یومِ ہاتھ دھلائی ۔۔۔

15 اکتوبر کو اقوامِ متحدہ ہاتھ دھونے کا عالمی دن مناتی ہے یعنی جو قوم خود ہر کام یہاں تک کہ واش روم میں بھی ٹشو پیپر استعمال کرتی ہے وہ دنیا بھر کو کہہ رہی ہے ہاتھ دھو لو واہ جی ۔۔ یا ہو سکتا ہے سال میں ایک بار منرل واٹر سے ہاتھ دھو کر وہ سمجھتے ہوں کہ اب پورا سال ہاتھ دھونے کی ضرورت نہیں اس لیئے کہ وہاں منرل واٹر خالص ہوتا ہے ۔۔
ہاتھ دھونا ۔۔ ضروری نہیں صابن یا پانی سے دھونے کو ہی سمجھا جائے پاکستان میں تو روزآنہ پتہ نہیں کتنے لوگ اپنے موبائل سے ، کار سے ، اپنے رزقِ حلال سے کمائی گئی رقم سے اور اپنی جان سے ہاتھ دھوتے رہتے ہیں ۔۔ رہی بات صابن سے ہاتھ دھونے کی تو اس میں بھی کبھی کبھی مسئلہ بھی ہو جاتا ہے جیسے اگر کوئی زیادہ صفائی پسند ہو اور ہر کام کے بعد یا پہلے ہاتھ دھونے کا عادی ہو تو وہ بیچارہ نفسیاتی مریض سمجھ لیا جاتا ہے ۔۔ گندی دنیا 🙄
ہاتھ دھلوانے کا ایک اسپیشل انداز میں نے ایک شادی میں دیکھا ۔۔ اُس شادی میں نکاح کے بعد جب کھانا سٹارٹ ہوا تو اچانک دلہن کی امّاں جان کو بلند آواز میں بولتے سُن کر سب اُدھر متوجہ ہوئے تو پتہ چلا دولہا صاحب کھانا نہیں کھا رہے بقول دولہا کے ابّا جی کے ہمارے ہاں رسم ہے کہ دلہن کا بھائی یا بہنوئی دولہا کے ہاتھ دھلوائیں اور اُس کی جیب گرم کریں تو دولہا کھانا کھائے گا ۔۔ کیا نخریلی رسم ہے ۔۔
یا اس رسم کے پیچھے یہ بات بھی ہو سکتی ہے کہ ماہرِ نفسیات کہتے ہیں کہ اگر کوئی مشکل فیصلہ کرنے کے بعد ہاتھ دھو لیئے جائیں تو شک و شبہات نہیں رہتے جیسے کہ یہ نہیں وہ فیصلہ کیا ہوتا تو زیادہ اچھا رہتا ۔۔ اور دولہا نکاح کے مشکل عمل سے گزر چکا ہوتا ہے تو ہاتھ دھلوانا وہ بھی دلہن کے بھائی سے مطلب آل از ویل بھیّا 😛
اکثر گھروں میں یہ بھی دیکھا ہے کہ خواتین جھاڑو پوچا کر کے یا بچے کا پیمپر تبدیل کرکے ڈوپٹے سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی کسی اور کام میں لگ جاتی ہیں ۔۔ اگر کہہ دیا جائے کہ ہاتھ تو دھو لیں تو جواب ملتا ہے میں نے کیا سڑک کی صفائی کی ہے اپنے گھر کا گند ہی تو صاف کیا ہے ۔۔ اور یہ کہ چھوٹے بچّوں کی گندگی ناپاک نہیں ہوتی 😕 ایسے لوگوں سے بحث بیکار ہوتی ہے لہٰذا بہت ساے لفظوں کا گلا گھونٹ کر گھور کر چُپ رہنے میں عافیت لگتی ہے ۔۔ ورنہ بات وہی نفسیاتی مریض کا لقب کون اپنے سر لے ۔۔
کسی اور کے گھر میں تو گھور کر لقب سے بچنا آسان ہوتا ہے مگر اپنے گھر کا کیا کریں ۔۔ کبھی کبھی گھر میں مجھے بھی اس لقب سے نواز دیا جاتا ہے 😳 اس لیئے کہ میرے کام بھی حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہوتے ہیں اور یہی میں چاہتی ہوں کہ ہر کوئی ایسا ہی کرے اور کرتے تو خیر سب ہی ہیں مگر کبھی کبھی جب کسی کا موڈ خراب ہو اور حسبِ عادت میرے منہ سے جملہ پھسل جائے کہ ہاتھ دھو لینا پہلے ۔۔ اُس کے بعد لیکچر سننا پڑتا ہے کہ دماغ کی صفائی کر لو ہاتھ صاف نظر آئیں گے اور آخری بات جو کہی جاتی ہے وہ یہ کہ نفسیاتی ہو گئی ہو کیا🙄 ( ویسے یہ لفظ نفسیاتی صرف ہاتھ دھونے کے معاملے میں نہیں اب ہر شخص ہر معاملے میں ایک دوسرے کو کہتا سنائی دیتا ہے کہ نفسیاتی ہو گئے ہو کیا ) خیر مجھے جب لقب دے ہی دیا جاتا ہے تو ڈھیٹ بن کر ہاتھ میں بھی دھلوا ہی لیتی ہوں 😆
آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جو حفظانِ صحت کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے صفائی کا خیال رکھتے ہوئے ہاتھ دھونے کے الزام میں نفسیاتی کا لقب پا چکے ہیں ؟؟
میرا خیال ہے کسی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا ہر کام کے بعد یا پہلے صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھو کر اچھا سا لوشن لگا کر ہاتھوں کو لشکارے مارنے دینا چاہیئے ۔۔۔ شاعر نے یوں ہی تو نہیں کہا ہوگا ناں کسی کے حسین ہاتھ کو دیکھ کر کہ
دیکھوں تیرے ہاتھوں کو تو لگتا ہے تیرے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

17 تبصرے »

  1. اِتنا اچھا کیُوں لِکھتی ہو،،،,,

  2. عثمان Said:

    جو ہاتھ نہ دھوئے اسے ایک ہاتھ دیکھایا کریں جی۔ خود ہی سدھر جائے گا۔

  3. میں تو ہاتھ صفائی دکھانے کے بعد دھوتا ہوں
    اب یہ حفظان صحت میں آتا ھے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. ABDULLAH Said:

    میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر کسی کو سادگی اور پرکاری کی مثال سمجھانا ہو تو آپکی تحاریر پڑھوادینا چاہیئے!!!!

  5. ہاتھ دھو کر ہاتھ دھونے کے پیچھے پڑ گئی ہو

    ویسے تمہاری گاؤں والی پوسٹ بہت عمدہ تھی اس پر تبصرہ کرنا ہے مجھے

  6. ہمارے ہات دھلوا کر ہماری ایمیونیٹی کم کرنے سازش کی جا رہی ہے جی ۔

  7. گورے تو صرف سال میں ایک دفعہ ہاتھ دھوتے ہیں اس کے علاوہ تو وہ سن باتھ پر ہی گزارہ کرتے ہیں

  8. ویسے کچھ لوگوں کو خبط ہوتا ہے ہاتھ دھونے کا۔۔۔ سچی😛 یونیورسٹی میں میرے گروپ میں ایک لڑکی ہے، اسے بھی یہ خبط ہے۔ وہ ہر تھوڑی دیر بعد کسی بہانے سے اُٹھتی ہے اور ہاتھ دھولیتی ہے۔۔۔ اب تو لوگ ہاتھ دھوئے بنا کھانا کھانے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور خیالات اتنے ہوتے ہیں کہ ہاتھ دھونے کا خیال ہی نہیں آتا۔۔۔

    تحریر بہت زبردست لکھی ہے۔۔۔ خاص کر وہ جان سے ہاتھ دھونے والا جملہ کمال بٹھایا ہے۔

    • عثمان Said:

      عمار بھائی تو لگتا ہے کہ جب سے جامعہ آئے ہیں کڑیوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں۔🙂

  9. md Said:

    ماشا اللہ زور قلم اور زیادہ ۔ ۔ ۔ بُہت شُکریہ

  10. hijabeshab Said:

    شاہدہ آپی دماغ چلنے لگا ہے شائد 😆 ویسے ہمیشہ تو نہیں شائد کبھی کبھی اچھا لکھتی ہوں😳

    عثمان آپ نے ہاتھ دھوئے تھے تبصرہ کرنے سے پہلے😛

    یاسر آپ دستانے پہنا کریں 😛

    عبداللہ ۔۔۔۔ سادگی و پرکاری، بےخودی و ہشیاری
    حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا ( غالب )

    محب ، گاؤں سے جا کر آ جاؤں گی تب تبصرہ کریں گے کیا ؟؟

    جاہل سنکی آپ اپنے ہاتھ گندے رکھیں جی ۔۔۔

    فرحان میں نے بھی یہی لکھا ہے ۔۔

    عمار تم ان خیالات سے نکلو کہ کس لڑکی نے کتنی بار ہاتھ دھوئے تو ہاتھ دھونا یاد رہے ناں 😛

    شکریہ ایم ڈی ۔۔ اور سب کی پسندیدگی کا شکریہ ۔۔

  11. khokhar976 Said:

    مغربی اقوام میں ہاتھ نہ دھونا معمول کی بات ہے اور یہ عادت عیسائیت کی ترویج کی وجہ سے افریقہ اور ایشیاء میں بھی راسخ ہو گئی ہے۔ اب گنجان آبادی کیوجہ سے ناقص صفائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہر قسم کی بیماریاں، خاص طور پر پیٹ کے امراض ہاتھوں کے ذریعہ پھیلتے ہیں۔
    مسلم معاشرے میں یہ بیماریاں کم ہونی چاہیئں۔ اور ہیضہ اور اس قسم کے دیگر متعدی امراض بھی آسانی سے نہیں پھیلنے چاھیئں۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ بفضل اللہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض اس تیزی سے نہیں پھیلے جس تیزی سے دیگر ممالک میں انہیں حالات میں پھیلتے ہیں۔

  12. آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مجھے یاد رہتا ہے۔😛

  13. امتیاز Said:

    جی کہنا پڑے گا کہ اپ کے بلاگ پر کوئی آئے اور پھر پسندیدگی کا کمنٹ نہ کرے وہ کوئی بہت بدزوق صاحب ہوں گے۔۔
    ویسے میں وہی بدزوق صاحب ہوں اپ کی تحاریر پڑھتا رہتا ہوں گاہے بگاہے ۔اور وہ گائوں والی بہت پسند آئی ۔ اپ سادہ سے الفاظ میں سادہ سی بات کو بہت دلچسب اور پر مزاح انداز میں لکھنے کا فن جانتی ہیں

  14. hijabeshab Said:

    ٹھیک کہا آپ نے خاور 976

    عمار کر لیا یقین 🙂

    بہت شکریہ امتیاز ۔۔ آپ میں ذوق ہے جبھی تحریر پسند آئی ناں آپ کو ۔۔

  15. Ansoo Said:

    Bohut sada see umda tehreer hai sister


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: