پرانی روایات

کل سحری میں اچانک ایک بھولی بسری آواز سنائی دی شائد دو یا تین سال کے بعد — سحری کا وقت ہوگیا اُٹھ جاؤ لوگو سحری کھا لو ۔۔ ٹین کے خالی ڈبّے بجا کر ہر گھر کا دروازہ کھٹکٹاتے اور آگے بڑھ جاتے ۔۔ کل پھر سے سحری میں جگانے کی روایت کا آغاز سُن کر اچھا لگا ۔۔۔ آن کی عیدی تو پکّی ۔۔ ویسے تو اب موبائل پر الارم لگایا اور موبائل پاس ہی ہوتا ہے تو جب الارم بجتا ہے پھر آنکھ کھلنا یقینی ہے مگر کچھ خاص روایتیں جو اب نہیں ہیں یا کم کم ہیں اُن کی کمی بہرحال ہے پہلے سحری کے وقت ہر مسجد سے دعا اور وقت بتایا جاتا تھا اب اتنا شور نہیں ہوتا آواز تو آتی ہے ہر مسجد سے مگر پہلے والی بات نہیں ۔۔
ہماری طرف ایک مسجد کے امام صاحب سحری سے پہلے کی دعا بتایا کرتے تھے اب وہ آواز نہیں آتی نہ ہی نعت زیادہ پڑھی جاتی ہے اب زیادہ پتہ نہیں اب پہلے جیسا سب کچھ کیوں نہیں ہوتا۔۔
اب سے چند سال پہلے تک رمضان ہو یا عید ہر خاص موقع پر افطاری یا عید پر سویّاں یا جب بھی کوئی اچھی چیز پکائی جاتی تھی محلّے والے یا رشتے دار ایک دوسرے کو ضرور بھیجتے تھے مگر اب یا تو خواتین کام سے بچنے کے لیئے یا مہنگائی کے ڈر سے یہ سلسلے ختم تو نہیں کم ہو چکے ہیں ۔۔
ہمارے محلّے میں اب زیادہ تر نئے لوگ آ گئے ہیں سامنے والوں کے ہاں سے اور پڑوس سے ہر سال افطاری ضرور آیا کرتی تھی مگر جب سے دونوں محترمہ کی ساس صاحبہ کا انتقال ہوا افطاری غائب ۔۔ میں نے امّی سے پچھلے سے پچھلے سال کہا کہ اُن کی ساس کا انتقال ہوا ہے پہلی عید ہے تو نہیں بھیجی ہوگی افطاری مگر اُس کے بعد بھی نہیں تو مطلب ۔۔ یا تو ساس صاحبہ بھجواتی ہوں گی یا وہ افطاری بناتی ہونگی 🙂 بڑے بوڑھے نہ رہیں اگر تو بھی بہت ساری روایات ختم ہو جاتی ہیں ۔۔
میں افطاری محلّے اور رشتے داروں میں تو نہیں بھیجتی مگر مسجد میں بھجواتی ہیں امّی ، محلّے اور رشتے داروں کے ہاں بقرعید پر تکّے بنا کر ضرور بھیجتی ہوں محرم میں حلیم بنا کر کھلاتی ہوں سب کو شوق میں ۔۔ اس بار میں نے اپنی خالہ زاد کو کہا ہے مجھے افطاری بھیجو 😆 کیا زمانہ آ گیا ہے خود سے کہنا پڑتا ہے ورنہ ڈھیٹ لوگ ایسے کب بھیجتے ہیں 😛 میرے محلّے والے تو اب کم ہی کچھ بھیجتے ہیں ، آپ سب کے محلّے والوں کا کیا حال ہے اور آخری بار کب کس نے کون سی ڈش پکا کر بھجوائی ؟؟

14 تبصرے »

  1. توارش Said:

    کی سال پردیس میں گزر گئے ہیں یہاں تو جو ملے زہر مار کرلیتے ہیں اور کہیں سے افطاری آنا تو ایک خواب کی سی بات لگتی ہے اس رمضان پر تو آپکی لکھی ہوئی ترکیبیں پڑھ کر اور بنا کر گزارا کررہے ہیں

  2. عثمان Said:

    واقعی کیا زمانہ آگیا ہے۔ لوگوں کے بلاگوں پر جا جا کر کہنا پڑتا ہے کہ افطاری پر بلاؤ لیکن یار لوگ ہیں کہ مذاخ میں ٹال دیتے ہیں۔😦

    میری اوپر کے فلور والی نے کجھوروں کا ڈبہ بھیجا تھا۔ اور گنتی کے چند رشتہ دار افطاری پر بلا لیں گے اور بس۔
    اور اگر کسی بلاگر صاحبہ کو ترس آجائے تو وہ بھی کچھ پکا کر بھیج دیں گی۔🙂

  3. اچھی روایات کا رہنا یقینا اچھی بات ہوتی مگر زندگی اتنی تیز رفتار ہے کہ اپنے لئے وقت نہیں رہ گیا ۔ ابھی کل ہی ہمسائیوں نے پودینہ ، گھیا ، بینگن بھجوائے تھے کچے ۔ تازہ گھر کی سبزی خوب مزے کی بنتی ہے ۔

  4. سحری میں جگانے کی روایت اب کمرشل ہوگئی ہے۔اب لوگ پیسے کیلئے جگاتے ہیں۔
    مہنگائی اتنی ہے کہ اب اپنا پورا ہو جائے تو بڑی بات ہے۔

  5. میں چونکہ سحری کے بالکل آخری وقت میں بیدار ہوتا ہوں، اس لیے علم نہیں کہ سحری میں اُٹھانے والے باقاعدگی سے آتے ہیں یا نہیں لیکن پچھلی دو راتیں جاگ کر کام کررہا تھا تو ایک رات آواز سنائی دی تھی۔
    ہمارے ہاں سامنے والے گھر سے اکثر افطاری آجاتی تھی۔ چند مہینوں پہلے وہ کہیں اور منتقل ہوگئے۔ نئے رہائشی کچھ ایویں ہی ہیں۔ کل میں نے اتوار کی وجہ سے افطاری نسبتاً کچھ زیادہ بنائی تھی تو امی نے کہا کہ سامنے بھجوادیتے ہیں🙂 میں نے مذاق میں کہا، ان سے کہیے گا کہ خالی پلیٹیں واپس نہ کریں😛 ویسے بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ساتھ بہت سی روایات دم توڑتی جارہی ہیں۔

  6. ہمارے لوگ ترقی کر گئے ہيں ۔انہيں محبت کا ذکر کرنا تو بہت بھاتا ہے مگر محبت کرنا پرانے وقتوں کی باتيں ہيں

  7. اور ہماری مسجد میں ہمارا موءزن بھآئی آواز لگاتا ہے
    ” روزے دارو اٹھو روزے کا ٹآئم ہو گیا ہے”
    تین سے چار بار
    ” اللہ دے پیارو اٹھو روزے کا ٹآئم ہو گیا ہے”
    تین چار بار یہ
    اور پھر ۴-۵ دفعہ دونوں ملا کر ۔۔۔
    اور اتنے زور سے اور سر میں کہتا ہے کہ جس کا جی نہ چاہے وہ بھی اٹھ ہی بیٹھتا ہے

  8. ab aata koi nai sehri pr magar eid pr eidi lene aajaty hain

  9. hijabeshab Said:

    میری تراکیب اگر آپ کے کام آ رہی ہیں تو اس سے اچھی کیا بات ہوگی شکریہ توارش ۔۔

    عثمان مجھے ترس نہیں آ رہا 😛

    بلاگ پر خوش آمدید محمودالحق ۔۔ واقعی تازہ سبزیوں کی بات الگ ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ۔۔

    فرحان ، پہلے بھی عیدی لینے آتے تھے سحری جگانے والے اور اب بھی ، رہی بات مہنگائی کی تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ لینا دینا ختم کر دیا جائے کہیں نہ کہیں سے تھوڑی سی گنجائش نکالنے میں حرج نہیں۔۔

    عمار ، جس پلیٹ میں کسی کے گھر سے کوئی چیز آئے وہ دھو کے واپس مت کرنا کبھی ۔۔ سنا ہے پھر انتظار ہی رہتا ہے 😛 ویسے میں نے تو دھو کر واپس نہیں کی تھی پلیٹ پھر کیوں نہیں آتی افطاری 😛

    افتخار انکل اب بھی کچھ لوگ ہیں باقی محبت کرنے والے اور روایات کی پاسداری کرنے والے

    بلاگ پر خوش آمدید بلا امتیاز ۔۔

  10. aamaneman Said:

    Hijab me BACK
    آہ کیا دکھتی رگ کو چھیڑا ہے۔۔۔۔آپ کو یہ سب روایات یاد آرہی ہیں تو مجھے پچھلے سارے رمضان المبارک کے وہ لمحات جو ہم سب نے ایک ساتھ نیٹ پر گزارے۔۔۔عید کی تیاریاں۔۔۔۔فرصتیں،،،خوشیاں،،،،لگتا تھا یہی زندگی ہے۔۔:)

    شب واقعی اب سب کچھ بدل گیا ہے۔۔۔میڈیا آزاد ہوگیا ہے لیکن مساجد میں اللہ کے ذکر سے اردگرد کے لوگوں کی ٹی وی والیم اونچا کرنا پڑتا تھا سو لاوڈ اسپیکرز پر پابندی لگا دی گءی ہے تانکہ وہ بلاجھجک رمضان المبارک میں بھی انڈین،انگلش چینلز سے لطف اندوز ہوں۔۔۔مجھے تو اپنی مسجد سے ازان کی آواز بھی ٹھیک سناءی نہیں دیتی۔۔۔اللہ تعالیٰ ہی ان پر اور ہم پر رحم فرماءے۔
    ویسے شب افطاری بھیجنے کا سلسلہ ہمارے بلاک میں ابھی تک ویسے ہی ہے۔۔تقریبا ہر گھر سے ایک ایک بار کچھ نہ کچھ آچکا ہے۔۔۔اور مجھے تو ملتان سے واپس آکر اپنے محلے کی آنٹیاں بھی ویسی کی ویسی ہی لگی ہیں🙂
    ابھی آپ کا کچن دیکھتی ہوں🙂

  11. hijabeshab Said:

    خوش آمدید امن — تمہارے محلّے والے اچھے ہیں تمہاری طرح 🙂

  12. ہم نے پچھلی مرتبہ پورے محلے کے مردوں نے مل کر ایک شخص کو صبح صبح اُٹھانے کو رکھا تو اُس نے پہلے ہی دن 1 بجے سب کو اُٹھانا شروع کر دیا۔۔۔ چونکہ گلی میں پہلا گھر ہمارے خان صاحب کا ہے تو اُنہوں نے اُٹھ کر اُس لڑکے کی وہ عزت کی کہ باقی سب گھروں کے مردوں کو بھی اُٹھ کر اُس لڑکے کو بچانا پڑا۔۔۔

  13. اب کافی عرصے سے کبھی کوئی سحری کے وقت جگانے نہیں آیا لیکن کچھ دن پہلے ایک شخص ڈھول سمیت آیا اور پورے 2:30 بجے اُٹھا گیا۔۔۔ وہ واحد دِن تھا جس دِن ہم سب گھر والے 2:30 بجے اُٹھ گئے۔۔۔ لیکن اُسکے بعد وہ دُبارہ نہیں آیا لگتا ہے کہ اُسکو بھی کسی نے بھگا دیا ہو۔۔۔

  14. جمیل Said:

    ہماری طرف تو سحری کے وقت میں آرہے تھے جگانے والے۔
    کوئی کنستر بجاتا ہوا تو کوئی سائیکل پر وہ تیز آواز والا باجا لگائے۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: