خواہشیں ایسی کہ ۔۔۔۔۔

کل سے میرا دل مٹی کے برتن بنانے کا چاہ رہا ہے بلکل اسی طرح کے جو اس ویڈیو میں ہے ۔۔

کتنی خوبصورت کیتلی ہے اور کتنے ہنر مند ہاتھ ہیں ۔۔ مجھے مٹی کے برتن بہت پسند ہیں چھوٹے چھوٹے مٹی کے گلدان اور دیئے بہت سارے جمع کر رکھے ہیں میں نے ۔۔۔۔
مٹی کے برتن تو بنا نہیں سکتی پھر دل نے سوچا مٹی کے برتن نہ سہی ریت کے گھروندے ہی بنا لوں ۔۔۔ مگر اس کے لیئے ساحلِ سمندر پر جانا پڑے گا اور فی الحال کسی کا ارادہ نہیں نظر آتا جو میرے اس اچانک خواہش پر میرا حکم بجا لاتے ہوئے پکنک کا پروگرام بنائے 🙄
اس سوچ سے اور آگے کا سفر کیا دل نے کہ ۔۔۔۔۔۔ کسی گاؤں میں جا کر کچھ دن گزارنا چاہیئے ۔۔ سب سے پہلے تو کچھ چیختے ہوئے شوخ رنگ کے ڈریس بناؤں تا کہ گاؤں کی گوری نظر آ سکوں وہاں جا کر ۔۔ اور بلکل اُسی طرح سب کام کروں جو گاؤں میں خواتین کرتی ہیں ( کر ہی نہ لوں 😳 )
صبح سویرے اُٹھ کر پہلے تو گاؤں کی حسین صبح کی سیر کروں ۔۔ پھر واپس آکر بھینسوں کو چارہ ڈالوں ( یہاں قربانی کا جو جانور آتا ہے اُس کو تو ڈالتی نہیں ) چاٹی کی لسّی بناؤں ( میرا خیال ہے چاٹی ہی کہتے ہیں غلط ہو تو تصحیح کردیں ) اُس کے بعد لسّی ڈالوں بڑے سے چاندی یا پیتل پتہ نہیں کس کا گلاس ہوتا ہے اُس میں ۔۔ اُس میں ڈالوں ایک مکھن کا پیڑا اور مکئی کی روٹی کے ساتھ کھا پی کہ اگر میں ہوش میں رہوں 😆 تو پیتل کا مٹکا سر پر رکھ کر( ایئر فون کان میں لگاؤں تو لگتا ہے سر پر پتہ نہیں کتنا بوجھ ہے مٹکا رکھ لوں تو کیا بات ہو ) یا کمر پر مٹی کا مٹکا لے کر گاؤں کی سکھیوں کے ساتھ ( وہاں جا کر دوست بن ہی جائیں گی ایک دن میں ) پنگھٹ یا دریا سے پانی بھر کے لاتے ہوئے کھیت سے تازہ سبزیاں یا ساگ توڑ کر لیتی آؤں ۔۔
پھر کُھلے آنگن میں لکڑی کے چولہے پر مٹی کی ہانڈی میں پھونکیں مار مار کے کھانا پکاؤں ( 2 بار میں نے لکڑی کے چولہے پر کھانا بنایا ہے اُفففففف حشر ہوگیا تھا ) تنور پر روٹیاں لگاؤں 😆 پھر کھانے کی چنگیر سر پر اور ہاتھ میں پانی یا لسّی کی چھوٹی سی مٹکی یا گڑوی لے کر کھیتوں میں کھانا پہنچاؤں جس طرح گاؤں کی عورتیں اپنے "اُن” کو کھانا دینے جاتی ہیں ۔۔ میں "اُن ” نہ سہی خود کھیت میں جا کر کھانا کھا لوں گی:P
کپڑے دھونے گاؤں میں شائد نہر پر جاتے ہیں میں بھی ایک رومال یا دوپٹہ دھو ہی لوں گی نہر میں 😛
اور اور کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔ ہاں میں اُس گاؤں جاؤں گی جہاں سرسوں کے کھیت لگے ہوں مجھے اُس کھیت میں گھومنا ہے بہت سی تصویریں بنوانی ہیں ۔۔۔۔ اور ٹیوب ویل یا نہر کے پانی میں پاؤں ڈال کے پانی بھی اُڑانا ہے اُس کے بعد رات میں صحن میں چارپائی ڈال کر گاؤں کی چاندنی کے مزے لیتے ہوئے گانا گاؤں گی ۔۔۔ اپنا گراں ہوے پیپل دی چھاں ہوے بان دی منجی ہوے سِر تلّے بانہہ ہوے ۔۔۔ یا چانڑیاں راتاں وے سانول ۔۔۔۔ رات میں پیپل دی چھاں تلے چارپائی ڈالنے میں خطرہ ہے اس لیئے صحن ٹھیک رہے گا ۔۔
کسی بڑے سے درخت پر جھولا تو ضرور ہوگا گاؤں میں وہ بھی جھولنا ہے ( بس کوّے مجھ پر بیٹ نہ کردیں اس لیئے کہ کوّے اور میری شائد کوئی دشمنی ہے یہاں گھر میں تو جب بھی درخت کے نیچے جاؤں تحفہ دے دیتے ہیں 😛 )
کچھ حسین دن گاؤں میں گزار کے جب واپسی ہوتی ۔۔۔۔ اور میں کوئی شہری مُنڈا ہوتی تو ضرور گاؤں کی کسی الہڑ مٹیار کے پراندے میں میرا دل اٹک گیا ہوتا تو یہ گاتی کہ ۔۔۔ گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا آ کے یہاں رے 😛
میں ٹہری کُڑی تو میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ الوداع اے پیارے پیارے گاؤں ۔۔۔۔۔ اور یہاں آکر کُھلی آنکھوں سے گاؤں کے سپنے دیکھتے ہوئے یہ شعر گُنگناتی کہ
کچے آنگن کا وہ گھر وہ بام و در
گاؤں کی وہ پگڈنڈیاں وہ رہ گزر
وہ ندی کا سرمئی پانی وہ شجر
جا نہیں سکتی بجا ان تک مگر
سامنے رہتے ہیں وہ شام و سحر

Advertisements

40 تبصرے »

  1. عثمان Said:

    🙂
    واہ جی واہ۔۔۔
    میں بھی آجاؤں آپ کے ساتھ۔۔۔۔دھوتی پہن کر۔ 🙂

  2. بٹیا رانی آپ کو ہم اپنے گاؤں آنے ی دعوت دیتے ہیں۔ پر یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ دیہی زندگی اتنی حسین نہیں ہوتی جتنا اس کا ذکر ہوتا ہے۔ ویسے آپ آ جائیں آپ کی بیشتر مذکورہ خواہشات پوری ہو جائیں گی گو کہ بالکل اس طرح نہ سہی جیسا آپ کے تصور میں ہے۔

  3. عمران Said:

    صحیح کہا ابن سعید نے، میرے بھی خواب ایسے ہی ٹوٹے تھے۔ بہتر ہے نا جائیں۔ آجکل کے دیہات بھی اچھا خاصا شہر بن گئے ہیں۔

  4. aamaneman Said:

    حجاب سعود بھائی کی طرح میرا دل بھی آپ سے کہنے کو چاہ رہا ہے کہ بٹیا رانی گاؤں ویسا حیسن اب نہیں رہا جس قسم کے سہانے سپنے آپ نے دیکھے ہیں۔۔۔گاؤں جانے سے پہلے مجھ سے میسج کے ذریعے ہی مشورہ تو کیا ہوتا :p آپ کو تو پتہ ہے نا اب میں ملتانن ہوچکی ہوں۔۔۔رہائش تو ہماری شہر میں ہے لیکن ذمینیں آف کورس کسی نہ کسی گاؤں سے ملحقہ۔۔۔ہمارا آبائی گھر گاؤں میں ہی ہے۔۔۔تو کبھی پکنک یا فصل کے حساب کتاب کی غرض سے گاؤں جا کر رہتے ہیں یقین کریں بمشکل چند دن بعد ہمت جواب دے جاتی ہیں۔۔وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تو وہاں پھیلی ہوئی جہالت۔۔۔۔توہمات سے بھری ہوئی عورتیں جو سارا دن سر پر منڈلاتی رہتی ہیں۔۔۔پھر ڈھیر ساری مکھیاں۔۔۔ بند کمرے میں سپلٹ کا سکون تو شہر میں بھی ویسے ہی ملتا ہے جیسا گاؤں میں لیکن اگر آپ کے پروگرام پر عمل کرکے گھوما پھرا جائے تو مکھیوں کی فوج آپ کے ہمراہ ہوگی۔۔۔گاؤں کی مٹی جو کسی نہر کنارے یا کھیت میں پانی کی نمی سے تو سوندھی سوندھی مہک دیتی ہے لیکن راستے میں دھول گرد وغبار کا طوفان بن کے آپ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔۔۔گاؤں کے آوارہ بل ڈاگ ہر موڑ پر آپ کے استقبال کے لیے تیار رہتے ہیں۔۔رات گوری کی حفاظت مچھروں کے چیف آف آرمی شٹاف خود کرتے ہیں کہ اک مدت بعد پیور شہری ٹھنڈا میٹھا خوشبودار خون پینے کا شوق کس مچھر کو نہیں ہوگا۔
    اتنی ساری مشکلات کے بعد آپ کا دل چاہے گا دفع کرو اس ایڈونچر کو۔۔۔سیدھا سیدھا گاڑی میں بیٹھو۔۔کسی کھیت یا نہر کنارے پانچ دس منٹ کھڑے ہوکر پیر جھاڑتے واپس جاکر اے سی والے کمرے کی ٹھنڈک اپنے اندر جذب کرو۔۔۔تانکہ اس گرمی کا اثر کم ہوجو آپ کو سر سے پیر جھلسا دیتی ہے۔

    حجاب میں اس بات سے متفق ہوں کہ گاؤں کے لوگ بے حد محنتی ہوتے ہیں۔۔۔ان کی قوت برداشت ہم سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جس گرمی میں ہم ایک منٹ نہیں گزار سکتے ہاری سارا سارا دن گندم کی فصل بوتے ہیں (اللہ کا شکر ہے اب مشینوں نے اُن کی زندگی بھی کافی آسان بنادی ہے ) مجھے لیکن سب سے زیادہ غصہ ان کی جہات پر آتا ہے خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی شادی کے بعد ایک عدد دعوت میری طرف سے پکی۔۔۔۔اسی بہانے آپ گاؤں کا نظارا دیکھ لیجئے گا۔

    آپ کی پوسٹ بہت اچھی لگی۔۔۔۔بہت برجستہ جملے تھے اور تقریبا گاؤں سے متعلق ہر بات ٹھیک۔۔۔۔لگ رہا ہے آپ کا بھی کوئی گم گذشتہ گاؤں تھا جبھی اتنا اچھا نقشہ پیش کیا۔

    • ABDULLAH Said:

      بی بی اپنے گاؤں والوں کی جہالت دور کرنے کے لیئے آپ زمین دارون نے کیا کیا(ان کی جہالت کو برا بھلا کہنے کے علاوہ)؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

      • عثمان Said:

        حسب معمول آپ کے تبصرے میں استعمال کئے گئے سوالیہ نشان کی تعداد بارہ ہے۔ 🙂

        مبارک ہو ! یہ ٹی وی آپ کا ہوا 🙂

      • امن ایمان Said:

        بھائی جی آپ نے وہ مشہور شعر تو سن رکھا ہے نا۔۔۔لفظ ادھر اُدھر ہوجائیں تو معذرت۔۔۔۔خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔۔نہ آپ خیال ہو جسے اپنی حالت بدلنے کا۔۔۔۔تو یہ معاملہ ہے۔۔جہاں تک جہالت دور کرنے کی بات ہے تو یہ کسی اسکول کالج سے پڑھنے کے بعد دور ہونے والی نہیں بلکہ یہ نسل در نسل رسم و رواج کی پاسداری کی وجہ ہے۔
        ہمارے گاؤں کا حجام جیسے کمی نائی کہا جاتا ہے۔۔۔سارے سال کا اناج ہمارے گھر سے سیپ کی صورت لے کر جاتا ہے۔۔۔سیپ کا مطلب ہم نے اسے فصل میں سے حصہ دیا۔۔اب اس کی ڈیویٹی ہے کہ سارا سال وہ ہمارے خاندان کے لوگوں کے بال کاٹے گا لیکن عملا آج تک کوئی اس کے پاس ہیئر کٹ بنوانے نہیں گیا لیکن اسے اُس کا حصہ مل رہا ہے۔۔۔۔اسی طرح اور بہت سے بلکہ بے شمار لوگ ہیں۔۔۔اب آپ بتائیں بلکہ مشورہ دیں کہ ان کی اور کیسے ہم خدمت کریں۔۔۔اس موضوع پر لکھنا چاہیں تو پلیزز اپنے بلاگ پر لکھیے گا۔۔۔میں حجاب کے بلاگ پر کسی قسم کی بد نظمی نہیں ہونے دینا چاہتی۔۔امید ہے آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔

      • ABDULLAH Said:

        بہن جی مختصرا یہ کہ کہ یہ جو نسل در نسل والی جہالت ہے اسے تعلیم ہی دور کرسکتی ہے،تو کتنے اسکول کالج کھلوادیئے آپ نے اپنے گاؤں میں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
        اور خدا بنے جاگیردار اپنے قول اور فعل سے بھی اس جہالت کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اگر کرنا چاہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. امن بٹیا یہ آپ نے اپنا بلاگ پرائیویٹ کیوں کر رکھا ہے؟ ایک عدد پبلک بلاگ بھی تو رکھیں ناں۔

    • امن ایمان Said:

      سعود بھائی مجھے لگتا ہے کہ میں لکھنے کے قابل نہیں رہی۔۔۔۔اس لیے بلاگنگ چھوڑ دی۔

  6. آپ گاؤں میں رہ کر بھی کچھ ایسا ویسا ہی کرینگی ۔ ذیادہ سے ذیادہ تھوڑی سی اپیئرنس اور بول چال کرنے والے چہرے بدل جائنگے ۔ بات وہیں کی وہیں، گاؤں کا کچا مکان یا شہر میں دو مرلے کا گھر ۔ شہر کا ولا یا گاؤں کی حویلی ۔ شیطان اور فرشتہ، ہیاں بھی اور ویاں بھی ۔
    یہاں کیبل وہاں سیٹیلائٹ، ہیاں بھی ویاں اور ویاں بھی ہیاں ۔

  7. عثمان Said:

    اے لو
    امن جی نے تو سارے منصوبے پر چاٹی کی لسی پھیر دی۔ 😦 😦

    • امن ایمان Said:

      🙂 🙂 عثمان آپ بےفکر رہیں۔۔۔حجاب قدرتی مناظر کی دلدادہ ہیں۔۔۔اس لیے وہ کسی کی باتوں میں آنے والی نہیں۔۔۔ایک بار تو ضرور ہی اس گاؤں جائیں گی۔

  8. گاؤں کا تذکرہ جو کیا تُونے ہمنشیں
    اِک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاۓ ہاۓ

  9. بس بھائی بس حوصلہ کریں… پنڈ کی لائف کوئی ایزی نہیں ہوتی چار دیں میں چارم ختم اور سیاپے سٹارٹ

  10. شگفتہ Said:

    السلام علیکم ، حجاب یہ دلچسپ خیال کیسے آگیا 🙂 ؟ میں دعا کروں گی کہ آپ کو گاؤں کی زندگی دیکھنے کا موقع ضرور ملے بلکہ اگر ایک فیصد بھی چانس ہو کسی گاؤں میں جانے کا تو ضرور جائیں ، خوش قسمتی سے مجھے گاؤں میں جانے اور وہاں پر طرز زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور وہاں پر زندگی کی سادگی اور مشکلات دونوں سے شناسائی اور آگاہی ہوئی ۔ آپ نے اپنے تصور میں جو سارے کام کیے ہیں ان میں سے چند ایک چیزیں چھوڑ کر باقی سب مشاہدہ اور تجربہ کرنے کا موقع ملا اور یہ سب بہت اچھا لگا ، آپ بھی ضرور جانا ، آپ کو بھی یقینا اچھا لگے گا لیکن ایک بات کا ضرور خیال رکھنا ہے اگر گاؤں کی زندگی کو صحیح معنوں میں جاننا اور لطف اندوز ہونا چاہیں تو پھر وہاں ایسی کسی سہولت کو استعمال کرنا یا دیکھنا بلکہ سوچنا بھی نہیں ہے جو شہر میں حاصل ہو یا شہری زندگی میں شامل ہو ورنہ اصل لطف نہیں ملے شاید ۔

    مٹی کے برتن اصل میں بنتے دیکھے ہیں میں اور اتنا اچھا لگا وہ سب ۔ مجھے ابھی تک یاد ہے سب کہ وہ کمہار انکل جو تھے اتنی مہارت سے کیسے بنا رہے تھے یہ چیز مسحور کر دینے والی تھی میں کتنی کتنی دیر تک کھڑی ہو کے دیکھتی رہ

  11. شگفتہ Said:

    چاٹی درست لکھا ہے ، البتہ تصیح کی درست املا "تصحیح” ہے ۔

    چاٹی میں بننے والی لسی کی کیا ہی بات ہے آپ چاٹی میں جتنی بھی لسی بنانا اس کا ایک بڑا حصہ مجھے ضرور بھیجنا ہے یاد رہے 🙂

  12. md Said:

    آپ کا بلاگ پڑھ کر مجھے مسرت نذیر کے سارے لوک گیت یاد آگئے – بہت شکریہ

  13. آپ نے نیٹ پر گاﺅں کا نظارہ کرادیا ہے۔ اس نظم کو بھی شامل بلاگ کر لیں۔

    چولہے میں انگارہ دیکھا
    جگنو کا چمکارا دیکھا
    چندا دیکھا تارہ دیکھا
    سورج ہر دن نیارا دیکھا

    بھُنتی تازہ چھلیاں دیکھیں
    بھُٹے دیکھے پھلیاں دیکھیں
    کھیتوں میں گیہوں کی بالیں
    سرسوں کا لشکارا دیکھا

    کچھ مصری کی ڈلیاں دیکھیں
    کچی پکی گلیاں دیکھیں
    اُپلوں کی میناکاری یا
    دیواروں پر گارا دیکھا

    صرف دوات قلم اور تختی؟
    مدرسے کی دیکھی سختی
    بچوں کا مرغا بننا اور
    اُستادوں کا پارہ دیکھا

    خر کو دیکھا خرمستی میں
    اونٹ کا غمزہ بھی بستی میں
    مرغی کا دانہ چُگنا اور
    بھینس کے آگے چارہ دیکھا

    کُٹنی دیکھی، دیکھا للا
    دونوں کو پایا ہم پلہ
    طاقتور ہر جا ہے ظالم
    ناطاقت بیچارہ دیکھا

    مٹی کی خوشبو پہچانی
    چڑیوں کی بولی بھی جانی
    سُن لی کہانی ہم نے دیئے کی
    برکھا رُت کا اشارہ دیکھا

    پیڑ پہ جھولا اور ہمجولی
    بیری اور لڑکوں کی ٹولی
    مستی بیباکی بےتابی
    کم عمری کا یارا دیکھا

    کچھ ہاتھوں کے فن بھی دیکھے
    مٹی کے برتن بھی دیکھے
    کھڈّی پر مصروف جُولاہا
    اور ترکھان کا آرا دیکھا

    شام سحر سے بڑھ کر دیکھی
    دیواروں پر چڑھ کر دیکھی
    دور شہر سے جا کر ہم نے
    قدرت کا فن پارہ دیکھا

    چوہے کا بِل، بھڑ کا چھتا
    برگد اور پیپل کا پتا
    دیکھی بطخ جوہڑ میں شاداں
    کُتوں کو آوارہ دیکھا

    کشتی، کبڈی، گلی ڈنڈا
    میلے میں ست رنگا جھنڈا
    گاﺅں کے سب ہیرو دیکھے
    بھولو دیکھا جھارا دیکھا

    کھیت میں چلتا ہل بھی دیکھا
    پیڑوں پر کچھ پھل بھی دیکھا
    سچ مُچ خالص دودھ اور مکھن
    دیکھا اور دوبارہ دیکھا

    بات بھی دیکھی کاج بھی دیکھا
    کانے کا واں راج بھی دیکھا
    سچوں کی ایفا تو دیکھی
    جھوٹوں کا بھی لارا دیکھا

    تیل کی چکی مارے سیٹی
    بیلوں کی ہو رہٹ پر پی ٹی
    مشکیزے کا ٹھنڈا پانی
    اور دریا کا دھارا دیکھا

    چلمن دیکھی اور چلم بھی
    گُڑ، اُپلے، حقے کا دم بھی
    نار مچلتی ہر دو صورت
    اور حیراں بنجارہ دیکھا

    گھوڑا دیکھا اک لکڑی کا
    جالا موٹی سی مکڑی کی
    کیا بتلائیں کیا کیا دیکھا
    ہم نے گاﺅں سارا دیکھا

  14. zafriusa Said:

    ہم تو اتنا کہتے ہیں کہ
    گاؤں میں آکے شہر بسے
    گاؤں بیچارے جائیں کدھر</p

  15. hijabeshab Said:

    عثمان اپنے خرچے پر 😛

    سعود بھیّا مجھے پتہ ہے گاؤں کی زندگی اتنی حسین نہیں ہوتی مگر کچھ دن گزارنے میں حرج نہیں 🙂

    عمران ، میں کب جا رہی ہوں 😦

    امن کُھلی آنکھوں سے سپنے تو دیکھنے دو ڈرا رہی ہو ۔۔۔ میرا گاؤں یہی ہے سپنوں والا 🙂

    جاہل اور سنکی کیا ایسا ویسا کروں گی میں 😕 روشنی ڈالیں ایسا اور ویسا پر 😛

    نعیم اکرم ملک بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ میں بھی تو 4 دن کے لیئے جانا چاہتی ہوں سیاپے سے پہلے لوٹ آؤں گی 🙂

    وعلیکُم السّلام شگفتہ ۔۔ بس کیا بتاؤں مٹی کے برتن بنانے کی خواہش جاگ گئی اچانک 🙂 آپ نے برتن بنتے دیکھے تو بنا بھی لیتیں کچھ برتن ۔۔۔

    شکریہ ایم ڈی ۔۔۔

    فرحان دانش ، بہت ہی خوبصورت نظم لکھی آپ نے موقع کے مناسبت سے بہت شکریہ ۔۔ اس کے شاعر کون ہیں ؟؟

    ظفری آپ کا فلسفہ سر پر سے گزر گیا ۔۔۔۔۔۔

  16. zafriusa Said:

    مجھے بھی یہی امید تھی ۔۔۔۔ کبھی فرصت سے سمجھاؤں گا ۔ ہوسکتا ہے کوئی دوست اس کی تشریح کردے ۔

  17. hijabeshab Said:

    نہیںںںںںںںںںںںںںںںںں مجھے فلسفہ نہیں سمجھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھ گئی ہوں ۔۔

  18. zafriusa Said:

    میرا خیال سے آپ فرصت سے سمجھانے پر ڈر گئیں ہیں ۔ میں‌کچھ زیادہ وقت بھی نہیں‌لیتا ۔۔۔ یہی کوئی چار پانچ گھنٹے ۔۔۔ خیر اب آپ سمجھ گئیں‌ ہیں تو پھر ٹھیک ہے ۔

  19. الفاظ کی سیلیکشن میں چوک ہوگئی ہے اور ایکپلینیشن کہیں اور ہی نہ گر بڑ کر دے ۔ ہرٹ کرنے کا ہرگز مقصد نہیں تھا جی اور غلطی سمجھ کر معاف کر دیجئیگا ۔ ایک دفعہ پھر سے سوری ۔

  20. hijabeshab Said:

    جاہل اور سنکی ۔۔ ہرٹ کب ہوئی ہوں ؟؟؟؟؟؟ ارے بتائیں جو پوچھا ہے میں نے سوری کی کیا بات تھی اس میں 😕

  21. ہمارے خیال میں تو جی گاؤں کے لوگ ذیادہ بہادر اور بے جھجھک صرف سمجھنے کی حد تک سمجھے جاتے ہیں جبکہ ہوتے شہر کے لوگ بھی کچھ ایسے ویسے ہی ۔ شہر والے جب گاؤں جاتے ہیں تو ایسے ہی مصنوعی سا شہری تاثر دیتے ہیں ۔ اسی طرح جب گاؤں والے شہر آتے ہیں تو وہ بھی ویسے ہی مصنوعی سا پینڈو تاثر دیتے ہیں ۔ بات تو اپنی اپنی سمجھ کی ہے ۔ ہمارے حساب سے تو جی کوئی بھی فرق نہیں ہے ۔

  22. بہت خوب۔ بہت مزہ آیا پڑھ کر۔ ضرور اپنا شوق پورا کیجئیے گا۔ ہمارا بھی کافی عرصے سے دیہی زندگی پر لکھنے کا ارادہ ہے۔

  23. sarah Said:

    واوو خوبصورت تحریر بہت اچھے انداز میں لکھی ہے ۔۔۔ 🙂

    کھیتوں میں کھانا کھاتے ہوئے اگر سانپ وانپ نکل آئے تو لگ پتا جائے بیٹا تم کو ۔۔ 😛 سارے خواب ہوا ہو جائیں ۔۔ 😛

  24. امن ایمان Said:

    امن کُھلی آنکھوں سے سپنے تو دیکھنے دو ڈرا رہی ہو ۔۔۔ میرا گاؤں یہی ہے سپنوں والا 🙂

    حجاب۔۔۔<<<< دیکھیں دیکھیں۔۔۔جی ضرور دیکھیں۔۔۔سپنوں والا گاؤں واقعی حسین لگتا ہے۔۔۔کچھ دن تو ٹھہر میری آنکھوں میں۔۔۔پھر خواب اگر ہوجاؤ تو کیا۔۔۔۔۔۔۔:p

  25. بہت خوب۔
    کیا زبردست لکھا آپ نے واہ جی واہ
    میرا گاوں تو مزید اچھا ھے۔
    بلندوبالا پہاڑ دلنشین درخت۔
    حقیقت میں سیدھے سادے لوگ۔
    آہ گاوں۔۔۔

  26. ABDULLAH Said:

    عثمان میاں میں سوالیہ نشان گن کر نہیں ڈالتا،مگر بہت سارے سوالیہ نشانوں کا مطلب ہوتا ہے کہ اس ایک سوال کے پیچھے بہت سارے سوالات موجود ہیں!!!

  27. Rizwan Said:

    ہمت سے کام لو تو حجاب یہ خواہشیں تو پوری ہوجائیں گی حب یا ٹھٹہ کے کسی بھی فارم ہاؤس پر پورا دن اپنی فیملی کیساتھ گزارو آج کل تو موسم بھی اچھا ہے۔ واپسی پر چکنی مٹی کا بورا بھر کر گھر لے آنا بھانت بھانت کے برتن بناتی رہنا۔ اصلی والے گاؤں کو چھوڑ ہی دو بہت مایوسی ہوگی۔ کچھ چیزیں فلموں میں اچھی لگتی ہیں انہیں اچھا ہی رہنے دو۔

  28. hijabeshab Said:

    جاہل اور سنکی آپ نے اپنا نِک غلط رکھ لیا وجہ ؟؟ ویسے خاصے سمجھدار ہیں آپ ۔۔

    شکریہ عادل بھیّا ۔۔۔

    شکریہ سارہ ۔۔ سانپ نہ نکلے وانپ کو میں دیکھ لوں گی 😛

    شکریہ یاسر خواہ مخواہ جاپانی ۔۔

    بہت شکریہ رضوان ، آپ کا مشورہ اچھا ہے ڈرایا نہیں آپ نے 🙂

  29. Fahim Said:

    گاؤں کی زندگی مشکل ہے یا سپنو جیسی اس سے مجھے غرض نہیں۔
    لیکن لکھی گئی تحریر بہت کمال ہے۔

    ویسے گاؤں میں جہاں تک میرا خیال ہے وہ لحمہ بڑا پر لطف ہوتا ہوگا۔ جب گرمی کے دن ہوں اور آپ چارپائی ڈالے کسی باغ نما جگہ پر درخت ٹھنڈی چاہوں میں بیٹھے ہوں۔
    ساتھ ہی ٹھنڈی لسی کا مٹکا پڑا ہو۔
    اور تھوڑے فاصلے پر کوئی نہر گزر رہی ہو۔
    اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آپ کے گالوں اور بالوں کو سہلارہے ہوں اور آپ نیم مدہوشی کی سی کیفیت میں لسی کے ہلکے ہلکے گھونٹ لیتے ہوئے اس ماحول سے لطف اندوز ہورہے ہوں۔
    اور،،،،،،،،،،، اور کیا کہیں۔

    اور ابھی زیرِ غور ہے۔

    • hijabeshab Said:

      بلاگ پر خوش آمدید فہیم تم نے بھی اچھی منظر کشی کی ہے بس لسّی زیادہ نہ پینا جب بھی ایسا موقع آئے 😛

  30. آپکی مہربانی کہ سمجھدار سمجھا وگرنہ بطور جاہل ہم کسی کی مانتے نہیں اور بطور سنکی اپنی بات منوانے کیلئے زبردستی کرتے نہیں ۔ کوشش بس یہی ہوتی کے ایروگنس اور جیلیسی کا اظہار نہ ہونے پائے ۔ الفاظ کی سیلیکشن میں بہرحال گڑبڑ پھر بھی ہو ہی جایا کرتی ہے جس کیلئے معذرت بھی فورا کرلیتے ہیں جی ۔

  31. توبہ توبہ یہ پوسٹ تو لگتا ہے سپر ہٹ ہو گئ ہے اتنے تبصرے۔ میلہ لوٹ لیا تم نے لڑکی 🙂

    اب میں سمجھا میرے بلاگ پر تبصرے کیوں نہیں ہو رہے ، سارے تو ادھر مصروف ہیں

    چیختے ہوتے شوخ رنگ کے کپڑے پہننا ضروری نہیں کچھ گاؤں کی مٹیاریں ہلکے رنگ بھی پہنتی ہیں۔
    صبح سویرے سیر گاؤں میں خوبصورت ہی ہوتی کیونکہ آلودگی کم ہوتی ہے اور شور کی کمی کی وجہ سے بھی اور اگر مزید کھیتوں یا فصلوں کے پاس ہو یا نظر آ رہی ہوں تو مزید دلکش ہو سکتی ہے۔ چارہ ڈالنا ذرا تمہارے لیے دل جگرے کا کام ہو گا مگر ایک آدھ دفعہ تو ہو سکتا ہے۔ چاندی کے نہیں پیتل کے ویسے اب تو گاؤں میں بھی چائے کا بہت رواج ہو گیا مگر لسی پھر بھی مل جاتی ہے البتہ پیتل کے گلاس کے لیے لسی سے زیادہ تردد ہوگا۔

    مکھن کے پیڑے کے ساتھ مکئی کی روٹی میرے خیال سے یہ تمام تبصرہ نگار مل کر بھی نہیں کھا سکتے تمہاری تو بات ہی کیا

    مٹکا عموما پیتل کا نہیں مٹی کا ہوتا ہے اور اس میں سے پانی پینے کا لطف ہی اور ہے اگر مل جائے۔ پانی بھر کر لانے کی سہولت تو اب شہر میں بھی کافی پائی جاتی ہے گاؤں جانے کی اس میں کیا ضرورت ہے۔ تازہ سبزیاں توڑ کر لانے کی خواہش خوبصورت ہے البتہ اور ممکن بھی اگر فصل پک گئی ہو اور رکھوالی پر کوئی بیٹھا نہ ہو۔
    مٹی کی ہانڈی میں کھانا بہت لذیذ بنتا ہے اور ہانڈی میں یہ کھانا کئی ہوٹلوں میں پیش بھی کیا جاتا ہے ویسے لکڑی کے چولہے پر کھانا بنانا واقعی مشکل امر ہے اور پھونکیں مارنی پڑیں تو پھر تو واقعی حشر ہو جاتا ہے ویسے تنور پر روٹیاں لگانے کا لطف اور ہے اور کھانے کا تو بالکل ہی اور ہے۔
    کھانے کی چنگیر سر پر اور ہاتھ میں مٹکی یا مٹکا پہلو میں لے کر چلنا ایک آرٹ ہے جو صرف خواب دیکھنے سے ہرگز نہیں آ سکتا ، اس میں تو تم قطعا توازن نہیں رکھ سکو گی ، گرتی پڑتی ہی پہنچو گی کھیت تک اور راستے میں کسی نے چنگیز اور لسی دونوں چٹ کر جانے ہیں ۔

    کھیت میں گھومنا اور تصویریں بنانے کا خیال اچھا ہے اور ٹیوب ویل والا شوق بھی آسانی سے پورا ہو سکتا ہے ، مجھے بھی بچپن میں ٹیوب ویل کا خیال بہت خوابناک سا لگتا تھا اور بڑی خوش کن یادیں وابستہ ہیں۔ جھولے جھولنے کا کام اگر صحن کشادہ ہو اس میں ہو سکتا ہے یا کسی باغ میں ۔
    ویسے شہری لڑکیوں کو بھی گاؤں کے سجیلے اور گبروں پسند آ جاتے ہیں ( حوالہ فلم لندن نمستے اور بہت سی ) اس لیے اختتامیہ تم نے احتیاط پسندانہ سا کر دیا ۔

    ظفری کے کہنے کا مطلب تھا کہ گاؤں میں اگر شہر کی سہولتیں آ جائیں تو بیچارے گاؤں اپنی فطری حالت کو کیسے برقرار رکھیں کہاں جائیں۔ میری ذاتی رائے میں اگر چند دن گاؤں میں گزار لیے جائیں حقیقت پسند بن کر تو اچھے گزریں گے اور میں تو جب بھی دو تین دن کے لیے گاؤں گیا مجھے تو اچھا ہی لگا۔

  32. hijabeshab Said:

    بہت شکریہ محب 🙂 آپ کے مشورے میں نے پلّو سے باندھ لیئے ہیں ۔۔ بس گاؤں جاتے وقت یہی ڈوپٹہ اوڑھنا یاد رہے ورنہ گڑ بڑ ہو سکتی ہے 😛

  33. […] خواہشیں ایسی کہ ۔۔۔۔۔ October 201039 comments […]


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: