بیزاریت کا موسم ۔۔۔۔

کبھی کبھی جب ارد گِرد کے ماحول سے بیزاری محسوس ہونے لگتی ہے اس وقت نہ چڑیوں کی چہکار اچھی لگتی ہے نہ پھولوں پودوں میں حسن نظر آتا ہے ۔۔۔ اس وقت ہر وہ چیز اور بات جس کو دیکھ اور سُن کر اکتاہٹ ہو دل چاہتا ہے اس کا منہ گُھما دیا جائے ۔۔۔۔
کوئی کام بہت جلدی کرنا ہو ۔۔ اس وقت گھڑی کی ٹِک ٹِک بری لگتی ہے دل کرتا ہے گھڑی گُھما دوں ۔۔۔ اسی طرح جب نیٹ کی دنیا بور لگنے لگے تو کمپیوٹر ۔۔۔۔۔۔ رات کے وقت موبائل ، وجہ نائٹ پیکیجز ۔۔۔۔۔۔۔ ذو معنی بات کرنے والے ۔۔۔ خوشامدی ۔۔ بلاوجہ تعریف کرنے والے ۔۔ بدھ یا جمعرات بازار سے شاپنگ کرکے طارق روڈ کا نام لے کر اترانے والے ۔۔۔۔ کوئی مزاحیہ جملہ یا بات سُن کر حیرت سے تکنے والے ۔۔۔۔ اور خود کو پرفیکٹ سمجھنے والے لوگ تو مجھے شلجم اور پیلے رنگ سے زیادہ برے لگتے ہیں ان کا منہ توڑ کر گُھمانا چاہیئے ۔۔ 🙄
مگر ہائے افسوس میں اتنی بدتمیز نہیں ہوں 😳 چیزوں کے منہ تو گھمائے جا سکتے ہیں لیکن لوگوں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا منہ بھی تو ہے اور دوسروں کے ارمان بھی 😛 اس لیئے میرے یہ ارمان ایسے ہیں جو دل کے دل میں رہتے ہیں یا بلاگ کی تحریر بن سکتے ہیں 😦
اگر میری باتیں کسی پر فِٹ ہوتی ہوں تو صبر کے ساتھ خاطر جمع رکھیں بیزاریت کا موسم گزرنے کے بعد میں ان سب میں حسن بھی تلاش کر سکتی ہوں 😛

Advertisements

18 تبصرے »

  1. اس بچی کے حسن تحریر پر کچھ بھی کہنا ہمیں کم ہی لگتا ہے۔ "دل چاہتا ہے اس کا منہ گُھما دیا جائے ۔” کتنا جاندار اظہار ہے بیزاری کے عالم کا۔

  2. ہائے یہ تیرا اندازِ بیان لیکِن حِجاب میرا بھی ایک مُنہ ہے جِسے گُھمائے جانے سے بہُت ڈر لگتا ہے حالانکہ بہُت دِل چاہتا ہے بہُت سے لوگوں کے مُنہ توڑ کر ہاتھ میں پکڑا دُوں پر کیا کریں کہ بس اپنا سا ہی مُنہ لے کر رہ جاتی ہُوں ورنہ دِل کی کیا بات کریں کہ اِس نادان پر بند ِباندھنا اُف کیا کمال کی بات ہے ؟؟؟؟
    ابھی فی الحال تو بس لِسٹ بنا رہی ہُوں دِل ہی دِل میں ایسے لوگوں کی اور جواب آں غزل کے طور پر بہُت کُچھ آمد ہو رہی ہے،،،،

  3. آپ کا انداز تحریر اس تحریر میں بہت عمدہ ہے۔

    "اور خود کو پرفیکٹ سمجھنے والے لوگ تو مجھے شلجم اور پیلے رنگ سے زیادہ برے لگتے ہیں” شلجم اور پیلا رنگ کی نسبت سے لوگوں سے اکتاہٹ نئی اصطلاحات ہیں۔ بہت خوب۔

  4. جعفر Said:

    میں تو نہیں بول رہا
    کہیں میرا ہی منہ نہ گھما دیں آپ

  5. امتیاز Said:

    سبھی بہت عمدہ جملے ہیں۔۔ لیکن یہ جملہ
    ” بیزاریت کا موسم گزرنے کے بعد میں ان سب میں حسن بھی تلاش کر سکتی ہوں” ۔
    اور اگر اپکو پیلا رنگ اتنا نا پسند ہے تو اپکی ہر پوسٹ میں پیلے رنگ کی اتنی سمائلیاں کیون ہوتی ہیں ۔

    • اوئے شاہ جی
      تو بڑا بے دید انسان ثابت ہوا یار
      بڑے افسوس کی بات ہے

      • امتیاز Said:

        میرے سمائلیوں پر اعتراض پر تجھے اپنا پیلا منہ یاد آ گیا نا۔۔

  6. آپ بہت اچھا لکھتی ہیں۔

  7. کمال ہو گيا آپ شلجم کو اتنا زيادہ بُرا سمجھتی ہيں تبھی تو بيزار رہتی ہيں ۔ شلجم پکا کر اور کچے بھی کھايا کريں ۔ سُرخی پاؤڈر کريم وغيرہ لگانے کی ضرورت نہيں رہے گی اور چہرے پر اُکتاہٹ کی جگہ بشاشت لے لے گی ۔ شلجم خون کو صاف کرتے ہيں اور جگر کو صحتمند رکھتے ہيں

    منہ گھمانے کا بہت آسان طريقہ ہے ۔ ۔ ۔ اپنا چہرہ دوسری طرف کر ليجئے

    "بدھ یا جمعرات بازار سے شاپنگ کرکے طارق روڈ کا نام لے کر اترانے والے”۔
    طارق روڈ نہ ہوئی آصف علی زرداری کا محل ہو گيا جو لوگ اترانے لگے

    ارے "خوشامدی” تو بڑی اونچے درجے کی چيز ہوتے ہيں آجکل ۔ آپ بن جايئے ۔ پھر مزے ہی مزے ہيں ۔ مگر ۔ ۔ ۔ ميں ۔ ۔ ۔ ميں ۔ ۔ ۔
    من اپنا پرانا پاپی ہے ستّر برس ميں بھی خوشامدی بن نہ سکا

  8. گونگلو تو آجکل تازہ تازہ ہوتاہے۔اور میٹھا بھی۔
    بری بات ہے۔ گونگلو کی برائی کرنا۔

  9. ویسے ایک بات ہے، تم پہلے تو اتنا اچھا نہیں لکھتی تھیں۔۔۔ اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ تم اب پہلے سے زیادہ اچھا لکھنے لگی ہو لیکن یوں خوش آمد کا پہلو نمایاں ہوجائے گا اور میں ممکنہ (متوقع) الزام کی زد میں آنے سے بچنے میں عافیت محسوس کرتا ہوں 😛 آج کل مطالعے پر زور ہے یا مشاہدے پر؟ 😀 یا مجاہدے پر 😀 بہت سے عمدہ جملوں کی موجودگی میں مجھے یہ جملہ بہت خوب لگا: ’’اپنا منہ بھی تو ہے اور دوسروں کے ارمان بھی‘‘ 😛 لگتا ہے، تم نے مستقبل میں مشتاق احمد یوسفی کا جانشین ہونے کی ٹھان لی ہے، پہلے ڈاکٹر یونس بٹ کا جانشین لکھنے لگا تھا لیکن سوچا کہ کچھ لوگ اسے تعریف کے بجائے تنقیص میں شمار نہ کرلیں 😛

  10. حچاب صاحبہ۔۔۔ آپ بہت عمدہ لکھتی ہیں۔۔۔

    افتخار اجمل صاحب۔۔۔ آپ کا تبصرہ بھی بہت عمدہ تھا۔۔۔ خاص طور پر۔۔۔ من اپنا پرانا پاپی ہے ستّر برس ميں بھی خوشامدی بن نہ سکا۔۔۔ مزہ آ گیا۔۔۔

  11. hijabeshab Said:

    شکریہ سعود بھیّا ۔۔۔

    شاہدہ آپی جلدی بنائیں لسٹ نام کی جن کے منہ گھمانے ہیں اور لکھیں بلاگ پر ۔۔۔۔

    شکریہ جاوید گوندل صاحب آپ سب لوگوں کا حسنِ نظر بھی ساتھ شامل ہوتا ہے ۔۔۔

    جعفر ۔۔ ایسا بھی کیا ۔۔ منہ کی اتنی پرواہ 😛

    شکریہ امتیاز ۔۔ پیلا رنگ مجھے دیکھنے میں برا نہیں لگتا ۔۔ بس پیلے رنگ کے کپڑے نہیں پسند ۔۔ اور اسمائیلی پیلے رنگ میں ہی ہیں ۔۔۔ آپ کے پاس اور کسی رنگ میں ہوں تو دیجیئے گا مجھے ۔۔۔۔۔۔

    احمد عرفان شفقت ۔۔ آپ لوگ اتنا سراہتے ہیں حوصلہ بڑھ جاتا ہے بہت مہربانی ۔۔۔

    اجمل انکل ایک بار شلجم پکایا تھا امی نے وہ اتنا کڑوا تھا ۔۔۔ اس سے اچھا تو کریلا لگتا ہے نگل کے کھا ہی لیتی ہوں مگر شلجم اس کے بعد نہیں کھایا ۔۔۔

    یاسر خواہ مخواہ جاپانی ۔۔ گونگلو شلجم کو کہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 😳

    عمار ۔۔ مجھے بھی خیال آتا ہے کہ پہلے کیوں نہیں لکھتی تھی سوچ کر ۔۔۔۔۔ بس یونہی لکھ دیا کرتی تھی اس لیئے کہ بلاگ لکھنا اضافی کام لگتا تھا ۔۔۔ اور پہلے چیٹنگ زیادہ کرتی تھی تو لڑائی جھگڑے میں رہا سہا دماغ ضائع ہوجاتا تھا ۔۔۔ اب دماغ کی حفاظت کرتی ہوں 😛 مشتاق احمد یوسفی کو پڑھا نہیں میں نے لگتا ہے پڑھنا پڑے گا ۔۔۔ اور یونس بٹ کی ایک کتاب لی ہے پڑھ کے بتاؤں گی کس کی جانشین بننا ہے 😛 یہ جملہ اپنا منہ اور دوسروں کے ارمان لکھتے ہوئے مجھے بھی ہنسی آئی تھی ظاہر ہے منہ تو بچانا ہے 😆

  12. hijabeshab Said:

    بلاگ پر خوش آمدید اور شکریہ عمران اقبال ۔۔

  13. کیا اظہار ہے نا پسندیدگی کا جی ۔ کیا پسندیدہ لوگوں کو بھی کبھی کبھار برداست کرنا نہیں پڑتا ؟

  14. zafriusa Said:

    یہ سب یکسانیت کا اظہار لگ رہا ہے ۔ میں تو کہتا ہوں کہ اپنی امی کی بات مان لیں ۔ 🙂
    ویسے بیزاریت میں ہی ان چیزوں کا حسن تلاش کریں توان چیزوں کی افادیت بھی ظاہر ہوسکے گی ۔ ورنہ اچھے دنوں میں تو دشمن بھی پیارا لگتا ہے ۔ 🙂
    اور خدارا اسے فلسفہ نہ سمجھیئے گا ۔ 🙂
    ویسے مابدولت آپ کی تحریر سے محظوظ ہوئے ۔

  15. hijabeshab Said:

    جاہل سنکی ، پسندیدہ لوگوں کو اگر برداشت کرنا بھی پڑ جائے تو ظاہر نہیں کرنا چاہیئے ۔۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ظاہر ہے اتنی برداشت نہیں ہوتی کسی میں ۔۔۔

    ظفری کون سی بات مان لوں ؟؟؟ میں تو ساری باتیں مانتی ہوں 😕 اور دشمن اچھے دنوں میں آپ کو پیارا لگتا ہوگا ۔۔۔ مجھے تو نئے نئے خیال ہی آئیں گے اچھے دنوں میں دشمن کو تپانے تنگ کرنے کے 😛 اور بہت شکریہ کہ آپ محظوظ ہوئے 🙂

  16. امن ایمان Said:

    حجاب بہت شاندار تحریر۔۔۔اور مجھے بھی عمار کی بات سے مکمل اتفاق ہے کہ شب واقعئ اب آپ کی ہر تحریر بہتر سے بہترین لگتی ہے۔۔۔اور اس کی وجہ یقننا وہی ہے جو آپ نے عمار کو جواب میں لکھی۔۔۔۔کیونکہ ایسا معاملہ میرے ساتھ بھی ہوتا تھا کہ جب ذہن بہت سارے اطراف میں گھوم رہا ہو تو کسی ایک جگہ پرفیکشن مشکل ہوجاتی ہے۔۔۔اچھی بات ہے آپ دماغ کی حفاظت کررہی ہیں : )اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سب سے مزے کی بات یہ کہ میں خود آج کل اسی فیز سے گزر رہی ہوں۔۔۔۔بلاگ،چیٹ،موبائل ہر چیز میں بیزاریت محسوس ہوتی ہے۔۔۔میں تو بہت مشکل سے خود کو بولنے پر آمادہ کررہی ہوں۔۔۔۔شاید موسم کا اثر ہم دونوں پر ایک سا ہوگیا ہے ۔۔۔آپ نے تو پوسٹ لکھ کر اندر کی گھٹن کچھ نہ کچھ باہر نکال ہی دی۔۔۔میرا تو لکھنے کا بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا : (


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: