کتاب کا عالمی دن ۔۔۔۔

آج کتاب کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔۔۔ یہ خبر سُن کر میری نظر اپنی کتابوں کی طرف گئی ۔۔ ہر کتاب اپنی ضخامت کے لحاظ سے شکوہ کرتی محسوس ہوئی ۔۔۔ کتنے پیار سے لیا تھا اور دیکھو ذرا ۔۔۔ ہم پہ دوسری کتابوں کا بوجھ ڈال کے بھول گئی ہو ۔۔۔ اس بار ہم پہ اپنا نام تک لکھنا گوارہ نہ کیا ۔۔۔ “علی پور کے ایلی “ کے نیچے دبے ہوئے “ رام دین “ نے صرف گھورنے پہ اکتفا کیا ۔۔۔۔ اُففف پتہ نہیں اتنے دن علی اور رام نے کیسے ساتھ گزارے ہونگے ۔۔۔ ان کو الگ کیا تو مستنصر حسین تارڑ صاحب شکوہ کرتے نظر آئے “ گزارہ نہیں ہوتا “ خانہ بدوش “ کا احوال سننا چاہا تو ۔۔ اشفاق حسین نے توجہ اپنی طرف کرلی اور کہا “ جنٹل مین اللہ اللہ “ کرو ۔۔ اللہ اللہ کرتے ہوئے صدیق سالک کے “ پریشر ککر “ نے مستنصر کے “ بہاؤ “ کے ساتھ مزید آگے بڑھنے سے روک دیا ۔۔ “ سنو لیک “ “ دیو سائی “ کی ٹھنڈی آہیں ۔۔۔ “دشتِ سُوس “ اور “ خاموش مجاہد “ ادھورے پڑھے جانے پر ناراض ۔۔۔ تمام شعری مجموعے مالکن کی بے وفائی پہ افسردہ ۔۔ کبھی ہم بھی تم سے تھے آشنا تمہں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کی مکمل تفسیر ۔۔۔ “ ماسکو کی سفید راتیں “ اور “ سفر شمال کے “ کے شکوے ۔۔۔ یہ سب بھی ضرور محسوس کرتی اگر سامنے پڑے“ دسترخوان “کو دیکھنے کے بعد مجھے اپنے دسترخوان کی فکر نہ ہوتی ۔۔۔
میری پیاری کُتب ، ہر وہ صفحہ ، ٹکڑا جو میں نے سنبھال کے رکھا ہے مجھے تم سب سے پیار ہے ۔۔۔ تم نہ ہو تو زندگی ادھوری ہے ۔۔۔ روزآنہ کے کام کاج کے بعد جو وقت میرا اپنا ہوتا ہے وہ تمہارے لیئے ہی تو ہوتا تھا ۔۔۔ مگر ظالم لوڈ شیڈنگ نے ہمارے درمیان دوری بڑھا دی تمہارا ساتھ میں چھوڑ دوں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔ شکوے اپنی جگہ مگر اب بھی روزآنہ تھوڑا سا وقت ہم ضرور ساتھ گزارتے ہیں ، تم پہ ہلکی سی گرد بھی نظر آئے اپنے آنچل سے صاف کرتی ہوں ۔۔۔ تم کہیں پسند آجاؤ اور کسی بُک اسٹال میں نہ ملو تو کسی کی بُک شیلف سے چوری کرنا بھی جائز سمجھتی ہوں ۔۔۔۔ کتنی عزیز ہو تم مجھے ۔۔۔
آج کے بعد وعدہ رہا ۔۔۔ کام کے اوقات بدلنے ہیں یا لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے کو کسی نہ کسی طرح تمہارے لفظوں سے روشن رکھنا ہے تاکہ ہماری دوستی ہمیشہ قائم رہے ۔۔۔

Advertisements

26 تبصرے »

  1. ایک اور خوبصورت تحریر۔ علی رام بھی خوب لکھا۔ 🙂

  2. Shabih Fatima Said:

    wah 😀

  3. waqai main wah 😉

  4. Bdtmz Said:

    Buy kindle

  5. ABDULLAH Said:

    باقی تو سب ٹھیک ہے مگر کسی کے بک شیلف سے چوری؟؟؟؟
    بری بات۔۔۔۔۔۔۔۔!

  6. سنتے آئے ہیں۔ دیکھتے آئے ہیں۔ کسی کو کتاب مستعار دینا بے وقوفی ہے اور مستعار لی ہوئی کتاب واپس کرنا اس سے بڑھ کر بڑی حماقت ہے۔ مگر آپ تو دو قدم آگے نکلیں ہیں کہ کتاب یا کتابیں کسی کے بک سیلف سے براہ راست اڑا لیں۔ اسکا مطلب ہے کہ جو آپ کو اپنے گھر مدعو کرے وہ مزید بے وقوف ترین نکلا۔

    اردو ادب کے کلاسیک سے باہر نکل کر بھی کچھ پڑھیں۔ ایک سے ایک نیا موضوع ہے۔

  7. ايک تو يہ جناب سعود ابن سعيد صاحب شروع ہی ميں بے تحاشہ تعريف کر کے سارا مزا کرکرا کر ديتے ہيں ۔ اب ميرے جيسا بندہ جس کے پاس تعريف کے چند لفظ ہوتے ہيں ہاتھ ملتا اور زبان پٹختا رہ جاتا ہے
    ہمارے پاس کہنے کو ايک ہی بات رہ جاتی ہے "تعريف اُس خدا کی جس نے حجابِ شب نام رکھنے والی لڑکی کو بنايا”
    آپ نے صديق سالک صاحب کی ياد دلا دی ۔ بہت نيک شخص تھے ۔ ميں جوانی ميں ان کا مداح تھا اور اب بھی ہوں ۔ کيا آپ جانتی ہيں کہ صديق سالک صاحب بھی 17 اگست 1988ء کو سی 130 کے حادثہ ميں ہلاک ہوئے تھے ؟ اور ميرے بچپن کے دوست اور ہمجماعت ميجر جنرل عبدالسميع بھی اسی حادثہ ميں ہلاک ہوئے تھے

  8. جب سے زندگی کی کتاب نے اپنے اوراق پریشان بکھیرے ہیں۔۔
    جتنی کتب سے دوری ہوئی ہے اس سے کہیں زیادہ ان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے

  9. میں کتابیں اپنے عزیز ترین دوست سے بھی شئیر نہیں کرتا …یار لوگوں میں بڑا تجسس تھا میری لائبریری کے بارے میں..سعودیہ آکر تو ساری کتابیں ادھر ادھر ہوگئیں.لیکن یہاں بھی ایک پوری الماری کتابوں سے بھر گئی ہے…کتاب سے محبت وہ محبت ہے جو کبھی آپکا ساتھ نہیں چھوڑتی چاہے آپ کتنے ہی مادہ پرست ہو جائیں.

  10. حجاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت خوب کتاب کا عالمی دن بہت خوب منایا ۔۔۔ میں بھی اپنی کتب کو آتے جاتے دیکھ کر خوش ہو لیتی ہوں کہ اپنی جگہ موجود ہیں ۔۔۔ اچھا ہوا ان کے پاوں نہیں ہیں ورنہ یہ بھی تنگ کو کر بھاگ جاتیں ۔ کہ خدید کر لایا تو ہے ۔ صرف سجانے کے لیے ۔ یا پھر یہ بتانے کے لیے کہ یہاں مجھے پڑھا جاتا ہے ۔۔ لیکن کیا کیا جائے ہمیشہ کی طرح سستی کہ کتاب کی بجائے نیٹ پر تلاش جاری رکھنے کی وجہ سے کتاب کا حق پوری طرح ادا نہیں ہو پاتا ۔۔۔لیکن کتاب کی اہمت ویسے ہی قائم ہے ۔ جیسے ازل سے تھی ۔ ورنہ ہم یوں دوکانوں کا رخ نا کرتے

  11. hijabeshab Said:

    شکریہ سعود بھیّا اور شبیہہ ۔۔۔

    ضیاء الحسن ، ایک آنکھ بند کرکے واہ , کچھ مشکوک لگ رہی ہے 😕

    بدتمیز ، کینڈل میں پڑھ کے میں چشمہ نہیں لگانا چاہتی ۔۔۔

    عبداللہ ، ایک بار اپنی فرینڈ کے گھر سے ایک کتاب لائی تھی اور گھر آکے فون کر کے بتا دیا تھا کہ تم دے نہیں رہی تھیں تو لے آئی ہوں پڑھ کے واپس کردوں گی ۔۔

    جاوید گوندل صاحب ، کتاب بُک شیلف سے اڑانے پر جب لوگ مجبور کریں تو کیا کیا جائے ۔۔۔

    اجمل انکل ، مجھے واقعی نہیں پتہ تھا کہ ضیاالحق کے ساتھ صدیق سالک بھی اس حادثے میں ہلاک ہوئے تھے ۔۔۔

    بلا امتیاز ، کمی محسوس ہو رہی ہے تو ٹائم نکالیں پڑھنا شروع کریں ۔۔۔

    ڈاکٹر جواد ، میں تو دے دیتی ہوں کتاب ، کل ہی کتابوں کو دیکھ کے یاد آیا پروین شاکر کی خوشبو کزن کو دی تھی جو اب تک واپس نہیں ملی ہے ۔۔۔

    شکریہ تانیہ ۔۔ واقعی کتاب کے پاؤں ہوتے تو آ کر سر پر پڑتی کہ لا کہ رکھ دیا پڑھو بھی 🙂

  12. حجاب۔۔۔ کتابیں میری کمزوری ہیں۔۔۔ اور آپکی یہ تحریر پڑھ کر میری نظر خودبخود اپنی کتابوں والی الماری پر چلی گئی۔۔۔ آپکو یاد ہے کہ میں نے آپکو بتایا تھا کہ فی الحال میں تقریبا تین سو کتابوں کا مالک ہوں اور ان میں سے کچھ کتابیں تو میں کئی کئی بار پڑھیں ہیں۔۔۔ مثلا۔۔۔ علی پور کا ایلی، الکھ نگری، لبیک، تلاش، غبارے، شہاب نامہ، ماں جی، منٹو کے افسانے، عشق کا عین، راجہ گدھ، امر بیل، جنت کی تلاش ، پریشر ککر، پیر کامل وغیرہ وغیرہ۔۔۔ آپ نے مشورہ دیا تھا کہ اپنی کتابوں کے بارے میں ایک تحریر لکھوں۔۔۔
    خیر۔۔۔ آپ کی یہ تحریر بھی آپ کی کتابوں سے محبت کی طرح بہت عمدہ ہے۔۔۔ افتخار صاحب نے درست فرمایا۔۔۔ ہر بار تعریف میں ابن سعید صاحب نمبر مار لیتے ہیں۔۔۔ اور تعریف اس خدا کی جس نے حجاب شب جیسی لڑکی کو پیدا کیا”۔۔۔

  13. جن احباب کو ناول پڑھنے کا شوق ہے۔ انہیں ایک ناول تجویز کرتا ہوں یہ قمر اجنالوی کا ایک ضخیم ناول ہے۔ "چاہ بابل” ۔ میرا دعواہ ہے کہ آپ اسے شروع کریں گے تو پڑھ کر ہی دم لیں گے۔ مجھے ناولز کبھی اچھے ہیں لگے اور خاصکر اردو میں لکھے پاکستانی ناول۔ تاریخی اور رومانی ناول تو اسقدر وہ ہوتے ہیں کہ بقول ڈاکٹر یونس بٹ ” واہ حیات” کہنے کو دل کرتا ہے۔ مگر اس ناول مین قمر اجنالوی نے سماں کچھ اسطرح سے باندھا ہے کہ جنہیں جو قسم پسند ہے وہ اسمیں ملے گی۔

    • آج سے ١٠-١٥ سال پہلے اسی نام سے ملتی جلتی کتاب پڑھی تھی . نقشہ قدیم بابلی تہذیب کا کھینچا گیا تھا ..کہانی ایک نوجوان اور ایک عورت کے گرد گھومتی تھی جس نے ستارہ بننے کا علم حاصل کر لیا تھا …شید ناول میں بھی اسکا نام زہرہ تھا …کیا پتہ یہ وہی کتاب ہو؟ لیکن کیا قدیم تہذیب کو جس کی تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں محض ناولوں سے سمجھا جاسکتا ہے؟

  14. hijabeshab Said:

    شکریہ عمران ، آپ بھی کبھی ٹائم نکال کے اپنی کتابوں کے بارے میں تفصیل سے لکھئیے گا ۔۔۔

    جاوید گوندل صاحب اب کتاب لی تو چاہ بابل بھی لوں گی ۔۔ شکریہ ۔۔

    • آج سے ١٠-١٥ سال پہلے اسی نام سے ملتی جلتی کتاب پڑھی تھی . نقشہ قدیم بابلی تہذیب کا کھینچا گیا تھا ..کہانی ایک نوجوان اور ایک عورت کے گرد گھومتی تھی جس نے ستارہ بننے کا علم حاصل کر لیا تھا …شید ناول میں بھی اسکا نام زہرہ تھا …کیا پتہ یہ وہی کتاب ہو؟ لیکن کیا قدیم تہذیب کو جس کی تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں محض ناولوں سے سمجھا جاسکتا ہے؟

    • ضرور اور موقع ملے تو اپنے تاثرات سے بھی ضرور آگاہ کی جئے گا۔

  15. آج سے ١٠-١٥ سال پہلے اسی نام سے.. . . . . لیکن کیا قدیم تہذیب کو جس کی تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں محض ناولوں سے سمجھا جاسکتا ہے؟ Dr.Jawwad Khan Said:
    on March 6, 2011 at 12:50 am

    محترم جواد خان صاحب!

    بہت ممکن ہے آپ بھی قمر اجنالوی کے ناول چاہ بابل کا زکر کر رہے ہوں۔

    گزارش ہے کہ جیسے کہ میں نے اپنے سابقہ رائے میں عرض کی تھی کہ مجھے ذاتی طور پہ ناول وغیرہ سے کبھی دلچسپی نہیں رہی ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ناولوں سے تاریخ یا کوئی علم نہیں سیکھا جاسکتا اور پاکستانی ناول تو اس بارے اتنے گمراہ کن ہوتے ہیں کہ لکھنے اور پڑھنے والوں پہ حیرت ہوتی ہے۔

    کسی زمانے میں میں نے قدیم تہذیبوں پہ گہرا مطالعہ کیا ہے جس میں بابل و نینوا کی قدیم تاریخ بھی شامل ہے۔

    اب اتفاق ایسا ہے کہ قمر اجنالوی کے مذکورہ ناول چاہ بابل کا پس منظر بھی بال کی قدیم تاریخ ہے جب شہر ریاست ہوا کرتے تھے۔

    لیکن میں نے ناول کے جس پہلو کی طرف اشارہ کیا تھا وہ اس ناول کی قارہ پہ جکڑ ہے کیونکہ وہ ناول کسی ذرئیعے سے مجھ تک پہنچا اور پھر ہاتھوں ہاتھ بہت سے ہاتھوں تک گیا اور ہر ایک نے اسکے اسی پہلو کو نمایاں کیا کہ چاہ بابل بے شک قدیم بابل کی تاریخ پہ لکھا گیا ہے مگر اسمیں کہانی کا تجسس قاری کو یوں اپنی گرفت میں لیتا ہے جیسے سبھی واقعات قاری کے سامنے ہورے ہوں۔

    یعنی تجسس اس ناول کا ایک پہلو ہے۔

    امید کرتا ہوں آپ میری بات کے اس پہلو کو سمجھ سکے ہونگے۔

  16. جب بھی پاکستان سے کتابیں لاتا ہوں۔
    ایک ماہ کے اندر اندر کوئی نہ کوئی اٹھا کر لے جاتا ہے اور واپس نہیں کرتا۔کتابیں پڑھنے سے کسی میں تبدیلی نظغر آئے تو شکایت بھی نہ ہو۔لیکن حال اس معشوم جانور والا ہی ہوتا ہے۔بوجھ تو اٹھا رکھا لیکن چلنے کا نہیں۔
    اس دفعہ تو کسی کو ۃوا بھی لگنے نہیں دی اگر مانگی بھی تو نہیں دوں ھگا

  17. جعفر Said:

    وضاحت ضرور کیا کریں کہ
    کہ کونسی والی پوسٹ ہے
    تعریف والی
    یا برائیوں والی
    اگر تعریف والی ہے تو واہ کیا خوب رواں نثر لکھی ہے
    اور اگر برائی والی ہے
    تو۔۔۔ آہو۔۔۔

  18. hijabeshab Said:

    یاسر ، بالکل نہیں دیجئے گا یہ کوئی بات ہوئی خریدیں آپ ۔۔ اتنی دور سے لائیں اور مفت میں پڑھنے کو دے دیں ۔۔ کرایہ لیا کریں ۔۔ 🙂

    جعفر ، برائی کا دل چاہا تو کہہ دوں گی ۔۔۔ تعریف کرنا بھی ضروری نہیں ۔۔۔ تنقید کیا کریں تا کہ بہتری آسکے ۔۔

  19. کچھ عرصہ قبل علامات قیامت خاص کر دجال پر مولانا عاصم عمرکی کتاب "تیسری عالمی جنگ اور دجال” پڑھی .. بہت سارے لوگوں کی طرح میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ آج کا دوردجال کی آمد سے پہلے کا دور ہے. ہمارا یہ فرض بنتا ہے کے انسانی تاریخ کے سب سے بارے فتنے کے بارے میں آگاہی حاصل کریں. یہ کتاب اپنے موضوع پر سب سے بہترین کتاب کہلانے کا حق رکھتی ہے اور ہروہ شخص جو اپنے ایمان اور عقیدے کو اہمیت دیتا ہے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے. کتاب کا موضوع دقیق نہیں ہے اسی لئے یہ کتاب آپکو شروع سے آخر تک دلچسپ لگے گی..آپ مندرجہ ذیل لنک سے ڈاؤں لوڈ کرسکتے ہیں. کمپیوٹر سکرین پر کتاب پڑھنا ایک مشکل کام ہے اور میں ابھی تک اس کا عادی نہیں ہو سکا ہوں لیکن اس کے باوجود یہ کتاب میں نے ٣ نشستوں میں ختم کی ہے. ضرور پڑھیے گا .

  20. کاش کہ گھر ہی قِسمت سے تیرے گھر کے قریب ہوتا تو پِھر دیکھتی آپ حِجاب کیا ہوتا ہاہ،،،
    یا تو صِرف کِتابوں کی باتیں ہوتیں اور گھر کے کام رہ جاتے ایک چھوٹی موٹی لائبریری مِل کر بنا لیتے انجمنِ اِمدادِ باہمیءِ کِتاباں پر اور کیا کیا محفِلیں جمتیں ابھی تو سوچ کر ہی مزہ آ رہا ہے،،،
    جاوید بھائ چاہِ بابُل میرے پاس ہے ایک اور بھی کِتاب تھی قمر اجنالوی کی مُقدس مُورتی ایسا گُم ہُوئ تھی میں اُس کِتاب میں کہ بعد میں بمُشکِل خُود کو اُ س کے سحر سے نِکالا تھا بلکہ نِکالا گیا تھا ،،،
    ابھی بھی خواہ کُچھ بھی ہو جائے رات کو سونے سے پہلے کُچھ بھی پڑھے بغیر نیند مہربان بہیں ہوتی،،،مبرُوک ایک اور مزے دار تحریر کے لِئے،،،

  21. hijabeshab Said:

    شاہدہ آپی ، گھر قریب ہوتا تو سب سے پہلے مزے مزے کے پکوان کا تبادلہ ہوتا ۔۔ کتابیں بھی شیئر ہوتیں 🙂

  22. خوب بنے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔

    شاہدہ سسٹر!۔ آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ قمر اجنالوی کے بارے مجھے بہت سے لوگوں نے اسی بتایا ہے۔ مجھے ناولز اور لچر قسم کی ہالی ، بالی یا لالی وڈ کی موویز وغیرہ سے رغبت نہیں کہ میں انھیں وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔ میرے دوست احباب اور رشتے دار عزیز بھی مجھے نت نئی کتابوں سے نوازتے رہتے ہیں یا کوئی ایسی کتاب جو دلچسپ ہو یا کسی موضو پہ نئی تو ضرور مرحمت فرماتے ہیں۔ بلاشبہ میں درجنوں ہزاروں کتابیں چاٹ رکھیں ہیں۔ میں نے بارہا سینکڑوں کی تعداد میں ہارہا ان گنت کتابیں پڑھنے کے بعد وقف کی ہین یا دوستوں میں بانتی ہیں۔

    میرے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو اپنی ائر ٹکٹ پہ اپنے دو جوڑے اور پورا پورا اٹیچی کتابوں سے بھر کر لے آتے رہے ہیں۔ قمر اجنالوی کے مزکورہ ناولز چاہ بابل، بغداد کی رات وغیرہ بھی ایسے کہیں سے ملے تھے میں نے کچھ دوستوں کو بڑھا دئے۔ میرے ایک جاننے والے چاہ بال لے گئے۔ فرماتے ہیں کاھان پینا بھولا ہوا تھا ۔ ان کی بیگم نے مجھ سے شکایت کی کہ ” بھائی جان آپ نے میرے میاں کو پڑھنے کو کیا دے دیا ہے؟ کہ تین دن سے ہر بات سے بے خبر ہیں”

    میرے حلقہ ارباب بہت وسیع ہے اسمیں بہت سے ممالک آتے ہیں۔ اور جن میں کتابیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ اسی طرح مذکورہ ناول آگے بڑھا تو میرے ایک اور جاننے والے کے چاچا اور چاچی جو برٹش ائر ویز سے اچھی پوسٹس سے ریٹائرڈ ہوئے تھے دونوں اسپین میں ساحل وغیرہ پہ گھومنے پھرنے آئے۔ چاچا جان کو تو نھیں مگر انکی چاچی کو دنیا بھر کی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا ۔ انگریزی اردو وغیرہ میں۔ انکے بھتیجے پر تجسس ناول ککہ کر انہیں چاہ بابل دیا۔ چاچی نے کہا اردو ناول میں دلچسپی کہاں۔ مگر پھر جو وہ ناول شروع کیا تین چار دن چاچی بھی گھر سے نکلنا بھول گئیں۔ کھانا تناول کرتے ہوئے بھی ناول انکے ہاتھ میں رہتا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعی ناول نگار نے جو سماں باندھا ہے وہ کھانے پینے کی ہوش بھلا دیتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارا مجھے انکے بھتیجے نے سنایا تھا۔ بہر حال میرے لئیے زاتی طور پہ اطمینان کا صرف ایک ہی پہلو تھا کہ پاکستانی ناول نگاروں میں ایسے لوگ بھی لکھ رہے ہیں جو عالمی ادب کے معیار پہ پورا اترتے ہیں۔ اور بس

  23. […] پہ چھوڑ کے دوسری جگہ سے لے لی ۔۔۔ بعد میں پچھلے سال کی بلاگ پوسٹ دیکھ کر یاد آیا کہ جاوید گوندل صاحب نے کہا تھا ضرور […]


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: