انتظارِ موچی ……

کراچی کے ہنگاموں کا اثر بڑے بڑے اداروں پر تو ہوتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ چھوٹے اور بہت چھوٹے پیمانے پر کام کر کے محنت مزدوری کرنے والے لوگوں پر زیادہ ہوتا ہے ۔۔ کراچی میں سخت قسم کی محنت مزدوری کرنے والوں میں پٹھان یا بلوچی لوگ ہی ہر جگہ نظر آتے ہیں کبھی کسی مہاجر کو میں نے تو نہیں دیکھا کہ وہ کسی جگہ کھدائی کر رہا ہو یا موچی ہو شائد سخت محنت کے عادی نہیں ہوتے مہاجر ۔۔ جب بھی ہنگامے ہوتے ہیں ہمارے علاقے کے موچی غائب 🙄 اور جب کچھ حالات ٹھیک ہوں اور واپسی ہو مسٹر موچی کی تو پھر ہنگامے ۔۔۔۔ پھر غائب ۔۔
مجھے ان دِنوں مسٹرموچی کا شدّت سے انتظار ہے ایک چپل جو مجھے بہت پسند ہے وہ ٹوٹ گئی اُس کی مرمت تو میں نے خود کر لی مگر ایک نئی سینڈل مسٹر موچی کے انتظار میں ہے کہ کب اُن کی واپسی ہو اور وہ اپنے ہنر مند ہاتھوں سے میری چپل کے حُسن میں اضافہ کریں اور میں پہن سکوں ۔۔۔۔۔۔۔

28 تبصرے »

  1. Usman Said:

    آپ خود بھی اتنی ہی معصوم ہیں یا یہ میرا الٹی کھوپڑی ہے جسے آپ کی تحریریں معصوم لگتی ہیں؟😦
    ویسے آپ کی مختصر اور سادہ تحاریر کمال کی ہیں۔🙂

  2. بی بی!

    آپ نے نہائت سادگی سے بہت گہری بات کی ہے۔

  3. قابل مرمت جوتے بھی سنبھال کر رکھئے۔
    سیاستدان نہ سہی کسی محلے دار کی مرمت کیلئے ہی استعمال کئےجاسکتے ہیں۔
    خواتین کا بہترین ہتھیار قابل مرمت جوتا۔

  4. بی بی ۔ يہ چھوٹے چھوٹے نظر آنے والے لوگ بڑے عظيم ہوتے ہيں ۔ ميں نے انہيں ہميشہ قدر کی نگاہ سے ديکھا ہے ۔ دس سال پرانی بات ہے ايک بار ميں نے اپنا جوتا مرمت کرانے کے بعد سوچا کہ کم از کم 20 روپے تو اُجرت ہو گی اور 20 روپے موچی کو دے کر انتظار ميں تھا کہ اور مانگے تو دے دوں مگر اس نے 17 روپے واپس کر ديئے ۔ ميں نے کہا “رکھ ليں”۔ تو بولا “نئيں صاب ۔ اتنا ہی بنتا ہے”۔ اور نہ لئے ۔ ميں نے دل ميں کسک سی محسوس کی ۔ کچھ دن بعد گھر ميں پڑا چمڑا مل گيا جو کسی کام کيلئے لايا تھا مگر استعمال نہيں کيا تھا ۔ ميں بوٹ لے کر گيا اور کہا ” ان کو تلے لگا ديں”۔

  5. بدتمیز Said:

    چکن کے قیمے کی شامی کباب بنانے کا طریقہ تفصیل سے بیان کریں۔

  6. بہت خوبصورت انداز تحریر ہے۔

  7. @بدتمیز! خیر تو ہے نا؟ آج کل کھانا پکانے پر زیادہ زور ہے😛

  8. بندہ پڑھے لکھے گا نہیں تو جی موچی یا کھوتے گاڑی کا کام کرئے گا اور اُس نے کیا کرنا ،،،،

  9. hijabeshab Said:

    عثمان ، میرا اُلٹی کھوپڑی نہیں 😛 میری اُلٹی کھوپڑی ۔۔ کھوپڑی کو مزید تو مت گھمائیں نا 😛
    اور میں معصوم ہوں یا نہیں یہ تو مجھے جاننے والے بہتر بتا سکتے ہیں ۔۔اور اگر آپ کو معصوم لگتی ہوں تو اس میں کھوپڑی کے اُلٹے ہونے کی کیا بات بھلا ۔۔ تسلیم کرلیں مجھے معصوم 🙂 تحریریں پسند کرنے کا شکریہ جناب ۔۔

    جاوید گوندل صاحب بلاگ پر خوش آمدید اور شکریہ ۔۔

    یاسر خواہ مخواہ جاپانی ۔۔ میں جوتے سے بہتر ہاتھ کا استعال کر سکتی ہوں ، مگر ایسا موقع کبھی آیا نہیں ۔۔

    اجمل انکل آپ کی بات پر مجھے بھی یاد آیا ایک بار کالج سے واپسی پر میرا جوتا ٹوٹ گیا ، بس اسٹاپ کے پاس ایک موچی نظر آیا میں نے جوتا سلوایا جو صرف ایک ٹانکا لگایا اُس نے ، میں نے پوچھا کتنے پیسے اس نے کہا ایک پیسہ نہیں ۔۔ میں نے پوچھا کیوں ۔۔ وہ چُپ ۔۔ میں نے کہا وجہ تو بتائیں کیوں نہیں لینے پیسے ۔۔ اُس نے کہا ہم پیسے نہیں لیتا ۔۔ 😕 ہوگا کوئی اللہ کا بندہ جو کسی طرح کی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے لوگوں کے بھی کام آ رہا تھا ۔

    بدتمیز ۔۔ چکن بنایا یا نہیں تصویر نہیں پوسٹ کی ؟؟ اوکے لکھ دوں گی جلد ۔۔

    شکریہ احمد عرفان شفقت ۔۔

    اے کے ملک ، بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ اور اگر سب لوگ پڑھ لکھ کہ ” افسر بابو ” بن جائیں تو موچی اور اسی طرح کے دوسرے کاموں کے لیئے لوگ کہاں سے آئیں گے ؟؟

  10. ABDULLAH Said:

    اے کے ملک ، بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ اور اگر سب لوگ پڑھ لکھ کہ ” افسر بابو ” بن جائیں تو موچی اور اسی طرح کے دوسرے کاموں کے لیئے لوگ کہاں سے آئیں گے ؟؟

    چچ چچ چچ،
    کسقدرمنفی سوچ ہے!😦

  11. وہ جو بس سٹاپ کے نزدیک آپکو موچی نظر آیا تھا نا جسنے پیسے بھی نہیں لئے۔ ضرور وہ کسی خفیہ ایجنسی کا بندہ ہوگا۔ یہ لوگ ایسے ہی روپ میں ہوتے ہیں۔ ایویں بھلا یہاں کوئی اپنی مزدوری چھوڑتا ہے؟ بلکہ دگنی لیتا ہے۔:P

  12. اچھی بات ہے ، اچھا انداز ہے لیکن

    مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

  13. موچی اگر کم پیسوں میں اچھا کام نہیں کرتا تو ایک دفعہ میں ہی اچھے سے پیسے دیکر اسکے والا کام سیکھ لیں ۔ بس اپنا کیئے ہوئے موچی والے کام کی تعریف کسی موچی سے کروانے کی غلطی نہ کر گزرئیے گا ۔

  14. hijabeshab Said:

    عبداللہ ، بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ میں نے پاکستان کے حوالے سے یہ افسر بابو کی بات لکھی ہے اس لیئے کہ پڑھ لکھ کر کوئی موچی نہیں بنتا پاکستان میں چاہے وہ بھوکا مر جائے ۔۔ آپ کو منفی سوچ پتہ نہیں کس طرح لگی اور اگر لگی بھی تو اپنی اپنی سوچ ہے کیا کریں ۔۔

    عادل بھیّا ٹھیک کہا آپ نے ۔۔

    بلاگ پر خوش آمدید محمد احمد ۔۔ میں نے کسی پر اثر ڈالنا بھی نہیں ہے 🙄

    جاہل اور سنکی ، موچن بننے کے لیئے سیکھنے کی کیا ضرورت ۔۔ تھوڑا بہت کر لیتی ہوں جب ضرورت پڑے 😛

    • ABDULLAH Said:

      آپنے شائد آج سے دس سال پہلے کراچی کے بے روزگار ڈاکٹروں اور انجینیئروں کے چھولے اور سوپ کے ٹھیلے نہیں دیکھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
      موچی نہیں بنےگا تو کیا ہوا امریکا میں بھی تو لوگوں کے جوتے ٹوٹتے ہی ہوں گے جو وہ کرتے ہیں ہم بھی کر لیں گے!!!!!!

  15. جی نہیں ہماری حِجاب ہے معصُوم عُثمان آپ کو کیا پتہ؟؟؟؟
    اور حسبِ معمُول بہترین تحریر لِکھی ہے مزہ آ گیا پڑھ کر،،،

  16. ہماری حجاب کیا مطلب؟ آپکی کیسے؟ :D:P
    اچھی تحریر تھی۔ عثمان نے دُرست فرمایا۔ معصوم سی خوبصورت سی ہلکی پھلکی تحریر ہوتی ہے جنابہ کی۔

  17. عادل بھیا بِالکُل ویسے ہی حِجاب میری بہُت اپنی پے جیسے میں حِجاب کی ہُوں بہُت آسان اور سامنے کی بات ہے،،،،
    کوی شک،،،

  18. عمران Said:

    اچھا لکھا ہے۔ بے شک ان لوگوں کا کام مشکل ہے۔ اردو اسپیکنگ لوگوں میں شائد پڑھائی کا رجحان بہتر ہے۔ لیکن جاہل ان میں بھی پائے جاتے ہیں۔

  19. کچھ لوگ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے حقائق کی بجائے تخيلات ميں رہتے ہيں ۔ اگر موچی کوئی بن گيا تو اس ميں برائی کيا ہے ؟ اگر موچی نہ ہو گا تو جوتے کہاں سے آئيں گے ۔ نائی نہ ہو گا تو بال کون کاٹے گا ۔ درزی نہ ہو گا تو کپڑے کون سيئے گا ۔ ان سب کو بھی چھڑيئے اگر خاکروب نہيں ہو گا تو آپ جناب سب گندگی ميں رہيں گے

  20. ABDULLAH Said:

    بات سنیں محترم میں اس باپ کا بیٹا ہوں جو اعلی افسر ہوتے ہوئے اپنے اور گھر والوں کے جوتے بھی خود ٹھیک کرلیتا تھا اور جھاڑو لے کر اپنے محلے کی گندگی صاف کرنے میں بھی اسے کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا،کہ وہ اسے سنت نبوی سمجھتا تھا،
    مگر آپ یہ بات کہاں سمجھیں گے؟؟؟؟؟؟؟؟

  21. ABDULLAH Said:

    کوئی کچھ بھی پیشہ اختیار کرے مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہےالبتہ تعلیم ہر انسان کا حق ہے اور وہ اسے ملنا ہی چاہیئے،اور پورے پاکستان میں یکساں تعلیم رائج ہونا چاہیئے یہ نہیں کہ افسروں کی اولاد الگ تعلیم حاصل کرے اور غریبوں کی الگ،
    میں خیالوں کی دنیا میں نہیں رہتا بلکہ بہتر یہ ہوگاکہ آپ جیسے لوگوں کو اب اپنے خیالات سے باہر آجانا چاہیئے!

  22. hijabeshab Said:

    اجمل انکل میں تو خود کو عقلِ کُل نہیں سمجھتی 😕 عبداللہ نے منفی سوچ کی بات کی تو وضاحت کی تھی اور اے کے ملک کی بات پر لکھا جو مجھے سمجھ آیا ۔۔

    شاہدہ آپی اچھا جواب دیا آپ نے 🙂

    بلاگ پر خوش آمدید عمران اور شکریہ ۔۔

    عبداللہ مجھے پتہ ہے بےروزگار پڑھے لکھے لوگوں کے ٹھیلے کا ۔۔ اور امریکہ کا ذکر کہاں سے آیا 😕 اور اجمل انکل نے آپ کو تو کچھ نہیں لکھا اُنہوں نے میری بات پر لکھا ہے ۔۔ اور لکھ کر خیالات سے باہر لانے کی بجائے عمل کروائیں پاکستان میں تو بات بنے ۔۔ اور اس کے علاوہ جو کچھ آپ نے لکھا وہ موضوع سے تعلق تو رکھتا ہے مگر بلاوجہ ہے اس لیئے اُن باتوں کا جواب دینا بحث در بحث ہوگی اور میں بحث نہیں کرنا چاہتی ۔۔

  23. ABDULLAH Said:

    جی ہم تو کام کرہی رہے ہیں،
    بی بی اپ بھی اپنے سیاست دانوں کو کہیں نا کہ وہ بھی اپنے ووٹروں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیئے کوششیں کریں!!!!!!
    امریکا کا ذکر یوں آیا کہ جب ہم بھی تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہوجائیں گے تو اس مسئلے کا حل بھی ویسے ہی ڈھونڈ لیں گے جیسے انہوں نے ڈھونڈا!!!
    افتخار اجمل نے یہ طنز کسی پر بھی فرمایا ہو،
    آپ نے یہ تو مان لیا نا کہ جواب غلط نہیں تھا!🙂

  24. hijabeshab Said:

    عبداللہ ، سیاست سے یا سیاست دان سے میرا کوئی واسطہ نہیں نہ ہی میں ووٹ دیتی ہوں کسی کو ، سیاست دان آپ کے ہیں آپ کہیں ۔۔ اور میں نے آپ کی بات جو بھی آپ نے لکھی اُن باتوں کا لکھنا بلاوجہ تھا جواب صحیح تھا یا غلط یہ تو میں نے لکھا ہی نہیں ۔۔ آپ جذباتی ہوکے بہت کچھ ایسا لکھ گئے جس کا ذکر غیر ضروری تھا ۔۔

  25. ABDULLAH Said:

    بی بی،بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ ووٹ نہیں دیتیں؟؟؟
    جب پڑھے لکھے لوگ ایسا کریں گے تو جاہل کو کیا کہا جائے،
    باقی یہ محض آپ کا خیال ہے کہ میں جذباتی ہوکر جو لکھ گیا وہ غیر ضروری تھا،اور آپکا یہ خیال بھی غلط ہے کہ افتخار اجمل نے جو لکھا وہ میری نہیں آپکی بات پر تھا، اس قسم کی ہارش گفتگو وہ مجھ ہی سے فرمایا کرتے ہیں اور اس وقت بھی انہوں نے میرے تبصرے کے بعد ہی یہ فرمایا تھا جس کا جواب میں نے دیا،ذرا ایک بارپھر میرے تبصرے اور ان کے جوابی تبصرے کو غور سے پڑھ لیجیئے گااور پھر بھی آپ بات کو گھما کر کوئی اور رنگ دینا چاہیں تو آپ کی مرضی!!!!!!!

  26. hijabeshab Said:

    عبداللہ کون کس کے لیئے کیا سوچ کر کیا لکھتا ہے یہ سلسلہ بلاگز پر جاری ضرور رہتا ہے اور سب لوگ جہاں موقع ملے فائدہ اُٹھاتے ہیں ، مگر میں وہ سلسلہ وار باتیں یاد نہیں رکھتی کہ اُس کی مناسبت سے تبصرے پڑھوں اور اُس روشنی میں دیکھوں ۔۔۔ جو بات جہاں ہو وہاں ختم ہو جایا کرے تو بہت اچھا ہو اب دوبارہ میں تبصرہ پڑھ کے کیا کروں باتیں تو لکھی جا چکیں اس لیئے اب نئی پوسٹ پر تبصرے پڑھوں گی 🙂

  27. عمدہ پوسٹ


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: