زرد موسم کا حُسن ۔۔۔

فصلِ خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گُل
چھانی چمن کی خاک ، نہ تھا نقشِ پائے گُل
اکتوبر کے آغاز میں جب پت جھڑ کا موسم شروع ہوتا ہے تو ہر شجر اداس نظر آتا ہے ، باہر چاہے جتنا شور ہو فِضا میں عجیب سی خاموشی محسوس ہوتی ہے اور ایسے میں جب ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ زرد اور نارنجی پتّے گرتے ہیں وہ منظر تو حسین ہوتا ہی ہے مگر اُن پتّوں کے گرنے سے جو ہلکی سی آواز ہوتی ہے وہ آواز یوں لگتا ہے جیسے کوئی بہت دھیمی سی سرگوشی جس کو سُننا اچھا لگے ۔۔۔ اس پت جھڑ میں بہت بار یہ آوازیں میں نے محسوس کی اور پہلی بار خزاں کے خشک موسم کے حسین ہونے کا دل سے اعتراف کیا ہے ۔۔
پت جھڑ میں جب آنگن بادام کے نارنجی اور سرخ پتّوں سے بھرا ہوتا ہے ۔۔ اُن پتّوں پر ننگے پاؤں چلنا ، پتّوں کی چُرمُراہٹ اور ساتھ پتّوں کی دھیمی سی خوشبو جو ہوا کے ساتھ محسوس ہوتی ہے بہت حسین مگر اداس منظر ہوتا ہے ۔
خزاں کے ساتھ دو دن سے صبح کے وقت ہلکی سی خنکی کا احساس بھی ہونے لگا ہے ، کراچی میں سردیاں چاہے جھلک دکھا کر چلی جائیں مگر چھوٹے دن لمبی راتیں اور شوخ رنگ پہناوے سے ہم دل سے سردیوں کے مزے لے ہی لیتے ہیں ۔۔۔ اہلِ کراچی کو کاسنی کاسنی خنکی مبارک 🙂 ساتھ ہی یہ دعا کہ کم از کم ایک ماہ ہی مگر ٹھیک ٹھاک سردی پڑے کراچی میں تاکہ میں گرم گرم ہاٹ این سار سوپ ، کشمیری چائے اور سخت سردی میں اداس سی چاندنی راتوں کے مزے لے سکوں ۔۔ یوں تو مونگ پھلی ، چلغوزے ، نمکین بادام و پستے ، تِل کے لڈو ، طرح طرح کے حلوہ جات بھی سردیوں کی سوغات ہوتے ہیں مگر بقول میری امّاں تم جنگلی ہو کچھ نہیں کھاتیں 😕
ویسے اگر سوچا جائے تو جنگلی ہونا وہ بھی آج کل مہنگائی کے زمانے میں بہتر ہی ہوا ۔۔ میری سادہ سی پسند تو چکن بناتے ہوئے یخنی الگ کرکے بھی تیار ہوجاتی ہے ۔۔ پھر بھی میں جنگلی 😦
جنگلی سے جنگل یاد آگیا اور ساتھ یہ بھی کہ خزاں میں پت جھڑ کا اصل حسن تو جنگل میں نظر آتا ہوگا ۔۔ جیسے یہ منظر ۔۔

اس زرد اور نارنجی پتّوں سے بھرے راستے پر چلنا کتنا اچھا لگے ۔۔۔ بات جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں آگئی ۔۔ قصہ مختصر یہ کہ ہر موسم کا اپنا حسن ہے محسوس کرنے والا دل اور نظر ہونی چاہیئے ۔۔ جو مجھ جیسے ویلے لوگوں کے پاس ہی ہو سکتا ہے 😳

Advertisements

17 تبصرے »

  1. sarah Said:

    اتنا حسین تو موسم قطعی نہیں لگا تھا جتنا اب تمہاری پوسٹ پڑھنے کے بعد لگ رہا ہے ۔۔ 😀

  2. عثمان Said:

    خزاں اور چاندنی ۔ ۔ ۔

    اداس کیوں ہوتی ہیں ؟

  3. zafriusa Said:

    حجاب آپ نے بہت زبردست لکھا ۔ اتنے آسان لفظوں میں کسی موسم کی تعریف کرنا کچھ آسان کام نہیں ۔ ویسے یہ زرد موسم انہی کو پسند آتا ہے ۔ جن کے اندر ویسا ہی پت چھڑ موسم موجود ہو ۔

  4. بي بی ۔ يہ شعر ميری سمجھ ميں نہيں آيا ۔ ميں تو اپنے نقشِ پا کا سوچ رہا تھا اور آپ نے گُل کی بات کر دی ۔ يہ گُل اگر کوئی لڑکا لڑکی ہے پھر تو ٹھيک ورنہ پھول کے پاؤں تو مجھے تلاش کرنا پڑيں گے کہ کيسے ہوتے ہيں ؟

    کراچی کی سردی کی بات آپ نے خوب کی ۔ ميں نے کراچی ميں سردی جب بھی تلاش کی مجھے اے سی والے کمرے کے علاوہ کہيں نہ ملی البتہ کسی کو سويٹر اور اُونی مفلر لپيٹے ديکھ کر پوچھا "بھائی ۔ طبيعت تو ٹھيک ہے آپ کی ؟ ” جواب ملا "ديکھتے نہيں کہ کوئٹہ کی ہوا چل رہی ہے ؟”

  5. کوئی ايسا طريقہ نہيں ہو سکتا کہ ميں يہاں اپنے اُردو بلاگ کے حوالے سے تبصرہ کر سکوں جو کہ ميری اپنی ڈومين پر ہے ورڈ پريس پر نہيں ؟

  6. اچھی بات ہے کہ آپکے پاس ریکوری کے مینز بھی ہیں اور مینرز بھی ۔

  7. hijabeshab Said:

    شکریہ سارہ 🙂

    عثمان ، اگر آپ ایک درخت ہوتے اور آپ کے سارے پتّے گِر جاتے تو آپ اداس نہیں ہوتے کیا 😛 بس اسی لیئے خزاں اداس ہوتی ہے اور چاندنی صرف سردیوں کی اداس ہوتی ہے اس لیئے کہ جب سردی زیادہ ہو تو سب لوگ گھر کے اندر دروازے کھڑکیاں بند کرکے بیٹھے ہوتے ہیں کوئی دیکھتا ہی نہیں سردی میں چاندنی تو بیچاری اداس نہ ہو تو کیا صرف ایک میرے دیکھنے سے خوش رہے ؟؟؟

    شکریہ ظفری ۔۔ یہ زرد موسم پہلی بار اس طرح پسند آیا ہے مجھے ۔۔

    اجمل انکل شعر کا مطلب یہ کہ خزاں کے موسم میں اگر بھولوں والے کسی باغ کی سیر کریں تو کہیں گُل یعنی پھول نظر نہیں آیا ۔۔ اور آپ نے جو پوچھا ہے وہ مجھے بھی کسی سے پوچھنا پڑے گا مجھے نہیں پتہ کے کیسے ہوگا 😕

    شکریہ جاہل سنکی ۔۔۔

  8. Jafar Said:

    کسی کی تعریف کرنا بڑا مشکل کام ہے میرے لیے
    لیکن آج کل آپ جیسا لکھ رہی ہیں، اس پر تبصرہ کرنا اس سے بھی مشکل ہے۔
    سادہ، رواں اور پر اثر

  9. عثمان Said:

    آپ کو کیسے پتا کہ آپ کے دیکھنے کے باوجود چاندنی خوش نہیں ہو گی ؟

  10. hijabeshab Said:

    جعفر آپ کے لیئے تبصرہ کرنا مشکل ؟؟؟؟؟؟؟ جتنا اچھا آپ لکھتے ہیں اُس کے سامنے میں کہاں ؟؟ یہی سوچ کر میں بھی صرف پڑھ کر آجاتی ہوں آپ کے بلاگ سے 😳

    عثمان ، چاندنی مونث ہے اور میں بھی تو کیسے خوش ہوگی ۔۔ چاند دیکھے تو بات بنے 😛

  11. حجاب جب بھی لکھتی ہو خوب لکھتی ہو ۔۔۔۔ ویسے تو موسلم کے چاورں خوبصورت رنگ پاکستان سے باہر نظر آتے ہیں ۔ مجھے یہ موسلم بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔جب میں نے لوگوں کو اکثر اس موسم میں اداس دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں حیران ہوں کہ کوئی اس خوبنصورت موسم میں اداس کیوں ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ موسم تو خوشی دیتا ہے ۔۔۔ جب پتے گر جاہیں اس کے بعد کتنے رنگوں کے پتے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔ ان پر کبھی غرور کرو ۔۔۔۔ زرد پتوں کا اپنا حسن ہے لیکن انکے ساتھ ساتھ دوسرے رندگوں کے پتوں کو دیکھو تو تب موسم خزان کا اھساس ہوتا ہے

  12. hijabeshab Said:

    شکریہ تانیہ ۔۔

  13. Abdullah Said:

    اگر آپ یونہی لکھتی رہیں تو اپنے پسندیدہ بلاگس میں ایک کا اضافہ کرنا ہی پڑےگا!

  14. شگفتہ Said:

    واہ ، خزاں کے پتے ، چلیں پھر ساتھ چلتے ہیں پتوں پر چلنے 🙂

    خیر مبارک بلکہ اب تو بارش کی بھی مبارک باد ! یہ بتائیں ابھی دو دن پہلے آپ کی طرف ہوئی تھی بارش کہ نہیں ہماری طرف ٹھیک ٹھاک ہو گئی تھی ۔

  15. شگفتہ Said:

    اور یہ بارش ہوئی کہاں تھی یہ میں مسنجر پر بتا دوں گی 🙂

  16. hijabeshab Said:

    عبداللہ زور کس پر ہوا “ ہی “ پر 🙂 دیکھیئے کب تک لکھ سکتی ہوں اس طرح ۔۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھا جائے ۔۔

    شگفتہ ، یہاں بھی ہوئی تھی بارش اچھی خاصی ۔۔ م س ن پر آپ کے بتانے سے پہلے ہی کل لائٹ چلی گئی تھی ۔

  17. حجاب ویسے ایسی سڑکیں لانگ آئی لینڈ ، نیو یارک میں بکثرت مل جاتی ہیں کہ یہاں درخت کافی وافر مقدار میں ہیں شاید جنگل تھا پہلے۔ ویسے یہ پتے صاف بھی کرنے پڑیں تو پھر یہ موسم اتنا خوبصورت نہیں لگتا مگر بنا کام کے دلکش نظارہ ہے


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: