خوبصورت فرار

کبھی کبھی جب کے ۔ ای ۔ ایس ۔ سی والے ظلم کی انتہا کردیتے ہیں تو پہلے تو غصّہ ہی آتا ہے پھر یہ سوچ کر کہ غصّہ کرکے اپنا ہی نقصان ہونا ہے تو غصّے سے فرار کے طریقے سوچنے پڑتے ہیں ۔۔ آج بھی یہی ہوا ۔۔ صبح 6 بجے لائٹ چلی گئی پھر ظاہر ہے جل بُھن کر نیند کہاں آتی ۔۔ ڈیڑھ گھنٹہ بعد لائٹ کی تشریف آوری ہوئی آدھا گھنٹہ بعد پھر غائب 😦 پھر 10 بجے لائٹ آئی پھر نیند کیا سونا ۔۔ سوچا کہ صبح صبح جو خواری ہوئی اُس کو دور کرنے کے لیئے کہیں جانا چاہیئے ۔۔ خالہ کے ہاں فون کیا کہ ہم آرہے ہیں ہماری خاطر کی تیاری کرلو ۔۔۔ وہاں پہنچے تو لائٹ غائب 😦 خیر باتوں میں پتہ نہیں چلا اور لائٹ صاحبہ آتی جاتی رہیں مگر کوفت کا احساس نہیں ہوا ۔۔ رات 8 بجے گھر آئے لائٹ غائب ۔۔ پھر وہی بے زاری طاری ہونے لگی تو چائے بنائی اور کرسی لے کر صحن میں بیٹھ کر چاند کو تکنا شروع کردیا ۔۔ شروع راتوں کا زرد چاند بادل سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا ۔۔ بادام کے پتّوں سے چھن چھن کر آتی ٹھنڈی نرم چاندنی ۔۔۔ رات کی رانی کی بھینی بھینی خوشبو ۔۔ ہلکی ہوا سے سرسراتے پتّوں کی آواز نے کچھ دیر تو سب کچھ بُھلا دیا ۔۔۔ اچانک کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آئی ۔۔ میں نے دیکھا پانی کی ٹنکی پر ایک بڑا سا صحت مند ٹڈا کبھی اپنے پر کھولتا کبھی بند کرتا جیسے اُڑنے کی تیاری میں ہو ۔۔ بس جی پھر کہاں کی چاندنی اور کہاں رومانوی فِضا ۔۔ اس سے پہلے کہ وہ آُڑ کر مجھ پر لینڈ کرتا میں نے چاند کے ساتھ اپنی خوبصورت نشست برخاست کردی 🙂

16 تبصرے »

  1. عثمان Said:

    وہ ٹڈا حجاب شب کو شب بخیر کہنے آٰیا تھا۔ 🙂
    ویسے اس ٹڈے نے انسانوں کا کوئی پیغام تو نہیں دیا ؟🙂

  2. عثمان Said:

    تحریر خوب ہے ویسے🙂
    اب اس سے پہلے کہ حاجی صاحبان وارد ہوں۔ میں نکل چلوں یہاں سے😦

  3. بجلی کی انکھ مچلوئی میں کم از کم یہ ہوا کہ ایک تو آپ کو جانے کا موقع مل گیا دوسرا چاند کی چاندنی کا منظر سے لطفاندوز ہونا ۔ یہ بھی کمال بجلی کا ہی ہے اگر وہ نا جانتی تو یہ کیسے دیکھ پاتی یہ منظر ۔۔ اب برا ہوا ٹڈے کا جو کہیں سے آ گیا۔۔۔ ورنہ ہو سکتا ہے ۔ آپ کو روزہ رکھنے کا بھی موقع مل جاتا ۔۔۔ اور ثواب کا ثواب ۔۔۔۔۔

  4. میں نے اس سے پہلے بھی نوٹ کیا ہے کہ آپ کا انداز تحریر کمال کا ہے۔

    کمال اس میں یہ ہے کہ ایک انتہائی سادہ سی بات، روز مرہ زندگی کی بریڈ میں سے کوئی ایسی سلائس جو بالکل غیر معمولی نہ ہو اس کو اس مسحور کن سادگی سے الفاظ کا جامہ پہنانا کہ پڑھنے والے کے دل کو چھو کر ہوا کے ایک لطیف جھونکے کی طرح بیان کردہ لمحات کی روداد گزر جائے۔۔۔

    یہ ملکہ ہر لکھنے والے کو نہیں حاصل۔ مشکل، ثقیل معاملات پر لکھی تحریریں بھی بسا اوقات قاری کی دل پذیری کا وہ سامان پیدا نہیں کر پاتیں جو ایسی ایک عام بات کر جاتی ہے جو ایک خاص پیرائے میں کہی گئی ہو۔

    اگر آپ افسانہ نگار بننا چاہتیں تو بہت کامیاب رہتیں۔

  5. md Said:

    آپ یقیں کریں میں بہت ھنسا ھوں آپکے اُس وقت کے خوف کی کیفیت کو محسوس کر کے – رہی بات چاند کی تو وہ میں نے بھی دیکھا تھا وہ معرب کی جانب تقریبا” 40 کی ڈگری پر واقع تھا لیکن وہ مجھے اتنا متاثر نہ کر سکا جتناکہ آپکو کیا – اب بات بجلی کی -ہمارے یہاں بھی پوری رات لائٹ نہی تھی – یو ۔ پی ۔ ایس نے بھی تھک کر جواب دے دیا – ہمارے رہنماؤں نے بجلی کے اس درد سے پاکستانی عوام کو دردمشترک کی ایک لڑی میں پرو دیا ھے – اسلئے پاکستانی رہناؤں کا – بہت شُکریہ

  6. جعفر Said:

    ناں جی یہ کے ای ایس سی کا غصہ خالہ پر کیوں نکالا؟

  7. جمیل Said:

    بہت خوب اور رومان بھری تحریر کہ انسان پڑھے تو پڑھتا ہی جائے۔
    اور بھلا ہو اس ٹڈے کا جس کی وجہ سے آپ کی نشست برخاست ہوئی
    ورنہ شاید اس رومانوی ماحول سے کچھ اور لطف اندوز ہونے کا موقع مل جاتا اور ہمیں مزید کچھ پڑھنے کو مل جاتا:)

  8. hijabeshab Said:

    شکریہ عثمان ، اور اُس ٹڈے نے انسانوں کا پیغام نہیں ۔۔ انسانوں کو پیغام دیا کہ مجھ ننھے سے کیڑے کو مت مارا کریں 🙂

    تانیہ رحمان ۔۔ اگر لائٹ نہ بھی جائے اور چاندنی راتیں ہوں تو میں لائٹ آف کر کے چاندنی انجوائے کرتی ہوں🙂

    شکریہ احمد عرفان شفقت ۔۔ آپ نے تو بہت تعریف کردی اتنا اچھا بھی نہیں لکھتی میں اور رہی سادگی تو جیسی میں ہوں ویسی سادہ تحریر ہوتی ہے اور سادگی آج کل دنیا پسند نہیں کرتی مگر آپ کا حُسنِ نظر ہے کہ آپ سب کو تحریر پسند آتی ہے شکریہ

    md مجھے بھی ٹڈے کو دیکھ کر جو ہوش آیا تھا تو بہت ہنسی آئی تھی ۔۔ اور یہ چاند 40 کی ڈگری پر کیسے ہوتا ہے سمجھ نہیں آیا کیونکہ میں نے حساب اور جیومیٹری ہمیشہ رٹّا لگا کر پاس کیا ہے 😳

    بہت خوب جعفر 🙂 آپ تو بات کی اُس تہہ تک جا پہنچے جو میں نے سوچی تھی 😳

    شکریہ جمیل ۔۔

  9. ویسے اگر اپ کو صبح سویرے پانچ بجے اٹھنے کی عادت ہوتی تو اپ کے آدھے مسائل تو ویسے ہی حل ہو جاتے۔۔
    اور رات کی رانی پہ سانپ اتے ہیں شکر کریں کہ ٹڈے نے بروقت آ کر اپ کی جان بچائی
    اور اگر خالہ کے ساتھ رہ کر باوجود لوڈ شیڈنگ کے آپ کو بیزاری نہیں ہوئی تو رات واپسی پہ خالہ کو ساتھ لے آتیں کہ آٹھ بجے بھی بیماری نہ ہوتی

  10. بیماری نہیں بیزاری۔۔۔

  11. خواری کو مزے کی کہانی بنانا تو کوئی آپ سے سیکھے ۔
    گذشتہ عید مبارک آپکو بھی ۔

  12. جمیل Said:

    مجھے یہ بتادیں کہ آپ کے بلاگ پر سمائلی کیسے لگیں گی کمنٹ کرتے وقت؟

  13. hijabeshab Said:

    بلا امتیاز ، میرے گھر میں رات کی رانی اور پان کے بے شمار پودے ہیں ، سُنا تھا میں نے بھی کہ پان پر سانپ آتے ہیں مگر ایسا کبھی ہوا نہیں رات کی رانی کا پودا میرے کمرے کی کھڑکی کے سامنے ہے میں نے تو کبھی نہیں دیکھے سانپ ۔۔

    جاہل اور سنکی آپ کو بھی عید مبارک ۔۔

    جمیل ، میرے بلاگ پر اسمائیلی آپ ایم ایس این والے کاپی کرکے پیسٹ کردیں یعنی اُن کا نشان لکھ دیں تو اسمائیلی آجائیں گے ۔

  14. sarah Said:

    حجاب یہ تم اپنے اتنے پودوں پتوں پھولوں کا ذکر تو نہ کیا کرو اتنا ۔ مجھے جیلیسی ہوتی ہے ۔۔:battingeyelashes:😛

  15. aamaneman Said:

    زبردست شب۔۔۔۔۔۔آپ کی اچھی پوسٹس پڑھ کے اکثر خیال آتا ہے کہ اگر آپ اپنا بلاگ نہ بناتیں تو یہ آپ کی خود سے کی گءی زدیاتی ہوتی۔۔۔ہیں نااااااا؟؟؟

    ہممم اسی لیے مجھے دوپہر دو بجے آنے کا کہہ کر خود محترمہ غاءب ہوگءی تھیں۔۔۔۔بجلی کی صورت حال اب بھی ویسی ہے یا کچھ بہتری کے اثار ہیں۔۔۔؟؟؟ پنجاب میں تو اللہ کا شکر ہے ابھی واپڈا والوں کو سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے🙂

  16. […] خوبصورت فرار September 201015 comments and 2 Likes on WordPress.com 5 […]


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: