دسمبر بیت ہی جائے گا …

کہا تھا یہ دسمبر میں
ہمیں تم ملنے آؤ گے
دسمبر کتنے گذرے ہیں
تمہاری راہوں تکتے
نجانے کس دسمبر میں
تمہیں ملنے کو آنا ہے
ہماری تو دسمبر نے
بہت امیدیں توڑی ہیں
بڑے سپنے بکھیرے ہیں
ہماری راہ تکتی منتظر
پرنم نگاہوں میں
ساون کے جو ڈیرے ہیں
دسمبر کے ہی تحفے ہیں
دسمبر پھر سے آیا ہے
جو تم اب بھی نہ آئے تو
پھر تم دیکھنا خود ہی
تمہاری یاد میں اب کے
اکیلے ہم نہ روئیں گے
ہمارا ساتھ دینے کو
ساون کے بھرے بادل
گلے مل مل کے روئیں گے
پھر اتنا پانی برسے گا
سمندر سہہ نہ پائے گا
کرو نہ ضد چلے آؤ
رکھا ہے کیا دسمبر میں
دلوں میں پیار ہو تو پھر
مہینے سارے اچھے ہیں
کسی بھی پیارے موسم میں
چپکے سے چلے آؤ
سجن اب مان بھی جاؤ
دسمبر تو دسمبر ہے
دسمبر کا بھروسہ کیا
دسمبر بیت ہی جائے گا ( شاعر نامعلوم )
—————————–

Advertisements

11 تبصرے »

  1. مجھت تو لگتا ہے کہ یہ نظم شاعر نامعلوم نے پاکستانی قوم کے لئیے کسی نئے قائد اعظم جیسی شخصیت کے لئیے کہی ہے۔ ایک وہ قائد رحمتہ اللہ علیہ تھے آجک دن دسمبر میں پیدا ہوئے اور پاکستان پیدا ہوا ۔ اور بس پیدا ہوکر گھٹنے گھٹنے تک بھی چلنا نہ سیکھ سکھا وہیں رہ گیا جہاں تھا۔ اب شاید کوئی نیا قائد آئے اور پاکستان نہ صرف چلنا سیکھ لے بلکہ سن بلوغت کو بھی پہنچے اور قوم باوقار زندگی کے ادھورے خوابوں کو تکمیل دے سکے۔

  2. معذرت
    شاعری پڑھ لیتا ہوں۔
    لیکن تبصرہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔
    اور عشق وغیرہ والی شاعری ہو۔
    ہمارا مزاج ایسا نفیس و لطیف کہاں جی۔

  3. شازل Said:

    دسمبر بھي بيت هي گيا هے
    ليكن شايد بهت اداس

  4. عثمان Said:

    مجھے تو بس فروری پسند ہے۔ 😛

  5. شگفتہ Said:

    واہ واہ واہ ، بہترین 🙂

  6. zafriusa Said:

    اچھی نظم ہے ۔ مابدولت کو پسند آئی ۔ اور یہ مجھے اب “ نامعلوم “ شاعر کہنا چھوڑ دو ۔ :)‌‌‌‌‌‌‌

  7. hijabeshab Said:

    پسند کرنے کا شکریہ ۔۔

    ظفری خوش فہمی بری عادت نہیں اس لیئے خوش رہیئے 🙂

  8. بی بی ۔ آپ ايک دسمبر کی بات کر رہی ہيں ۔ ہماری قوم پر چونسٹھواں دسمبر گذرنے کو ہے اور پوری کوشش کی جاتی ہے کہ ہر دسمبر پچھلے دسمبر سے بُرا ہو

  9. جعفر Said:

    جس طرح آپ دسمبر کے پیچھے پڑی ہوٗی ہیں
    کم ازکم اگلے تین مہینوں تک اسے بیتنے نہییں دیں گی۔۔

  10. ویسے ’’نامعلوم شاعر‘‘ نے ’’دسمبر بیت ہی جائے گا‘‘ کے بجائے ’’دسمبر بیت جائے گا‘‘ لکھا ہوگا 😛 میرا وجدان کہتا ہے۔ ہاہاہا۔۔۔ نظم اچھی ہے۔۔۔ دسمبر کو مزید رومانوی کردینے والی 😛

  11. hijabeshab Said:

    جعفر ، میں اپنے کمرے کے کلینڈر پر دسمبر روک لوں گی ۔۔۔

    عمار ، شاعر نے شروع میں انتظار کیا پھر“ ہی “لگا دیا کب تک منتظر رہتا بےچارہ 😛


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: