منہ بولے رشتے ! ہونہہ ۔۔

کل ایک فرینڈ سے بات ہو رہی تھی ( وہ بھی بلاگز پڑھتی ہے ) اُس نے کہا کبھی اُن لوگوں کے لیئے بھی کچھ لکھنا جو زبردستی کسی بھی لڑکی سے کوئی بھی رشتہ از خود قائم کر لیتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ اُن کا کردار باتیں جیسی بھی ہوں لڑکیاں اُن کو اُس از خود قائم کردہ رشتے کے حوالے سے عزت دیں اعتبار کریں ۔ یونیورسٹی ، آفس یا محلّے میں اکثر ایسے لوگ ملتے ہیں جو خود کو ذرا منفرد پیش کرنے کی خاطر اپنی ساتھی اسٹوڈنٹ یا کولیگ کو نہایت احترام سے بہن یا بیٹی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ایسے لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ خواتین کا اُن کی نظر میں بہت احترام ہے اتنا احترام کہ جھٹ رشتہ بنا لیا ، ایسے لوگ احساسِ کمتری کا شکار ذہنی مریض ہوتے ہیں اُن کو شائد اپنی ظاہری شخصیت اس قابل نہیں لگتی کہ کوئی رشتہ بنائے بغیر لڑکیاں اُن سے دوستی یا بات کریں گی اس لیئے وہ اپنے اوپر نیک پرہیزگار انسان کا خول چڑھا کر پہلے لڑکیوں پر اپنا اعتماد قائم کرتے ہیں اور جب اُن کو اُس رشتے کے حوالے سے عزت ملنے لگتی ہے تو ایسے لوگ باتوں ہی باتوں میں معنی خیز جملے یا ایسی باتیں جن سے دو طرح کے معنی نکلتے ہوں کہہ کر خوشی محسوس کرتے ہیں ، بہت سے ایسے منہ بولے عمر رسیدہ تایا ، خالو بھی ہوتے ہیں جو بیٹی بیٹی کہہ کر شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دینے کے بہانے قریب آنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں ، اس طرح کے لوگوں میں اکثریت ایسے افراد کی ہوتی ہے جن کو اپنے گھر یا خاندان میں اہمیت نہیں دی جاتی اس لیئے نفسیاتی طور پر وہ “ مسترد “ کیئے جانے کے احساس کا شکار رہتے ہیں اس لیئے دوسروں سے کوئی رشتہ بنا کر اُن پر اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
خواتین کبھی کسی کو بلاوجہ بھائی یا تایا ، خالو نہیں بناتیں ، ہاں وقت پڑنے پر جیسے کوئی کام پڑ جائے کہ اے بھیّا ذرا 2 کلو آلو یا پیاز تو لا دینا ایسے کام کے لیئے تو وقتی طور پر رشتہ بنالینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتیں 😛

22 تبصرے »

  1. عثمان Said:

    لگتا ہے کہ اردو بلاگستان میں آج کل ہفتہ مردوعورت کی جنگ منایا جا رہا ہے۔

  2. 😦
    اب کیا کہا جائے کہ مجھے بھی خواتین کو بہن بنانے کی عادت ہے مگر میں احساس کمتری کا شکار ہر گز نہیں ہوں جناب۔
    دراسل یوں میں محسوس کرتا ہوں بات چیت میں آسانی رہتی ہے۔ ہاں میں ہر خاتون یو لڑکی کو بہن نہیں بناتا😦

  3. ابرار حسین Said:

    اسلام نے تو منہ بولے رشتوں کی جڑ 1400 سال پہلے ہی کاٹ دی تھی،لیکن اگر بوقت ضرورت کسی کو بہن، خالہ یا بیٹی بلا لیا جائے تو اس میں بھی حرج نہیں کیونکہ یہ تو تکلف کی علامت ہے ،جیسے مرد آپس میں بھی جب کسی اجنبی سے ملتے ہیں تو بھائی صاحب وغیرہ سے ہی ایک دوسرے کو پکارتے ہیں ۔لیکن اس کو رشتہ سمجھنا دونوں طرف کی نادانی ہوگی۔

  4. ویسے بات سچی ھے ۔میں اسے مانتا ھوں۔اور دیکھا بھی ایسے ہی ھوتا ھے۔

  5. حجاب آپ ورڈپریس ڈاٹ کام پر پوسٹ لکھتے وقت ایچ ٹی ایم ایل میں اردو کے خط ڈال لیا کریں، تا کہ درست اردو نظر آئے۔
    حوالہ کے لئے یہاں دیکھتی رہیے ابھی یہاں لکھا کچھ نہیں، لیکن جلد ہی لکھ دیا جائے گا ۔

  6. hijabeshab Said:

    عثمان جس طرح آپ نے دو نازک موضوعات پر پوسٹ لکھی اسی طرح میں نے یہ پوسٹ لکھی ۔ اس میں مرد عورت کی جنگ کہاں ہے ؟؟

    بلاگ پر خوش آمدید شعیب صفدر ۔۔ شعیب میں نے اُن لوگوں کے بارے میں لکھا ہے جو بہن یا بیٹی کہہ کر فضول گوئی کرتے ہیں ۔۔ آپ کو اپنے بارے میں وضاحت دینے کی ضرورت تو نہیں تھی 🙄

    بلاگ پر خوش آمدید ابرار حسین ۔۔

    بلاگ پر خوش آمدید یاسر خواہ مخواہ جاپانی ۔۔

    بلاگ پر خوش آمدید جہانزیب اشرف ۔۔ شکریہ آپ نے بتایا اب ایسا ہی کروں گی 🙂

  7. Ghazal Said:

    aise log jo bahan bahan bety kehte nhi thakte or ehtiraam ki aarr men niet men futoor rakhte hain …pata nhi apne sagey rishton ka lihaaz b kerte honge ya nhi …

  8. […] ساتھ یہ رواج کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اور کچھ بیبیاں اسے ناپسند کرنے لگی […]

  9. السلام علیکم ’مس‘!

    پہلی دفعہ تبصرہ کرنے کا اتفاق ہو رہا ہے یہاں۔
    ہمیں تو جب بھی کوئی رشتہ ملا کسی نہ کسی محترمہ کی ہی طرف سے ملا۔۔۔۔ اور یہ تو آپ نے نہایت صاف گوئی سے بتا ہی دیا کہ خواتین صرف مطلب کیلئے ہی رشتے قائم کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔۔۔🙂

  10. خواجہ طلحہ Said:

    مقصود ہر بندے کا جدا ہوتا ہے۔ گندے ذہن کے لوگ گند سوچتے ہیں ،اور صاف ذہن کے لوگ صاف سوچتے ہیں،ہاں یہ الگ بات ہے کہ برے لوگ اچھوں کے طرز زندگی کو اپنا کر اپنا مقصد حاصل کرلیں۔
    اگر صنف نازک سے بات کرنا پڑ جائے تو اسے بیٹا، ہمشیرہ کی بجائے ،ڈارلنگ،پیاری وغیرہ استعمال کرنا چاہیے۔جبکہ اس کا نام بھی معلوم نہ ہو؟

  11. emran Said:

    درست کہا ۔ ایسے حضرات اپنی عمر کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔احساس کمتری والی بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں-

  12. hijabeshab Said:

    بلاگ پر خوش آمدید سعد

    بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ وعلیکُم السّلام عین لام میم ۔۔ آئندہ بھی آپ کے تبصرے کا انتظار رہے گا ۔

    بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ خواجہ طلحہ ۔۔ صنفِ نازک کا جب تک نام نہ پتہ ہو “ آپ “ کہہ کر مخاطب کیا جا سکتا ہے ۔

    بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ عمران

  13. جعفر Said:

    وہ جی بات کچھ ایسے ہے کہ آپ کا مشاہدہ بہت حد تک درست ہے
    یہ رشتے تو جی کمپلسری سوال کی طرح ہوتے ہیں
    جبکہ دوست بندہ اپنی مرضی سے بناتا ہے
    تو پھر دوست کو دوست ہی کہنا چاہیے
    نہ کہ چاچا مامابھائی بہن وغیرہ وغیرہ۔۔۔

  14. یعنی ٹھرکیوں کو اب مسترد شدہ بھی کہہ سکتے ہیں؟

  15. میری طرف سے بلاگنگ کی طرف واپسی مبارک ہو اور فکر انگیز پوسٹ ہے مگر ایک کے بعد رک سی گئی ہیں پوسٹ

  16. ميرے تو بس بلاگ دنيا ميں ايک چچا جان ہيں اور ميں انہيں بغير کسی پياز ٹماٹر مطلب کے چچا جان کہتی ہوں

  17. hijabeshab Said:

    شکریہ محب اور نئے بلاگ پر خوش آمدید ۔۔ میرے بلاگ پر تو پھر بھی نئی پوسٹ نظر آ ہی جاتی ہے تو سلسلہ رکتا نہیں ، آپ کا بلاگ سو رہا ہے اُس کو جگائیں کچھ لکھ کر 🙂

  18. Bdtmz Said:

    So u mean if a girl call me bhai she would mean temporarily n hence I shudnt mind?

  19. Uncle TOm Said:

    خواتین کو چاہیے کہ پہلے ہی انکل کو مطلع کر دیں کہ انکے پہلے سے بھای موجود ہیں اسی لیے انکو دوسرے بھای بنانے کی ضرورت نہیں ۔ لیکن اگر بات کرتے وقت خاتون کو بہن نہ کہا جاے تو وہ دونوں کچھ سمجھیں نہ سمجھیں دیگر لوگ غلط سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔اسی لیے بہن بھای کے رشتے بنا کر بات کرنے میں ہی عافیت ہے ۔


{ RSS feed for comments on this post} · { TrackBack URI }

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s