    😀

  9. hijabeshab Said:

    ضیاالحسن کونسا انقلاب 😕 اور لاگ ان ہو کر تبصرہ کرنے میں آپ کی طرف کچھ خرابی لگتی ہے یہاں تو سب ٹھیک ۔۔۔

    ڈاکٹر جواد ٹھیک جناب ۔۔

    ڈفر ، کیا سچ مُچ 😛

    یاسر 🙂 😛

    محمد سعید پالن پوری 😆

    سارہ ، کے ای ایس کا جن نہیں دماغی کیڑا 😛

    شبیہہ 🙂

  10. ویسے لکھا بہت اچھا ہے آپنے . اگر آپ سنجیدگی سے کوشش کریں تو اچھی لکھاری بن سکتی ہیں.

  11. نہ چھيڑ اے حجابِ شب بھتيجی ۔ اللہ کا نام مان
    تُجھے اٹھکيلياں سوجی ہيں ۔ ہم بيزار بيٹھے ہيں

    زمانے نے اتنے غم ديئے ہيں کہ گرمی سردی کا ہوش ہی نہيں ۔ ويسے يہ لکھا کيا ہے ؟
    ميری عقل ميں تو پہلے ہی انتشار پيدا ہو چکا ہے جس ميں يہ تحرير اضافہ کرتی محسوس ہوتی ہے

  12. بڑے دن ہو گئے کوئی مزیدار سی پوسٹ نی آئی، پلیز نشہ ٹوٹ را ساب کچھ رحم کرو 😀

  13. hijabeshab Said:

    ڈاکٹر جواد ، بلاگ لکھ لیتی ہوں یہی بہت ہے کبھی کبھی دل چاہتا ہے چھوڑ دوں بلاگ لکھنا اور آپ لکھاری بننے کو کہہ رہے ہیں ۔۔۔

    اجمل انکل ، اتنی سادہ سی کہانی ذہنی انتشار کا باعث کیسے ہو سکتی ہے ؟؟؟

    ڈفر ، مزیدار یعنی کوئی ترکیب چٹپٹی سی 😛

  14. Jafar Said:

    مزے دار

  15. shahidaakram Said:

    زبردست ،،،
    کیا بات ہے جی آپ کی ؟؟
    کب شائع ہو رہا ہے آپ کا تازہ شاہکار کِسی بھی میگزین میں ،،
    ہممم،،

  16. hijabeshab Said:

    شکریہ جعفر اور شاہدہ آپی ، میرا شاہکار بلاگ میں شائع ہوتا ہے یہی بہت ہے 🙂


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: