گُلّک اور بچت ۔۔

گلی سے ٹن ٹن کی آواز آئی ۔۔۔۔ امی نے کہا مٹی کے برتن والا آیا ہے کچھ گملے لینے ہیں آؤ دیکھو کتنے بڑے گملےٹھیک رہیں گے ۔۔۔۔ گملے دیکھنے کے ساتھ نظر پڑی صراحی پر ، پوچھا کتنے کی ہے ۔۔ برتن والے نے قیمیت کیا بتائی پتہ نہیں ، امی نے کہا لے کے کیا کروگی پانی پیتی ہو فریج کا اس کو شو پیس بنانا ہے 🙄
پھر سے جائزہ لیا کہ اور کیا کیا ہے ۔۔ چھوٹے سائز کے خوبصورت گُلّک ، دیئے ، گلدان اور بہت ساری چیزیں تھیں ، ایک گُلّک اور کچھ دیئے خریدے ۔۔۔۔ اگست قریب ہے دیئے جلاؤں گی جشنِ آزادی پر اور گُلّک میں وہ سکّے جو اکثر صفائی کرتے ہوئے بیڈ یا الماری کے نیچے گرے ہوئے ملتے ہیں وہ ڈال دوں گی کبھی تو بھر ہی جائے گا ۔۔۔
میں نے جب بھی گُلّک میں پیسے جمع کیئے کبھی بھرا ہوا نہیں توڑا ۔۔۔۔ ہمیشہ یہ جاننے کہ جلدی ہوتی تھی کہ گِن لوں کتنے ہوئے پھر ٹوٹا ہوا ٹکڑا گلو سے چپکا کے سوچتی تھی کہ پورا بھر جائے گا تو خرچ کروں گی مگر کبھی ایسا ہوا نہیں ۔۔۔۔ جیب خرچ کے پیسوں سے یا بچت کرکے کوئی چیز خریدنا یا کسی کو تحفہ دینا اچھا لگتا تھا ۔۔ گُلّک اس وقت چھوڑا جب کالج میں سب سہیلیوں نے کمیٹی ( بیسی ڈالنا ) شروع کی ، کالج تک تو خیریت کے ساتھ یہ سلسلہ چلتا رہا ۔۔۔ 2 سال پہلے پڑوسن صاحبہ نے امی سے کہا محلّے میں سب مل کر کمیٹی ڈالتے ہیں پیسے آپ کے پاس جمع کیئے جائیں گے ہر ماہ سب اکھٹے ہوں گے مل بیٹھنے کا موقع ملے گا تفریح رہے گی ۔۔۔۔ شروع کے 4 ماہ سب ٹھیک رہا اس کے بعد پیسے جمع کرنے کے لیئے جتنے چکر امی کو سب کے گھر کے لگانے پڑے ساتھ ہر وقت کی چخ چخ سے تفریح عذاب بن گئی اس کے بعد توبہ کی کہ اب کمیٹی نہیں ڈالنی ۔۔۔۔ شُکر تھا کہ 15 ماہ کی کمیٹی تھی آج کل لوگ 4 یا 5 سالہ کمیٹی ڈالتے ہیں ، قرعہ اندازی ایک بار کی جائے یا ہر ماہ جس کے نام کی پرچی آخری ہو اس کا پتہ نہیں کیا حال ہوتا ہوگا ۔۔۔۔
کمیٹی ڈالنا محفوظ سرمایہ کاری تھی مگر اب لاکھوں کی کمیٹی جمع کرنے والے فرار ہوجائیں یا اپنی رقم لینے کے بعد ادائیگی سے انکار جیسے دھوکے بھی ہونے لگے ہیں نتیجہ لڑائی جھگڑے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ پرائز بانڈز ، ماہانہ آمدنی اکاؤنٹس ، اسمارٹ سیونگز اس طرح بچت کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں ، مگر سب سے بہتر طریقہ گُلّک میں پیسے جمع کرکے خود پہ کنٹرول ہے ۔۔۔ گُلّک میں پیسے جمع کرنے سے نہ کوئی کٹوتی ہوتی ہے نہ کوئی پیسے لے کے فرار ہوتا ہے 🙂 آمدنی کم ہو یا زیادہ بچت مشکل سہی مگر اچھی عادت ہے ۔۔۔۔۔۔۔
“ آج ہی ایک خوبصورت سا گُلّک خریدیں “ یہ پیغام ہے اس مٹی کے برتن والے کا جس کا تعاون اس پوسٹ کو تحریر کرنے میں شامل رہا 🙂

Advertisements

30 تبصرے »

  1. عثمان Said:

    بہترین طریقہ تو ڈبل شاہ ہی تھا۔ 😛

    • جناب زرا کینڈین ڈالر تو بھیجیں ۔۔
      شاہ تو میں ہوں ہی ۔ ڈبل چھوڑیں چوربل (4 times) ثابت ہوں گا۔۔
      😦

      • وہ تو سب ٹھیک ہے حضرت ، یہ بتائیے کہ بات مزاح کی ہو یا کچھ اور آپ سیڈ سمائلی ہی کیوں دیتے ہیں؟
        آپ نے کہا کہ آپ ” ڈبل چھوڑ چوربل کر دیں گے ” حالانکہ اگرآپ لفظ چوربل کی بجائے "چور بلا ” استعمال کرتے تو زیادہ مناسب معلوم ہوتا.

      • عثمان Said:

        آپ ڈبل شاہ نہیں ، بلا امتیاز شاہ ہیں۔ آپ ڈالرز کو روپوں میں بدل دیں گے۔ ناں جی .. میں باز آیا اس "چوربلی” سے۔ 😛

  2. کیا اب بھی مٹی کے برتن والے آتے ہیں؟ گلّک سے بچپن یاد دلادیا. بڑے شوق سے گلّک خرید تو لیتا تھا لیکن بہت جلد ہی اسکے سوراخ کو بڑا کر کے پیسے نکال لیتا تھا. گلّک کو توڑا کبھی نہیں.
    تب گلّک کے بھرنے کا انتظار نہیں ہو پتا تھا تب خواھشات بہت چھوٹی ، معصوم اورشدید ہوا کرتی تھیں خواہشات تو اب بھی ہیں مگر اب شدت نہیں ہے. لیکن مٹی کے مٹکے کا بہت عرصہ تک ہمارے یہاں استعمال ہوا. پانی کا جو ذائقہ اور سوندھا پن مٹی کے مٹکے میں آتا ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں. کمیٹی کا بکھیڑے میں بہت کم ہی پڑا ہوں… پیسہ ووہی ہے جو آپکی جیب میں ہے اور گھر وہی ہے جس میں آپ رہ رہے ہیں. بہت عمدہ تحریر ہے . آپکی تحاریر ہلکی پھلکی ہونے کے باوجود ایک اچھا تاثر چھوڑتی ہیں.دوسروں کی بھاری بھرکم تحاریر کے برعکس جنہیں پڑھ کر دیر تک طبیعت بد مزہ رہتی ہے .

  3. ہم تو ایک نیا لفظ سیکھ کر ہی خوش ہو رہے ہیں۔
    ہم اس گلّک کو گلّہ کہتے آئے ہیں ساری زندگی۔۔۔۔۔۔
    پیسہ کبھی جمع کرنے کا سوچا ہی نہیں تھا۔
    ہوتے تو سوچتے نا۔

    • ZAINAB Said:

      galla hi kehtay,,,gullak tu mainy bhi yahin parha

      • ilm ka mutlashi Said:

        mainy bhe aaj he parha hy….waisy hy mazy ka lafz or tehreer bhe boht umda hy

    • یاسر بھیا، آپ تنہا نہیں، ہم نے بھی یہ نیا لفظ سیکھا ہے آج 😉 بس ذرا زیر زبر سمجھنی پڑے گی :پ

  4. شازل Said:

    بچپن میں میں بھی پیسے اسی میں جمع کرتا تھا لیکن ایک ہفتہ سے زیادہ پیسے جمع کرنے کی عادت نہیں پڑی۔
    آپ آجکل کچھ انوکھا لکھنےکی کوشش کررہی ہیں
    اچھی بات ہے
    لیکن خدارا کھانے پکانے کی ترکیب مت بتائیے گا۔
    یہ بات نہیں کہ پھر ہمیں کھانا بنانا پڑتا ہے لیکن بیوی کی منتیں کون کرتا پھرے۔

  5. واپسی پہ خوش آمدید قبول کیجیئے
    😦

  6. یہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی آخری دو سطور میں آپکی تحریروں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، بعینیہ یہ ہی میرے خیالات ہیں اس بارے میں۔

    اوربچت تو ایک بہت اہم کام ہے۔ لیکن اس سے آگے کا ایک سٹیپ اور بھی ہے جو اگر نہ کیا جائے تو بچت غیر موثر ہو جاتی ہے ۔ اور وہ ہے اپنے بچائے ہوئے پیسے کو قدر کھونے سے بچائے رکھنا۔ اگر آپ صرف روپیہ بچا کر رکھ چھوڑیں گے تو کچھ ہی عرصے میں اس کی قوت خرید خاطر خواہ حد تک کم ہو جائے گی۔ جو چیز آج سو روپے میں مل رہی ہے اسی کو آج سے دس ماہ بعد خریدنے کے لیے ایک سو تیس روپے درکار ہونگے۔

    انفلیشن کے اس عفریت کے پنجوں سے اپنی رقم کو بچانے کا ذریعہ ہے : انویسٹ۔

    اپنی ذاتی معیشت کو مستحکم رکھنے کے تین مراحل ہیں:
    earn, save and invest

    گویا صرف بچا لینا ناکافی ہے۔ اور یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ بڑی رقوم ہوں تو ہی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔

    ایک چوتھا اور سب سے ضروری سٹیپ بھی ہے اپنی معیشت کو تنگی سے بچائے رکھنے کا اور وہ ہے صدقہ کرتے رہنا۔ یعنی زکوِٰۃ تو لازم دینی ہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کشادگی اور تنگی ہر حال میں باقاعدگی کے ساتھ کچھ نا کچھ اللہ کی راہ میں دیتے رہنا۔

  7. مجھ سے یہ گلک والا کام کبھی نہیں ہوسکا۔۔۔ میرا بھائی پھر بھی جمع کرلیتا ہے لیکن مجھ سے نہیں ہوتا یہ۔

  8. خالد حمید Said:

    بچپن یاد دلا دیا۔
    ہمیں دس پیسے کبھی چار آنے ملا کرتے تھے، اسی سے ایک گلک خرید کر پیسے جمع کرنے شروع کئے اور مہینے دو مہینے بعد جب اسے توڑا تو چالیس روپے نکلے تھے، ہم بچے تھے اور رقم بڑی تھی، والدین نے مشورہ کرکے پیسے اپنے پاس رکھ لئے، اور کہا کہ جب ضرورت ہو لے لینا، بھلا بتلائے پھر جمع کرنے کا کیا فائدہ ہوا، بس وہ دن ہے اور آج کا دن نہ خود گلک لیا اور اگر کسی اور نے لینے کا ارادہ کیا تو وہ برائیاں کی کے باز آیا۔

  9. کيا زمانہ تھا جب کوئی بچہ گُلک کے بغير نہ ہوتا تھا ۔ کچھ بچے پيسے ڈالتے نکالتے رہے تھے اور کچھ جب بھر جاتی تو توڑ کر نکالتے ۔ اُس دن وہ بادشاہ ہوتے تھے
    14 اگست 1947ء سے آٹھ دس دن قبل ہی ميں اور ميری مجھ سے بڑی بہن کمہارون کی گلی مين گئے جو ہمارے گھر کے قريب ہی تھی اور 101 ديئے خريد لائے ۔ گنتی 101 ميری بہن کا فيصلہ تھا ميں صرف تابعداری اور اُٹھانے کيلئے ساتھ گيا تھا ۔ گھر واپس پہنچ کر بہن نے شور مچايا سرسوں کا تيل چاہيئے ۔ مجھے ياد نہيں کس نے لا کر ديا تھا ۔ 14 اگست 1947ء کو ہم نے شام سے پہلے ہی گھر کی چھت کی چارديواری پر ديئے ترتيب ديئے پھر ان ميں روئی کی بتياں جو ہم پہلے ہی بنا چکے تھے رکھتے گئے اور تيل ڈالتے گئے ۔ مغرب کے بعد انہيں جلانا شروع کيا جس مين ہمين شايد 2 گھنٹے لگے کيونکہ ديا سلائی جلاتے ہوا چلتی اور وہ بُجھ جاتی ۔ سب ديئے جلانے کے بعد نجانے ہم کب تک بيٹھے انہيں ديکھتے رہے تھے

  10. آپکا یہ کالم پڑھ کر مجھے اپنی ماضی کی یاد آگئی۔ چند سال قبل میں نے بھی کمیٹی ڈالنی شروع کی تھی ، ایک ساتھ کے کہنے پر ۔ لیکن بعد میں وہی ساتھی ادھر ادھر کرنے لگا، کیونکہ پہلے مہینے ہی اسکی کمیٹی نکلی تھی لھذا اب اسکو کوئی ضرورت نہیں تھی کمیٹی ڈالنے کی۔

    اس دوران اس نے مجھ سے موبائل بھی خرید لیا تھا لیکن پیسے نہیں دے رہا تھا اور روز بات کو یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ میں بس چند دن میں دے دونگا۔ لیکن وہ چند دن بھی گذر جاتے ۔ اور اسی میں سال سے بھی اوپر کا عرصہ گذر گیا۔
    جس ادارے میں میں اس وقت پڑھتا تھا تو اسکے سامنے ایک گہری نرا بہتی تھی۔ ایک دن چھٹی میں میں نے اسکو پکڑا اور رقم کا تقاضا کیا تو اس نے اسی طرح لیت ولعل سے کام لینا چاہا لیکن میں نے اسکو گردن سے پکڑ کر اسکا گلہ دیوار کے ساتھ دبا کر کہا کہ رقم دیتے ہو یا اس نہر میں چند غوطے دے دوں۔ بس جناب لڑکے کا رنگ پیلا ہونے لگا کہ کہیں یہ واقعی مجھے غوطے نہ دے دے کیونکہ اسکو بھی یہ احساس تھا کہ میں نے اسکو شائد کچھ زیادہ ہی تنگ کیا ہے۔ لیکن اس دوران دیگر دوستوں نے اسکی خلاصی کرالی۔
    چنانچہ اس بات کا یہ اثر ہوا کہ لڑکا چند دن میں پوری رقم خود ہی میرے گھر لا کر مجھے دے گیا۔

    میں جھگڑالو نہیں لیکن اس لڑکے نے کچھ زیادہ ہی تنگ کیا تھا ، بلی بہت شریف جانور ہے لیکن اگر اسکو بھی زیادہ تنگ کیا جائے تو منہ نوچنے کے لئے آدمی پر لپکتی ہے۔

    بھر حال اسکے بعد کوئی کمیٹی کا نام بھی میرے سامنے لے لے تو بس دل چاہتا ہے کہ اس مجلس سے ہی اُٹھ جاؤں۔

  11. hijabeshab Said:

    عثمان ، میں نے بچت کے لیئے لکھا ہے اور آپ تبصرہ لالچ کے لیئے کر گئے ہیں 😕

    ڈاکٹر جواد شکریہ ، جی اب بھی مٹی کے برتن والے آتے ہیں ان کے پاس مٹی کی ہانڈی بھی ہوتی ہے اور مٹکا بھی ، فریج کے بعد بھی ہمارے ہاں مٹکا استعمال ہوتا رہا اب تو ایسی عادت پڑی ہے ٹھنڈے پانی کی کہ نہ ملے تو 😳

    یاسر ، آپ پیار سے گُلّہ کہتے ہونگے ، پہلے نہیں سوچا بچت کا اب تو کرتے ہیں ناں ۔۔۔۔

    شازل ، انوکھا تو نہیں ، وہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو پہلے ہوتی تھیں ۔۔۔ اور کھانا پکانے کی ترکیب تو بتاؤں گی جس دن کچھ نیا بنایا ۔۔۔ اچھی بات ہے آپ خود پکاتے ہیں کبھی کبھی ایسا بھی ہونا چاہیئے 🙂

    بلا امتیاز شکریہ ، لیکن میں گئی کہاں تھی جو واپسی ہوئی ہے میری ؟؟؟ اور آج پھر اداس 😥 کیا سوچ کی واپسی پسند نہیں آئی 😕

    احمد عرفان شفقت شکریہ ، آپ نے بلکل ٹھیک لکھا کہ صرف بچت کرنا ہی کافی نہیں انویسٹ اور زکوٰۃ بھی ضروری ہے ۔۔۔

    عمار ، اس کا مطلب تم فضول خرچ ہو 🙂

    خالد حمید آپ کی گلّک داستان آج کل بھی کہیں کہیں کسی بچّے کے ساتھ پیش آتی ہے ، والدین بچّے سے پیسے لے لیتے ہیں ۔۔۔

    اجمل انکل آپ نے اس طرح منظر کشی کی ہے کہ میں نے سوچوں میں وہ 101 دیئے جلتے دیکھ لیئے 🙂

    درویش خراسانی ، آپ مجلس سے اٹھ جانا بہتر سمجھتے ہیں کمیٹی کے نام پر اور یہاں کمیٹی کا نام لے کر چڑایا جاتا ہے کہ ایک بار پھر تجربہ کرو 🙂

  12. گلک میں پیسے جمع کرنے کرنے کا کبھی موقع نہ ملا۔۔۔۔ میرے بھتیجے کوشش کرتے ہیں لیکن دو دن بعد ہی نکال لیتے ہیں اپنے ’ بین ٹین ben ten‘ والے money box سے۔۔۔۔ 🙂

  13. Shabih Fatima Pakistani Said:

    main ne bhi kabhi gullak bharny ka intizar nah kiya 😀

    aur soorakh bara kar ke rakhti the aur ungli daal ke paisy nikal leti thee 😀

    wesy aajkal mere bhai ne le rakha hai gullak…
    safai karty huye jo bhi sikkay milty hain us mein daalti hun 😀
    aur taqreeban rozana he us gullak mein se paisy nikal kar shaam ki chaai ke saath biscuit khaye jaaty hain 😛

  14. Jafar Said:

    میرے لیے پیسہ بچانا کبھی مسئلہ نہیں رہا
    بوجہ کنجوسی
    میری جیب ہی میرا گلک ہے۔۔۔

  15. ZAINAB Said:

    galla kbhi bhara nahi,,,,,,bc kay chakar mai pari nahi,,,issi lia ravi chain hi chain likh raha hy

  16. یہ تو سب ہی بڑے پھُرتیلے نکلے، صبر نامی چیز تو کسی میں ہے ہی نہیں۔ ہم سمجھے کہ صرف ہم ہی اکیلے ہیں یہاں لیکن معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ جعفر بھیا بھی ہیں۔ ہماری کنجوسی کی جانب سے آپکی کنجوسی کو سلام

  17. hijabeshab Said:

    عین لام میم تبصرے کا شکریہ ۔۔۔

    شبیہہ اس کا مطلب ہے تمہارے ہاں گرنے والے سکّوں کی تعداد زیادہ ہے ، جیب دیکھو سب کی سلائی تو نہیں کُھلی ہوئی سی دو :p
    p
    جعفر ، میں بھی پیسے بچا لیتی ہوں مگر کنجوس نہیں ہوں ۔۔۔۔

    عادل اور زینب تبصرے کا شکریہ ، اور یہ لفظ گُلہ میرے لیئے نیا ہے پہلی بار سنا ہے یہاں ۔۔۔۔۔۔

  18. اور ہمارے لیے گُلک۔۔۔ 😛 لیکن یہ گلہ میں گ کے اوپر پیش نہیں بللکہ زبر ہے۔

  19. tania rehman Said:

    حجاب کیا یاد کروا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں پیسے کم ڈالتی اور نکالنے کے چکر میں زیادہ ہوتی ،، میری اماں کو پتا تھا ، کہ اس کے پیسے ختم ہونے والے ہیں ۔ اس لیے وہ خودہی ڈال دیتی تھیں ۔۔۔ اور میں یہ سوچ کر خوش ہوتی ، کہ پیسوں نے بچے دیے ہیں ۔ کیونکہ میرے پرندے بھی اسی رفتار سے بڑتے تھے ۔۔جس رفتار سے میری گلک میں پیسے آتے ۔۔۔ لیکن پھر میرے بچے مجھ پر نہیں گے ۔ میں نے بہت چہاہا کہ وہ پیسے ڈال کر نکالیں ۔ لیکن وہ پیسے ڈالتے ہی رہتے ہیں ۔ نکالنے کا شوق نہیں رکھتے ،ابھی بھی یہ کام میں ہی کرتی ہوں ۔ گاڑی کی پارکنگ کے لیے پیسے وہی سے نکالتی ہوں ۔۔

    • hijabeshab Said:

      تانیہ ، مجھے بھی اب پیسے نکالنے کا شوق نہیں رہا 🙂 پیسوں کے بچّے 😆

  20. hijabeshab Said:

    علم کا متلاشی شکریہ ،آپ سب کے علم میں اضافہ کیا میں نے اب تو فیس لینی پڑے گی مجھے 🙂

  21. shahidaakram Said:

    بچت کی عادت تو ایک اچھی عادت ہے اور گُلک یا گلہ ہمیشہ ہی رہا گھر میں ابھی بھی ہے لیکِن اب مِٹی والا گُلک یا گلہ تو نہیں پرس کے بہُت سے کونے ہیں جِن میں مُختلِف نِوعیت کی بچتوں کی پوٹلیاں رکھی ہیں یہاں ابُو ظہبی میں تو نہیں البتہ فُجیرہ سے واپسی پر مِٹی کا گلہ بھی لیا اور ایک چھوٹی سی مِٹی کی کنالی یعنی پرات بھی لی کہ دہی جماؤں گی لیکِن وائے ری قِسمت گاڑی کے جھٹکوں سے واپسی پر دونوں چیزیں ٹُوٹی ہُوئ مِلیں،،،،


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: