جوٹھا کھانا پینا ۔۔

جوٹھا کھانے سے محبت بڑھتی ہے ۔۔ یہ جملہ اکثر و بیشتر اُس وقت سننے کو ملتا ہے جب دسترخوان پر گھر کے سب افراد کھانا کھا رہے ہوں اور کوئی بھائی یا بہن بھوک نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پلیٹ میں کھانا چھوڑ دے ۔۔ اور دوسرا مزید کھانا لینے کا خواہش مند ہو تو یہ جملہ ضرور سنائی دیتا ہے کہ ۔۔ جوٹھا ہے تو کیا ہوا کھا لو محبت بڑھتی ہے ۔۔ رزق ضائع نہ کرو ۔۔
جھوٹی چیزیں کھانے پینے کی سوچ کے ساتھ یہ خیال سب سے پہلے آیا کہ میں بھی تو پہلے جیسی نہیں ہوں اب ۔۔ کالج میں ایک پلیٹ دہی بڑے لے کر کتنے مزے سے دوسری سہیلی کے ساتھ مل کر کھایا کرتی تھی ۔۔ اور کسی تیسری سہیلی کا موقع پر چھاپہ پڑ جاتا تو ایک چمچہ اُس کے منہ میں بھی کھلا دیا جاتا تھا ۔۔ آئس کریم بھی ہم یوں ہی کھایا کرتے تھے ایک ہی آئس کریم سے سب کو ایک ایک ٹکڑا کِھلا کے آخری ٹکڑا خود کھانا ۔۔ حسین یادیں ہیں فرینڈز لو اور آئس کریم بائٹس کی 🙂
اب میں اُن حسین یادوں کو سوچ کر خوش تو ہو سکتی ہوں مگر گھر کے افراد کے علاوہ کسی اور کا جوٹھا کھا پی نہیں سکتی ۔۔ پہلے سہیلیوں کے ساتھ ایک ہی گلاس میں اُن کے جوٹھے پانی میں مزید پانی ڈال کر پی لیا کرتی تھی مگر اب اُس بچے ہوئے پانی کو پھینک کر دوسرا پانی ڈال کر تو پی لیتی ہوں مگر جوٹھا نہیں ۔۔ اس کی وجہ صرف یہ کہ پہلے لاعلمی تھی مگر جیسے جیسے واقفیت ہوئی ۔۔ مطالعہ بڑھا تو عادت بھی بدل دی ۔۔۔ ویسے بھی آج کل ایسی خطرناک بیماریوں کے جراثیم ہیں کہ اللہ محفوظ رکھے ۔۔ ہونے کو تو احتیاط کے باوجود بھی کوئی بیماری ہو سکتی ہے مگر احتیاط پھر بھی ضروری ہے ۔۔
احتیاط گھر میں بھی لازم ہے مگر بہت زیادہ پرواہ نہیں کرتی ، بیماری میں بھی ایک پلیٹ میں ایک ہی چمچے سے ساتھ کھانا چلتا رہتا ہے گھر میں خاص کر چھوٹے بھائی کے ساتھ ۔۔
میری کچھ سہیلیاں ایسی بھی ہیں کہ بہن بھائیوں کا جوٹھا تو کبھی نہیں کھایا مگر شادی کے بعد میاں جی پہ قربان ہوکے یہ بھی کر گزریں 😛
آپ کا شمار کس میں ہوتا ہے ۔۔ کیا آپ سب جوٹھا کھانا پینا پسند کرتے ہیں ؟؟؟؟

26 تبصرے »

  1. اپنی فیملی کا جھوٹا کھا لینے میں‌کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے. میں تو بخوشی کھا لیتا ہوں.

  2. عثمان Said:

    بات درست ہے جی۔
    سہیلی کے ساتھ جوٹھا کھانے میں کوئی حرج نہیں😛
    ویسے میں آئس کریم لے کر آیا ہوں۔ کھائیں گی ؟😛😛

  3. hijabeshab Said:

    اچھی بات ہے عامر ۔۔

    عثمان ذرا آنکھیں کھول کے پڑھیں آئس کریم کی طرف دیکھتے ہوئے پوسٹ پڑھیں گے تو یہی ہوگا ۔۔ میں اب نہیں کھاتی سہیلیوں کا جوٹھا 😛 اور جو پوچھا ہے وہ بتائیں ۔۔

  4. عثمان Said:

    اوجی بتایا تو ہے۔
    کہ دوستوں اور رشتہ داروں کا جوٹھا میں نہیں کھاتا۔😦
    البتہ “سہیلیوں” کا جوٹھا کھانے میں کوئی حرج نہیں۔😛😛

  5. hijabeshab Said:

    لڑکوں کی سہیلی کب ہوتی ہے 😕

  6. عثمان Said:

    اوجی گرل فرینڈ اور کیا ہوتی ہے ؟ 😛

  7. hijabeshab Said:

    اچھا جناب آپ شوق سے اپنی سہیلی کا جوٹھا کھائیں ۔۔ میں تو نہیں کھاتی 😕

  8. جو صاف ستھرے رہتے ہوں خاص کر ہاتھ اور منھ کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوں ان کے ساتھ کھانے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتا ہاں کسی کا بچا ہوا کھانا پڑے تو تھوڑا سوچنا پڑتا ہے۔

  9. سامنے والا اگر کسی ایسے مرض میں مبتلا نہیں ھے جو کہ ٹرانسفر ھوسکے تو جھوٹا کھانے میں کوئی حرج نہیں ھے، جھوٹا کھانے سے محبت بڑھتی ھے یا نہیں یہ تو مجھے نہیں معلوم، ہاں اتنا ضرور ھے کے اپنائیت کا احساس ضرور بڑھتا ھے۔

  10. گھر والی کا جوٹھا کھا لیتا ہوں۔
    سہیلی وغیرہ سے ابھی واسطہ نہیں پڑا۔

  11. میرے خیال میں یه چیز کام کرتی هے
    هم بھائیوں میں کچھ تلفی سی هو گئی تھی بچپن میں تو ابا جی نے حکم دیا تھا که ایک تھالی ميں کھانا کھایا کرو
    جوٹھا کا تو معلوم نهیں هے لیکن ایلتھالی میں کھانا اور روٹی کو جو بھی پہلے پکڑے وھ اس کو دو کرکے ایک کھائے اور دوسرا چنگیر میں دوسرے کے لیے رکھ دے ، دوسرا یه ادھا ٹکرا پکڑ کر اس کو ادھا لے کر دوسرا ادھا اگلے کے لیے چھوڑ دے
    یه همارے گھر کی رسم تھی شائد دوسرے بھی ایسا هی کرتے هوں
    اس لیے هم بھائیوں میں جھگڑا نہیں هے

  12. ميں ہر کسی کے ساتھ بيٹھ کر کھانا کھا ليتا ہوں وہ بے شک کتنا ہی غريب ہو مگر گندھا نہ ہو ۔ گھر ميں ہر فرد کا چھوڑا ہوا کھانا کھا ليتا ہوں ۔ پانی ميں کسی کا جوٹھا نہيں پيتا ۔ بچپن ميں ہم سب بہن بھائی ايک ہی طشتری ميں اکٹھے کھانا کھايا کرتے تھے ۔ اب اپنی اپنی مجبورياں آڑے آ گئی ہيں ليکن کبھی کبھار ہم مياں بيوی بچوں بہوؤں ميں سے کوئی دو ايک ہی تھالی ميں کھا ليتے ہيں ۔ اسی طرح کوئی چيز جيسے آئس کريم کھاتے ہوئے ايک دوسرے کو چکھنے کيلئے کہتے ہيں يا کوئی خود کہتا ہے “مجھے چکھاؤ” تو اپنے دانتوں سے ايک ٹکڑا کاٹ ليتا ہے

    ديکھئے ۔ ايک ہوتی ہے عادت اور ايک ہوتا ہے مقصد ۔ عادت کے طور پر نماز بھی پڑھی جائے تو بے فائدہ ہے ۔ اگر مقصد اللہ کا حُکم سمجھ کر پڑھنا ہو تو فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ مقصد اگر دکھاوا ہو تو عادت کے طور پر پڑھنے سے بھی زيادہ نقصان دہ ہے

    اگر کسی کا چھوڑا ہوا اس خيال سے کھايا جائے کہ اللہ نے کسی چيز کا ضياع منع فرمايا ہے تو بہت فائدہ ہے
    اگر سب گھر والے يا سب دوست ايک ہی رکابی يا طشتری ميں اکٹھے بيٹھ کر کھانا کھائيں تو اس سے باہمی قربت بڑھتی ہے اور گھر ميں برکت رہتی ہے
    ميں جب 1975ء ميں اپنے ملک کے نمائندہ کے طور پر متحدہ عرب امارات کا مہمان ہوا تو ضيافتوں ميں سب نے اکٹھے بڑی بڑی طشتريوں سے کھانا کھايا جو درميان ميں پڑی تھيں ۔ مجھے بطور ايڈوائزر مئی 1976ء سے پونے سات تک لبيا ميں رکھا گيا ۔ جس ادارے ميں ميرا دفتر تھا وہ ہر سال شہر سے باہر کسی باغ يا کھُلی جگہ پنکنک مناتے تھے ۔ وہاں سب لوگ چار چار کی ٹوليوں ميں بيٹھ کر بڑی طشتريوں ميں کھانا کھاتے تھے ۔ ميں ايک بار کھانا کھانے سے پہلے چکر لگانے لگا تو مجھے محکمے کے سربراہ نے بُلا کر پوچھا “کھانا کھا چکے ہو ؟” ميرے نہ کہنے پر کہا “بيٹھو ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ”۔ ميں بيٹھ گيا ۔ وہ پہلے ہی چار لوگ تھے ۔ سب سُکڑ گئے اور ميں سِمٹ کر بيچ ميں گھس گيا ۔ محکمہ کے سربراہ کا عہدہ مُلک کے وزير کے برابر تھا ۔ باقی تين لوگ تھے ۔ مشير ماليات ۔ ايک نچلی سطح کا عہديدار اور ايک دفتر کا چپڑاسی

    ميرے خالو [اللہ جنت نصيب کرے] نوجوانی ميں برطانيہ سے تربيت لے کر آئے تھے اور بہت ماڈرن قسم کے تھے ۔ پھر نماز باقاعدہ پڑھنا شروع کر دی ۔ 1985ء ميں حج کيا ۔ وہ رائے ونڈ تبليغی اجتماع ميں شريک ہو کر آئے تو بتانے لگے “وہاں بہت سے لوگ کھانے کے وقت سب ميں کھانا تقسيم کرتے تھے بعد ميں خود بيٹھ کر کھاتے تھا مگر عظيم الدين [اللہ جنت نصيب کرے] جو پاکستان آرڈننس فيکٹريز کی ايک فيکٹری ميں منيجر اور ليفٹننٹ جنرل جاويد ناصر کھانا نہيں کھاتے تھے اور جہاں لوگوں کے کھانا کھا لينے کے بعد برتن اُٹھا کر لائے جاتے وہاں کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ سے پليٹوں اور ڈونگوں ميں سے بچا کھُچا کھاتے جاتے اور ہر پليٹ اور ڈونگے کو انگليوں سے صاف کر کے چاٹ ليتے ۔ بعد ميں ميرے خالو نے عظيم الدين سے پوچھا تو اس نے جواب ديا “اتنا رزق جو ضائع ہو گا اُس کا حساب کون دے گا ؟”

  13. Aniqa Naz Said:

    میں سائینس کی طالابہ رہی ہوں۔ ہمیشہ اپنی دوستوں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں کھا لیتی تھی اور کھا لیتی ہوں۔ گھر والوں کے ساتھ بھی۔ جب سے ماں بنی ہوں ، اکثر اپنی بیٹی کا جھوٹا کھاتی ہوں۔ میرا خیال ہے ماں بننے کے بعد یہ ذہن سے نکل جاتا ہے۔ میری بیٹی پانچ چھ مہینے کی تھی اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں بڑی رغبت سے چوستی تھی۔ اور جب میں اس سے ہنس ہنس کر محو گفتگو ہوتی تھی تو اپنا وہی تھوک والا ہاتھ میرے منہ میں میں بھی ڈال دیتی تھی۔
    سوائے اسکے کہ کوئ شخص کسی بیماری میں مبتلا ہو۔ جھوٹا کھانا کوئ برائ نہیں۔
    در حقیقت سائینس کی رو سے دیکھا جائے تو انسانی جسم میں اجنبی جراثیم کے لئے قوت مدافعت پیدا کرنے کا قدرتی نظام موجود ہوتا ہے مگر یہ اسی وقت ایکٹو ہوتا ہے جب کوئ اجنبی جرثومہ اسے ملے۔ اگر اسے نہیں ملے گا تو یہ انکے خلاف اینٹی باڈیز پیدا نہیں کرے گا۔ یہ اینٹی باڈیز دراصل جسم کی یاد داشت ہوتی ہے کہ اس جراثیم سے اس طرح لڑنا ہے۔ اگر ہم جراثیم سے اپنے ماحول کو بالکل محفوظ کر لیں تو ہمارے جسم میں کوئ یاد داشت نہیں ہوگی۔ نتیجتاً کوئ معمولی سا جرثومہ بھی ہمیں بیمار کر دے گا کہ ہمارا جسم اس سے لڑنا نہیں جانتا ہوگا۔
    گندگی سے بچنا چاہئیے لیکن صفائ کے خبط میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہئیے۔ یہ آپکے جسم کے قدرتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ مزید مطالعہ کے لئے امینولوجی پہ کوئ کتاب پڑھیں۔
    اگر آپکو قدرتی طور پہ کوئ گھن نہ آتی ہو اب بھی سب کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھا سکتی ہیں۔ چھولوں کی ایک بیس روپے کی پلیٹ میں چار سہیلیاں مل کر کھالیں تو کیا بچت ہے۔

  14. سارہ Said:

    میں بھی گھروالوں اور سہیلیوں کا جھوٹا کھا لیتی ہوں پر پانی نہیں پیتی جھوٹا ۔۔۔ اسکول کے زمانے میں ایک ہندو لڑکی بھی فرینڈز کے گروپ میں شامل تھی وہ بھی مل کر کھا لیا کرتی تھی ۔۔ پتا نہین ہندووں کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے کہ نہیں لیکن دوستی شاید ان سب چیزوں سے ماورا ہوتی ہے ۔
    اسلام اور سائنس کے عنوان سے ایک کتاب پڑھی تھی ۔۔جس میں لکھا تھا کہ مل جل کر ایک ہی برتن یا پلیٹ میں کھانا صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے۔۔اور تفصیل وہ ہی لکھی تھی جو انیقہ نے لکھی ہے

  15. hijabeshab Said:

    ٹھیک لکھا ہے فکرِ پاکستان آپ نے اپنائیت کا احساس بڑھتا ہے ۔۔

    یاسر خواہ مخواہ جاپانی ، سہیلی لڑکیوں کی ہوتی ہے ۔۔ اگر کوئی گرل فرینڈ کو سہیلی سمجھے تو یہ اُس کی مرضی ۔۔

    خاور کھوکر واقعی محبت بڑھانے والی رسم ہے ۔۔ ایسا ہوتا ہے ہمارے ہاں مگر کبھی کبھار ۔۔

    اجمل انکل آپ نے عظیم الدین صاحب کے بارے میں جو لکھا ایسے لوگ بہت کم ہی ہوتے ہونگے اللہ اُن کو جنت نصیب کرے آمین ۔۔ آئس کریم ہو یا کوئی بھی چیز گھر میں سب کو چکھائے بغیر مجھے کھانا اچھا نہیں لگتا ۔۔

    انیقہ گِھن تو نہیں آتی اس لیئے کہ وہی سہیلیاں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں مگر کچھ سہیلوں نے احتیاط کی پہلے تو میں نے بھی چھوڑ دیا کہ شائد اُن کو اب ایسا کرنا پسند نہ رہا ہو یا کوئی اور وجہ ہو ۔۔ اور اپنے بچّے کا تھوک بھی اچھا لگتا ہے جانتی ہوں 🙂

    سارہ ، کزنز کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھا لیتی ہوں میں مگر چمچہ الگ ہوتا ہے ۔۔ گھر والوں کا جوٹھا پانی پینے میں مجھے برا نہیں لگتا ۔۔

  16. شازل Said:

    میں تو نہیں لیکن میری بیگم میرا جھوٹا پانی ضرور پیتی ہیں اور اسے ضائع نہیں کرتیں۔

  17. امن ایمان Said:

    حجاب پتہ نہیں اتنے نادرونایاب خیالات آپ کے ذہن شریف میں کہاں سے تشریف لاتے ہیں🙂

    ہممم جوٹھا کھانا پینا۔۔۔حجاب اس معاملے میں مجھے بہت بچپن سے اتنی ہدایات مل چکی ہیں کہ بس۔۔۔میں اس معاملے میں خود بے بس ہوں۔۔۔بہت کوشش کروں ایک لقمہ ایک گھونٹ جوٹھا گلے سے نہیں اتار سکتی۔۔۔اگر کبھی کوشش کی تو ایسا لگا جیسے پورے حلق میں کڑواہٹ گل گئی ہو😦 ماما بابا بھائی سہیلی کسی کا بھی نہیں۔۔۔لیکن شادی کے بعد نورالعین محترمہ وہ واحد ہستی ہیں جو بڑی آسانی سے مجھے بدل گئی ہیں۔۔۔میری ماما بھی اب کہتی ہیں۔۔۔۔ہم سے تو ٹھیک نہیں ہوئی ۔۔۔بیٹی نے عقل ٹھکانے لگا دی🙂
    لیکن اب بھی صرف اور صرف نور العین کا جھوٹا۔۔ جو کچھ کچھ صاف لگ رہا ہو۔۔۔۔ اور اُن کا صرف ایک پلیٹ کی حد تک🙂

    پوسٹ بہت دلچسپ لگی۔

  18. hijabeshab Said:

    سعود بھیّا آپ کی بات بھی ٹھیک ہے 🙂

    شازل تبرّک سمجھ کے پیتی ہونگی آپ کی مِسز 🙂

    شکریہ امن ۔۔ تمہیں پوسٹ دلچسپ لگی اور مجھے تمہارا “ اُن کا “ لکھنا دلچسپ لگا ۔۔ 🙂

  19. عثمان Said:

    تو پتا لگا کہ اب تک میں ہی ہوں جو کسی کا جوٹھا نہیں کھاتا😦

    میرا خیال ہے کہ آئیندہ سے مجھے اپنا جوٹھا کھانا ان سب تبصرہ نگاروں کو دے دینا چاہییے۔😛😛😛

  20. hijabeshab Said:

    عثمان ۔۔ ایک یا دو تبصرے کے علاوہ سب نے لکھا کہ وہ اپنے گھر والوں کا جوٹھا کھا لیتے ہیں ۔۔ جن کو اعتراض نہیں اُن کو دے دیں شاگرد کا جوٹھا کھانے سے انکار کی وجہ نظر تو نہیں آتی ۔۔ 😛 😛

  21. Fahim Said:

    اپنا کچھ لکھنے سے پہلے تو یہ بتادوں کہ ساتھ کھانے اور جوٹھے میں فرق ہوتا ہے۔
    اگر آپ تھالی میں کسی کے ساتھ کچھ کھارہے ہیں تو وہ جوٹھا کھانا نہیں کہلاتا اور میرا نہیں خیال کسی بھی صاف ستھرے انسان کے ساتھ کسی کو ایک تھالی میں کھانے سے کوئی کراہت محسوس ہوتی ہو۔
    رہا جوٹھا تو وہ بھی کھانے میں تو نہیں البتہ پینے میں زیادہ سننے میں آتا ہے۔
    جیسے جوٹھا پانی، جوٹھی چائے وغیرہ وغیرہ۔

    اس میں بھی ایسا ہے کہ اگر گھر میں کوئی چائے یا کولڈرنک وغیرہ پی رہا ہو اور وہ آدھی بچا کر تھمادے تو ہم تو پی لیتے ہیں۔

    باہر آفس وغیرہ میں کبھی کسی نے چائے میں سے ایک گھونٹ پی لادیا تو محبت میں پی لیتے ہیں لیکن ہر ایک کا نہیں۔

  22. hijabeshab Said:

    کسی کا دل رکھنے میں کوئی برائی نہیں اچھا کرتے ہو فہیم ۔۔

  23. daaljan Said:

    اسلام وعلیکم بھای صاحب کیا حال ہے میرا پہلے والا ویب لاگ ہک ہو گیا ہے اور اب نیا ویب لاگ یہ ہے آہند اس کو دیکھ لینا اور اپنے دوستوں کو ارسال کرنا
    http://daaljan.wordpress.com/ دالبندین آنلاین

  24. پتا ہے کیا۔۔۔چاہے ہم پسند کریں یا نہ کریں، ہم سب دوسروں کا جوٹھا کھا تے ہی ہیں۔ پتا ہے کدھر؟ ریستو راں میں۔ آپ یقین رکھیں جو کھانا آپ پلیٹوں میں چھوڑتے ہیں وہاں، وہ ہر گز کہیں اور نہیں جاتا۔۔۔ری سرکولیٹ ہو کر پھر سے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں آ جاتا ہے میزوں پر۔
    اور کٹلری اور پلیٹیں وغیرہ بھی وہ لوگ جس طریقے سے دھوتے ہیں اس کی بنیاد بھی محبت بڑھانے کا نصب العین ہی ہوتا ہے۔ یہ انسائڈر نیوز ہیں۔ 🙂

  25. جعفر Said:

    جوٹھا کھانے سے محبت بڑھتی ہے یا نہیں، اس کا تو پتہ نہیں
    پر جی جن سے محبت ہو ان کا جوٹھا تو کیا، جوتا بھی کھالیتا ہے بندہ

  26. hijabeshab Said:

    daaljan بلاگ پر خوش آمدید ۔۔

    احمد عرفان شفقت ، آپ نے بلکل ٹھیک لکھا ہے اور اسی وجہ سے میں ہوٹل کا کھانا نہیں کھاتی ۔۔ بہت پہلے کھایا کرتی تھی مگر ایک بار تندوری روٹی کا آٹا پاؤں سے گوندھتے خود دیکھا تھا جب سے چھوڑ دیا اور پلیٹ تو شائد دھلتی نہ ہو کسی گندے کپڑے سے صاف کی جاتی ہوگی 😕

    جعفر ۔۔ واہ جناب کیا بات کہی ہے آپ نے 🙂 مگر ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں کہ محبت میں جوتا بھی کھا لیں ۔۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: