دُکان والی خالہ ۔۔۔

کچھ ہفتوں سے سنڈے میگزین میں ایک مضمون دل کے رشتے کے حوالے سے آرہا ہے ۔۔ اس میں ایک مضمون ” ننّا” پڑھ کے اور ضعیف خاتون کا خاکہ دیکھ کر مجھے بہت عرصے بعد اپنی ” دکان والی خالہ ” یاد آگئیں ۔۔۔
جس اسکول میں میں نے پانچویں تک پڑھا اس کے سامنے ایک کتاب گھر تھا ۔۔ کورس کی کتابیں ، کاپی ، پینسل کے علاوہ بچّوں کے زبان کے چٹخارے کا بھی خیال رکھا تھا کتاب گھر والون نے ۔۔ میں ایک دن ہاف ٹائم میں کچھ لینے گئی تو وہاں ایک خاتون کو دیکھا اکثر ایک بوڑھے سے انکل ہوا کرتے تھے ۔۔۔ مجھے ایک جوبلی لینا تھی اُن خاتون نے جوبلی کے ساتھ ایک ٹافی بھی دی ۔۔۔ میں نے کہا میں نے تو صرف جوبلی کے پیسے دیئے ہیں ٹافی نہیں مانگی ۔۔ اُنھون نے کہا کوئی بات نہیں رکھ لو ۔۔۔ میں نے کہا میں نہیں لے سکتی اور آگئی ۔۔
دو یا تین بار ایسا ہی ہوا ۔۔ ایک دن انھوں نے مجھے دکان کے اندر بُلایا ، میں گئی تو پوچھا تم کیوں ڈرتی ہو مجھ سے ۔۔۔ میں نے کہا امّی نے منع کیا ہے کسی سے کوئی چیز لے کے مت کھانا ۔۔۔ انہوں نے کہا جب تمہاری امی آئیں تو میرے پاس ضرور لے کر آنا ۔۔۔
امّی اُن سے ملیں ، انھوں نے کہا میرے بچّے نہیں ہیں ، مجھے آپ کی بیٹی بہت پیاری لگتی ہے آپ اس کو کہیں میرے پاس آیا کرے ۔۔ اس کے بعد میں اُن کے گھر جانے لگی جو کتاب گھر کے ساتھ ہی تھا ۔
بہت سارے بچّے ان کے گھر جاتے تھے ہر بچّے کو کچھ نہ کچھ کھلایا پلایا کرتیں ۔۔ کچھ بچّے ذرا خاص تھے جس میں میں بھی تھی ۔۔۔ہاف ٹائم میں ہمارا لنچ خالہ کے ہاں ہوتا تھا اور ساتھ میرے نخرے بھی کہ مجھے الگ کھانا ہے سب بچّوں کے ساتھ نہیں ۔۔ جب فرمائشیں پوری ہو رہی ہوں تو نخرہ کرنا بھی اچھا لگتا تھا :smile
خالہ کے ہاتھ کا ذائقہ میں آج تک نہیں بھولی ۔۔ نرم و ملائم چپاتی جو صبح کی بنی ہوتی تھی مگر تازہ لگتی تھی ۔۔ ویسے بھی باسی روٹی میں جو مزہ ہے وہ مجھے تازہ میں نہیں لگتا ۔۔۔ سبزی ہو یا گوشت ہلکے مصالحے والا سالن بناتی تھیں مگر وہ ذائقہ ہی الگ تھا ۔۔ یہ بات مجھے بعد میں پتہ چلی کہ سارا کمال خالہ کے ہاتھ کے ذائقے کا تھا ۔۔
خالہ مجھے اتنی اچھی لگتی تھیں کہ میں جو ہاف ٹائم سے پہلے کلاس روم کی پچھلی کھڑکی سے باہر نکل کے ادھر اُدھر گھومتی رہتی تھی پھر خالہ کے ہاں جا کے اُن کو کام کرتے دیکھنے لگی ۔۔
تھوڑے سے پانی سے برتن دھونا جب کہ پانی کی کمی نہیں تھی ۔۔ مجھے بہت شوق ہوتا تھا کہ میں بھی تھوڑے سے پانی سے برتن دھو کے دیکھوں ۔۔ مگر عادت نلکا کھولا اور دھو لیا ۔۔۔ مگر پچھلے سال یہ شوق بھی پورا ہوا جب پانی نہیں آرہا تھا ۔۔
خالہ نے مجھے بے شمار کہانیوں کی کتابیں ، میری گڑیا کے کپڑے ، اور ایک لکڑی کی ڈوئی دی تھی ۔۔ چیزیں سنبھال کے رکھنے کی پرانی عادت ہے اس لیئے ایک یا دو کہانی کی کتاب اب بھی شائد اسٹور کے کسی کونے میں مل جائے ۔۔ ڈوئی میرے اُس باکس میں محفوظ ہے جس میں میں نے بڑے قیمتی تحائف جمع کر رکھے ہیں ۔۔
میٹرک تک خالہ کے ہاں آنا جانا رہا ۔۔ پھر ایک سال کے وقفے کے بعد جب ہم خالہ کے ہاں گئے تو پتہ چلا اُن کا انتقال ہوگیا ۔۔
دل کے بنائے ہوئے رشتے کبھی کبھی خونی رشتوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں ۔۔ اللہ خالہ کو جنت نصیب کرے آمین

17 تبصرے »

  1. جوبلی سے مجھے میرا بچپن یاد آگیا جب جوبلی خریدنا بہت بڑی عیاشی سمجھتا تھا . پورے ایک ہفتہ کا جیب خرچ جمع کرتا تھا تب ہی خرید پاتا تھا. سچی بات تو یہ ہے کہ سادگی کا اپنا ہی ذائقہ ہوتا ہے جو کہ ہر قسم کے ذائقہ کو بڑھا دیتا ہے اس کے برعکس تکلف اور فراوانی ذائقوں کو گھٹا دیتی ہے.

  2. مکی Said:

    بڑا دلچسب قصہ ہے، اللہ انہیں جنت نصب کرے.

    ویسے یہ جوبلی کیا بلا ہوا کرتی تھی؟

  3. جوبلی کی ڈیفینیشنز تفصیل سے بیان کی جائیں

  4. آمین

    یہ جوبلی کیا ہوتا ہے؟

  5. عثمان Said:

    جوبلی پاکستان میں ایک چاکلیٹ برانڈ کا نام تھا۔

  6. alymurtaza Said:

    Realy nyc story

  7. خونی رشتے جنرلی کڑوے اور نمکین ہی ہوا کرتے ہیں ۔ آپ لکی رہی ہیں اور اسی کارن آپنے ایک آبجیکٹیو آنٹی کو پروجیکٹ کیا ہے ۔ اسی آبجیکٹیو ٹیل کو پڑھنے والوں میں سے کچھ کے ساتھ ہارڈ لک بھی ہو سکتی ہے جی ۔

  8. آپ کی خاله اور جوبلی کے ذکر نے مجھے اپنا بچپن یاد کرا دیا جی! الله تعالی آپ کی دکان والی خاله کو جنت عطا فرمائیں! آمین…

  9. بہت اچھی بات ہے جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کیا اب آپ جوبلی والی عمر سے آگئے نکل گیئں ہیں کیا؟؟

  10. اللہ اُنہيں جنت الفردوس ميں جگہ عنائت فرمائے
    محبت کرنے والے اب بھی ہيں مگر قدر کرنے والے نہيں ملتے

  11. جوبلی جوبلی جوبلی۔۔۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ لوگوں نے جوبلی نہیں کھائی۔۔۔ ہمارے بچپن کے دنوں میں جوبلی اور ہیرو ہی دو مشہور چاکلیٹ کے برانڈز تھے، ان دنوں امپورٹڈ چلاکلیٹیں اتنی عام نہیں تھیں، اور نہ ہی ملٹی نیشنلز کا اتنا زور تھا۔
    اولاد بلاشبہ اللہ کی بڑی نعمت ہے، اور عمر کا ایک ایسا حصہ ہوتا ہے جب بندے کا دِل کرتا ہے کہ میرے اپنے بھی بچے ہوں۔ اور جب کسی وجہ سے یہ طلب پوری نہیں ہوتی تو بندہ دوسروں کے بچوں کو پیار کر کے گزارہ کر لیتا ہے۔ ایسی ایک کزن ہیں میری بھی، انکے گھر بھی محلے کے بچوں کا رش لگا رہتا ہے۔ دیواروں پر بچوں کی تصویریں ہیں، کبھی انٹرنیٹ پر کوئی کیوٹ کاکا یا کاکی مِل جائے تو دیکھ کر بڑی خوش ہوتی ہیں۔
    اللہ آپکی خالہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، اور بے اولادوں کو نیک صالح اولاد عطا فرمائے، آمین۔

  12. Darvesh Khurasani Said:

    اچھی پوسٹ لکھی ہے۔ ہمیں اپنا بچپنا یاد آگیا ۔ خالہ جی کو اللہ بخشے۔ واقعی محبت والے بہت ہیں مگر قدردان نہیں ہیں۔

  13. حِجاب اِتنا پیارا لِکھا ہے کہ میری آنکھیں خُشک ہونے کا نام نہیں لے رہیں بہُت سے دِل کے رِشتے یاد آ گئے آپ کی اِس کی تحریر سے،،،

  14. شگفتہ Said:

    حجاب ، خالہ کا نام کیا تھا ، اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے آمین ۔ آپ نے بہت سے مہربان چہروں کی یاد دلا دی ہے ، خوش رہیے ۔

  15. حجاب۔۔۔ خالہ کے ساتھ آپکے گہرے تعلق کو بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے آپ نے۔۔۔ واقعی دل کو چھو لینے والی تحریر ہے۔۔۔ ایسے رشتے بہت کم بنتے ہیں۔۔۔ بلکہ کہنا یہ چاہیے کہ ایسے رشتے اللہ تعالیٰ بہت خوش قسمت لوگوں کو دیتا ہے۔۔۔

  16. hijabeshab Said:

    ڈاکٹر جواد شُکر ہے آپ کو جوبلی کا پتہ ہے ۔۔۔

    مکی ۔۔ جوبلی ایک چاکلیٹ ہوتی تھی ، اب بھی ملتی ہے۔۔

    خاور ۔۔ جوبلی گہرے پیلے رنگ کے پیک میں ایک چاکلیٹ تھی اُس پہ ریڈ رنگ سے جوبلی لکھا ہوتا تھا ۔۔ چاکلیٹ کا رنگ ڈارک براؤن اندر سے انڈے کی زردی جیسا پیلا تھا شائد ۔۔ جوبلی اگر فریج میں رکھی ہوئی ہو تو مزہ آتا تھا کھانے میں ورنہ دانت میں چپک جاتی تھی ۔۔ پھر برش کرنا پڑتا تھا ۔۔ کافی ہے یا اور ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ :p
    http://images.wdtrade.com/alen/10332/103322329.jpg جوبلی کی تصویر دیکھ لیں ۔۔

    یاسر ، خواہ مخواہ یعنی آپ کو جوبلی کا نہیں پتہ ۔۔ ویسے جوبلی نام کا ایک سنیما بھی تھا شائد کراچی میں ۔۔اور جوبلی مارکیٹ بھی ہے ۔۔

    عثمان ، شکر ہے آپ کو بھی پتہ ہے ۔۔

    علی مرتضیٰ بلاگ پر خوش آمدید اور شکریہ ۔۔

    جاہل سنکی ، خونی رشتے یعنی رشتے دار نمکین نہیں ۔۔ زہر جیسے ہوتے ہیں ۔۔ میں دل کے رشتوں کے معاملے میں واقعی لکی ہوں ۔۔

    شکریہ عتیق علی ۔۔

    ضیاء الحسن ۔۔ ابھی کہاں ۔۔ ابھی دس یا پندرہ سال اور یاد کرلوں جوبلی کو پھر اس عمر سے آگے بڑھوں گی :p

    اجمل انکل ٹھیک کہا آپ نے ۔۔

    نعیم ٹھیک لکھا آپ نے کہ جوبلی نہیں کھائی کسی نے ۔۔ ویسے شائد اب بھی ملتی ہے مگر مزہ ویسا نہیں ہوتا اب ۔۔

    شکریہ درویش خراسانی ۔۔

    شکریہ شاہدہ آپی ۔۔

    شگفتہ ، مجھے خالہ کا نام نہیں پتہ ۔۔ ٹھیک لکھا آپ نے ، مجھے بھی خالہ کے ساتھ اور بہت سے لوگ یاد آگئے ۔۔ اسکول کے سامنے ایک اور گھر تھا وہاں ایک لڑکی تھی ہاجرہ ۔۔ میں اس کو ہاجرہ باجرہ چڑاتی تھی بہت چڑتی تھی وہ

    عمران ، واقعی دل کے رشتوں میں کوئی مطلب نہیں ہوتا اس لیئے پائیدار ہوتے ہیں ۔۔ اللہ خالہ کو جنت نصیب کرے آمین ۔۔۔

  17. ڈوئی میرے اُس باکس میں محفوظ ہے جس میں میں نے بڑے قیمتی تحائف جمع کر رکھے ہیں ۔۔

    کنجِ قفس میں لطف ملا جس کو وہ اسیر
    چھُوٹا بھی گر تو پھر نہ سوئے آشیاں گیا

    تکلیف سیرِ باغ نہ کر ہم کو ہم صفیر
    مدت ہوئی کہ دل سے وہ ذوقِ فغاں گیا

    یارانِ رفتہ ہم سے منہ اپنا چھپا گئے
    معلوم بھی ہوا نہ کدھر کارواں گیا

    باہم جنہوں میں مہر و مروت کی رسم تھی
    وہ لوگ کیا ہوئے وہ زمانہ کہاں گیا

    (مصحفی)


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: