لب و لہجہ اور گفتگو ..

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
وہ شخص لہجہ بڑا دلنشین رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔
مجھ سے کسی نے وعدے وعید تو نہیں کیئے ۔۔ اس شعر کو لکھنے کا مقصد وہ خوبصورت اور دلنشین لہجے ہیں جو ماحول اور موقع کی مناسبت سے بات کرنا جانتے ہیں اور اُن کو سننے کے بعد دل چاہتا ہے گفتگو ختم نہ ہو بات سے بات چلتی رہے ۔۔۔
پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، سرائیکی بولنے والے جب اپنے مخصوص لہجے میں اردو بولتے ہیں تو اردو بہت پیاری لگتی ہے جتنا خود بولتے ہوئے کبھی نہیں لگتی ۔۔ میری ایک پنجابن سہیلی جب پنجابی لہجے میں اردو بولتی ہے دل چاہتا ہے اُس کو سُنتی رہوں ۔۔ لکھنوی لہجے کی شان ہی نرالی ہے ۔۔ باتوں کی مار بھی مار دیتے ہیں مگر ادب کے ساتھ ۔۔۔
آج کل ریڈیو پر ٹیلی نار ٹاک شاک کا ایک اشتہار آرہا ہے اُس میں ایک آواز کا الجھا ہوا لہجہ بھی دلکش ہے شائد اس لیئے کہ ریڈیو صداکار اپنی آواز اور لہجے کو الفاظ اور جملے کی مناسبت سے ادا کرتے ہیں جبھی اُن کی گفتگو سننے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے ۔۔
گفتگو کرنا بلکہ اچھی گفتگو کرنا کسی فن سے کم نہیں اور یہ فن اُن لوگوں کو آتا ہے جن کا مطالعہ اور سوچ وسیع ہو ۔۔ زندگی کے ہر شعبے سے تھوڑی بہت واقفیت ضرور ہو تاکہ کسی بھی موضوع پر بات کی جا سکے ۔۔
گفتگو کے ماہر وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو بات کرتے ہوئے مخاطب کے موڈ کا خیال رکھیں اگر کوئی مذاق کے موڈ میں نہ ہو اور بات کرنے والا بلاوجہ بولتا جائے تو اکتاہٹ لازمی ہے ۔۔ اسی طرح اگر کوئی شخص میٹھے اور نرم لہجے میں بات کرنے کا عادی ہو اور ساتھ ہی اُس کی “ میں “ ختم نہ ہو یعنی خود کو ہر بات میں دوسروں سے برتر ظاہر کرنا ہر بات میں دوسرے کی نفی کرنا ۔۔۔۔ ایسے لوگوں کی میٹھی باتیں زہر اور لہجہ خار سے کم محسوس نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔
چھوٹے بچّوں کے توتلے تلّفظ اور ادائیگی کا جو دلکش اور حسین لہجہ ہوتا ہے اُس پر تو قربان ہونے کا دل چاہتا ہے ۔۔ بعض اوقات کچھ بڑی عمر کے ننھوں کا لہجہ بھی بچکانہ ہوتا ہے مگر اُن پر قربان ہونے کی بجائے تھپڑ مارنے کا دل چاہتا ہے 😛
گفتگو میں کسی خاص جملے کی تکرار پیار و محبت میں بھلی لگتی ہے جیسے “ مجھے تم سے محبت ہے “ کی تکرار ۔۔۔ لیکن اگر روز مرّہ کی باتوں میں کسی جملے کی بار بار تکرار ہوتی رہے تو سننے والا بات پر توجہ نہیں دیتا کہ کون سنے بک بک ۔۔۔۔
لہجہ حاکمانہ ہو ، طنزیہ و تنقیدی یا چاپلوسی والا، موقع کی مناسبت سے ہی سجتا ہے ۔۔۔ میری گفتگو اور لہجے میں اس پوسٹ میں لکھے گئے ہر لہجے کی آمیزش ہے سوائے خود پسندی (میں کبھی خود پر نہیں اتراتی)اور چاپلوسی کے ۔۔۔ مگر موقع کی مناسبت سے ۔۔۔ دلکش لہجہ اور میٹھی گفتگو ہی سب کچھ نہیں ۔۔ بات کرنے کے سارے سلیقے بھی ساتھ ہوں تو بات بنے ۔۔۔۔ ورنہ خاموشی میں سکون ہے ۔۔

Advertisements

34 تبصرے »

  1. عثمان Said:

    تو پھر میں آپ کا لب و لہجہ کب سن رہا ہوں جی ؟ 😛
    یقین جانئے کہ میری پنجابی اردو بڑی پیاری لگے گی۔ ویسے میں خود بھی بڑا پیارا ہوں۔
    آہو! 😛

  2. بھئی ہمارے لہجے کا ذکر تو آ گیا اس لئے ہمیں اب کوئی پروا نہیں۔

  3. شگفتہ Said:

    بہت اچھا لکھا ہے ، دلچسپ ۔
    اور تھپڑ والی بات پر تو بہت ہنسی آئی ، یہ بتائیں کہ کبھی تھپڑ کا عملی مظاہرہ کرنے کیا 🙂

  4. پنجابی والی يا پنجابی لہجے ميں اُردو جسے ميں گلابی اردو کہتا ہوں پياری نامعلوم لگتی ہے يا نہيں البتہ دلچسپ ہوتی ہے ۔ بہت پرانی بات ہے ہم آفيسرز کلب ميں بيٹھے تھے تو آندھی آ گئی ۔ ہمارے ايک سيئر افسر بولے ” چلو بچو گھر چليں ۔ ہنيری آ رہی ہے”۔ پنجابی ميں آندھی کو نھيری کہتے ہيں

    آپ نے لکھا ہے "گفتگو میں کسی خاص جملے کی تکرار پیار و محبت میں بھلی لگتی ہے جیسے “ مجھے تم سے محبت ہے “ کی تکرار ”

    اس غلطی کی وجہ آپ کی ناتجربہ کاری ہے ۔ "مجھے تم سے محبت ہے” صرف فلموں اور ڈراموں ہی ميں ہوتا ہے ۔ حقيقی زندگی ميں محبت کرنے والے يہ فقرہ ادا نہيں کرتے

    بی بی ۔ ميں کب تک اپنے انگريزی بلاگ کی معرفت اس اُردو بلاگ پر اردو لکھوں گا ؟
    http://www.theajmals.com

  5. سارے کےسارا آرٹیکل ہمارے بارے میں ہی لکھت ہے ۔ ہم نے تو ناہی تبدیل ہونا جی ۔

  6. sarah Said:

    ہاہاہا لکھنوی لہجہ پر اچھی باتوں کی مار ماری ۔۔ 😛

    سعود بھیا کچھ بولنا تو تھا اس پر آپ کو ۔۔۔ 🙄 چپ رہنے کا مطلب متفق ہیں حجاب کی بات سے ۔۔ 😛

  7. سارہ بٹیا بلکہ یہ کہوں کہ پگلی بچی بہنوں کی باتوں سے کون کافر متفق نہیں ہوتا؟

  8. sarah Said:

    یہ تو ٹالنے والی بات ہوئی بھیا ۔۔ 😕
    اچھا فرض کریں یہ کسی بہن نے نہیں بھائی نے کہا ہوتا تب آپ کیا کہتے ؟ 😛

  9. جی بٹیا بھائی بڑے ہوں تو رہنمائی کرتے ہیں اور حوصلہ دیتے ہیں جبکہ چھوٹے ہوں تو دلارے ہوتے ہیں۔ ان کی فرمائشیں پوری کرنے میں لطف آتا ہے اور ان کی باتیں دلچسپی کا سامان ہوتی ہیں۔

  10. اوہ تو اسکا مطلب ہے کہ میری اُردو پیاری نہیں ہوگی کیونکہ اس میں پنجابی، پشتو، سندھی جیسی کسی زبان کا کوئی خاص ٹچ نہیں ہے 😦

  11. جعفر Said:

    بہت تیز ہوگئیں ہیں آپ۔۔۔ آہو۔۔۔
    صئ صئ نشانے ہیں بالکل۔۔۔

  12. sarah Said:

    سعود بھیا کتنے چالاک ہیں آپ 😮 😕
    حجاب زرا پوسٹ میں ایڈ کرنا کہ لکھنوی گفتگو میں باتوں کو چالاکی سے گھما پھرا دینے میں ماہر ہوتے ہیں 😛 ۔۔ ہاہاہا

  13. چالاک تو ہونا ہی ہے، آخر کو ہم بھائی کس کے ہیں؟ ویسے یہ گھمانا پھرانا تو لکھنؤ کی رھگوں میں شامل ہے کیوں کہ چکر دار بھول بھلیا جو ہے وہاں۔

  14. hijabeshab Said:

    عثمان یہ شعر شائد آپ نے پڑھا ہو ، پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ ۔۔۔ اس میں ترمیم کر رہی ہوں آپ کے لیئے ۔۔۔ پیوستہ رہ حجاب سے اُمیدِ آواز رکھ 😛 اور جناب آپ کے پیارے ہونے کی اطلاع کو خوش فہمی سمجھوں یا خود پسندی ؟؟؟؟؟؟؟

    شکریہ شگفتہ ۔۔ ایسی باتیں سرِ عام نہیں پوچھنی چاہیئں ۔۔۔ ویسے تھپڑ تو نہیں مارا گھورنا ہی کافی ہے 😛

    اجمل انکل ۔۔ جی بلکل گلابی اردو ۔۔ اور یہ محبت والے جملے کے معاملے میں میرا تجربہ واقعی نہیں ہے 😕 آپ جب تبصرہ کرتے ہیں اُس وقت اپنے نئے بلاگ کا پتہ لکھیں تو ہی یہ مسئلہ حل ہوگا ۔۔ اور آپ کا پرانا بلاگ جو اب آپ کے استعمال میں نہیں ہے آپ اُس پر لاگ آؤٹ ہونے کے بعد تبصرہ لکھیں ۔۔ میں نے صرف ورڈ پریس کو نہیں سب کو اجازت دی ہے تبصرے کی ۔

    جاہل سنکی ۔۔ آپ کہاں ہیں اس پوسٹ میں ذرا وضاحت کیجیئے ؟؟ مجھے پچھلی پوسٹ کے تبصرے یاد نہیں رہتے ۔۔ آپ کے بارے میں کیوں لکھوں گی میں سمجھ نہیں آیا 😕

    عادل بھیّا ۔۔ میرے لہجے میں بھی کسی خاص زبان کی آمیزش نہیں ۔۔ میری اردو بھی پیاری نہیں 😦

    جعفر شکریہ شکریہ 🙂

    سارہ اور سعود بھیّا اتنی ساری باتوں کا شکریہ ۔۔ لکھنؤ والے مان ہی گئے سارہ 😛

  15. عثمان Said:

    او نی جی ۔ ۔ ۔ یہ تو ظلم اے جی۔ 😦
    صحیح شعر یوں ہونا چاہیے
    پیوستہ رہ آواز سے امید دیدار رکھ 😛
    پیوستہ رہ دیدار سے امید وصال رکھ 😛 😛

  16. ibnesayeed Said:

    ہا ہا ہا ہا عثمان میاں آپ کی رفتار کچھ زیادہ تیز نہیں ہے؟ سنبھل کے رہئے گا لوگ برا نہ مان جائیں۔ 🙂

  17. hijabeshab Said:

    عثمان خوش فہمی ایک نفسیاتی عارضہ ہے جس میں ساون نہ ہو پھر بھی ہری ہری سوجھتی ہے 😛 آپ کے برے دن دور نظر نہیں آرہے ۔۔۔ پھر کہتے رہیئے گا ۔۔۔۔۔۔۔ میں نئیں ۔۔۔۔۔۔۔ میں نئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نئیں ۔۔۔۔۔۔۔

  18. عثمان Said:

    اوجی لب و لہجہ سن کر بھی ہریالی نہ آئے تو کیا آئے۔ 😛

  19. حرا قریشی Said:

    اچھی تحریر ہے حجاب۔ ۔ ۔ ویسے "زبردستی” کے امریکی لہجے میں بولی گئی اردو کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ ۔ ۔ تھپڑ والا آئڈیا یہاں بھی چلے گا کہ نہیں؟

  20. hijabeshab Said:

    عثمان ، جب کبھی آپ سے بات ہوئی تو پتہ چلے گا ہریالی آتی ہے یا نہیں ۔۔ جب کے بارے میں ابھی سے کیا فِکر ۔۔

    بلاگ پر خوش آمدید حرا ، زبردستی کے امریکی لہجے میں اردو بولنے والے کو تھپڑ مارنا ثواب کا کام ہوگا 😛

  21. امن ایمان Said:

    شب بہتتتتتتتت مزے کی پوسٹ 🙂 خاص طور پر یہ جو آپ نے لکھا۔۔
    "دلکش لہجہ اور میٹھی گفتگو ہی سب کچھ نہیں ۔۔ بات کرنے کے سارے سلیقے بھی ساتھ ہوں تو بات بنے”

    اللہ تعالیٰ زور قلم کرے اور زیادہ (مجھے یہ دعا پتہ نہیں کون دیتا تھا شاید اردو محفل پر یا میرے بلاگ پر کوئی۔۔ میں نے آپ کو دے دی 🙂

  22. بہنابہت خوب لکھاواقعی وہ کیاکہتےہیں کہ انسان کی قابلیت اس کی زبان کےنیچےپوشیدہ ہےکیونکہ بولنےوالےالفاظ کاچناؤجتناخوبصورت اندازسےہوگااتناہی اگلےبندےپراثراندازہوگا۔

  23. hijabeshab Said:

    بہت شکریہ امن اور جاوید اقبال 🙂

  24. HSF Said:

    مزے کی پوسٹ ہے۔ لیکن مرچیں بہت زیادہ ہوگئیں اور مزہ کچھ زیادہ ہی تیکھا ہوچلا!

    گفتگو کرنے میں مہارت رکھنا واقعی فن ہے۔

    لیکن یہ مہارت اگر کوئی سیلزمین اپنی جاب کے سلسلے میں استعمال کرے تو اچھی بات ہے۔
    روز کے ملنے والے دوستوں میں اپنی اس مہارت کی نمائش کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

    اور جناب محترم عثمان صاحب کینڈا والے۔
    آپ کی ادائیں تو کینڈا کی ترقی کی رفتار سے بھی تیز جا رہی ہیں کچھ خیال کیجیئے ۔

    والسلام

    • عثمان Said:

      میری رفتار تیز نہیں بلکہ بہت تیز ہے۔
      انٹرنیٹ چھوڑیے اور اپنے اردگرد کی خبر لیجئے۔ 🙂

      • HSF Said:

        تیز رفتاری ہی حادثات کا باعث بنتی ہے۔

  25. hijabeshab Said:

    HSF آپ کو خوش آمدید پہلے تو کیا جا چکا ہے ایک بار پھر سہی ۔۔ بلاگ پر خوش آمدید ، اور کسی قاری کو پوسٹ میں مرچیں نہیں محسوس ہوئیں ۔۔ آپ کو کیوں محسوس ہوئیں ؟؟ لگتا ہے اس لب و لہجے میں سے کوئی ایک آپ پر فِٹ آتا ہے ۔۔ گفتگو میں مہارت صرف سیلز مین یا مارکیٹ میں چیزیں بیچنے والے کے لیئے ضروری نہیں کہ اُس کا سودا بِک جائے ۔۔ روز کے بات کرنے والے فرینڈز اور گھر میں بھی مہارت ضروری ہے ۔۔ اس لیئے کہ لہجہ پھول بھی برسا سکتا ہے اور کانٹے بھی ۔۔ اور کانٹے کسی کو نہیں پسند 🙄

  26. HSF Said:

    شکریہ۔

    اور قاریوں نے تو اسے اوپر اوپر سے ہی ٹیسٹ کیا ہے تو انہیں تہہ میں موجود مرچوں کا مزہ کہاں مل پاتا۔
    اور گھر میں اور روز کے بات کرنے والوں میں مہارت نہیں محبت معنی رکھتی ہے۔
    اور اب گلاب کے ساتھ کبھی کبھار کانٹے بھی آجائیں تو کیا گلاب پسند کرنا چھوڑ دیا جائے۔

    • hijabeshab Said:

      جب اپنا آپ نظر آئے کسی تحریر میں تو مرچیں لگتی ہی ہیں ۔۔ گلاب اور کانٹے پر بحث فضول ہوگی ۔

      • HSF Said:

        اب مرچیں چباکر ہی کچھ لکھا جائے تو اگلے تک ان مرچوں کا مہک تو پہنچ ہی جاتی ہے نہ۔
        اور سنا ہے آپ کو مرچیں ویسے بھی کافی پسند ہیں۔

  27. hijabeshab Said:

    ابھی مرچ کا اسپرے کیا نہیں اور کا ، کی غلط لکھنے لگے ہیں آپ ۔۔ بعد میں کیا انجام ہو پتہ نہیں 🙄

  28. […] لب و لہجہ اور گفتگو .. November 201033 comments 4 […]


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: