ریاض منصوری کی تحریر ۔۔

ٹرین اپنی پوری رفتار سے چل رہی تھی۔میں ڈائجسٹ پڑھنے میں مصروف تھا۔مجھے کراچی سے لاہور جانا تھا اور اتنا لمبا سفر کسی کتاب یا رسالے کے بغیر کاٹنا کوئی آسان نہیں ہوتا ۔خاص طور پر ان حالات میں جب آپ اکیلے ہوں لیکن سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی باتوں نے مجھے ڈائجسٹ ایک طرف رکھنے پر مجبور کردیا ۔میں نے جب بولنے والے کی طرف دیکھا تو اُس کی باوقار آواز کی طرح اُس کی شاندار شخصیت سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔غالباً وہ کوئی پروفیسر تھے ۔اُن کے ساتھ بیٹھے افراد اُن کی باتوں کو اس طرح سُن رہے تھے کہ جیسے زندگی میں اُن کے لئے ایسی باتیں بالکل نئی اور انوکھی ہوں ۔پروفیسر صاحب اُنہیں بتا رہے تھے کہ زندگی کیسے گزارنی چاہئیے۔
” جتنی خواہشوں کو سمیٹو گے مایوسی اُتنی ہی کم ہوگی اور خواہشات کا دائرہ جیسے جیسے بڑھاؤ گے اضطراب،بے چینی اور بے سکونی تمہارے دماغ میں مستقل جگہ بنا لے گی یہاں تک کہ تم راتوں کو ٹھیک طرح سے سو بھی نہیں سکو گے ۔دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔!
خواہشیں کمزور ارادوں کے لوگوں کے لئے بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتی ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے لیکن مضبوط ارادوں کے مالک انہیں لگام ڈالنا جانتے ہیں جبکہ کمزور لوگ خود کو خواہشوں کے دھارے پر بہنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں اور خواہشات کا یہ سیلاب اُنہیں جس طرف چاہتا ہے بہا کر لے جاتا ہے۔
میرے خیال میں خوش اور مطمئن رہنے کا آسان ترین راستہ یہی ہے کہ جو ملے اُس پر شُکر ادا کرو اور جو نہیں ملا اُس کے لئے جدوجہد کرتے رہو لیکن اس طرح نہیں کہ خود تمھاری ذات کہیں دفن ہوجائے ۔آپ کو اپنے آپ کو بھی زندہ رکھنا ہے ۔آپ کی ذات پر آپ کے بیوی بچّوں ،دوستوں اور عزیز واقارب سب کا حق ہے،اُنہیں بھی آپ نے ساتھ لے کر چلنا ہے۔اپنی خواہشات کی تکمیل کا جنون تمہیں اپنے عزیزوں سے دور نہ کردے ۔میں دیکھتا ہوں لوگوں کے پاس دوسروں کے لئے تو کیا ،خود اپنی ذات کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔یہ اندھی دوڑ ہے اور بالآخر اس دوڑ کا اختتام ایک بند گلی میں جاکر ہوتا ہے پھر آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ آپ واپسی کا ارادہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اُس وقت آپ کے اعصاب جواب دے چکے ہوتے ہیں۔“میں نے جب یہ باتیں سُنیں تو سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
پروفیسر صاحب بولے۔” دوسری بات جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ کنجوسی سے بچو۔اللہ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں سے دوسروں کو دو۔تم میں سے بہت کم ہوں گے جو یہ بات جانتے ہیں کہ ہمیں جو رزق ملتا ہے اُس میں حقیقتاً دوسروں کا حصّہ بھی ہوتا ہے بلکہ بہت سارا تو ہمیں ملتا ہی اُن کی توسط سے ہے ۔اچھا یہ بتاؤ کہ تم کسی ایسی چھوٹی چڑیا سے واقف ہو جسے جنگل میں سب سے کمزور ترین مخلوق سمجھا جاتا ہے ؟؟“
سب لوگوں نے نفی میں سر ہلادیا۔اُن کی آنکھوں میں حیرت بھی تھی کہ پروفیسر صاحب اچانک یہ بات کہاں سے کہاں لے گئے ہیں اور اس سوال کا اللہ کے دیئے ہوئے مال سے دوسروں کو دینے سے کیا تعلق بنتا ہے ؟؟؟؟؟
پروفیسر صاحب تھوڑی دیر کے لئے رُکے اور پھر بولے ” ایک بار کسی جنگل میں تین چار برسوں تک بارش نہ ہوئی ۔شدید خشک سالی نے جنگل کو قحط زدہ بنا دیا یہاں تک کے جنگل کے بیشتر جانور علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔جو رہ گئے اُنہیں زندگی بچانا مشکل ہو رہا تھا۔اُن میں جنگل کی وہ کمزور چڑیا بھی شامل تھی۔یہ بے چاری بھی کئی دن سے بھوکی پیاسی تھی ۔اس آس پر کہ شائد کسی درخت سے اُسے کچھ کھانے کو مل جائے ،اُس نے کئی میل کی مسافت طے کرلی لیکن اُسے کہیں کوئی ایسا پیڑ دکھائی نہیں دیا جو اُس کی بھوک اور پیاس کا سامان بنتا ۔اُس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ سے رزق کے لئے فریاد کی۔اسی دوران اچانک ایک شیر کی غرّاہٹ سنائی دی اور دوسرے ہی لمحے ایک موٹا تازہ ہرن شیر کے پنجوں میں تھا۔شیر خوب پیٹ بھرنے کے بعد ایک طرف ہوکے بیٹھ گیا۔اب بچے کھچے ہرن کو کھانے کے لئے جنگل کے دیگر جانور جمع تھے۔شیر نے اچانک منہ کھولا اُس کے دانتوں میں پھنسے گوشت کے ریشے اُسے بے چین کر رہے تھے۔
درخت پر بیٹھی چڑیا یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔اچانک اُس نے ایک اڑان بھری اور سیدھی شیر کے منہ پر آکر بیٹھ گئی۔اب وہ اُس کے دانتوں سے ریشے نکالتی اور کھاتی جاتی شیر کو چڑیا کا یہ عمل انتہائی راحت پہنچارہا تھا۔یہاں تک کہ چڑیا پوری طرح سیر ہوگئی “
پروفیسر صاحب نے سیٹ پر بیٹھے اپنے ہم سفروں کی طرف دیکھا اور بولے۔”تمہیں پتہ ہے جب شیر ہرن کو کھارہا تھا تو دل ہی دل میں اپنی طاقت سے خوش ہورہا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ آسمانوں کے مالک نے اس ہرن کو شیر کے سامنے بھیجا ہی اس ننھی چڑیا کے لئے تھا وہ ہرن چڑیا کی فریاد کا نتیجہ تھا ۔“
پروفیسر صاحب نے کہا ” یا تو آپ ثابت کردیں کہ جو کچھ آپ کو ملا ہے۔صحت،عقل،حسن،طاقت یہ سب آپ کی محنت کی وجہ سے ہے اور آپ جب پیدا ہوئے تھے تو یہ سارے اسباب اور زندگی بھر کا کھانا ساتھ لے کے آئے تھے تو ٹھیک ہے،آپ اپنی مرضی کر سکتے ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو آپ کو اُن کا بھی خیال رکھنا ہے جو ضرورت مند ہیں۔خاص طور پر ایسے افراد جن کا شمار آپ کے قریب ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔کیا آپ لوگوں کی انا کے لئے اتنا کافی نہیں ہے کہ ایک شخص ہاتھ پھیلائے مجبوری وناداری کی حالت میں آپ کے سامنے کھڑا ہے ۔“ مجھ سمیت تمام لوگ ہمہ تن گوش تھے۔
پروفیسر صاحب نے کہا کہ ” تمہیں اللہ نے اگر نوازا ہے ،طاقت ور بنایا ہے تو شیر کی طرح اپنے رزق کے حصول کو اپنی طاقت،ذہانت اور محنت کا ذریعہ مت قرار دو۔
دیکھو۔۔۔۔۔۔۔تمہارے ارد گرد بہت سارے انسانوں کی مثال اُس چڑیا کی سی ہے ،جو کمزور ہیں،بے بس ہیں اور اللہ سے رزق کے لئے فریاد کرتے ہیں۔بہ ظاہر یہ رزق اُن سے دور ہوتا ہے لیکن اُن کے توسط سے آپ کو مل رہا ہوتا ہے۔“
پروفیسر صاحب نے حضرت مجدد الف ثانی کا قول سنایا اور پھر سونے کے لئے برتھ پر چلے گئے۔” جو حق دار ہے اُس کو بھی دے اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے اُسے بھی دے کیونکہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے کہیں وہ ملنا بند نہ ہوجائے۔“ ( ایڈیٹر ماہنامہ دسترخوان ریاض منصوری کی تحریر)
————————————–

7 تبصرے »

  1. بھئی یہ تو زبردست باتیں ہیں۔ دل کو بھاتی ہیں۔ قابل عمل بھی ہیں۔ لیکن ان پر عمل پیرا ہونے چلو تو نفس آڑے آ جاتا ہے۔ لیکن باتیں ہیں قابل غور۔

  2. عرفان صاحب کرنے والےکرتے ہیں۔ ہر چند اکثر لوگوں کو اللہ پاک ان کی اوقات اور محنت سے زیادہ نوازتے ہیں، اکثریت میں سے قلیل اقلیت اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے، باقیوں کو گھمنڈ رہتا ہے کہ میں نے فلاں وقت پر فلاں کام کیا اس لئے آج میں اس مقام پر ہوں۔ حصہ نکالتے رہنا چاہئے، کیونکہ میرا یقین ہے ایسا کرنے سے اللہ پاک مزید عطا فرماتے ہیں۔
    اور چوہا دوڑ کی تو کیا پوچھتے ہیں، لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ زیادہ پیسہ کمانا ہی زندگی کا مقصد ہے اور خوشی زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں دولت کمانے سے زیادہ اسکے صحیح استعمال پر توجہ دینی چاہیئے۔ ابنڈنس یا وفور کے بجائے سلیقہ یا مینجیمنٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    امام غزالی کا ایک قول کسی نے ٹیکسٹ بھیجا تھا حرف بحرف یاد نہیں لیکن مفہوم ایسا تھا، کہ “اللہ نے انسان کو عقل اور خواہش، فرشتہ اور جانور ملا کر بنایا ہے۔ خواہش غالب آ جائے تو جانور، اور عقل غالب آ جائے تو فرشتہ”۔

  3. حرا قریشی Said:

    بہت ہی اچھی تحریر ہے حجاب۔ ہم میں سے اکثر اپنے سامنے ہاتھ پھیلانے والوں کو جھٹک دیتے ہیں کہ انہیں تو مانگنے کی عادت ہے مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ انہیں مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اور ہمیں یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کہ کون حقدار ہے کون نہیں۔ جب کوئی اپنی انا کو مار کر ہمارے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اس پر کیا گرزتی ہوگی۔

    ” جو حق دار ہے اُس کو بھی دے اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے اُسے بھی دے کیونکہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے کہیں وہ ملنا بند نہ ہوجائے۔“

    کاش ہم سب بھی یہ سمجھ لیں۔

    شیئر کرنے کا بہت شکریہ۔

  4. عمدہ تحریر ہے۔ پروفیسر صاحب کی سب باتیں بلکل بجا ہیں۔ اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق دے

  5. مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی:

    کیونکہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے کہیں وہ ملنا بند نہ ہوجائے۔

    کیا اللہ تعالی کسی کو ناحق کا رزق دے سکتا ہے؟ یعنی جو اس کا حق نہیں ہے مگر اللہ نے اس کو دے دیا؟

    کیا یہ اللہ کے انصاف پر الزامی تبصرہ نہیں ہے؟
    اگر نہیں ہے تو اس بات کے سمجھنے والے براہ مہربانی مجھے سمجھا دیں۔

  6. hijabeshab Said:

    پسندیدگی کا شکریہ ۔۔

    منیر عباسی صاحب بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ آپ کے سوال پر میں نے کچھ لکھا تو طویل بحث چِھڑ سکتی ہے ۔۔ اس لیئے انتظار کیجیئے شائد کوئی آپ کے سوال کا جواب دے جائے ۔۔

  7. Abdullah Said:

    matlab jo tujhay mil raha oy wo tera Haq naheen balkay Allah kay keram sy mil raha hay to tou bhi un ko day jin ka teri nazar miain Haq naheen magar Allah kay keram ko
    yaad rakh ker day!!!


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: