سورج مُکھی ۔۔

آج کل موسم سہانا ہے ۔۔ ہرے ہرے نئے پتّوں پہ جب دھوپ پڑتی ہے تو بہت پیاری سبز رنگ کی روشنی سے آنگن بھر جاتا ہے خاص کر سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے بہت ہی خوبصورت منظر ہوتا ہے ۔۔ بہار کی آمد کے ساتھ مالٹے کا درخت جو لگ رہا تھا سوکھ گیا ہے اس میں بھی نئی کونپلں نکلیں ہیں ۔۔ مالٹے کے درخت پہ چڑھا کریلا بھی تروتازہ ہوکے پھر سے پھول اور کریلے سے بھر گیا ہے ۔۔ گیندے کے پودے میں بھی چھوٹی چھوٹی کلیاں لگی ہوئی ہیں اور ہر طرف سورج مُکھی کے پھول ہی پھول ۔۔۔ سورج مُکھی کے بیج نمک میں بھوننے کے لیئے منگوائے تھے اتنے سارے بیج تھے خالی گملوں میں لگا دیئے ۔۔ اب ہرے ہرے پتّوں میں پیلے پیلے پھول واہ دیکھتے ہی خوشی ہوتی ہے 🙂
سورج مُکھی کے بارے میں سُنا تھا کہ جس رخ پہ سورج ہوگا پھول بھی اُدھر رخ کرلیتا ہے ۔۔۔ میں نے یہ بات سُنی تھی تو ظاہر ہے غلط تو ہو نہیں سکتی 😛 میں آتے جاتے ہوئے ہر وقت پھولوں پر نظر رکھتی ہوں مگر نہیں جی ۔۔۔ پھول نے زمانے کے لحاظ سے بغاوت کردی ہے ، کب تک سورج کی گرمی سے ڈر کے گھومتا رہتا ساتھ ساتھ ۔۔۔ سورج گرمی دِکھا کے ڈوب جاتا ہے پھول لفٹ نہیں کرواتا ۔۔۔ یہی حال انسان کا بھی ہے اگر کسی پر مستقل اپنی مرضی مسلّط کر کے صرف اپنی بات منوائی جائے تو ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب ہاں جی ، اچھا جی کی جگہ جواب صرف “ ہونہہ “ بلکہ دو بار ہونہہ ہونہہ ہوتا ہے ۔۔۔


16 تبصرے »

  1. یہ کون سی نسل ہے سورج مکھی کی جو سورج کا احترام کرنا بھول گئی؟ ہم نے تو کھیتیاں دیکھیں ہیں سورج مکھی کی جو ایک ساتھ ہم آہنگ ہو کر سورج کا سامنا کرتی نظر آتی ہیں۔🙂

  2. پھول نے زمانے کے لحاظ سے بغاوت کردی ہے ، کب تک سورج کی گرمی سے ڈر کے گھومتا رہتا ساتھ ساتھ ۔۔۔ سورج گرمی دِکھا کے ڈوب جاتا ہے پھول لفٹ نہیں کرواتا ۔۔۔ یہی حال انسان کا بھی ہے اگر کسی پر مستقل اپنی مرضی مسلّط کر کے صرف اپنی بات منوائی جائے تو ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب ہاں جی ، اچھا جی کی جگہ جواب صرف “ ہونہہ “ بلکہ دو بار ہونہہ ہونہہ ہوتا ہے ۔۔۔

    لگتا ہے کہ شوہر نامدار نے اس بار خواھش کا احترام نہیں کیا …. 🙂

  3. مگر نہیں جی ۔۔۔ پھول نے زمانے کے لحاظ سے بغاوت کردی ہے ، کب تک سورج کی گرمی سے ڈر کے گھومتا رہتا ساتھ ساتھ ۔۔۔ سورج گرمی دِکھا کے ڈوب جاتا ہے پھول لفٹ نہیں کرواتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    تو پھر ثابت کیا ہوا کہ سورج مکھی کا پھول سورج رخ پہ گھومتا ہے یا نہیں گھومتا؟ آپ یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ نہیں گھومتا۔ جب کہ ہم کہتے کہ آپ کو غلطی لگ گئی ہے۔ سورج مکھی کا پھول سورج کی طرف گھومتا ہے صبح مشرق اور شام مغرب کی طرف گھوما ہوتا ہے۔ اور یہ میرا ہی مشاہدہ نہیں بلکہ سورج مکھی کاشت کرنے والوں کو بھی یہ بیان ہے اور اسی لئیے اسے مورج مکھی کہا جاتا ہے۔ سورج کی طرف مکھ کر لینے والا ۔

    ویسے آپس کی بات ہے جن پیلے رنگ کے پھولوں کی تصویر آپنے لگائی ہے یہ کوئی نہائت منی سورج مکھی لگتا ہے اگر تو یہ سورج مکھی کا ہی پھول ہے تو۔

    البتہ ایک کریلا دوسرا مالٹا چڑھا۔ تو کریلے کی ترکاری سے مالٹوں کی خوشبو تو نہیں آتی؟ یا آتی ہے؟ کیوں کے اس بارے میرا علم ناقص ہے۔ 🙂

    ویسے جب رات کی چاندنی میں ہر طرف اظہر یعنی مالٹے کے پھولوں کی خوشبو پھیلتی ہے تو اسکا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنھیں کبھی مالٹوں کے باغوں کو ان دنوں جب ان پہ پھول آتے ہیں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو۔

    ایک بار ہونہہ یا بار بار ہونہہ ہونہہ یہ المیہ ہمارے ہاں پاکستان میں عام ہے۔
    صبر آ ہی جاتا ہے ، آتے آتے۔

  4. Jafar Said:

    مالٹے پر کریلا؟
    یعنی مالٹے کڑوے
    اور کریلے گوشت، کٹھے؟

  5. کريلہ نيم پر چڑھنے کا سنا تھا ۔ آپ نے مالٹے پر چڑھا ديا ہے
    رہا سورج مُکھی تو آپ کا سورج مُکھی آپ کی طرح آزاد خيال ہو گا ۔ ہم نے جو ديکھا ہے وہ تو چڑھتے سورج کی طرف ہی رُخ کرتا ہے

  6. سورج مکھی کا پھول اس وقت رخ بدلتا ہے جب سورج کے سامنے ہوتا ہے آپ نے تو اس کو دیوار کے سائے میں رکھا ہوا ہے یہ بیچارا کیسے روخ بدلے گا

  7. ان سورج مکھی کے پھولوں کو ان کا اپنا سورج لیکر دے دیں۔
    وہی شمسی توانائی والا۔
    اپنا سورج دیکھ کر خوش ہوں گے اور آپ کو دعائیں دیں گے۔

  8. hijabeshab Said:

    سعود بھیّا ، پتہ نہیں کون سی نسل ہے مجھے بھی نقلی لگتا ہے ۔۔

    ڈاکٹر جواد ، سورج مُکھی کے شوہر نے ؟ 😛 میری زندگی میں فی الحال یہ لفظ شامل نہیں ہوا ۔۔

    جاوید گوندل صاحب سچ مُچ نہیں گھومتا میں نے بہت اچھی طرح نظر رکھی ہوئی ہے یہ پھول چھوٹے ہیں بیج بہت چھوٹی سی تھی جو لگائی شائد اس لیئے بہت چھوٹے چھوٹے پودوں میں پھول ہوگئے ۔۔ کریلا میں نے ہمیشہ فرائی کیا ہے اور اگر کھاؤں تو نگل لیتی ہوں کچھ پتہ نہیں چلتا کیسی خوشبو ہے 🙂 رات کی رانی کی خوشبو اتنی تیز پھیلی ہوتی ہے گھر میں کہ مالٹے کے پھول کی خوشبو کبھی محسوس نہیں ہوئی ۔۔ آج کل آم کے پھول کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے ۔۔

    جعفر ، کریلے گوشت بنا کے بتاؤں گی ۔۔

    اجمل انکل مالٹا ٹنڈ منڈ ہو رہا تھا تو کریلا چڑھا دیا کہ ہرا بھرا لگے ۔۔ سورج مُکھی شائد آزاد خیال ہے میں تو دقیانوسی ہوں 😳

    خرم ، آپ نے ٹھیک لکھا واقعی سورج کی روشنی صرف دوپہر کے وقت پڑتی ہے سورج مُکھی پر ۔۔ جبھی اس کا یہ حال ہے ۔۔

    یاسر ، کوشش کرتی ہوں کہ خوش کردوں پھولوں کو ۔۔ کوئی ایسی جگہ تلاش کرتی ہوں گملا رکھنے کی جہاں سورج کی روشنی مسلسل پڑ سکے ۔۔

  9. آج والا پھیرا سیر کی حد تک ہی سمجھيں کیونکہ سمجھ نہیں لگی کے کیا کمنٹ کیا جائے ۔

  10. اپنی مرضی کے مالک ہیں سورج مکھی کے پھول ۔۔
    جس طرف مرضی منہ کر لیں۔۔
    اور جمہوریت ہے ویسے بھی اتنا تو انکو حق ہونا بھی چاہیے

    ویسے یہ منظر سورج مکھی کے کھیتوں میں دیکھنے کو ملتا ہے
    اور وہاں بھی نسبتآ کمزور پودے سورج کے ساتھ حرکت نہیں کر پاتے۔۔
    گھر میں موجود بیچارے پہلے ہی غزائیت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں
    پولیو کے قطرے پلوائیں اور آیوڈین ملا نمک کھلائیں
    انہیں تاکہ سورج کے ساتھ حرکت کر سکیں وہ

  11. hijabeshab Said:

    بلاگ پر تفریح کے لیئے آنے کا شکریہ جاہل سنکی ۔۔

    بلا امتیاز ، 🙂 🙂 اس بار پولیو کے قطرے پلانے والے آئیں گے تو پھولوں کے لیئے یہ بھی کر لوں گی 🙂

  12. Aniqa Naz Said:

    وقت نہیں مل سکا۔ اس وقت فیض کی یہ نظم یاد آئ تھی۔ بہر حال اب لکھ رہی ہوں۔
    اسکا نام ہے یہ فصل امیدوں کی ہمدم۔

    سب کاٹ دو
    بسمل پودوں کو
    بے آب سسکتا مت چھوڑو
    سب نوچ لو
    بے کل پھولوں کو
    شاخوں پہ بلکتا مت چھوڑو
    یہ فصل امیدوں کی ہمدم
    اس بار بھی غارت جائے گی
    سب محنت ، صبحوں شاموں کی
    اب کے بھی غارت جائے گی

    کحیتی کے کونوں کھدروں میں
    پھر اپنے لہو کی کھاد بھرو
    پھر مٹی سینچو اشکوں سے
    پھر اگلی رت کی فکر کرو

    پھر اگلی رت کی فکر کرو
    جب پھر اک بار اجڑنا ہے
    اک فصل پکی تو بھر پایا
    جب تک تو یہی کچھ کرنا ہے

  13. آپ کے گھر میں ماشاءاللہ بہت پودے ہیں۔۔۔ یعنی زندگی سے بھر پور گھر ہے ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ ایسا ہی ہرابھرا رکھے۔۔۔ آمین۔۔۔

  14. hijabeshab Said:

    شکریہ انیقہ ، اچھی مگر ظلم سے بھرپور نظم ہے ۔۔

    شکریہ عمران ، آمین ۔۔

  15. حِجاب بچے قیامت کی نِشانیاں ضرُوری تو نہیں اِنسانوں کی آنکھیں بدل جانے سے مشرُوط ہوں،پُھولوں کو بھی شامِل کر لونا کیُوں ناچے سُورج مُکھی سُورج کے اِشاروں پر جو اُس کا دِل چاہے گا کرے گا وُہ کوئ بلاگر ہے جو دُوسروں کی مرضی پر چلے،،
    ویسے حاصلِ پوسٹ یہ فِقرہ رہا ،،،
    مالٹے کے درخت پہ چڑھا کریلا بھی تروتازہ ہوکے پھر سے پھول اور کریلے سے بھر گیا ہے جلدی بتاؤ اِشارہ کِس کی طرف ہے رواج ہے نا آجکل بات کو گُھمانے کا تو میں نے سوچا،،،،

  16. hijabeshab Said:

    شاہدہ آپی کسی کی طرف اشارہ نہیں ، واقعی مالٹے پہ کریلا چڑھایا ہے کریلا ذرا بڑا ہو تصویر دکھاؤں گی ۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: