خامیاں ہی کیوں ؟؟؟

دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو کسی انسان یا کسی چیز میں خوبیاں زیادہ تلاش کرتے ہیں اور خامیاں کم ؟؟؟
میرا خیال ہے ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی شخص کے سامنے اگر کوئی چیز رکھ کر پوچھا جائے کہ دیکھو تو کیسی ہے ۔۔ دل سے چاہے معترف ہو کہ ہاں چیز تو اچھی ہے مگر زبان تنقید پر مائل رہے گی ۔۔ اسی طرح کوئی شخص جو قابلِ تعریف ہو اُس کا ذکر کسی اور سے کرلیا جائے تو چار یا پانچ برائیاں گنوا ہی دی جاتی ہیں ۔۔ اکثر میرے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے خوبیوں کو یوں نظرانداز کیا جاتا ہے جیسے خوبیاں دیکھنے سے آنکھ میں کالا پانی اُترنے کا خدشہ ہو ۔۔ اور زبان سے تعریفی الفاظ کہہ دینے سے ڈر ہو کہ زبان کا ذائقہ نہ ختم ہو جائے 🙄
ہر انسان میں خامیاں اور خوبیاں دونوں ہوتی ہیں ، اگر کسی کو مسلسل اُس کی خامیوں کا احساس یہ سوچ کر دلایا جاتا رہے کہ وہ اپنی خامی پر قابو پا لے گا تو یہ سوچ غلط ہے تنقید سے اصلاح نہیں بلکہ ضد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔۔ لیکن اگر خامیاں نظر انداز کرکے خوبیاں بتائی جائیں تو ہو سکتا ہے خامیوں کا اعتراف انسان خود کرلے ۔۔
خامی کو نظر انداز کرکے تعریف کرنے میں کوئی حرج تو نہیں ہوتا مگر کیا کیا جائے کہ انسان اسی کا نام ہے جس کو خامیوں کی پہچان جلد ہوجاتی ہے مگر خوبیاں بہ مشکل دکھائی دیتی ہیں ۔۔
اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ تعریف ہمیشہ پیٹھ پیچھے کرنی چاہیئے ۔۔ مجھے اس بات سے سخت اختلاف ہے ، اگر کسی کا کوئی کام ، کوئی بھی چیز ، کوئی خوبصورت سا اسٹائل یا حسین سا ڈریس یہاں تک کہ کوئی شخص وہ مرد ہو یا خاتون اور مجھے اچھا لگے ۔۔ میں اُس کی تعریف اُس کے سامنے کرنا پسند کرتی ہوں اور کرتی ہوں ۔۔ کسی دوسرے سے تعریف کرکے اُس شخص کو کیا پتہ چلے گا کہ اُس میں کیا خوبی ہے یا اُس نے کیا اچھا کام کیا ۔۔۔
ہر اچھی چیز میں بھی تلاش کرنے سے کوئی نہ کوئی خامی نظر آسکتی ہے ۔۔ مگر کیوں نہ خامی کو نظر انداز کرکے خوبی کو دیکھا جائے ۔۔ اسی طرح گندے پانی کا جوہڑ دیکھنے میں برا لگتا ہے لیکن اگر اُس کے کنارے اُگی ہوئی گھاس کی ہریالی میں حسن تلاش کرکے ہریالی سے لطف اندوز ہوں تو جوہڑ پس منظر میں چلا جائے گا ۔۔۔۔ خوبیاں تلاش کیجئے تاریکی میں بھی روشنی محسوس ہوگی ۔۔

Advertisements

26 تبصرے »

  1. "تنقید سے اصلاح نہیں بلکہ ضد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔”
    آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا ۔
    کیونکہ تنقید کے دو پہلو ہوتے ہیں
    ۱ …تنقید برائے اصلاح
    ۲…تنقید برائے تنقید
    تنقید برائے اصلاح سے ضد پیدا نہیں بلکہ یہ معاملے کو دوبارہ جانچنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے ۔جبکہ تنقید برائے تنقید سے ہی ضد ،ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی جنم لیتی ہے ۔

    دوسرا رخ بلاگ کی تازہ ترین تحریر۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر قدیر نے گیلانی کا چیلنج قبول کرلیا ،حکومت گُم سُم

  2. عثمان Said:

    اوجی پھر جلدی جلدی میری تعریفیں کردیں۔ 😛 😛

  3. بالکل بجا کہا آپ نے۔
    بے شک تنقید بھی احسن طریقے سے کرنے کی کوشش کرنی چاھئے۔

  4. مینوپلیشن ہو یا موٹیویشن تعریف کیئے بغیر مشکل ہو جایا کرتی ہے ۔ تعریف کروانے کیلئے بھی تعریف کروانا سیکھنا پڑتا ہے اور اسکی پہلی شرط ہی تعریف کرنا سیکھنا ہوتا ہے جی ۔ تعریف کیئے بغیر تعریف کروالینا تو ایسے ہی ہے کہ اپنے حصے کا کام دوسرے سے کروالینا اور اس دوسرے کی مزدوری بھی مار جانا ۔

  5. بھئی بہت ہی کارآمد تحریر ہے۔ بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ ایسی تحریروں کو میں value addition والی تحریریں کہتا ہوں۔ جن کو پڑھ کر پڑھنے والے کی زندگی میں کچھ بہتری، کچھ upgrading ہو۔
    شکریہ

  6. hijabeshab Said:

    بلاگ پر خوش آمدید دانیال دانش ۔۔ میں نے صرف تنقید نہیں مسلسل تنقید کی وجہ سے ضد کی کیفیت کا لکھا ہے ۔۔

    عثمان اپنے بلاگ پر اپنی تصویر پوسٹ کیجیئے تاکہ میں آپ کا جائزہ لے کے آپ کی تعریف کرکے تعریف کی پُل توڑ دوں 😛

    شکریہ یاسر خواہ مخواہ جاپانی ۔۔

    جاہل سنکی ۔۔ یعنی مجھے تعریف کرنا سیکھنا چاہیئے ۔۔ ٹھیک سے نہیں کرتی ہوں گی میں جب میرے ساتھ حساب الٹا ہے 🙂

    بہت شکریہ احمد عرفان شفتت ۔۔

    • عثمان Said:

      پہلے کونسی آپ نے تعریفیں کی ہیں جو تصویر دیکھ کر پل توڑ دیں گی۔ 😦
      ویسے اگر پل ٹوٹ گیا تو میں اس پار کیسے پہنچوں گا؟ 😛

      • hijabeshab Said:

        عثمان ، میں نے آپ کی پوسٹس پڑھ کے اُن کی تعریف کی ہے ناں ۔۔ اور پُل ٹوٹیں گے ناں ۔۔ پیر تو سلامت ہیں پاؤں پاؤں پہنچ جائیے گا 😛

  7. Jafar Said:

    وہ جی ہم لوگ اپنی بات درست ہونے پر اتنا خوش نہیں ہوتے، جتنا دوسرے کی غلط ثابت ہونے پر

  8. بہت اچھی بات کی ہے۔ ایک اور چیز جو میں نے عام طور پر لوگوں میں دیکھی ہے کہ جب کوئی انہیں اپنی خریدی ہوئی چیز دکھاتا ہے تو بجائے اس کے کہ اس کی تعریف کریں، فورا ہی کیڑے نکاليں گے، بھئی بہت مہنگی لی ہے، میں نے اس سے اچھی چیز کم پیسوں میں لی تھی، وہاں سے لے لیتے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح چیز دکھانے والا شخص دو بڑے ارمانوں کے ساتھ دکھاتا ہے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے۔ اگر واقعی اس نے دھوکا کھایا بھی ہے تو کم از کم پہلے اس کی شے کی تعریف کریں اور کچھ دیر بعد اسے حقیقت بتائیں۔
    دوسری بات جو فرد کسی دوسرے کا نام سنتے ہی اس کی برائی شروع ہو جائے اور ہر فرد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یہی معاملہ کرے تو اس سے کنارہ کشی کریں۔ ایسا شخص کسی اور کے سامنے آپ کی بھی برائی ہی کرے گا۔

  9. Naeem Said:

    ایسا ہے کہ بندہ اگر صرف ایک ہی چیز دیکھنا شروع کر دے۔۔۔ تو جناب۔۔۔ گڑ بڑ ہو جائے گی۔۔۔ صرف خوبیاں دیکھنے والے دوست اکھٹے ہو جائیں تو ایک دوسرے کی خامیوں کا پتہ اس وقت تک نہیں چلے گا جب تک منہ کے بل گر نہیں جائیں گے۔۔۔
    تنقیدی روئیے کی ایک اپنی اہمیت ہے، جو کہ نظر انداز نہیں کی جا سکتی

  10. hijabeshab Said:

    ٹھیک کہا جعفر آپ نے ۔۔

    شکریہ ابو شامل ۔۔ آپ کے تبصرے کی لاسٹ باتوں پر عمل کروں گی ۔۔

    نعیم ، میں نے خوبیاں دیکھنے اور خامیاں نظر انداز کرنے کے لیئے لکھا ہے ۔۔ اس طرح جب آپ کسی کو اس کی خوبیاں بتائیں یا خود سمجھیں تو وہ شخص اپنی خامیوں کو خود کنٹرول کرکے آہستہ آہستہ اُن پر قابو پا سکتا ہے ۔۔ اور منہ کے بل گرنے کی بجائے ہنسی خوشی کا ساتھ رہ سکتا ہے ۔۔

    • Naeem Said:

      پتہ ہے تنقید کرنے کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ اپنا سارے دِن کا غصہ تنقید کے بہانے نکالتے ہیں۔ میں ویسا کرنے کے خلاف ہوں، لیکن میں اس بات کے بھی خلاف ہوں کہ آپکا کوئی یار بیلی آپکے سامنے بونگیاں مار رہا ہو اور آپ اسے شاوا شاوا کہتے رہیں۔ نہیں یار، اگر کوئی بندہ گڑ بڑ کر رہا ہے تو اسے بتائو، اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اسے سراہو۔ بڑی متوازن اپروچ ہونی چاہئے اس سلسلے میں۔۔۔

  11. اس میں کوئی شک نہیں کہ تنقید کی اپنی اہمیت ہے لیکن صرف تنقید ہی تنقید 😦
    آپ کی اس بات میں خاصا وزن ہے جی کہ: خوبیاں تلاش کیجئے تاریکی میں بھی روشنی محسوس ہوگی۔۔۔۔۔

  12. Aniqa Naz Said:

    حیرتنال طور پہ اگر آپ سروے کریں تو پاکستان تعریف کرنے والوں کی اکثریت پہ مشتمل ہوگا۔ یہ تعریف میرٹ کا قتل عام کرتی ہے، اقرباء پروری کو جنم دیتی ہے کرپشن کا باعث بنتی ہے۔ لوگوں کے دل اتنے چھوٹے کر دیتی ہے کہ وہ اپنی کسی چیز میں خامی سننا برداشت نہیں کر سکتے۔ نتیجتاً شاید اپنے گھر والوں کے کسی میں یہ جراءت نہیں رہتی کہ وہ کسی دوسرے کو بالکل صحیح بات سے آگاہ کر سکے۔ اسکے نتیجے میں لوگں کو بڑے صدمے بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ میں کسی کی نظم دیکھ کر کہہ دوں کہ وہاں کیا زبردست شاعری اور خیال ہے آپکو تو جناب اس صدی کا اقبال ہوا چاہئیے۔ سننے والا اقبال ہی سمجھنے لگتا ہے۔ ھتی کہ ایکدن انکی شاعر کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ میں اقبال کے پائے کا شاعر بنتے بنتے ٹرکس اور رکشوں کا شاعر کیسے بن گیا۔
    مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ آپکے منہ پہ تعریفیں کرتے ہوئے دنیا جہاں کے قلابے ملائیں گے اور جیسے ہی آپ پردے سے غائب اور باقی دنیا موجود تو پحر ڈحول کا پول کھلتا ہے۔
    دوسری طرف جو لوگ تعریف کے انجکشن لینے کے عادی ہو جائیں وہ نہ صرف زود حس ہو جاتے ہیں، بلکہ سوائے اس شخص کہ جو انکی تعریف کرتا ہو کسی اور پہ بھروسہ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس لئے تمام حمد و ثناء خدا کے لئے ہے۔ اور تعریف اس خدا کی جس نے ہمہیں بنایا۔
    جسکی تعریف کرتے رہتے ہیں اسے تنقید کا بھی خوگر بنائیں تو جانیں۔
    البتہ یہ کہ دنیا میں کامیابی کے شارٹ کٹس تلاش کرنا ہیں تو فوری طور پہ تعریف کی مہم پہ روانہ ہو جائیں۔ آپ ضرور کامیباب ہونگے چاہے اگلا منہ کے بل گرے۔ اور برائ بھی آپ پہ نہیں آئے گی
    کیونہ مکھن پہ چلنے والے کو اس خطرے کا سامنا تو کرنا پڑے گا۔
    آپ کتنا زبردست لکھتی ہیں۔ ذرا ذرا سی باتوں میں زندگی کی حقیقت کھول کر رکھ دیتی ہیں۔ آپ کل وقتی تحریر کار کیوں نہیں بن جاتیں۔ یقین جانیں آپکے اندر لکھنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے لیکن آپ اسے اتنی آسانی سے ضائع کر رہی ہیں۔ خدا کسی کسی کو یہ خوبی دیتا ہے۔، مجھے تو آپ پہ رشک آتا ہے۔ اگر خدا نے مجھے اس خوبی سے نوازا ہوتا تو کیا ہوتا۔ خیر جی، قسمت اپنی اپنی۔

    • عثمان Said:

      آپ کتنا زبردست لکھتی ہیں۔ ذرا ذرا سی باتوں میں زندگی کی حقیقت کھول کر رکھ دیتی ہیں۔ آپ کل وقتی تحریر کار کیوں نہیں بن جاتیں۔ یقین جانیں آپکے اندر لکھنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے لیکن آپ اسے اتنی آسانی سے ضائع کر رہی ہیں۔ خدا کسی کسی کو یہ خوبی دیتا ہے۔، مجھے تو آپ پہ رشک آتا ہے۔ اگر خدا نے مجھے اس خوبی سے نوازا ہوتا تو کیا ہوتا۔ خیر جی، قسمت اپنی اپنی۔ 😛 😛

  13. عثمان Said:

    اب کوئی میری بھی تعریف کردے۔ 😦

  14. hijabeshab Said:

    نعیم ، گڑبڑ پہ تعریف یا ہاں میں ہاں تو میں بھی نہیں ملا سکتی ۔۔ ایسے حال پر تو تھپڑ مارنے کا ہی دل چاہے گا ۔۔ میرے کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہر انسان میں خامیاں ہوتی ہیں اور خوبیاں بھی تو خامیاں ہی کیوں دیکھی جاتی ہیں ہمیشہ ۔۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ خوبیاں دیکھی جائیں پہلے ۔۔ مثال کے طور پر اگر کوئی مزاج کا تیز ہے تو یہ اُس کی خامی مگر ساتھ اُس میں کچھ اور اچھا بھی تو ہوگا ؟ تو بد مزاجی کا لیبل لگانے سے بہتر کیا یہ نہیں کہ اُس کی دوسری خوبیاں تلاش کی جائیں ۔۔

    بلاگ پر خوش آمدید وقار اعظم اور شکریہ ۔۔

    انیقہ سروے میں تعریف کرنے والے زیادہ ملیں اگر تو وہ پاکستان الگ ہوگا ۔۔ میرا پاکستان الگ ہے اس میں تعریف کرنا منع ہے 😆 اور رہی بات گھر کے لوگوں کی بے جا تعریف کی تو اس کا بھی ادھر فقدان ہے گن پوائنٹ پر تعریف کروانی پڑتی ہے 😛 بلاوجہ تنقید بھی نہیں کی جاتی مگر خوبیوں کا اعتراف بھی جلدی نہیں کیا جاتا ۔۔
    اور یہ جو آپ کے تبصرے کا آخری پیراگراف ہے اُس پر 😯 آپ نے تعریفی مہم کا آغاز تو کر دیا مگر کامیاب نہیں رہیں ۔۔ مجھے بے جا تعریف پسند نہیں 🙄

    عثمان کیا خیال ہے آپ کے لیئے ایک پوسٹ لکھ دوں 😛

  15. حرا قریشی Said:

    اچھی سوچ ہے۔ اگر تنقید کرنی بھی ہو تو مثبت انداز میں کرنی چاہیے۔ ۔ ۔ کچھ تعریف کے ساتھ اگر کسی ایک بات کی طرف توجہ دلادی جائے کہ یہ اس طرح سے ہو تو مزید بہتر لگے گا۔ ۔ ۔ اس سے دوسرے کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہوتی اور تعریف سن کر تنقید سننا برا بھی نہیں لگتا۔

  16. zafriusa Said:

    کوئی بھی تنقید اپنے عقل و فہم ، معلومات ، دلائل اور تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ عقل و فہم ، تجربات اور معلومات میں تضاد ممکن ہے ۔ مگر اہم بات رویئے کی ہے کہ ہم اپنی تنقید کو کس انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ ہر کوئی چیزوں کو اپنے زاویہِ نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ چونکہ تنقید کے مثبت اور منفی ہونے کا انحصار تنقید کرنے والے کے رویئے پر ہوتا ہے ۔ اس لیئے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں ہوتا کہ آیا تنقید مثبت ہے یا نہیں ۔
    میں یہاں‌ عمومی تعریف اور تنقید کا ذکر نہیں کررہا کہ وہاں دونوں صورتوں میں مقصدیت منقود ہوتی ہے ۔ مگر جب ہم تعمیری اور مثبت چیزوں پر بحث کرتے ہیں تو ہمیں اپنے دلائل کو وضع کرنا پڑتا ہے ۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ اپنے عقل و فہم سے کسی معلومات اور تجربے تک پہنچتے ہیں ۔ اور یہاں آپ کا رویہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کی تنقید کا کیا معیار ہے ۔
    چونکہ حجاب نے بات کسی میں خوبی اور خامیوں کی تلاش کے ضمن میں کی ہے تو یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب کسی سے کسی قسم کا تعلق موجود ہو ۔ ورنہ راستے میں کسی کو روک کر تو کوئی اس میں کوئی خوبی یا خامی تو تلاش کرنے سے رہا ۔ ہمارے معاشرے میں بلاجواز تنقید و تعریف کا جو رواج ہے ۔ اس میں سراسر مقصدیت فوت ہے ۔ اس قسم کی تنقید و تعریف پر انسان صرف صبر ہی کرسکتا ہے اور کچھ نہیں ۔ اس کی کچھ مثالیں دوست احباب اپنے اپنے تبصرہ جات میں دے چکے ہیں ۔

  17. ماشاءاللہ بہت اچھی تحریر ہے۔ پڑھ کر مجھے بھی مزہ آیا۔ آپ تو بہت اچھا لکھنے لگی ہیں یا پھر میں نے ہی آپکی کوئی تحریر پہلی مرتبہ پڑھی؟

  18. hijabeshab Said:

    شکریہ حرا قریشی ۔۔

    ظفری ، بلاگ پر تشریف لانے اور تفصیلی تبصرے کا شکریہ ۔۔

    عادل بھیّا ۔۔ بس کوشش ہوتی ہے لکھ لوں کچھ آپ لوگ پسند کر لیتے ہیں بہت شکریہ ۔۔ اس سے پہلے کی تحریر اگر آپ نے نہیں پڑھی تو پرانی پوسٹس پڑھ لیجیئے ۔۔

  19. عثمان Said:

    قسط وار سیریل لکھیے گا۔ 😛


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: