ڈر ….

2 دن پہلے رات کو جب لائٹ آنے میں کچھ منٹ باقی تھے ۔۔ دروازہ کھٹکٹانے کی آواز آئی میں نے امی کو کہا کوئی آیا ہے ۔۔ امی نے کہا بھائی کو کہو جا کے دیکھے اس کا کوئی دوست ہوگا ۔۔ اس سے پہلے کہ میں بھائی کو کہتی پھر کھٹ کھٹ کی آواز آئی تو مجھ سے پہلے بھائی نے پکار کے کہا دیکھو بھائی کے کمرے میں امی نماز پڑھ رہی تھیں کیوں آواز دے رہی ہیں دروازہ بجا کر ۔۔ میں نے کہا امی تو یہاں ہیں اس کمرے میں کون ہے ؟؟ اس نے کہا پتہ نہیں ۔۔۔۔۔ اس کا پتہ نہیں کہنے کا انداز ایسا ڈرا ڈرا سا تھا کہ مجھے ہنسی آنے لگی اسی وقت لائٹ آئی تو دیکھا بھائی کا کمرہ باہر سے بند ہے اور اندر سے کھٹ کھٹ 😕
کوّے بھگانے کے لیئے ایک پلاسٹک کی پستول رکھی ہوئی ہے بھائی وہ لے کے باہر آیا ۔۔۔۔ اس پستول کو دیکھ کر ہنسی جو پہلے دبی دبی سی تھی قہقہے میں بدل گئی ۔۔۔ میں نے کہا اس کی گولی سے بندہ کانا تو ہو ہی جائے گا اگر نشانہ ٹھیک ہوا تو ۔۔۔ خود پستول لے کے کھڑا ہوگیا مجھے کہا پوچھو کون ہے ۔۔ میں نے کہا میں کیوں پوچھوں اگر واقعی جواب آگیا تو ۔۔۔ وہ ڈرپوک اس نے بھائی کو میسیج کیا کہ آؤ تمہارے کمرے میں کوئی ہے اس نے آکے دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم تینوں کی نظریں دروازے کی طرف کہ دیکھیں کون آتا ہے باہر ۔۔۔ کچھ دیر بعد میری موٹو بلی دوڑتی ہوئی باہر بھاگی ۔۔۔ پھر جو قہقہے بلند ہوئے تو بڑے بھائی کی آواز پہ خاموشی ہوئی کہ تم لوگوں کا ڈرامہ ہر وقت چلتا رہتا ہے ۔۔ میں نے کہا اتنا خطرناک سین گزر گیا ہم سیلیبریٹ کر رہے ہیں 😛
اس طرح کے مواقع پر اُس وقت تک ڈر نہیں لگتا جب تک کوئی ڈرائے نہیں ۔۔ اکثر اکیلی رہ لیتی ہوں ، مگر ساتھ دونوں چھوٹے بھائیوں کو ہدایت دی ہوئی ہے کہ لاک کھول کے خاموشی سے آکر ڈرانا نہیں ورنہ ۔۔۔ پہلے ماروں گی پھر دیکھوں گی کہ کون آیا ہے ۔۔ آج کل کے حالات اور روزآنہ کی چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا سُن کر ڈر تو رہتا ہی ہے ۔۔ اللہ ہم سب کو حفظ و امان رکھے آمین ۔۔
یوں تو ڈرانے والی اور بھی بہت سی باتیں ہیں ، کبھی لال بیگ یا چھپکلی سے سامنا ہوجائے تو بڑی مشکل ہوتی ہے ان کو میری ہش ہش سمجھ نہیں آتی یا ان کی زبان میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہو کہ یہاں آؤ ۔۔۔ پھر کیا ہوتا ہے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں 😳 کچھ لوگ بجلی کی کڑک اور چمک ، بادل گرجنے سے ، اندھیرے سے ، تنہائی سے ، آنے والے وقت کی سوچ ، کسی کو کوئی بیماری ہو تو اس بیماری کا سن کر ، یا پھر کچھ لوگ بڑھتی عمر سے ڈرتے ہیں کہ بڑھاپا قریب ہے چہرے پر جھرّیاں پڑ جائیں گی آئینے سے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔۔ جنگلی جانور ، سانپ بچھو کا ڈر ، خون دیکھ کر بھی مجھ جیسے کمزور دل لوگ ڈر جاتے ہیں ۔۔۔ انجیکشن لگوانے کا ، کمپیوٹر کی خرابی ، اور آج کل کے حالات سے تو سبھی ڈرتے ہیں ۔۔ اس کے علاوہ شوہر حضرات بیوی سے ڈرتے ہیں ۔۔ کچھ لوگ بڑی بڑی انکھیوں سے بھی ڈر جاتے ہیں ۔۔😛 ڈر تو اور بہت سی چیزوں اور باتوں سے لگ سکتا ہے مگر فی الحال یاد نہیں آ رہیں ۔۔ ویسے اب ڈر سے بچانے والا انجیکشن یونیورسٹی آف ہیروشیما کے ماہرین نے تیار کر لیا ہے جس کو لگانے کے بعد کم ازکم ہارر مووی دیکھنے میں آسانی رہے گی ۔۔ مگر انجیکشن سے ڈرنے والے کیا کریں گے جیسے کہ میں ۔۔۔ آپ سب ڈرتے ہیں یا ڈراتے ہیں ؟؟؟

16 تبصرے »

  1. ایک تو اس بچی کی بے ساختہ تحریروں کی تعریف کرنے کے لئے الفاظ کم پڑنے لگے ہیں۔🙂

  2. بی بی!

    ڈر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ البتہ کچھ لوگ کم ڈرتے ہیں کچھ زیادہ ڈرتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو مخصوص قسم کے ڈر اور بعض مخصوس قسم کے خوف جنہیں فوبیا کہتے ہیں ہمیشہ لاحق رہتے ہیں۔ ڈر دور کرنے کا ایک نفسیاتی طریقہ علاج ایسا بھی ہی ہے جس میں فوبیا کو بار بار چیلنج کر کے کیا جاتا ہے ، مثلا سانپ کے ڈر کو سانپوں کے ساتھ کچھ عرصہ رہنے سے کیا جاتا ہے۔ وغیرہ۔

    البتہ خدا سے ڈرنے والے عام قسم کے خوفوں میں مبتلاء نہیں ہوتے اور دیکھا گیا ہے خدا سے ڈرنے والے بہت مظبوط اعصاب کے مال ہوتے ہیں کسی بھی ناگہانی صورتحال پہ بد حواس نہیں ہوتے۔

    امریکہ یوروپ وغیرہ میں ڈرنے سے لطف اندوز ہونے کے لئیے رسے باندھ کر بلند جگہوں پلوں وغیرہ سے چھلانگیں لگاتے ہیں۔ جسے مختلف قسم کی جمپینگ کہا جاتا ہے۔ اور اسطرح کے اور بھی انتہائی خطرناک کھیل تماشے کئیے جاتے ہیں۔ جن سے Epinephrine یا Adrenalin (دونوں نام ایک ہی ہارمون کے ہیں) نامی ہارمون گردوں سے پورے جسم پہ اثر انداز ہوتا ہے جس سے ڈر کا احساس اور نتیجے میں پیٹ میں کانٹھ سی محسوس ہوتی ہے ۔ نیچے اسے بارے لنک کا ربط نقل کر دیا ہے۔

    ویسے آپ کی ہمت قابل ستائش ہے جو آپ صرف چھپکلی اور لال بیگ سے درتی ہیں اور چوہیا سے نہیں ڈرتیں 🙂

    http://en.wikipedia.org/wiki/Epinephrine

  3. حِجاب میرے جیسے لوگوں کے لِئے تو اور بھی بہُت سے ڈر پائے جاتے ہیں جو میرے اور آپ کے ہو سکتا ہے مُشترکہ نا رہے ہوں جیسے کی میری کِسی بھی بات سے کِسی کی کہیں دِلآزاری نا ہو جائے ، یہ ڈر مُجھ پر تو اِتنا حاوی رہتا ہے کہ ہر جائِز نا جائِز ہر ایک کی ماننے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہُوں اور نُقصان یہ اُٹھاتی ہُوں کہ بہُت آرام سے لوگ میرا اِستعمال کر کے مُجھے ہی بُرا بھی بنا دیتے ہیں ،،
    خیر بات اور طرح کے ڈروں کی ہے تو چُو ہے سے بہُت ڈر لگتا ہے شیر سے بِالکُل نہیں ڈرتی وُہ کونسا میرا ڈرآزمانے آرہا ہے اور خُون سے کُچھ ڈر نہیں لگتا اُف ہڈی میں لگنے والے اِنجکشن سے بہُت خوف آتا ہے کہ ہوتا ہی اِتنا خوفناک ہے اور ہاں سعُود واقعی اس بچی سے اب خوف آنے لگا ہے اِتنے مزے کا لِکھتی ہے کہ میں تو سال کی ہمہ جِہت تحریروں کی مالِکہ ہونے کا ایوارڈ دینے والی ہُوں اِسے میڈم قبُول کیجیئے گا،،،،

  4. عثمان Said:

    مجھے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ نے اب تک کتنے کوے مارے؟ بیچارے کوے۔ 😦

  5. ویسے تو میں بہت بہادر ہوں۔
    ڈرتا ورتا نہیں ہوں۔۔۔ہاں جی۔
    لیکن انجکشن اور گھر والی سے بہت ڈر لگتا ہے۔

  6. دوست Said:

    فیس بُک کا لائک بٹن شامل کرلیں جی یہاں، کبھی کبھی تبصرہ کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہوتے۔ اب اس کو شئیر ہی کررہا ہوں اپنی پروفائل پر۔ اور لائک بھی۔🙂

  7. جاويد گوندل صاحب کا يہ فقرہ ہميشہ ياد رکھيئے ۔ يہ آزمودہ نُسخہ ہے کيونکہ کہتے ہيں کہ اللہ سے ڈرنے والا صرف ايک بار مرتا ہے اور باقی بار بار مرتے ہيں

    البتہ خدا سے ڈرنے والے عام قسم کے خوفوں میں مبتلاء نہیں ہوتے اور دیکھا گیا ہے خدا سے ڈرنے والے بہت مظبوط اعصاب کے مال ہوتے ہیں کسی بھی ناگہانی صورتحال پہ بد حواس نہیں ہوتے

  8. واقعی میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کایہ ایک شعرہے۔
    یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
    اسی طرح ڈرکابھی یہی حال ہےجس سےانسان ڈرتاہےاسکےخوف میں ہروقت مبتلارہتاہےجوکہ اس کوسکون نہیں لینےدیتاجسطرح مثال کےطورپرپاکستانی حکمران امریکیوں سےاسطرح ڈرتےہیں جسطرح چوہےبلیوں سےڈرتےہیں یہی وجہ ہےکہ وہ وہاں پرایک لفظ بھی کہہ دیں توہمارےحکمران کےکھڑےکھڑے۔۔۔۔۔۔ نکل جاتی ہے۔

  9. سب سے بد ترین ڈر اپنے ہی جیسے انسان کا ڈر ہے..

  10. سب سے بد ترین ڈر اپنے ہی جیسے انسان کا ڈر ہے..
    سب سے بہترین خوف الله سبحانه تعالیٰ کا خوف ہے.

  11. سارہ Said:

    لگتا ہے تم ڈر پروف مٹی سے بنی ہو ۔۔۔😛 مجھے تو ان سب چیزوں سے ڈر لگتا ہے جو تم نے گنوائی ہیں ۔:(۔ سوائے بیوی کے ۔۔کہ وہ صرف شوہروں کی ہوتی ہے ۔ہاہا۔۔

  12. حجاب۔۔۔ حسب معمول آپ نے جو لکھا، اچھا لکھا۔۔۔ لیکن ڈر کی ایک قسم جو یاسر صاحب نے بیان کی ہے وہ تو بہت ہی اعلی ہے۔۔۔ ڈر گھر والی کا۔۔۔ یعنی کہ ہم سب مرد حضرات میں یہ ڈر تو کامن ہی ہوا نا۔۔۔

  13. hijabeshab Said:

    سعود بھیّا ، شاہدہ آپی شکریہ ۔۔

    جاوید گوندل صاحب چوہیا نہیں موٹے موٹے پہاڑی چوہے آ جاتے ہیں اکثر یہاں ۔۔ اس کا قصّہ بڑا ہیبت ناک ہے۔۔۔ میں تو گرمی کے موسم میں کچھ بھی ہو جائے کھڑکی دروازے کھول کے نہیں سوتی اسی چوہے کے ڈر سے 😦

    عثمان کوّے سے اتنی ہمدردی خیریت تو ہے 😛

    یاسر اور عمران اقبال گھر والی سے ڈرنے میں ہی بھلائی ہوتی ہے 🙂

    اجمل انکل ، جاوید اقبال ، ڈاکٹر جواد خان صاحب شکریہ ۔۔ آپ سب کی بات پلّو سے باندھ لی ہے ۔۔

    دوست ، بہت شکریہ اچھا جناب فیس بُک کا لائک بٹن شامل کرلوں گی ۔۔

    سارہ بہت خوب ، تمہارا تبصرہ اچھا لگا 🙂

  14. “عثمان کوّے سے اتنی ہمدردی خیریت تو ہے :”P

    اسکا جواب آپ عثمان سے نہیں مانگیں خود ہی تھوڑی سی ذہانت استعمال کر لیں 🙂

  15. ڈفر Said:

    میں نے کہا میرا اتنا ذکر ہو رہا ہے تو اچھا نہیں لگتا کہ میں مغرور ہو جاؤں اسلیے حاضری دینے چلا آیا

  16. hijabeshab Said:

    ڈفر سے ڈر ۔۔ “ ف “ ہٹا دیا کیا اپنے نام سے ؟؟؟؟؟


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: