بڑی پُرسکون تھی زندگی ۔۔

بڑی پُرسکون تھی زندگی
نیا درد کس نے جگا دیا
کسی بے نیاز نگاہ نے
میری وحشتوں کو بڑھا دیا
میرے کم سُخن کا یہ حکم تھا
کہ کلام اُس سے میں کم کروں
میرے ہونٹ ایسے سلے کے پھر
میری چپ نے اُس کو رلا دیا
اُسے شعر سننے کا ذوق تھا
اَسی ذوق و شوق میں اک دن
اُسے دل کا حال سُنا دیا
وہ نگاہ کیسی نگاہ تھی
یہ گریز کیسا گریز ہے
مجھے دیکھ کر بھی نہ دیکھنا
اس ادا نے راز بتا دیا۔۔۔۔۔۔
کسی نام سے کسی یاد سے
میرے دل کی بزم سجی رہی
کبھی یہ چراغ جلا دیا
کبھی وہ چراغ جلا دیا ۔۔۔ ( خلیل اللہ فاروقی )

9 تبصرے »

  1. حرا قریشی Said:

    بہت خوب

  2. وہ نگاہ کیسی نگاہ تھی
    یہ گریز کیسا گریز ہے
    مجھے دیکھ کر بھی نہ دیکھنا
    اس ادا نے راز بتا دیا۔۔۔۔۔۔

    * بہت عمدہ …

  3. عتیق علی Said:

    ہمیشہ کی طرح عمدہ انتخاب! واہ

  4. Fahim Said:

    نائس نظم،
    محبت، شدت، شکوہ اور دل جلے پن کا امتزاج🙂

  5. hijabeshab Said:

    سب کا شکریہ ۔۔

  6. جعفر Said:

    فاروقی صاحب کو ہماری طرف سے بہت بہت داد دیجیے گا

  7. hijabeshab Said:

    جعفر ، فاروقی صاحب سے بات کیئے تو شائد سال گزر گیا مگر جب اُن کا مجموعہ آیا تھا تو جتنی تعریف کی تھی اُس میں آپ کی داد بھی شامل سمجھیں 🙂 ویسے اگر فاروقی صاحب کو سننا چاہیں تو پاکستانی وقت رات 12 سے 4 ہر جمعرات اُن کا پروگرام آتا ہے ۔۔ mms://38.96.148.29/91radio1

  8. zafriusa Said:

    بہت خوب ۔۔۔ بہت خوبصورت نظم ہے ۔

  9. hijabeshab Said:

    بہت شکریہ


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: